٣٤- حدثنا قبيصة بن عقبة قال حدثنا سفيان، عن الأعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق, عـن عبـد الـلـه بـن عـمرو أن النبي صلى الله علیہ وسلم قال أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من النفاق حتى يدعها إذا إئتمن خان، وإذا حدث كذب، واذا عاهد غدر، وإذا خاصم فجر۔اطراف الحدیث :۲۴۵۹۔۳۱۷۸

 

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں قبیصہ بن عقبہ نے ، حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی از اعمش از عبد اللہ بن مرہ از مسروق از عبداللہ بن عمرو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چار خصلتیں جس میں ہوں گئی، وہ خالص منافق ہو گا اور جس میں ان چار میں سے ایک خصلت ہو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی، حتی کہ وہ اس خصلت کو چھوڑ دے: (۱) جب اس کے پاس امانت رکھی جاۓ تو اس میں خیانت کرے ( ۲ ) اور جب بات کرے تو جھوٹ بولے(۳)اور جب عہد کرے تو توڑ دے(۴) اور جب جھگڑا کرے تو بد کلامی کرے اور حد سے تجاوز کر ے ۔

( صحیح مسلم : ٬۵۸ سنن ابوداؤد: ۴۶۸۸، سنن ترمذی: ۲۶۳۲، سنن نسائی:٬۵۰۳۵ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۸ ص ۵۹۳، السنن الکبری للنسائی : 8734، مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۲۰ ،صحیح ابن حبان : ۲۵۴ حلیۃ الاولیاء ج ۷ ص ۲۰۴ شعب الایمان: 4352 سنن بیہقی ج۹ ص۲۳۰ شرح السنۃ : ۳۷مسند احمد ج ۲ ص ۱۸۹ طبع قدیم، مسنداحمد :6768 ۔ ج۱۱ ص۳۸۰ مؤسسة الرسالة بیروت )

تابعة شعبة عن الأعمش .

اس حدیث کی شعبہ نے از الاعمش متابعت کی ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) قبیصہ بن عقبہ الکوفی، انہوں نے مسعر ،شعبہ اور حماد بن سلمہ سے روایت کی ہے، اور ان سے امام احمد بن حنبل، محمد بن یحیی ذہلی،اور امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کی ہے یحیی بن معین نے کہا: یہ ہر چیز میں ثقہ ہیں سوا سفیان ثوری سے روایت کے اس میں یہ قوی نہیں ہیں، یہ محرم ۲۱۳ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) سفیان بن سعید بن مسروق، یہ امام کبیر ہیں، ان کی جلالت قدر، کثرت علوم اورتوثیق پر اتفاق ہے ابن عاصم نے کہا: یہ امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں یہ ۱۶۰ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۳) سلیمان الاعمش ، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( ۴ ) عبد اللہ بن مرہ الھمدانی، الکوفی التابعی، یحیی بن معین اور ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں، یہ ۱۰۰ھ میں فوت ہوگئے تھے، ائمہ ستہ نے ان سے روایت کی ہے۔

( ۵ ) ابوعائشہ مسروق بن الاجدث الھمدانی الکوفی، انہوں نے حضرت عمر، حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عائشہ اور دیگر سے سماع کیا ہے، ان کی جلالت توثیق اور امامت پر اتفاق ہے یہ 62ھ یا 63ھ میں فوت ہوگئے تھے ۔

(۲) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۵۲ ۳-۳۵۱)

پہلی حدیث میں نفاق کی تین علامتیں اور دوسری حدیث میں نفاق کی چار علامتیں بیان کرنے کی توجیہ

اس حدیث میں نفاق سے نفاق عملی یا نفاق عرفی مراد ہے نفاق شرعی مراد نہیں ہے، ان چار خصلتوں کی وجہ سے خالص منافق اس لیے ہوتا ہے کہ ان چارخصلتوں کی وجہ سے اس کے ظاہر اور باطن میں مکمل مخالفت ہوجاتی ہے، یعنی وہ ان خصلتوں کی وجہ سے منافقین سے بہت زیادہ مشابہ ہو جاتا ہے ۔

اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ پہلی حدیث میں نفاق کی علامتوں کا تین میں حصر کیا گیا تھا اور دوسری حدیث میں ایک اور علامت بیان فرمائی کہ جب وہ جھگڑا کرتا ہے تو بدکلامی کرتا ہے اور حد سے بڑھتا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پہلی حدیث میں مجرد نفاق کی تین علامتیں بیان فرمائی تھیں اور اس حدیث میں خالص نفاق کی چار علامتیں بیان فرمائی ہیں ۔

یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۱۸ ۔ ج۱ ص۴۸۰۔ ۴۷۷ میں مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے یہ عنوانات ہیں:

تین خصلتوں میں منافق کی علامتوں کے انحصار کی وجہ

(۲)ان تین خصلتوں کے منافقوں کی علامت ہونے کی وجہ،

مگر یہاں نعمۃ الباری میں اس حدیث کی زیادہ تفصیل اور تحقیق کی گئی ہے ۔