٣٤- باب الزكوة من الإسلام

زکوۃ امور اسلام سے ہے

اس عنوان کا معنی ہے : اسلام کی شاخوں میں سے ایک شاخ زکوۃ ہے اس باب اور باب سابق میں مناسبت یہ ہے کہ باب سابق کا عنوان تھا: ایمان میں زیادتی اور کمی اور اعمال کے زیادہ یا کم ہونے سے ایمان میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے اور زکوۃ کے زیادہ یا کم دینے سے بھی اسلام میں زیادتی اور کمی ہوگی، اسی طرح ایمان میں بھی زیادتی اور کمی ہوگی اور یہ ہم احناف کے خلاف نہیں ہے، کیونکہ ہمارے نزدیک بھی ایمان کامل میں زیادتی اور کمی ہوتی ہے ۔

وقوله تعالى( وما أمروا إلا ليعبدوا الله مخلصين له الدين حنفاء ويقيموا الصلوة ويؤتوا الزكوة وذلك دين القيمة) (البينة:5)۔

اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے: ’’اور انہیں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اخلاص کے ساتھ اطاعت کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں ادیان باطلہ سے اجتناب کرتے ہوۓ اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور یہی دین مستقیم ہے ‘‘ (البینۃ :۵ )۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب کو تورات اور انجیل میں صرف یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس طریقہ سے اللہ تعالی کی عبادت کریں, اس آیت میں نماز اور زکوۃ کی باقی تمام عبادات پر فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس آیت کی اس باب کے عنوان کے ساتھ مناسب یہ ہے کہ اس باب کا عنوان ہے: زکوۃ امور اسلام سے ہے اور اس آیت میں زکوۃ ادا کرنے کا حکم ہے۔

 

٤٦- حدثنا إسماعيل قال حدثني مالك بن أنس، عـن عـمـه ابـي سهيل بن مالك ، عن ابيه انه سمع طلحة بن عبيدالله يقول جاء رجل إلى رسول اللہ صلى الله عليه وسلم من أهل نجد، ثائر الرأس، نسمع دوي صوته ولا نفقه ما يقول، حتى دنا فإذا هو يسال عن الإسلام فقال رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم خمس صلوات في اليوم والليلة فقال هل على غيرها؟ قال لا، إلا أن تطوع قال رسول الله صلى الله عليه وسلم وصيام رمضان قال هل علی غيره؟ قال لا، إلا أن تطوع قال وذکر لہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الزکوتہ قال ھل علی غیرھا؟ قال لاز الا ان تطوع قال فادبر الرجل وھو يقول والله لا أزيد على هذا ولا انقص، قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم افلح إن صدق.

اطراف الحدیث :1892،2678،6956

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں اسماعیل نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک بن انس نے حدیث بیان کی از اپنے چچا ابو سہیل بن مالک از اپنے والد کہ انہوں نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اہل نجد میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے تھے، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے اور اس کی بات سمجھ نہیں رہے تھے، حتی کہ وہ قریب ہوا تو وہ اسلام کے متعلق سوال کر رہا تھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں ہیں، اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں! مگر یہ کہ تم نفل پڑھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور رمضان کے روزے، اس نے کہا: کیا ان کے علاوہ کچھ اور روزے بھی میرے ذمے ہیں؟ آپ نے فرمایا: نہیں! مگر یہ کہ تم نفلی روزے رکھو حضرت طلحہ نے کہا: اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے زکوۃ کا ذکر کیا، اس نے کہا: کیا زکوۃ کے علاوہ اور بھی کچھ دینا میرے ذمے فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں! مگر یہ کہ تم نفلی صدقہ دو، وہ شخص یہ کہتے ہوۓ پیٹھ موڑ کر چلا گیا: اللہ کی قسم ! میں ان فرائض پر کچھ زیادہ کروں گا نہ کم کروں گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس نے سچ کہا ہے تو یہ کامیاب ہو گیا ۔

صحیح مسلم :11 سنن ابوداؤد:391، سنن نسائی:۴۵۷ مسند البزار: ۹۳۳ مسند الشافعی ج 1 ص 12، ابن الجارود: ۱۴۴ صحیح ابن حبان : ۱۷۲۴ سنن بیہقی ج ۱ص۳۶۱ شرح السنة : ۷ ، سنن دارمی: ۷۸ ۱۵ مسند احمد ج ۱ ص 161 طبع قدیم مسند احمد :۱۳۹۰ – ج ۳ ص ۱۳ مؤسسة الرسالۃ بیروت 

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

(۱) اسماعیل بن ابی اویس بن عبدالله الاصحبی المدنی، یہ امام مالک کے بھانجے ہیں‘’باب تـفـاضـل اهل الايمان ‘‘ میں ان کا تعارف ہو چکا ہے.

