۳۱- باب حسن إسلام المرء

کسی شخص کے اسلام کا حسن

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں نماز قائم کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں کسی شخص کے حسن اسلام کا ذکر ہے اور کسی شخص کے اسلام میں اس وقت حسن ہوگا جب وہ نماز قائم کرے گا ۔

٤١- قال مالك أخبرني زيد بن أسلم أن عطاء بن يسار أخبره أن أبا سعيد الخدري أخبره أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إذا اسلم العبد فـحـسـن إسـلامـة، يكفر الله عنه كل سيئة كان زلفها، وكان بعد ذلك القصاص الحسنه بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف، والسيئة بمثلها إلا أن يتجاوز الله عنها.

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ امام مالک نے کہا: مجھے زید بن اسلم نے خبر دی کہ عطاء بن یسار نے ان کو خبر دی، انہوں نے کہا: ان کو حضرت ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا: جب بندہ اسلام لاۓ اور اسلام پر اچھی طرح عمل پیرا ہو تو اللہ اس کے ہر سابقہ گناہ کو مٹا دیتا ہے اور اس کے بعد برابر برابر ہے، ایک نیکی کا دس مثل سے لے کر سات سو مثل تک اجر ہوتا ہے اور ایک برائی کی اتنی ہی سزا ہوتی ہے سوا اس کے کہ اللہ اس برائی سے درگزر فرماۓ ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) مالک بن انس رحمہ اللہ.

(۲) زید بن اسلم، یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں.

(۳) عطاء بن یسار یہ حضرت ام المؤمنین کے آزاد کردہ غلام ہیں، ان کا تعارف ہوچکا ہے.

( ۴ ) حضرت ابوسعید سعد بن مالک الخذری رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( عمدة القاری ج۱ص۳۹۱)

حسن اسلام کے معانی

اس حدیث میں فرمایا ہے: جب بندہ اسلام لائے اور اس پر اچھی طرح عمل پیرا ہو، اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے ظاہر اور باطن کے ساتھ اسلام میں داخل ہوجاۓ، اور اس کا یہ معنی بھی ہے جیسا کہ حدیث جبریل میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ اس کو دیکھ رہے ہو اس سے مراد یہ ہے کہ بہت زیادہ اخلاص اور خضوع اور خشوع سے اللہ تعالی کی عبادت کرو۔

اس حدیث میں فرمایا ہے: تو اللہ اس کے ہر سابقہ گناہ کا کفارہ کردیتا ہے کفارہ کا معنی ہے: گناہوں کو ڈھانپ لینا اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ وہ گناہوں کی وجہ سے جس عذاب کا مستحق تھا، اللہ تعالی اس عذاب کو ساقط کردیتا ہے ۔

اور اس حدیث میں’’ زلفها ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: وہ جس گناہ کے قریب گیا تھا اور اس کا معنی بھی ہے: اس نے جس گناہ کو پہلے کیا تھا۔

حسن اسلام کے سلسلہ میں مشہور حدیث میں ہے:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی شخص کے اسلام کا حسن یہ ہے کہ وہ لایعنی (غیر مقصود چیزوں کو) ترک کر دے ۔ ( سنن ترمذی: ۱۷ ۲۳ سنن ابن ماجه :3976 مسند احمد ج1 ص 201)

اسلام لانے کے بعد اگر سابقہ برے کام دوبارہ کیے تو پھر وہ برے کام معاف ہوں گے یانہیں؟

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کیا ہم سے جاہلبیت کے کاموں پر گرفت کی جاۓ گی؟ آپ نے فرمایا: جو اسلام پر عمدہ طریقہ سے عمل پیرا ہوا اس سے جاہلیت کے افعال پر مواخذہ نہیں کیا جاۓ گا اور جس نے اسلام میں برے کام کیے، اس کے پہلے اور بعد کے کاموں پر گرفت کی جاۓ گی ۔ ( صحیح البخاری:6921، صحیح مسلم : ۰ ۱۳ مسند احمد ج ۱ ص ۴۰۹)

اسلام پر عمدہ طریقہ سے عمل پیرا ہونے کا معنی یہ ہے کہ اسلام کے فرائض اور واجبات پر عمل کرے اور حرام اور مکروہ تحریمی کاموں سے باز رہے اور اسلام میں برے کاموں سے مراد یہ ہے کہ اسلام میں ان ممنوع کاموں کو کرے، جن کو جاہلیت میں کیا جاتا تھا ۔

حضرت ابن مسعود کی اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مسلمان نے اسلام لانے سے پہلے جو بعض ایسے حرام کام کیے جو زمانہ جاہلیت میں کیے جاتے تھے اور جن سے وہ اسلام لانے کے بعد اجتناب کرتا ہے، ان حرام کاموں کو اسلام لانے کے بعد مٹادیا جاتا ہے اور رہے وہ حرام کام جن کو اس نے زمانہ جاہلیت میں کیا اور اسلام لانے کے بعد بھی ان حرام کاموں پر اصرار کیا تو اس سے ان کاموں پر بھی گرفت کی جاۓ گی، کیونکہ جب اسلام لانے کے بعد اس نے ان حرام کاموں پر اصرار کیا تو وہ ان حرام کاموں سے تائب نہیں ہوا تھا، سو بغیر توبہ کے وہ گناہ نہیں مٹاۓ جائیں گے اور جمہور علماء نے یہ کہا ہے کہ اسلام لانے کے بعد زمانی کفر کے تمام گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں خواہ وہ اسلام لانے کے بعد ان گناہوں کو دوبارہ کرے یا نہ کرے ان کی دلیل یہ حدیث ہے:

حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تعالی نے اسلام کو میرے دل میں جاگزین کردیا تو میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ پھر میں نے کہا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں آپ نے ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا آپ نے پوچھا: اے عمرو! کیا ہوا؟ میں نے کہا: میں ایک شرط لگانا چاہتا ہوں، آپ نے پوچھا: کیا شرط لگانا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: میری مغفرت کر دی جاۓ آپ نے فرمایا: کیا تم نہیں جانتے کہ اسلام پہلے کیے ہوۓ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور ہجرت پہلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے اور حج پہلے گناہوں کو مٹا دیتا ہے ۔ ( صحیح مسلم کتاب الایمان : 192 رقم بلاتکرار ۱۲۱ الرقم مسلسل : ۳۱۴)

حضرت ابن مسعود کی حدیث کی وجہ سے حضرت عمرو بن العاص کی حدیث کے عموم کو مقید کیا جائے گا یا حضرت ابن مسعود کی حدیث کی تاویل کی جاۓ گی اس سلسلہ میں حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں :

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ حضرت ابن مسعود کی یہ حدیث بہ ظاہر اجماع امت کے خلاف ہے کہ اسلام زمانہ کفر کے تمام گناہوں کومٹا دیتا ہے اور قرآن مجید میں ہے:

قل للذين كفروا إن ينتهوا يغفر لهم ما قد سلف(الانفال : ۳۸)

آپ ان کافروں سے کہیے کہ اگر یہ لوگ ( کفر سے ) باز آجائیں تو ان کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۔

‏اور اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ کافر جب اسلام لے آۓ تو اس کے پچھلے گناہوں پر مواخذہ نہیں کیا جاتا۔ پس اگر وہ اسلام لانے کے بعد انتہائی برا کام کرے اور وہ اسلام کی حالت میں بہت سخت گناہ پر سوار ہو تو اسلام میں اس کی اس بڑی معصیت پر گرفت کی جائے گی اور زمانہ کفر کی معصیت اور اس کو مٹانے پر سرزنش اور زجر و توبیخ کی جاۓ گی اس سے کہا جاۓ گا: کیا تو نے زمانہ کفر میں یہ کام نہیں کیا تھا پھر تیرے اسلام نے تجھے اس کام کو دوبارہ کرنے سے کیوں نہیں روکا؟ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زمانہ کفر کی معصیت پر تو صرف سرزنش اور ملامت کی جاۓ گی اور زمانہ اسلام کی معصیت پر اس کو سزا دی جاۓ گی۔

حضرت ابن مسعود کی حدیث کی دوسری توجیہ یہ ہے کہ زمانہ اسلام میں برا کام کرنے سے مراد کفر ہے، کیونکہ وہ انتہائی برا کام اور بہت سخت معصیت ہے، پس جب وہ شخص مرتد ہوگیا اور کفر پر مرگیا، پھر وہ اس شخص کی طرح ہو گیا جو اسلام نہیں لایا اور اس کو اس کے تمام سابقہ گناہوں پر سزادی جاۓ گی، اسی وجہ سے امام بخاری نے اس حدیث کو ابواب المرتدین میں درج کیا ہے ۔

علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ اس حدیث کا یہ معنی ہے کہ جو شخص اسلام پر عمدہ طریقہ سے عمل پیرا ہوا یعنی اس نے اسلام کے تمام احکام پر ان کی شرائط کے ساتھ عمل کیا تو اس کے زمانہ جاہلیت کے گناہوں پر مواخذہ نہیں کیا جاۓ گا اور جس نے اسلام لا کر برا کام کیا یعنی توحید کے عقیدہ کو ترک کردیا تو اس کے تمام سابقہ گناہوں پر مواخذہ کیا جاۓ گا میں نے علماء کی ایک جماعت پر اس حدیث کے جواب کو پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ اس حدیث کا اور کوئی معنی نہیں ہے ۔

محب طبری نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو شخص صحیح اسلام لایا، جس میں نفاق نہ ہو، اس کے زمانہ جاہلیت کے برے کاموں کا کفارہ ہو جاۓ گا اور جس نے زمانہ اسلام میں نفاق کیا، اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ نہیں ہوگا ۔

علامہ داؤدی نے کہا: جو اسلام لانے کے بعد اسلام پر مرگیا اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ ہوگا اور جو غیر اسلام پر مرا اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ نہیں ہوگا ۔

علامہ قرطبی نے کہا: جو اخلاص سے اسلام لایا، اس کے زمانہ جاہلیت کے گناہوں کا کفارہ ہو جاۓ گا اور جو ریاکاری اور دکھانے کے لیے اسلام لایا اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ نہیں ہوگا ۔ (فتح الباری ج ۸ ص ۷۰ ۔ 69 دار المعرفة بیروت 1426ھ )