أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا ثَمُوۡدُ فَاُهۡلِكُوۡا بِالطَّاغِيَةِ ۞

ترجمہ:

رہے ثمود تو ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا گیا.

الحاقہ : ٥ میں فرمایا : رہے ثمود تو ان کو ایک چنگھاڑ سے ہلاک کردیا گیا۔

قوم ثمود کی عذاب سے ہلاکت

اس آیت میں ” طاغبۃ “ کا لفظ ہے ” طاغبۃ “ کا معنی ہے : جو چیز شدت اور قوت میں حد سے متجاوز ہو، اور ” طاغبۃ “ کا موصوف محذوف ہے اور وہ ’ ’ صبحۃ “ ہے اس کا معنی ہے : آواز اور چیخ یعنی وہ ایسی چیخ تھی جو تمام چیخوں سے قوت اور شدت میں حد سے زیادہ تھی اور وہ خوفناک چنگھاڑ تھی، اللہ تعالیٰ نے اس چنگھاڑ کی اثر آفرینی کے متعلق فرمایا ہے :

اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ ۔ (القمر : ٣١)

ہم نے ان پر ایک چنگھاڑ بھیجی پھر وہ ایسے ہوگئے جیسے باڑ بنانے والے کی روندگی ہوئی گھاس ہو۔

اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ” طاغیۃ “ سے مراد بجلی کی کڑک ہے یعنی وہ حد سے زیادہ ہولناک کڑک تھی۔

بعض مفسرین نے کہا کہ ” طاغیۃ “ طغیان سے بنا ہے اور اس کا معنی ہے : سرکشی، یعنی قوم ثمود کو ان کی سرکشی کی وجہ سے ہلاک کردیا گیا کیونکہ قوم ثمود نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کا کفر کیا۔

اس آیت کی تیسری تفسیر یہ ہے کہ قوم ثمود کو ایک سرکش گروہ کی وجہ سے قتل کردیا گیا، جس نے اس اونٹنی کو کونچیں کاٹ دیں تھیں ( ایڑی کے اوپر کے پٹھوں کو کونچیں کہتے ہیں) جب اونٹنی پانی پی کر لوٹ رہی تھی تو وہ اس کی گھات میں بیٹھے ہوئے تھے، اس کے راستہ میں ایک چٹان تھی جس کے نیچے قدار نامی ایک شخص چھپ کر بیٹھا ہوا تھا، جب وہ اس کے پاس سے گزری تو مصدع نام کے ایک شخص نے اس کی پنڈلی پر تاک کر تیر مارا اور قدار نے تلوار سے اس کی کونچیں کاٹ دیں، اونٹنی کو ہرچند کہ وہ آدمیوں نے مل کر قتل کیا تھا لیکن چونکہ پوری قوم ثمود اس شر کسی، شرارت اور بغاوت میں ان کے ساتھ تھی، اس لیے اس سرکشی کی وجہ سے پوری قوم کو ہلاک کردیا گیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 69 الحاقة آیت نمبر 5