( ۲ ) امام مالک بن انس.

( ۳) ابوسہیل نافع بن مالک.

( ۴ )ابوسہیل کے والد مالک بن ابی عامر ان سب کا تعارف ہوچکا ہے.

(۵) ابومحمد طلحہ بن عبید اللہ القرشی التیمی رضی اللہ عنہ، یہ ان دس صحابہ میں سے ایک ہیں، جن کو جنت کی بشارت دی گئی، یہ بدر کے سوا تمام غزوات میں حاضر رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے مال غنیمت میں سے ان کا حصہ رکھا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ جب غزوہ احد کا ذکر کرتے تو فرماتے : یہ پورا دن حضرت طلحہ کا تھا اور یہ ان چھ صحابہ میں سے ہیں، جن کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے مشورے کے لیے نامزد کیا تھا، جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے وقت راضی تھے یہ وہ ہیں جو غزوہ احد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قائم اور ثابت قدم رہے، غزوہ احد میں مالک بن زبیر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف تیر مارے، انہوں نے مدافعت میں اپنا ہاتھ آگے کر دیا، جس کی وجہ سے ان کا ہاتھ شل ہو گیا ( سوکھ کر بے کار ہو گیا) انہوں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ بچایا تھا، اس دن حضرت طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ۷۵ زخم لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام طلحہ الخیر اور طلحہ الجواد رکھا، ان سے ۳۳‘ احادیث مروی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان میں سے دوحدیثوں پر متفق ہیں، امام بخاری 2 حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم 3 حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں، یہ جنگ جمل میں شہید ہو گئے، کسی نے ان کو تیر مارا، مارنے والے کا پتا نہیں چل سکا 64 سال کی عمر میں ۳۶ھ میں ان کی شہادت ہوئی ان کی قبر بصرہ میں ہے، ابن قتیبہ نے کہا: یہ قرہ نامی پل کے نیچے مدفون ہیں، تیس سال بعد ان کی صاحب زادی نے خواب دیکھا، انہوں نے شکایت کی کہ ان کی قبر گیلی ہوگئی ہے، ان کی صاحب زادی کے حکم سے ان کو قبر سے نکالا گیا۔ ان کا جسم بالکل تروتازہ تھا پھر ان کو بصرہ میں دارالہجرتین میں دفن کیا گیا ان کی قبر مشہور ہے، رضی اللہ عنہ بہت بڑی جماعت نے ان سے روایت کی ہے۔ ( عمدة القاری ج۱ ص ۱۴ ۴ )

حضرت طلحہ بن عبید اللہ کو تیس سال بعد قبر سے تروتازہ نکالنے کے متعلق مزید حوالہ جات

جن مشاہیر علماء نے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے:

(۱) امام محمد بن سعد متوفی ۲۳۰ھ : الطبقات الکبری ج ۳ ص ۲۲۴ ۔ ۲۲۳ دارصادر بیروت

(۲) حافظ ابوالقاسم علی بن حسن ابن عسا کر متوفی 571ھ: تاریخ دمشق الکبیر ج ۲۷ ص ۷ ۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۴۲۱ھ

(۳) علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی ۶ ۲۷ ھ : تہذیب الاسماء واللغات ج۱ ص ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت

(۴) حافظ جمال الدین یوسف مزی متوفی ۷۴۲ھ : تہذیب الکمال ج۹ص۲۵۸ دارالفکر بیروت 1414ھ

(۵) شمس الدین محمد بن احمد ذہبی متوفی ۷۴۸ھ : سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۲۵ دارالفکر بیروت 1417ھ

