زید کو جواب
السلام عليكم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ امید ہے آپ احباب خیریت سے ہوں گے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کچھ عرصہ سے اس پلیٹ فارم سے دور ہوں جس کی ایک بڑی وجہ جسمانی امراض تھے ، اور اسی وجہ سے لکھنا چھوڑ دیا تھا ، جس وقت حنیف قریشی المعروف زید نے استاذ العلماء شیخ الحدیث محقق العصر مفتی محمد حسان عطاری صاحب مدظلہ العالی پر سوالات اٹھائے میرا ارادہ بنا کہ مفتی صاحب سے متعلق جوابات دوں اور میں نے لکھنا بھی شروع کردیئے تھے لیکن جب مفتی صاحب نے خود ہی جوابات دینا شروع کیے تو میں رک گیا ، اب پھر ارادہ ہوا کہ کچھ نہ کچھ اس کار خیر میں حصہ لوں اس لیے آج یہ تحریر لکھی رب کریم مفتی صاحب کا سایہ ہم پر دراز فرمائے آمین
زید قریشی نے قبلہ مفتی محمد حسان عطاری صاحب اطال اللہ عمرہ سے یہ بھی سوال کیا کہ صحیح مسلم کی جس حدیث کے ایک جزء کا آپ نے حوالہ دیا ہے آپ اس حدیث کو مکمل مانتے ہیں یا صرف اتنے جزء کو اگر آپ اس حدیث کو مکمل مانتے ہیں تو اس کا مکمل ترجمہ اور تشریح اپنے کسی فتوی یا تقریر میں فرمادیں ۔
قارئین کرام آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زیدنے یہ سوال کیوں کیا ہے ۔ تو جان لیجیے کہ زید صاحب دانہ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن حسب معمول دانہ ان کے گلے میں پھنس رہا ہے ۔ اس کی تفصیل بیان کرنے سے قبل ہم آپ کو اصول اہلسنت بیان کردیں کہ مشاجرات صحابہ کرام علیہم الرضوان میں اہلسنت سکوت اختیار کرتے ہیں، اگر اس کی کوئی بہترین تاویل نکل سکتی ہے تو وہ تاویل اختیار کی جائے گی ۔ ورنہ اس کو راویوں کی غلطی پر محمول کیا جائے گا۔
دوسرا اصول یہ ہے کہ عامۃ الناس بلکہ عام علما کے سامنے بھی یہ مشاجرات بیان نہیں کیے جائیں گے اور انہیں پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی ۔ یہ اس عالم کے لیے ہیں جو بدعتی خواہشات سے بری اور حسن ظن رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اصول سے اچھی طرح واقف ہو ، کیونکہ کتب میں یہ واقعات ہر طرح لکھے ہوتے ہیں جب تک عالم بخوبی اصول سے واقف نہیں ہوگا وہ فیصلہ نہیں کر پائے گا کہ ان میں سے کون سی بات قابلِ قبول ہے اور کونسی بات قابل رد ۔۔
ان اصول کو ہم فیضی بد باطن کے رد میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے آپ ہماری اسی آئی ڈی پر وہ نصوص مطالعہ کرسکتے ہیں ۔ یہاں ہم صرف تین نصوص پیش کرتے ہیں ۔
حافظ شمس الدین الذہبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: تقرر عن الكف عن كثير مما شجر بين الصحابة، وقتالهم – رضي الله عنهم أجمعين – وما زال يمر بنا ذلك في الدواوين، والكتب، والأجزاء، ولكن أكثر ذلك منقطع، وضعيف، وبعضه كذب، وهذا فيما بأيدينا وبين علمائنا، فينبغي طيه وإخفاؤه، بل إعدامه، لتصفو القلوب، وتتوفر على حب الصحابة، والترضي عنهم، وكتمان ذلك متعين عن العامة، وآحاد العلماء، وقد يرخص في مطالعة ذلك خلوة للعالم المنصف، العري من الهوى، بشرط أن يستغفر لهم، كما علمنا الله -تعالى- حيث يقول: {والذين جاؤوا من بعدهم يقولون ربنا اغفر لنا ولإخواننا الذين سبقونا بالإيمان ولا تجعل في قلوبنا غلا للذين آمنوا}
