۲۹- باب الذين يسر

دین آسان ہے

اس باب کا عنوان ہے: دین آسان ہے، اور باب سابق کے ساتھ اس کی مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں رمضان کے روزوں کا ذکر ہے اور رمضان میں آسانی یہ ہے کہ مریض اور مسافر اگر رمضان میں روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضا کر سکتے ہیں اور شیخ فانی اور جس شخص کو دائمی عذر ہو، وہ روزوں کا فدیہ دے کر روزوں کو بالکلیہ ترک کر سکتا ہے ۔ قرآن مجید میں ہے:

وما جعل عليكم في الدين من حرج . (الج:۷۸)

اور( اللہ نے) تم پر دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی ۔

وقول النبي صلى الله عليه وسلم أحب الدين إلى الله الحنيفية السمحة۔

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: اللہ کے نزدیک پسندیدہ دین وہ ہے جو باطل سے مجتنب ہو اور سہل ہو۔

۳۹- حدثنا عبد لسلام بن مطهر قال حدثنا عمر بن علي، عن معن بن محمد الغفاري ، عن سعيد بن أبي سعيد المقبري، عن أبي هريرة عن النبي صلّی الله عليه وسلم قال إن الدين يسر ولن يشاد هذا الدين أحد إلا غلبة فسددوا وقاربوا، وأبشروا،واستعينوا بالغدوة والروحة وشيء من الدلجة۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبد السلام بن مطہرنے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عمر بن علی نے حدیث بیان کی از معن بن محمد الغفاری از سعید بن ابی سعید المقبری از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: بے شک دین آسان ہے اور جو شخص بھی دین پر غلبہ حاصل کر نے کی کوشش کرے گا اس پر دین غالب آ جاۓ گا۔ پس تم درست کام کرو اور درستی کے قریب کام کرو اور ( جنت کی) خوش خبری سن لو، اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اور رات کے کچھ اندھیرے میں عبادت سے مددحاصل کرو۔

(سنن نسائی :۵۰۴۹ الاحاد والمثانی:۱۹۰ مسند ابویعلی : 6863، المعجم الکبیر: ۷۲ ۳- ج ۱۷ صحیح ابن حبان :۵۱ ۳ سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۸ مسند احمد ج ۵ ص 69 طبع قدیم، مسند احمد :20669۔ ج 34 ص 269، مؤسسة الرسالة بيروت )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عبد السلام بن مطہر الازدی البصری، انہوں نے مشہور اعلام سے روایت کی، جن میں شعبہ ہیں اور ان سے اعلام نے روایت کی، جن میں امام بخاری، امام ابوداؤد، ابوزرعہ اور ابوحاتم ہیں ابوحاتم نے کہا: وہ بہت سچے ہیں ان کی وفات ۲۲۴ھ میں ہوگئی .

( ۲ ) عمر بن علی بن عطاء المقدمی البصری، انہوں نے تابعین کی ایک جماعت سے سماع کیا، جن میں ہشام بن عروہ ہیں اور ان سے بہت اعلام نے سماع کیا، جن میں عمرو بن علی ہیں یہ مدلس تھے اور بہت تدلیس کر تے تھے، عفان نے کہا: یہ نیک آدمی تھے، تدلیس کے علاوہ ان میں اور کوئی عیب نہ تھا یہ ۱۹۰ ھ میں فوت ہو گئے.

(۳) معن بن محمد الغفاری، انہوں نے حمید سے سماع کیا اور ان سے ابن جریج اور دیگر نے سماع کیا، ابن حبان نے ان کا ثقات میں ذکر کیا ہے امام ترمذی، امام نسائی اور امام ابن ماجہ ان سے روایت کرتے ہیں.

( ۴ ) سعید بن ابی سعید المقبری المدنی، انہوں نے صحابہ کی ایک جماعت سے روایت کی ہے، ابوزرعہ نے کہا: یہ ثقہ ہیں امام احمد نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ابن سعد نے کہا: جب یہ بوڑھے ہو گئے تھے تو موت سے پہلے ان کا حافظہ مختلط ہو گیا تھا ان کی ۱۲۵ھ میں وفات ہوئی.

( ۵ ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج اص ۷۱ ۳۔۳۷۰)

اپنی طاقت سے زیادہ عبادت کرنے کی ممانعت اور اعتدال اور میانہ روی سے عبادت کرنے کی ترغیب

اس حدیث میں سہولت اور آسانی کے ساتھ عمل کر نے پر برانگیختہ فرمایا ہے، اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ کون سے اعمال اللہ تعالی کے نزدیک زیاہ پسندیدہ ہیں؟ آپ نے فرمایا: جن اعمال میں زیادہ دوام ہو، خواہ وہ کم ہوں اور آپ نے فرمایا: ( تم اپنے آپ کو ) ان اعمال کا مکلف کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ (صحیح البخاری: ۶۵ ۶۴ )

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم وصال کے روزے ( جن میں نہ سحری ہو نہ افطار ) نہ رکھو، صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ تو وصال کے روزے رکھتے ہیں! آپ نے فرمایا: تم میری مثل نہیں ہو، بے شک میں اپنے رب کے پاس رات گزارتا ہوں، میرا رب مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے تم ( خودکو ) ان اعمال کا مکلف کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو ۔ ( صحیح مسلم کتاب الصيام : ۵۸ الرقم المسلسل :2526)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ( خود کو) ان اعمال کا مکلف کرو، جن کی تم میں طاقت ہو۔ (صحیح مسلم الرقم المسلسل : ۷ ۲۵۲ مسند احمد ج ۲ ص۲۳۱ ج۲ ص۳۵۰۔316-۲۵۷)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادات میں اعتدال اور میانہ روی کا حکم دیا ہے اور اپنے نفس کو زیادہ مشقت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے، کیونکہ اللہ تعالی نے بندوں پر جو عبادات فرض کی ہیں وہ مسلسل اور لگاتار نہیں فرض کیں، مثلا وقفے وقفے سے دن کے مختلف اوقات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں، یہ بندوں پر اس کی آسانی اور رحمت ہے ۔

نیز فرمایا: جو شخص بھی دین پر غلبہ حاصل کر نے کی کوشش کرے گا، دین اس پر غالب آجائے گا یعنی تم میں سے کوئی شخص زیادہ گہرائی میں نہ جاۓ اور آسان عبادت کو چھوڑ کر مشکل عبادت کو نہ اختیار کرے اور جو شخص ایسا کرے گا وہ تھک جاۓ گا یا اکتا جاۓ گا یا عاجز آ جاۓ گا، پھر وہ بعض یا کل عبادات ۔کے کام نہیں کر سکے گا اور پھر اس کو عمل نہ کرنے کا عذاب ہوگا سوتم حتی الامکان درست کام کرنے کی کوشش کرو ۔

نیز فرمایا: تم صبح، شام اور رات کے کچھ وقت میں عبادت کرو یعنی فرصت کے اوقات میں عبادت کرو تا کہ تم تر و تازہ ہوکر خوشی سے عبادت کرو، اور بے دلی اور اکتاہٹ سے عبادت نہ کرو۔