(۲) مشہور دیو بندی عالم شیخ سلیم اللہ خان : کشف الباری ج ۲ ص ٬۴۸۳ مکتبہ فاروقیہ کرا چی ۱۴۲۶ھ

بعض الفاظ کے معانی اور بعض اعتراضات کے جوابات، خصوصاً اس اشکال کا جواب کہ آپ نے اس سائل کی فلاح کی خبر دی حالانکہ اس نے محرمات سے اجتناب کا اقرار نہیں کیا تھا

’’نجد ‘‘ سرزمین تہامہ سے لے کر ارض عراق تک جو بلند جگہ ہے وہ نجد ہے اس کا لغوی معنی ہے : زمین کی بلند جگہ ۔

’’ثائر الراس ‘‘ جس کے سر کے بال منتشر ہوں ۔

’’دوی صوتہ‘‘ وہ آواز جو بلند اور متکرر ہو اور اس کا مطلب سمجھ میں نہ آۓ شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مثل آواز ۔

اس حدیث میں ذکر ہے : ایک شخص آیا و شخص ضمام بن تغلبہ تھا، جو بنو سعد بن بکر کا بھائی تھا، یہ ۵ ھ میں اسلام لائے تھے ۔

اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ اس شخص نے اسلام کے متعلق سوال کیا تو آپ کو بہ ظاہر چاہیے تھا کہ آپ اس کو توحید اور رسالت کے متعلق بتاتے، آپ نے اس کو نماز، روزے اور زکوۃ کے متعلق بتایا تو یہ جواب سوال کے مطابق نہیں ہے اس کے دو جواب ہیں: (۱) اس کا سوال درحقیقت فرائض اسلام کے متعلق تھا، پھر اعتراض ہوگا کہ آپ نے حج کا ذکر نہیں کیا اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت تک حج فرض نہیں ہوا تھا ( ۲ )ممکن ہے، پہلے آپ نے اس کو توحید اور رسالت کی گواہی دینے کے متعلق بتایا ہو لیکن حضرت طلحہ فاصلہ پر ہونے کی وجہ سے اس کو سن نہ سکے ہوں ۔ اس شخص نے کہا: میں ان پر اضافہ نہیں کروں گا، اس پر اعتراض ہے کہ اس میں نوافل کا انکار ہے اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی مراد یہ تھی کہ میں ان فرائض پر زیادتی نہیں کروں گا یعنی پانچ فرض کی بجاۓ چھ فرض نہیں پڑھوں گا۔

نیز اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے متعلق فرمایا: اگر اس نے سچ کہا تو یہ کامیاب ہو گیا حالانکہ اس نے واجبات ادا کر نے کا کہا تھا اور نہ حرام کاموں سے اجتناب کا کہا تھا تو ان کے بغیر اس کی فلاح کیسے ہوسکتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ حدیث صحیح البخاری کے آخر میں نمبر 6956 پر بھی درج ہے اس میں یہ جملہ ہے: پس اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرائع اسلام کی خبر دی اور شرائع اسلام میں تمام فرائض اور واجبات اور تمام محرمات اور مکروہات بھی داخل ہیں اس کے بعد اس شخص نے کہا: میں ان چیزوں میں کوئی زیادتی کروں گا نہ کمی، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر اس شخص نے سچ کہا تو یہ فلاح پا گیا اور ظاہر ہے کہ جو شخص تمام فرائض اور واجبات پر عمل کرے اور تمام محرمات اور مکروہات سے اجتناب کرے وہ جنتی ہی ہوگا ۔

شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح

یہ حدیث شرح صحیح مسلم: ۸ ۔ ج۱ ص۳۳۱ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:

نفلی عبادت کو پورا کر نے کے وجوب پر فقہاء احناف کے دلائل .

(۲) فرائض میں کمی اور اضافہ کرنے کی توجیہ.

(۳) غیر اللہ کی قسم کھانے کا شرعی حکم.

(4) تہجد کی فرضیت کے منسوخ ہونے کا بیان.

(5) وتر کی نماز کے وجوب میں اختلاف فقہاء اور فقہاء احناف کے موقف پر دلیل.

(6) رمضان کے روزوں اور زکوۃ کے علاوہ دیگر روزوں اور صدقات کے فرض نہ ہونے کی تحقیق ۔