یہ بات مقرر ہوچکی کہ صحابہ كرام عليهم الرضوان کے مابین جو جھگڑے ہوئے اور قتال ہوئے ان سے سکوت کیا جائے گا اللہ تعالی ان تمام سے راضی ہوا، اور یہ باتیں دواوین ، کتب، اجزاء میں ہمارے سامنے گزرتی رہتی ہیں ، لیکن ان میں سے سے اکثر منقطع ، اور ضعیف ہیں اور بعض تو جھوٹ ہی ہیں ، اور یہ بات ہمارے اور ہمارے علما کے پیش ہے ، مناسب یہ ہے کہ اس کو لپیٹ ہی دیا جائے اور مخفی رکھا جائے بلکہ معدوم قرار دیا جائے تاکہ قلوب پاکیزہ رہیں اور صحابہ کی محبت میں بڑھتے ہی رہیں اور ان سے راضی رہیں، اور اس کا عامۃ الناس اور عام علما پر مخفی رکھنا متعین ہے ، ہاں وہ عالم جو منصف ہو ، خواہش نفس کی پیروی سے عاری ہو وہ تنہائی میں پڑھ سکتا ہے بشرطیکہ وہ ان کے لیے استغفار کرتا رہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ہمیں سکھایا ہے : وہ لوگ جو ان کے بعد آئے کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری مغفرت فرما اور ہمارے ان بھائیوں کی ایمان کے ساتھ گزرچکے اور ہمارے دلوں میں ایمان والے کے لیے کینہ باقی نہ رکھ ۔ (سیر اعلام النبلاء جلد 10 صفحہ 92-93 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)
سیدنا شیخ احمد کبیر الرفاعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں: أفضل الصحابة سيدنا أبو بكر رضي الله عنه ثم سيدنا عمر الفاروق رضي الله عنه ثم عثمان ذو النورين رضي الله عنه ثم علي المرتضى كرم الله وجهه ورضي عنه، والصحابة رضي الله عنهم كلهم على هدى. روي عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال: (أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم) يجب الامساك عما شجر بينهم وذكر محاسنهم ومحبتهم والثناء عليهم رضي الله عنهم أجمعين، فأحبوهم وتبركوا بذكرهم واعملوا على التخلق بأخلاقهم” صحابۂ کرام علیہم الرضوان میں سب سے افضل سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ پھر سیدنا عثمان ذو النورین رضی اللہ تعالی عنہ پھرسیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ہیں اور صحابہ تمام کے تمام ہدایت پر ہیں، نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے : میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی پیروی کروگے ہدایت پا جاؤگے ان کے درمیان ہونے والے جھگڑوں میں خاموش رہنا ، ان کی خوبیاں ذکر کرنا ، ان سے محبت کرنا اور ان کی تعریف کرنا واجب ہے اللہ تعالی ان تمام سے راضی ہوا، تو تم ان تمام سے محبت کرو ان کے ذکر سے تبرک حاصل کرو اور ان کے اخلاق سے متخلق ہوتے ہوئے اعمال بجالاؤ (البرهان المؤيد صفحہ 22 )
