کتاب الایمان باب 35 حدیث نمبر 47
٣٥- باب إتباع الجنائز من الإيمان
جنازوں کے ساتھ جانا امور ایمان سے ہے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں زکوۃ کا ذکر تھا اور وہ بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے اور اس باب میں جنازوں کے ساتھ جانے کا ذکر ہے اور وہ بھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک شاخ ہے۔
47- حدثنا أحمد بن عبد الله بن علي المنجوفی قال حدثنا روح قال حدثنا عوف ، عن الحسن و محمد، عن أبي هريرة أن رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم قال من اتبع جنازة مـسـلـم إيـمـانـا واحتسابا ، وكان معه حتى يصلى عليها، ويفرغ من دفنها ، فإنه يرجع من الأجر بقيراطين، كل قيراط مثل أحد، ومن صلى عليها ثم رجع قبل ان تدفن فإنه يرجع بقيراط.
اطراف الحدیث: ۱۳۲۳ – ۱۳۲۵
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں احمد بن عبد اللہ بن علی المنجونی نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں روح نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں: ہمیں عوف نے حدیث بیان کی، از حسن اور محمد از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص حالت ایمان میں اور ثواب کی نیت سے کسی مسلمان کے جنازہ کے ساتھ گیا اور اس کے ساتھ رہا حتی کہ اس کی نماز جنازہ پڑھ لی اور اس کی تدفین سے فارغ ہو گیا وہ دو قیراط اجر لے کر لوٹے گا ہر قیراط احد پہاڑ کی مثل ہو گا اور جو اس کی نماز جنازہ پڑھ کر تدفین سے پہلے لوٹ آیا تو وہ ایک قیراط لے کر لوٹے گا۔
صحیح مسلم :۹۴۵ – 52 سنن ابن ماجه :۱۵۳۹ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۳ ص 320، سنن بیہقی ج ۳ ص ۴۱۲ مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۳ طبع قدیم، مسند احمد :۷۱۸۸ ۔ ج 12 ص ۱۱۳ مؤسسة الرسالة بیروت
ان احادیث میں احد پہاڑ کی جگہ لکھا ہے: دو قیراط دو عظیم پہاڑوں کی مثل ہیں ۔
تابعة عثمان المؤذن قال حدثنا عوف، عن محمد عن أبي هريرة ، عن النبي صلى اللہ علیہ وسلم نحوہ
اس حدیث میں عثمان مؤذن نے روح کی متابعت کی ہے انہوں نے کہا: ہمیں عوف نے حدیث بیان کی از محمد از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم، اسی حدیث کی مثل ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) احمد بن عبد اللہ بن علی المنجوفی البصری ،ان سے امام بخاری، امام ابوداؤد، اور امام نسائی روایت کرتے ہیں یہ ۲۵۲ھ میں فوت ہو گئے تھے.
(۲ ) روح بن عبادہ البصری، الخطیب نے کہا: یہ کثیر الحدیث ہیں اور انہوں نے سنن احکام اور تفسیر میں تصنیف کی ہے یہ ثقہ تھے علی بن مدینی نے کہا: میں نے روح کی ایک لاکھ سے زیادہ احادیث دیکھی ہیں یحیی بن معین نے کہا: یہ بہت سچے ہیں یہ ۲۰۵ھ میں فوت ہو گئے تھے .
(۳) عوف بن ابی جمیلہ بندویہ، ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام بندہ تھا یعنی عبد، انہوں نے کبار تابعین سے سماع کیا ہے، جن میں حسن بصری بھی ہیں اور ان سے ثوری اور شعبہ وغیرہ نے سماع کیا ہے ان کی نسبت تشیع کی طرف تھی ان کی ۷ ۱۴ ھ میں وفات ہو گئی .
( ۴ ) الحسن البصری ان کا تعارف ہو چکا ہے .
۵) محمد بن سیرین، یہ مشہور تابعی ہیں، حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے کاتب تھے انہوں نے تیس صحابہ کو پایا تھا، حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کے آخری دو سال میں پیدا ہوۓ ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں ۱۱۰ ھ میں فوت ہو گئے تھے.
