وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُوۡنَ – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 9
sulemansubhani نے Sunday، 14 January 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَدُّوۡا لَوۡ تُدۡهِنُ فَيُدۡهِنُوۡنَ ۞
ترجمہ:
انہوں نے یہ چاہا کہ اگر آپ ( دین میں) نرمی کریں تو وہ بھی نرم ہوجائیں گے.
مداہنت کا لغوی اور اصطلاحی معنی
القلم : ٩ میں فرمایا : انہوں نے یہ چاہا کہ اگر آپ ( دین میں) نرمی کریں تو وہ بھی نرم ہوجائیں گے۔
اس آیت میں ” تدھن “ کا لفظ ہے، اس کا لفظی معنی ہے : تم نرمی کرو یا ملائمت کرو ” دھن “ کا معنی تیل اور چکنائی ہے، اصطلاح میں مداہنت کا معنی ہے : کسی خوف یا لالچ کی بناء پر حق بات کو چھپانا، اور مخالفین کے ساتھ نرمی سے پیش آنا، کفار کا مطلب یہ تھا کہ آپ بتوں کی مذمت نہ کریں اور شرک کا رد نہ کریں تو وہ بھی آپ کی مخالفت نہیں کریں گے۔
مداہنت جائز نہیں ہے اور مدارت جائز ہے، دنیاوی مفاد کی وجہ سے کفار اور فساق سے نرمی کرنا مداہنت ہے اور دینی مفاد کی وجہ سے کفار اور فساق سے نرمی کرنا مدارت ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 68 القلم آیت نمبر 9