کتاب الایمان باب 33 حدیث نمبر 44
۳۳- باب زيادة الإيمان ونقصانه
ایمان کی زیادتی اور اس کا نقصان
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح کہ سابق باب میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عبادت وہ ہے، جس میں زیادہ دوام ہو اور اس باب میں ایمان کی زیادتی اور نقصان کا ذکر ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب بندہ کسی عبادت کو دوام کے ساتھ زیادہ کرتا ہے تو اس کا ایمان زیادہ ہوتا ہے اور جب وہ اس کے دوام میں تقصیر کرتا ہے تو اس کا ایمان کم ہوتا ہے، اور یہی امام بخاری کا مطلوب اور مقصود ہے اور یہ ہم احناف کے مخالف نہیں ہے، کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ نفس ایمان میں اعمال داخل نہیں ہیں اور اس کے امام بخاری بھی قائل ہیں اور ایمان کامل میں اعمال داخل ہیں ۔
وقول الله تعالى (وزدناهم هدى» (الكيف :13)
اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’ اور ہم نے اصحاب کی ہدایت کو زیادہ کیا۔(الکہف: ۱۳ )
ويزداد الذين امنوا إيمانا (المدثر:۳۱) ‘‘
(اور ایمان والے ایمان میں زیادہ ہوجائیں (المدثر 31)
وقال «اليوم أكملت لكم دينكم﴾ (المائد:3)
اور فرمایا: ’’ آج ہم نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا (المائدہ 3)
فاذا ترك شيئا من الكمال فهو ناقص۔ .
اور جب کمال میں سے کسی چیز کو چھوڑ دیا جاۓ تو وہ ناقص ہوتی ہے ۔
٤٤- حدثنا مسلم بن إبراهيم قال حدثنا هشام قال حدثنا قتادة عن أنس عن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن شعيرة من خير ويخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفي قلبه وزن برة من خير و يخرج من النار من قال لا إله إلا الله وفی قلبه وزن ذرة من خير۔ طرف الحدیث:۷۵۰۹
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں مسلم بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں ہشام نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، آپ نے فرمایا: وہ شخص دوزخ سے نکل آۓ گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ایک جو کے برابر بھی نیکی ہو اور وہ شخص دوزخ سے نکل آئے گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ایک گندم کے برابر بھی نیکی ہو اور وہ شخص دوزخ سے نکل آۓ گا جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ایک جوار( یا ذرہ) کے برابر بھی نیکی ہو ۔
( صحیح مسلم : ۱۹۳ سنن ترمذی : 2593، سنن ابن ماجہ :4312، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۱ ص ۱ ۵ ۴ – 450 السنن الکبری للنسائی : 11243 صحیح ابن خزیمہ ج ۲ ص 607، مسند ابوعوانہ ج۱ ص۱۸۰ – ۱۷۹ صحیح ابن حبان : ۶۴ ۶۴ الشريعة للآجری ص 349، کتاب الاسماء والصفات ص ۱۹۱ شرح السنه ۴۳۳۴ مسند احمد ج ۳ ص 116، طبع قدیم ،مسند احمد : 12153-۔ ج۱۹ ص ۱۹۸ مؤسسة الرسالة بیروت)
قال أبو عبد الله قال أبان حدثنا قتادة حدثنا انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم من إيمان مكان من خير۔
امام بخاری کہتے ہیں : ابان نے کہا: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی از نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں خیر کے بجاۓ ایمان کا لفظ ہے ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) مسلم بن ابراہیم البصری الازدی ،ان سے امام بخاری اور امام ابوداؤد نے احادیث روایت کی ہیں، یہ ۱۳۳ھ میں بصرہ میں پیدا ہوئے اور ۲۲۲ھ میں فوت ہو گئے، یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ مامون ہیں، ابوحاتم نے کہا: ثقہ صدوق ہیں، انہوں نے ستر (۷۰) خواتین سے احادیث سماع کی ہیں.
( ۲ ) ہشام بن ابوعبداللہ الربعی البصری، وکیع نے کہا: یہ ثبت تھے امام ابوداؤد الطیالسی نے کہا: یہ امیر المؤمنین فی الحدیث ہیں، محمد بن سعد نے کہا: یہ ثقہ اور ثبت فی الحدیث تھے مگر یہ قدری تھے، یہ ۱۴۵ ھ میں فوت ہو گئے.
