کتاب الایمان باب 26 حدیث نمبر 36
sulemansubhani نے Saturday، 13 January 2024 کو شائع کیا.
٢٦- باب الجهاد من الإيمان
جہاد امور ایمان سے ہے
جہاد کا لغوی معنی ہے : کسی مقصد کے حصول کے لیے سخت کوشش کرنا اور اس کا شرعی معنی ہے : اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے کفار کے ساتھ قتال کرنا، اس باب میں اور باب سابق میں مناسبت یہ ہے کہ لیلۃ القدر کا قیام اس وقت حاصل ہوتا ہے، جب انسان سخت کوشش کرے اور بہت مشقت برداشت کرے اور اپنے اہل وعیال سے اختلاط کو ترک کرے، اسی طرح کفار کے ساتھ جہاد میں بھی سخت کوشش اور بہت مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے اور اہل وعیال کو چھوڑنا پڑتا ہے، نیز لیلۃ القدر میں ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ اس رات کو تلاش کر کے حاصل کرے، ورنہ اس کو شب بیداری اور عبادت کا ثواب بہر حال ملتا ہے، اسی طرح جہاد میں بھی بندہ کا ہدف شہادت ہوتا ہے, ورنہ اس کو اجر اور مال غنیمت بہرحال حاصل ہوتا ہے ۔
36- حدثنا حرمي بن خفص قال حدثنا عبدالـواحـد قال حدثنا عمارة قال حدثنا أبوزرعة بن عمرو بن جرير قال سمعت أباهريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال انتدب الله لمن خرج في سبيله، لا يخرجه إلا إيمان بي وتصديق برسلی، ان ارجعة بما نال من أجر، أو غنيمة أو أدخله الجنة، ولولا أن أشق على أمتى ما قعدت خلف سرية، ولوددت أني أقتل في سبيل الله ، ثم أحياء ثم أقتل، ثم أحيا ثم أقتل ۔ اطراف الحدیث: ۲۹۷۴۔7226۔ ۷۲۲۷۔ ۷۴۵۷۔ ۷۴۶۳
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں حرمی بن حفص نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالواحد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمارہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوزرعہ بن عمرو بن جریر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: اللہ اس کا ضامن ہے کہ جو شخص اللہ کی راہ میں گھر سے نکالا اور اس کا ، گھر سے نکلنا صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق کی وجہ سے تھا کہ میں اس کو اس کے حاصل کردہ اجر یا مال غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا اس کو جنت میں داخل کروں اور اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں کسی لشکر کے پیچھے بیٹھا نہ رہتا اور میں اس کو ضرور پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر میں زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر قتل کیا جاؤں ۔
( صحیح مسلم : 1876,سنن نسائی: ,۵۰۴۵ سنن ابن ماجہ ؛ 2753، مسند ابوعوانه ج ۵ ص۳۱، سنن بیہقی ج۹ص۳۹ مسند احمد ج ۲ ص ۳۹۹ طبع قدیم، مسند احمد : ۹۱۸۷ – ج ۱۵ ص۱۰۰ مؤسسة الرسالة بیروت )
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بالکل ظاہر ہے ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) حرمی بن حفص بن عمر العتکی البصری، ان سے امام بخاری نے روایت کیا ہے اور امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے یہ 226ھ میں فوت ہوۓ تھے ۔
(۲) ابو بشر عبد الواحد بن زیاد العبدی البصری، یحیی،ابوحاتم اور ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابن سعد نے کہا: یہ کثیر الحدیث ہیں، یہ 177 ھ میں فوت ہوۓ۔
( ۳) عمارہ بن القعقاع بن بشرمہ، ان سے زہری اور اعمش نے روایت کی ہے یحیی نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابوحاتم نے کہا: یہ صالح الحدیث ہیں ان سے ائمہ ستہ نے روایت کی ہے۔
(۴) ابوزرعہ ان کے نام میں کئی قول ہیں، مشہور نام ھرم ہے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ اور دیگر سے سماع کیا ہے۔