سیدنا محی الدین ابن عربی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں :’’ أصحاب ﺍﻟﻨﺒﻲ علیہ الصلاة والسلام ، فازوا ﺑﺎﻟﻤﻘﺎﻡ ﺍﻟﻌﻠﻲ ﻫﻨﺎ ﻭﻓﻲ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺴﻼﻡ، ﺃﻋﻠﻰ درجات القربة ﺍﻟﺘﺤﻘﻖ ﻓﻲ ﺍﻹﻳﻤﺎﻥ ﺑﺎﻟﺼﺤﺒﺔ، ﻻ ﻳﺒﻠﻎ ﺃﺣﺪﻧﺎ ﻣُﺪَّ ﺃﺣﺪِﻫﻢ ﻭﻻ ﻧَﺼﻴﻔﻪ، (إلى) ﻭﻫﻢ الأصحاب ، ﻓﻬﻢ ﺍﻷﺣﺒاب … ﺍﻟﻈﻦ ﺑﻬﻢ ﺟﻤﻴﻞ ﺭﺿﻲ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻦ ﺟﻤﻴﻌﻬﻢ، ﻭﻻ ﺳﺒﻴﻞ ﺇﻟﻰ ﺗﺠﺮﻳﺤﻬﻢ، ﻭﺇﻥ ﺗﻜﻠﻢ ﺑﻌﻀﻬﻢ ﻓﻲ ﺑﻌﺾ ﻓﻠﻬﻢ ذلك ، ﻭﻟﻴﺲ ﻟﻨﺎ ﺍﻟﺨﻮض ﻓﻴﻤﺎ ﺷﺠﺮ ﺑﻴﻨﻬﻢ، ﻓﺈﻧﻬﻢ ﺃﻫﻞ ﻋﻠﻢ واجتہاد وﺣﺪﻳﺜﻮ ﻋﻬﺪ ﺑﻨﺒﻮۃ، ﻭﻫﻢ ﻣﺄﺟﻮرون ﻓﻲ ﻛﻞ ﻣﺎ ﺻﺪﺭ ﻣﻨﻬﻢ ﻋﻦ ﺍﺟﺘﻬﺎد، ﺳﻮاء ﺃخطأوﺍ ﺃﻭ ﺃﺻﺎﺑﻮﺍ.(الفتوحات المكية جلد 7 صفحه 458 ملتقطا)
نبی کریم علیہ الصلاۃ والتسلیم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان دنیا میں بھی اعلی مقام پانے والے اور آخرت میں بلند درجہ حاصل کرنے والے ہیں، ان کو ایمان صحبت کے ساتھ ملا، ہم میں سے کوئی ایک ان کے ایک مد یا نصف مد خرچ کرنے کے برابر بھی نہیں پہنچ سکتا ، وہ اصحاب ہیں وہ محبوب ہیں، ان کے ساتھ گمان بہترین ہو، اللہ تعالی ان تمام سے راضی ہوا اوران کی جرح کی طرف کوئی راہ نہیں، اگر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کے بارے میں کچھ کلام کیا ہو، تو یہ ان کا معاملہ ہے ، ہمیں حق ہی نہیں کہ ان کے معاملے میں پڑیں، وہ علم واجتہاد والے اور فیض نبوت کو اولا پانے والے تھے ، ان سے جو کام بھی اجتہاد کی بنا پر صادر ہوئے ان تمام پر ان کو اجر ملے گا چاہے خطا کی ہو یا اصابت۔
امام نووی ، قاضی عیاض مالکی اور امام مازری رحمۃ اللہ تعالی علیہم کے حوالے سے فرماتے ہیں : ولسنا نقطع بالعصمة إلا للنبي صلى الله عليه وسلم ولمن شهد له بها لكنا مأمورون بحسن الظن بالصحابة رضي الله عنهم أجمعين ونفي كل رذيلة عنهم وإذا انسدت طرق تأويلها نسبنا الكذب إلى رواتها ‘‘ ترجمہ : اور ہم عصمت قطعی صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مانتے ہیں اور اس کے لیے جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عصمت کو لیکر آیا ، لیکن ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں حسن ظن رکھیں اور ہر بری سے بری چیز کی ان سے نفی کریں اور جب تأویل کا دروازہ بند ہوجائے تو ہم اسے راویوں کے جھوٹ کی طرف منسوب کریں گے۔
(شرح النووی علی صحیح مسلم جلد 12 صفحہ 72 طبع دار احیاء التراث العربی )
اب اصل مدعی پر آتے ہیں : صحیح مسلم کی وہ حدیث جس کے بارے میں زید نے سوال کیا ، اس میں یہاں سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے حضرت سیدنا عباس اور حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہما سے سخت الفاظ ذکر کیے ہیں اب زید چاہتا ہے کہ اگر مفتی صاحب فرماتے ہیں کہ ہاں یہ حدیث مکمل صحیح ہے تو پھر آپ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے ان الفاظ کو بھی تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ ۔
اب یہاں ہمیں بعض افراد کی یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ زید کو کسی اور کی طرف سے مواد ملتا ہے جس کو یہ اپنی چرب زبانی سے بیان کردیتا ہے ۔لیکن زید صاحب ذرا ٓنکھ کے دائرے کو تھوڑا اوپر لے کر جائیں ، اسی حدیث میں سیدنا عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ کے لیے اس سے بھی سخت الفاظ موجود ہیں ۔