( ۳) قتادہ بن دعامه.
( ۴ ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان دونوں کا تعارف گزر چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ا ص ۴۰۵)
بعض الفاظ کے معانی اور اس اشکال کا جواب کہ ایمان تو ایک کیفیت ہے اس کا ذرہ برابر وزن کیسے ہوگا اور اس اعتراض کا جواب کہ محمد رسول اللہ پڑھے بغیر صرف لا الہ الا اللہ پڑھنے سے کیسے نجات ہو گی؟
اس حدیث میں’’ شعيرة ‘‘اور’’برہ‘‘ کا لفظ ہے’’ شعيرة ‘‘ کا معنی جو ہے اور ’برہ‘‘ کا معنی گندم ہے اور’’ الذرة ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: چھوٹی چیونٹی اور اس کا معنی ہے : سوئی کے ناکے کے برابر وہ غبار جو سورج کی شعاع میں نظر آتا ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم اپنے ہاتھ سے گرد جھاڑو تو جو گرد جھڑے گی وہ ذرہ ہوگا ایک قول یہ ہے کہ چار ذروں سے مل کر ایک خردل ( رائی کا دانہ ) بنتا ہے شعبہ نے اس لفظ کو بدل کر ’’ ذرۃ‘‘ لکھا ہے اس کا معنی ہے : جوار کا دانہ ۔ اور اس حدیث میں یخرج‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : نکلتا ہے اور بعض روایات میں ’’یخرج‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ہے نکالا جائے گا۔ اس حدیث میں ہے : جس کے دل میں ذرہ کے برابر خیر ہو خیر سے مراد ایمان ہے جیسا کہ امام بخاری نے ابان کی تعلیق میں ذکر کیا ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ جس کے دل میں ذرہ کے برابر ایمان ہو وہ دوزخ سے نکل آۓ گا اس پر یہ اعتراض ہے کہ ایمان کا وزن کس طرح کیا جاۓ گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس کے اعمال کے جس صحیفہ میں ایمان لکھا ہو گا۔ اس صحیفہ کا وزن کیا جاۓ گا دوسرا جواب یہ ہے کہ اب سائنسی تحقیق سے واضح ہو چکا ہے کہ کیفیات کا بھی وزن ہوجاتا ہے جسم یا کمرہ میں یا فضاء میں جو درجہ حرارت ہو اس کا وزن کیا جاتا ہے اس وقت میرے کمرہ میں 28.4 درجہ حرارت ہے کل شام میرے خون میں رینڈم گلوکوز کی مقدار 225 ملی گرام تھی اور صبح کو میرے خون میں کولیسٹرول کی مقدار 199 ملی گرام تھی اور آج صبح میرا بلڈ پریشر 130/70 تھا سو جب سائنسی آلات سے ان کیفیات کا وزن ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی کے لیے ایمان کا وزن کرنا کیا مشکل ہے اور اس میں کون سا استبعاد ہے ۔ نیز اس حدیث میں ہے: جس نے لا الہ الا اللہ کہا اور اس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو وہ دوزخ سے نکل آئے گا اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس میں محمد رسول اللہ کا ذکر نہیں ہے حالانکہ نجات کے لیے آپ کی رسالت پر ایمان لانا ضروری ہے اس کے تین جواب ہیں:
(۱) لا الہ الا اللہ سے مراد پورا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور یہاں جز کا ذکر ہے اور اس سے مراد کل ہے.
( ۲ ) لا الہ الا اللہ پورے کلمہ طیبہ کا علم ہے جیسے قل هو الله احد ‘‘سورہ اخلاص کا علم ہے.
( ۳) لا الہ الا اللہ پر ایمان کا معنی ہے : اللہ تعالی پر اس کی تمام صفات کے ساتھ ایمان لانا اور اللہ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنانے والا ہے ۔
اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ بعض اہل ایمان کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اس میں مرجئہ کے عقید ہ کا رد ہے کہ کسی مومن کو دوزخ میں نہیں ڈالا جاۓ گا اور اس حدیث میں یہ بھی تصریح ہے کہ ان کو دوزخ سے نکال لیا جاۓ گا اس میں خوارج اور معتزلہ کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ مرتکب کبیرہ کو دوزخ سے نہیں نکالا جاۓ گا ۔
* یہ حدیث شرح صحیح مسلم :386۔ ج۱ ص ۸۱۰ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