( ۵ ) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔
( عمدة القاری ج۱ ص 360)
جہاد، شہادت اور شہید کی فضیلت اور اس اعتراض کا جواب کہ جو مجاہد مال غنیمت کے ساتھ لوٹے ۔۔۔۔ اس کے اجر میں کمی ہو جاتی ہے
(۱) اس حدیث میں جہاد کی اور اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی فضیلت ہے اور شہادت کی تمنا کرنے کا جواز ہے اور اسی طرح ہر نیک کام کی تمنا کر نے کا جواز ہے ۔
(۲) جب دو مصلحتوں میں تعارض ہوتو جو راجح مصلحت ہو اس کو اختیار کیا جاۓ اور جو مرجوح ہو اس کو ترک کر دیا جائے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور اگر میں اپنی امت پر دشوار نہ سمجھتا تو میں کسی لشکر کے پیچھے بیٹھا نہ رہتا، اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس کام سے مسلمانوں کو مشقت ہو، اس کام کو ترک کرنا چاہیے اور یہ کہ جہاد کرنا فرض عین نہیں ہے فرض کفایہ ہے ۔
(۳) اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں فرمایا ہے کہ شہید کو جنت عطا کرنے کا اللہ تعالی ضامن ہے، اس میں شہید کی کیا خصوصیت ہے، اللہ تعالی ہر مسلمان کو جنت عطا فرماۓ گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ عام مسلمان تو قیامت کے بعد جنت میں جائیں گے اور شہداء موت کے فورا بعد جنت میں چلے جائیں گے قرآن مجید میں ہے: أحياء عند ربهم يرزقون ( آل عمران :169) شہداء اپنے رب کے نزدیک زندہ ہیں، ان کو رزق دیا جاتاہے ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کو حشر کے دن سب سے پہلے جنت میں داخل کیا جاۓ گا، ان سے حساب ہوگا نہ ان کو عذاب ہوگا، اور نہ ان کے گناہوں پر گرفت ہوگی اور ان کی شہادت ان کے گناہوں کا کفارہ ہو جاۓ گی، کیونکہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے: اللہ کی راہ میں شہید ہونا، قتل کے سوا ہر گناہ کو مٹادیتا ہے ۔ (صحیح مسلم:1886)
(۴) ایک اور اعتراض یہ ہے کہ اس حدیث میں مجاہد کے لیے ہر صورت میں اجر کی ضمانت دی گئی ہے، خواہ وہ شہید ہو جاۓ، خواہ وہ سلامتی کے ساتھ مال غنیمت لے کر لوٹے، حالانکہ ایک اور حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ جو سلامتی کے ساتھ مال غنیمت کے ساتھ لوٹے اس کے اجر کے دو حصے کم ہو جاتے ہیں اور جس کو بالکل مال غنیمت نہ ملے اس کو پورا اجر ملتا ہے وہ حدیث یہ ہے : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ غازی جو اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور مال غنیمت پالے، آخرت میں اس کے اجر کے دو تہائی حصے کم ہو جائیں گے اور اس کے لیے صرف ایک تہائی اجر باقی رہ جاۓ گا اور اگر ان کو بالکل مال غنیمت نہ ملا ہو تو پھر ان کو پورا اجر ملے گا ( صحیح مسلم : 1906، سنن ابوداؤد : ۲۴۹۷ سنن نسائی : 3125، سنن ابن ماجه : ۲۷۸۵) اس کا جواب یہ ہے کہ جس حدیث میں مجاہد کو اجر کی ضمانت دی ہے خواہ وہ شہید ہو یا مال غنیمت کے ساتھ لوٹے اس سے مراد وہ مجاہد ہے، جو اخلاص کے ساتھ جہاد کی نیت کرے اور جس حدیث میں فرمایا ہے کہ اس کے اجر سے دوتہائی کم کیا جاۓ گا، اس سے مراد وہ مجاہد ہے جو مال غنیمت کی طلب میں جہاد کے لیے گیا ہو۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۴۷۴۴۔ ج۵ ص۸۸۰ پر ہے اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں :
اللہ تعالی پر جنت عطا کرنے کے وجوب محمل
(۲) جنت کی بشارت میں شہداء کا عام مسلمانوں سے امتیاز
(۳) نیکی یا بدی پر مرنے والوں کا حشر
(۴) موت کی تمنا کی ممانعت کے باوجود شہادت کی تمنا کیوں جائز ہے؟
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب الایمان