کتاب الایمان باب 24 حدیث نمبر 33
٢٤- باب علامة المنافق
منافق کی علامات
منافق وہ شخص ہے جو ایک سبب سے اسلام میں داخل ہوتا ہے اور دوسرے سبب سے نکل جا تا ہے، اس کے دل میں کفر ہوتا ہے اور زبان سے اسلام کو ظاہر کرتا ہے، علامات، علامہ کی جمع ہے علامت اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے دوسری چیز پر استدلال کیا جاتا ہے،جیسے دھوئیں سے آگ پر استدلال کیا جاتا ہے.
باب سابق اور اس باب میں مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں ظلم کی انواع کا ذکر تھا اور اس باب میں نفاق کی انواع کا ذکر ہے اور نفاق بھی ظلم کی انواع میں سے ہے ۔
۳۳- حدثنا سـلـيـمـان ابـوالـربيـع قال حدثنا اسماعيل بن جعفر قال حدثنا نافع بن مالك بن ابی عـامـر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إيـة المنافق ثلاث إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا ائتمن خان۔(اطراف الحدیث :2749 – 6095)
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں سلیمان ابوالربیع نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہل نے حدیث بیان کی، از والد خود از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں : وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاۓ تو اس میں خیانت کرتا ہے ۔
(صحیح مسلم :۵۹ سنن ترمذی :2613 ، سنن نسائی :۶ ۰۳ ۵ السنن الکبری للنسائی : ۷ ۱۱۱۲ مسند ابوعوانہ ج۱ ص ۲۱۔۲۰ سفن بیہتی ج۲ ص ۲۸۸ شرح السنتہ : ۳۵ مسند ابو یعلی : 6533 مسند احمد ج ۲ ص ۵۷ ۳ طبع قدیم، مسند احمد : 8685 -ج ۱۴ ص 314 مؤسسة الرسالة بيروت )
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) سلیمان ابوالربیع بن داؤد الزھرانی العتکی انہوں نے امام مالک سے ایک حدیث سنی ہے، اور فلیح بن سلیمان اور اسماعیل بن زکریا وغیرہ سے سماع کیا ہے، ان سے امام بخاری، امام مسلم، امام ابوداؤد اور دیگر نے سماع کیا ہے امام نسائی، یحیی بن معین، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں، ۲۳۴ ھ میں یہ بصرہ میں فوت ہو گئے.
(۲) اسماعیل بن جعفر بن ابی کثیر الانصاری، انہوں نے ابوسہیل، نافع اور عبد اللہ بن دینار وغیرہ سے سماع کیا ہے یحیی نے کہا: یہ مامون قلیل الخطاء اور بہت سچے ہیں ابوزرعہ، امام احمد اور ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ ہیں، یہ ۱۸۰ ھ میں بغداد میں فوت ہو گئے، ائمہ ستہ نے ان سے روایت کی ہے.
(۳) ابوسہیل نافع بن مالک بن ابی عامر، انہوں نے امام مالک اور عمر بن عبد العزیز سے سماع کیا ہے اور ان سے امام مالک وغیرہ نے روایت کی ہے امام احمد اور ابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ ہیں ائمہ ستہ نے ان سے روایت کی ہے.
( ۴ ) ابوانس مالک بن عامر یہ امام مالک کے دادا ہیں، انہوں نے طلحہ بن عبد اللہ ،حضرت عائشہ اورحضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہم سے سماع کیا ہے، یہ ۱۱۲ھ میں فوت ہو گئے تھے.