ہم اوپر بیان کر آئے کہ مشاجرات صحابہ کرام علیہم الرضوان عامۃ الناس کے سامنے بیان کرنا جائز ہی نہیں ائمہ نے کتب میں لکھے تو صرف اس لیے کہ اگر غلط باتیں اس میں شامل کی جائیں تو اس کا فیصلہ ان کے ذریعے ہوسکے اور بعض نے سند ذکر کرکے اپنا ذمہ پورا کردیا ہے جیسا کہ لسان المیزان میں حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے صراحت فرمائی ہے ۔
اب ہم زید صاحب سے چند الزامی سوالات کریں گے لیکن اس سے قبل ہم ائمہ اہلسنت کی تصریحات سے ان دونوں مقامات کی تشریح ذکر کرتے ہیں تاکہ بات واضح ہوجائے ۔
یہاں محدثین نے ان اصول اہلسنت کے تحت کئی جوابات دیئے ہیں ۔ اول توسیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے فرمان میں فرأیتما استفہام انکاری کے معنی میں ہے یہ جواب امام ابی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اکمال اکمال المعلم میں دیا ہے یعنی تم دونوں ہمارے بارے میں ایسا گمان نہیں رکھتے تھے ۔
دوسرا جواب امام مازری رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے دیا ہے کہ فاء عاقبت کے معنی میں ہوگی یعنی اگر آپ دونوں کی بات کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر آپ دونوں کے اعتقاد میں، میں اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہما ان اوصاف کے حامل ہوں گے ۔ لیکن ظاہر فیصلہ درست تھا تو یہ اوصاف پائے بھی نہیں جائیں گے ۔
جہاں تک رہا مشاجرت اولی کا معاملہ توحضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جلال وغضب کی کیفیت میں یہ کلمات کہے تھے ورنہ وہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے محبت بھی کرتے تھے اور ان کی تعظیم وتکریم بھی کرتے تھے ۔
امام ابی مالکی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں : ويحتمل الجواب أنه على معنى الاستفهام الذي معناه الإنكار، والتقدير: أفرأيتما؟ وأظنه في بعض النسخ بالاستفهام اس میں یہ جواب بھی ممکن ہے کہ یہ جملہ استفہام انکاری کے معنی میں ہو ۔ یعنی کیا تم دونوں اس کا گمان کرتے تھے ، اور میرا گمان ہے کہ بعض نسخوں میں یہ استفہام کے ساتھ ہے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں :’’وقيل هي كلمة تقال في الغضب لا يراد بها حقيقتها ‘‘ اور کہا گیا ہے کہ یہ وہ کلمہ ہے جو غضب میں کہا گیا اس کی حقیقت مراد نہیں لی گئی ۔ (فتح الباری ١٣/٢٨١ )
امام نووی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: وقال القاضي عياض قال المازري هذا اللفظ الذي وقع لا يليق ظاهره بالعباس وحاش لعلي أن يكون فيه بعض هذه الأوصاف فضلا عن كلها ولسنا نقطع بالعصمة إلا للنبي صلى الله عليه وسلم ولمن شهد له بها لكنا مأمورون بحسن الظن بالصحابة رضي الله عنهم أجمعين ونفي كل رذيلة عنهم وإذا انسدت طرق تأويلها نسبنا الكذب إلى رواتها قال وقد حمل هذا المعنى بعض الناس على أن