(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۱ ص ۴۲۲)
امام بخاری نے کہا ہے کہ اس حدیث میں روح کی متابعت عثمان مؤذن نے کی ہے، ان کا تعارف یہ ہے:
یہ عثمان بھی امام بخاری کے شیوخ میں سے ہیں، امام بخاری بہت جگہ ان سے بلا واسطہ روایت کرتے ہیں اور بعض جگہ محمد بن یحیی ذھلی کے واسطے سے روایت کرتے ہیں، اگر انہوں نے عثمان سے حدیث سنی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک ان کے چار واسطے ہیں عثمان کا پورا نام ہے: عثمان بن الہیثم بن جھم، یہ بصرہ کی جامع مسجد کے مؤذن تھے، عوف اور ابن جریج وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام بخاری اور امام نسائی نے روایت کی ہے یہ گیارہ رجب ۲۲۰ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
قیراط کا معنی اور اس سوال کا جواب کہ معصیت کی وجہ سے جو اجر میں کمی ہوگی، کیا اس سے بھی احد پہاڑ جتنا وزن مراد ہے؟
اس حدیث میں ہے: جس نے جنازہ کی اتباع کی، اتباع کا معنی ہے: کسی کے پیچھے جانا، کسی کی پیروی کرنا، کسی کے ساتھ لاحق ہونا اور مل جانا ۔
قیراط : اس کی جمع قراریط ہے، اکثر شہروں میں قیراط دینار کا بیسواں حصہ ہے اس سے مراد کسی چیز کا چھوٹا سا حصہ ہوتا ہے قیراط کا وزن ۱۲ چاولوں کے برابر ہوتا ہے یہاں مقصود یہ ہے کہ جنازہ کے ساتھ جانے کا ثواب بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی مثال احد پہاڑ یا بہت بڑے پہاڑ کے ساتھ دی گئی ہے ایک حدیث میں دو قیراط کے برابر اجر میں کمی کا بھی ذکر ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے شکار کر نے اور کھیتوں اور مویشیوں کی حفاظت کے علاوہ کتا رکھا۔ اس کے اجر میں ہر روز دو قیراط کمی ہوتی رہے گی ۔
( صحیح مسلم :۱۵۷۵ بخاری میں ایک قیراط کی کی کا ذکر ہے صحیح بخاری: ۲۳۲۲)
اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ قیراط بھی احد پہاڑ کے برابر ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالی کا طریقہ یہ ہے کہ نیکیوں کی تعظیم کر کے ان کا اجر تو دگنا اور چوگنا کرتا ہے اور برائیوں کی سزا نہیں بڑھاتا اور یہ اس کا لطف و کرم اور رحمت ہے، لہذا جس حدیث میں ایک قیراط اجر میں کمی کا ذکر ہے اس سے مراد قیراط کا معروف وزن بارہ چاول ہے اور جس حدیث میں اجر بڑھانے کا ذکر ہے وہاں قیراط سے مراد احد پہاڑ جتنا وزن ہے۔
مسلمانوں کے ساتھ ان کی زندگی میں اور ان کی موت کے بعد نیک سلوک کرنے کی تلقین۔۔۔۔۔ اور ترغیب کے متعلق احادیث
اس حدیث میں مسلمان کی نماز جنازہ پڑھنے اور اس کے جنازہ کے ساتھ جانے اور تدفین تک اس کے ساتھ رہنے کی ترغیب دی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے ساتھ زندگی میں بھی نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے اور مرنے کے بعد بھی نیکی کرنے کی ترغیب دی ہے زندگی میں ان کے ساتھ نیکی کرنے کی ترغیب کا ذکر ان احادیث میں ہے:
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، ایک دوسرے سے دشمنی نہ کرو، اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے ۔
( صحیح بخاری 6076، صحیح مسلم:۲۵۵۹، سنن ابوداؤد : ۴۹۱۰ سنن ترمذی: ۱۹۳۵ مسند احمد ج ۳ ص ۱۱۰ مصنف عبدالرزاق: ۲۰۲۲۲ مسند حمیدی: ۱۱۸۳)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے ترک تعلق رکھے اور جس نے تین دن سے زیادہ ترک تعلق رکھا وہ دوزخ میں داخل ہو گا ۔ ( سنن ابوداؤد : ۴۹۱۴)
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے ملا میں نے آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: یا رسول اللہ! مجھے سب سے افضل اعمال کے متعلق بتائیے تو آپ نے فرمایا: اے عقبہ! جو تم سے قطع تعلق کرے اس سے تعلق جوڑو اور جو تم کو محروم کرے، اس کو عطا کرو اور جو تم پر ظلم کرے اس سے اعراض کرو اور ایک روایت میں ہے: جو تم پر ظلم کرے اس کو معاف کر دو اور فر مایا: اے عقبہ! اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اپنے گھر کو اپنے لیے کافی رکھو اور اپنے گناہوں پر روؤ ۔ (مسند احمد ج ۴ ص ۱۵۸ طبع قدیم مسند احمد :۱۷۳۳۴ مؤسسة الرسالۃ بیروت، الکامل لا بن عدی ج ۵ ص ۱۸۱۳ تاریخ بغداد ج ۸ ص۲۷۱-۲۷۰ المعجم الکبیر ج ۱۷ ص۲۷۰)
اور مسلمان کی موت کے بعد اس کے ساتھ نیکی کرنے کے متعلق ایک تو اس باب کی حدیث ہے جس میں مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جانے کی تلقین ہے اور دیگر احادیث حسب ذیل ہیں:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں: (۱) سلام کا جواب دینا(۲) مریض کی عیادت کرنا (۳) جنازوں کے ساتھ جانا ( ۴ ) دعوت کو قبول کرنا ( ۵ ) چھینک پر جواب دینا ۔ ( صحیح البخاری: ۱۲۴۰ صحیح مسلم : ٬۲۱۶۲سنن ابوداؤد: ۵۰۳۰)
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یس کو اپنے مردوں پر پڑھا کرو۔
(السنن الکبری : ۱۰۹۱۴، سنن ابوداؤد :۱ ۱۲ ۳، سنن ابن ماجبه : ۱۴۴۸ مسند احمد ج ۵ ص ۲۷۔26
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے اپنے والدین کی یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی ہر جمعہ زیارت کی اور ان کی قبر کے پاس یسین پڑھی تو اللہ اس کے ہر حرف کے بدلہ میں ان کی مغفرت فرما دے گا۔ (الدر المنثور ج ۷ ص ۳۷)
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص قبرستان پرگزرا پھر گیارہ مرتبہ قل هو الله احد ‘‘ سورہ اخلاص پڑھ کر اس کا ثواب مردوں کو پہنچا دیا تو اس کو ان مردوں کی تعداد کے برابر ثواب عطا کیا جاۓ گا ۔ ( کنز العمال :42596)