(۵) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔( عمدة القاری ج ۱ ص۵ ۴ ۳)
حدیث مذکور میں منافق کی تین علامتوں میں وجہ حصر ، بعض الفاظ کے معنی اور وعدہ پورا کر نے اور پورا نہ کرنے کی تحقیق
اس حدیث میں’’ کذب ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: واقع کے خلاف خبر دینا، اور اس میں فرمایا ہے: وہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے حالانکہ وہ کئی مرتبہ سچ بھی بولتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ ہر بار مجھوٹ بولتا ہے حدیث کا منشاء یہ ہے کہ وہ بعض اوقات جھوٹ بولتا ہے، اور اس حدیث میں خیانت کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: امانت میں خلاف شرع تصرف کرنا۔
اس حدیث میں منافق کی تین نشانیاں بیان فرمائی ہیں اور اس میں اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ منافق کے قول، فعل اور نیت سب میں فساد ہوتا ہے جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اس میں اس کے قول کا فساد ہے اور جب وہ خیانت کرتا ہے تو اس میں اس کے فعل کا فساد ہے اور جب وہ وعدہ کے خلاف کرتا ہے تو اس میں اس کی نیت کا فساد ہے ۔ وعدہ کی خلاف ورزی اس وقت مذموم ہے جب اس کی ابتداء نیت یہ ہو کہ وہ وعدہ پورا نہیں کرے گا اور جب اس کی ابتداء نیت وعدہ پورا کر نے کی ہو اور بعد میں کوئی رکاوٹ آجاۓ یا کسی مصلحت کی وجہ سے اس کی راۓ بدل جاۓ تو پھر وعدہ پورا نہ کرنا منافق کی علامت نہیں ہے کیونکہ امام طبرانی کی روایت میں ہے: جب وہ وعدہ کرے اور اس کے دل میں ہو کہ وہ اس وعدہ کے خلاف کرے گا، علماء نے کہا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو کوئی چیز ہبہ کر نے کا وعدہ کرے تو اس کو پورا کرنا مستحب ہے اور اس کو پورا نہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور مستحب یہ ہے کہ وعدہ کرنے کے ساتھ ان شاء اللہ کہے، تا کہ اس کا قول صورۃ جھوٹ نہ ہو، اور جب وہ کسی کو سزا کی خبر دے کہ اگر تم نے فلاں کام کیا تو میں تم کو سزا دوں گا تو اس کے خلاف کرنا مستحب ہے بہ شرطیکہ اس میں کوئی فساد نہ ہو ۔
اس اشکال کے جوابات کے بعض مسلمان بھی جھوٹ بولتے ہیں، خیانت کرتے ہیں اور وعدہ خلافی کرتے ہیں تو کیا وہ بھی منافق ہیں؟
اس حدیث پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ جن تین خصلتوں کو اس حدیث میں منافق کی علامت قرار دیا ہے وہ تین حصلتیں تو مؤمن اور مسلم میں بھی پائی جاتی ہیں حالانکہ اس پر اجماع ہے کہ مومن پر نفاق یا کفر کا حکم لگانا جائز نہیں ہے، اس اشکال کے حسب ذیل جوابات میں :
(۱) علامہ نووی نے کہا: اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ یہ تین خصلتیں نفاق ہیں اور ان تین خصلتوں والا منافق کے مشابہ ہے اور ان کے اخلاق سے متخلق ہے، کیونکہ نفاق کا معنی ہے : باطن کے خلاف ظاہر کرنا اور جو شخص کسی سے جھوٹ بولتا ہے یا اس سے وعدہ کے خلاف کرتا ہے یا اس کی امانت میں خیانت کرتا ہے، وہ اس سے نفاق کرتا ہے کیونکہ وہ اپنے باطن کے خلاف ظاہر کرتا ہے پس وہ صرف اس شخص سے نفاق کر رہا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اسلام میں منافق ہے اور اسلام کے ساتھ نفاق کر رہا ہے ۔
(۲) جس شخص میں ان تین خصلتوں کا غلبہ ہو وہ منافق ہوگا نہ وہ کہ جس میں کبھی کبھی یہ خصلتیں پائی جائیں ۔
(۳) علامہ خطابی نے کہا: یہ حدیث زجر و توبیخ اور ڈرانے اور دھمکانے پر محمول ہے تا کہ مسلمان ان تین خصلتوں سے ڈریں اور ان کو اپنی عادت اور شعار نہ بنائیں اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ جو شخص ان خصلتوں کا حامل ہو گا وہ منافق ہو گا جیسے حدیث میں ہے : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اس امت کے اکثر قراء منافق ہیں ۔ (مسند احمد ج ۴ ص ۱۵۵ مسند احمد ج ۲۸ ص 628 مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ) اس حدیث سے آپ کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اکثر قراء حقیقی منافق ہیں، بلکہ اس سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح منافق لوگوں کو دکھانے کے لیے عمل کرتا ہے اسی طرح اکثر قاری ریا کاری سے قرآن پڑھتے ہیں ۔