أزال هذا اللفظ من نسخته تورعا عن إثبات مثل هذا ولعله حمل الوهم على رواته قال المازري وإذا كان هذا اللفظ لا بد من إثباته ولم نضف الوهم إلى رواته فأجود ما حمل عليه أنه صدر من العباس على جهة الادلال على بن أخيه لأنه بمنزلة ابنه وقال مالا يعتقده وما يعلم براءة ذمة بن أخيه منه ولعله قصد بذلك ردعه عما يعتقد أنه مخطئ فيه وأن هذه الأوصاف يتصف بها لو كان يفعل ما يفعله عن قصد وأن عليا كان لا يراها إلا موجبة لذلك في اعتقاده ۔
وكذلك قول عمر رضي الله عنه إنكما جئتما أبا بكر فرأيتماه كاذبا آثما غادرا خائنا وكذلك ذكر عن نفسه أنهما رأياه كذلك وتأويل هذا على نحو ما سبق وهو أن المراد أنكما تعتقدان أن الواجب أن نفعل في هذه القضية خلاف ما فعلته أنا وأبو بكر فنحن على مقتضى رأيكما لو أتينا ما أتينا ونحن معتقدان ما تعتقدانه لكنا بهذه الأوصاف أو يكون معناه أن الإمام إنما يخالف إذا كان على هذه الأوصاف ويتهم في قضاياه فكان مخالفتكما لنا تشعر من رآها أنكم تعتقدان ذلك فينا والله أعلم قاضی عیاض فرماتے ہیں:امام مازری نے فرمایا اس روایت میں موجود الفا ظ کا ظاہر حضرت عباس کی شان کے لائق نہیں ،اور حضرت علی کے لیے بھی بالکل نہیں۔ کیوں کہ آپ کے بعض اوصاف ایسے ہیں کہ جن میں آپ سب پر فضیلت رکھتے ہیں۔ہم عصمت کا قطعی ہونا صرف نبی ﷺ کے لیے مانتے ہیں اور ان کے لیے کہ جن کے لیے شہادت موجود ہے(فرشتے)۔لیکن ہمیں تمام صحابہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنے اوراُن سے ہر طرح کی برائی کی نفی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔جب تاویلات کے تمام دروازے بند ہو جائیں تو اس وقت ہم راوی طرف جھوٹ کی نسبت کریں گے۔قاضی عیاض فرماتے ہیں:بعض لوگوں نے ان الفاظ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے اسی وجہ سے اپنے نسخے سے ان الفاظ کو تورع کی وجہ سے حذف کر دیا ہے تاکہ راوی کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے۔اور شاید اسی وجہ سے رُوات پر وہم کی نسبت کی گئی ہے۔امام مازری فرماتے ہیں:جب یہ الفاظ ثابت مان لیے جائیں اور رُوات کی طرف وہم کی نسبت بھی نہ کی جائے تو اس کی بہترین تاویل یہ ہو گی کہ حضرت عباس سے یہ الفاظ اپنے بھتیجے پر دباؤ ڈالنے کے لیے صادر ہوئے ہوں گے اس لیے کہ حضرت علی آپ کے بیٹے کی طرح ہیں۔ حضرت عباس حضرت علی کے بارے میں ایسا کوئی اعتقاد نہیں رکھتے تھے، انہیں اپنے بھتیجے کی براءت کا علم نہیں تھا۔شاید حضرت عباس نے ان الفاظ سے یہ ارادہ کیا ہو کہ وہ حضرت علی کو اس بات سے روکے رکھیں کہ وہ سمجھیں کہ عباس خطا پر ہیں۔ حضرت عباس سے جو الفاظ صادر ہوئے ہیں اگر انہوں نے ایسا کہا ہے تو جان بوجھ کر نہیں کہا ،اور حضرت علی ان کے الفاظ سے یہ سمجھے کہ حضرت عباس ان کے بارے میں یہی اعتقاد رکھتے ہیں۔ اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی ہے: إِنَّكُمَا جِئْتُمَا أَبَا بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا ،اور اسی طرح انہوں نے اپنے بارے میں کہا کہ تم دونوں نے مجھے بھی ایسا ہی سمجھا۔اس کی تاویل بھی اسی جیسی ہے کہ جو ابھی گزرا۔وہ یہ ہے کہ حضرت عمر کی مراد یہ ہے کہ تم دونوں یہ اعتقاد رکھتے ہو کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم اس معاملے میں اس فیصلے کا خلاف کریں جو میں نے اور ابوبکر نے کیا۔ہم تمہاری رائے کے مقتضی ٰپر ہوتے اگر جو نہیں دیا وہ دے دیتے ۔جو تم ہمارے بارے میں گمان کر رہے ہو ہم اگر ایسے ہی ہوتے تو ضرور ہم میں یہ اوصاف ہوتے۔یا اس کا معنی یہ ہےکہ امام کی مخالفت اس وقت کی جاتی ہے کہ جب اس میں یہ اوصاف پائے جاتے ہوں اور اسے اس کے فیصلوں میں متہم کیا جاتا ہو تو تم دونو ں کا ہماری مخالفت کرنا اشارہ کرتا کہ تم نے ہمارے اندر یہ اوصاف دیکھے ہیں اس لیے ہمارے بارے میں ایسا اعتقاد رکھتے ہو۔ (شرح النووي ١٢/٧٢-٧٣ )
امام ابو نعیم رحمۃ اللہ تعالی علیہ الامامۃ میں لکھتے ہیں :’’ ما كان بين العباس وعلي وهما كبيرا أصحاب رسول الله – صلى الله عليه وسلم – حين تحاكما إلى عمر بن الخطاب. في نظائر ذلك لم يجعل ذلك منهم أبدا أصلا ليحتج به عليهم لما عاتبوا؟ من إكرام بعضهم بعضا من القول بتفضيله وتقديمه على نفس في حال الرضا، فأما حال الغضب والموجودة فلا اعتبار به ولا حجة فيه. ‘‘ جو معاملہ حضرت عباس اور حضرت علی کے درمیان ہوا حالانکہ وہ ونوں کبار صحابہ سے ہیں ،جب وہ یہ معاملہ لے کر حضرت عمر کے پاس گئے ۔اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایسا کبھی ایک دوسرے کے بارے میں گمان نہیں رکھا کہ ان کے خلاف حجت بنائی جاتی تو انہیں کیو ں عتاب کیا جائے۔وہ ایک دوسرے کااکرام کرتے تھے،اس کی دلیل وہ اقوال ہیں کہ وہ حالتِ رضا میں خود پر دوسروں کو فضیلت دیتے تھے۔بہرحال جو غضب کی حالت میں کہے گئے الفاظ ہیں ان کا کوئی اعتبار نہیں اور نہ ہی ان سے دلیل پکڑی جا سکتی ہے۔ (الامامۃ والرد علی الرافضہ صفحہ ۳۴۵ )
تو اب ہم زید صاحب سے سوال کرتے ہیں ، کہ آپ اس مکمل حدیث کو صحیح تسلیم کرتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہیں تو کیوں؟ اگر کرتے ہیں پھر حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے ان کلمات کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں ؟
زید صاحب بتائیں کہ آپ اہلسنت کے اصول کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں اگر کرتے ہیں تو پھر مشاجرات کو فتوی یا تقریر میں بیان کرنے کا مطالبہ کرنا کیسا؟ اگر کرنا جائز ہے ؟ تو کیا آپ اپنے معتقدین جن کو آپ نے ڈرامہ بازی کے ذریعے اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے ان کے سامنے سیدنا عباس اور سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہما کے مابین مشاجرات کو بیان کرسکتے ہیں ؟
مفتی حسان صاحب دام ظلہ کا حدیث کا اتنا حصہ بیان کرنا بالکل درست ہے ، جب زید صاحب ہمارے سوالات کے جوابات دیں گے تو پھر ہم بتائیں گے کہ مشاجرت کے ان الفاظ کی سنداً تحقیق کیا ہے ۔
خاکپائے صحابہ واہلبیت کرام رضی اللہ تعالی عنہم العاجز غلام حسین القادری