(۴) نیز علامہ خطابی نے کہا: نفاق کی دو قسمیں ہیں نفاق شرعی اور نفاق لغوی، نفاق شرعی یہ ہے کہ انسان کے دل میں کفر ہو اور زبان سے ایمان کا اظہار کرے، یہ نفاق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا اور نفاق لغوی یہ ہے کہ انسان تنہائی میں احکام شرعیہ کوترک کر دے اور لوگوں کے سامنے احکام شرعیہ پرعمل کرے اس سے انسان حقیقی منافق اور کافر نہیں ہوتا لیکن یہ عمل نفاق ہے اعتقادی نفاق نہیں ہے جیسے حدیث میں ہے : مومن کو گالی دینافسق ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے ۔(صحیح سلم : 64) اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ حقیقی کافر ہے ۔
(۵) سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ ان کو بھی حدیث میں یہی اشکال ہوا تو انہوں نے حضرت ابن عباس اور حضرت ابن عمر سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ہمیں بھی یہ اشکال ہوا تھا تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا: تمہارا اس سے کیا تعلق ہے؟ میں نے اس حدیث کو منافقین کے ساتھ خاص کیا ہے میں نے جو کہا ہے کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اس سے مراد ہے جب وہ مجھ پر نازل ہونے والی وحی کے متعلق بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے جیسے قرآن مجید میں ہے: إذا جاءک المنفقون قالوا نشهد إنك لرسول الله والله يعلم إنك لرسوله والله يشهد إن المنفقين لكذبون ( المنافقون:1 ) جب آپ کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ ضرور اللہ کے رسول ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے کہ آپ بے شک ضرور اللہ کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ بے شک منافقین ضرور جھوٹے ہیں ۔ اور میں نے جو کہا ہے کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اس سے مراد وہ منافق ہے جس کا ان آیات میں ذکر ہے: ومنهم من عهد الله لئن اتنا من فضله لنصدقن ولنكونن من الصلحين فلما اتهم من فضله بخلوا بہ وتولوا وهم معرضون فأعقبهم نفاقا في قلوبهم إلى يوم يلقونه بما أخلفوا الله ما وعدوه وبما كانوا يكذبون ( التوبہ ۷۷۔ ۷۵) اور ان میں سے بعض وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کیا تو وہ ضرور صدقہ کریں گے اور صالحین میں سے ہوجائیں گے پس جب اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا کر دیا تو انہوں نے اس مال میں بخل کیا اور منہ موڑ لیا سو اس کی سزا میں اللہ نے حشر تک ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا کیونکہ انہوں نے اللہ سے کیے ہوۓ وعدہ کے خلاف کیا اور اس لیے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم ایسے ہو؟ ہم نے کہا: نہیں! ( عام کتب حدیث، کتب تفسیر اور کتب سیرت میں مذکور ہے کہ ان آیات میں جس کا ذکر ہے اس کا نام ثعلبہ بن حاطب بن عمرو انصاری تھا، لیکن صحیح نہیں ہے، صحیح یہ ہے کہ اس کا نام ثغلبہ بن ابی حاطب تھا اور وہ واقعی منافق تھا۔ اس کی تحقیق کے لیے دیکھئے : تبیان القرآن ج ۵ ص۲۰۹۔۲۰۱ التوبہ: ۷۸۔۷۵) پھر آپ نے فرمایا: اس آیت کا تم سے کوئی تعلق نہیں ہے اور میں نے جو یہ کہا تھا کہ اس کے پاس امانت رکھی جاۓ تو وہ اس میں خیانت کرتا ہے اس خیانت کا تعلق اللہ تعالی کے نازل کیے ہوۓ احکام کے ساتھ ہے، جن کا ذکر اس آیت میں ہے: إنا عرضنا الأمانة على السّموات والأرض والجبال فأبين أن يحملنها وأشفقن منها وحملها الإنسان إنه كان ظلوما جهولا (الاحزاب: ۷۲) بے شک ہم نے آسمانوں پر اور زمینوں پر اور پہاڑوں پر (اپنے احکام کی امانت پیش کی تو انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے اور انسان نے اس امانت میں خیانت کی، بے شک وہ بہت ظلم کرنے والا بڑا جاہل ہے ۔ پھر آپ نے فرمایا: ہرانسان اپنے دین پر امین ہے وہ غسل جنابت کرتا ہے اور تنہائی میں اور لوگوں کے سامنے نماز پڑھتا ہے اور روزے رکھتا ہے اور منافق صرف لوگوں کے سامنے ان احکام پر عمل کرتا ہے اور تنہائی میں ان احکام پر عمل نہیں کرتا۔ کیا تم اس طرح ہو؟ ہم نے کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: پھر تم اس حکم سے بری ہو ۔ امام ابن جریر طبری اور علامہ سیوطی نے بھی منافق کی علامات کے سلسلہ میں مذکورہ تین آیات کا ذکر کیا ہے ۔ ( جامع البیان جز ۱۰ ص ۲۴۴ در المنثور ج ۴ ص ۲۲۵)
(6) حضرت حذیفہ نے کہا: اب نفاق جا چکا ہے نفاق صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں تھا۔ اسلام پھیل چکا ہے اور اسلام میں لوگ پیدا ہور ہے ہیں، پس جس نے اب نفاق کیا اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں کفر کیا وہ مرتد ہے ۔(عمدۃ القاری ج۱ ص ۳۵۱-۳۴۹ ملخصا مخرجاومشرحا )