کتاب الایمان باب 37 حدیث نمبر 50
۳۷- باب سؤال جبريل النبي صلى الله عليه وسلم عن الإيمان والإسلام والإحسان وعلم الساعتہ
حضرت جبریل کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان، اسلام، احسان اور علم قیامت کے متعلق سوال کرنا
اس باب میں اور باب سابق میں یہ مناسبت ہے کہ مؤمن کو اس کا خوف ہوتا ہے کہ کہیں اس کے اعمال ضائع نہ ہوجائیں اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ کس چیز سے کوئی شخص مؤمن ہوتا ہے ۔
وبيان النبي صلى الله عليه وسلم له ثم قال جاء جبريل عليه السّلام يعلمكم دينكم. فجعل ذلك كله دينا، وما بين النبي صلى الله عليه وسلم لوفد عبدالقيس من الإيمان ، وقوله تعالى (ومن يبتغ غير الإسلام دينا فلن يقبل منه» (آل عمران:٨٥
نیز امام بخاری نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت جبریل کو یہ امور بیان فرمانا پھر آپ نے فرمایا: حضرت جبریل تم کو تمہارے دین کی تعلیم دینے آۓ تھے، پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام امور کو دین قرار دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عبد القیس کے وفد کو ایمان کے متعلق بتانا اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد : ” اور جس نے اسلام کے سوا کوئی اور دین طلب کیا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جاۓ گا‘‘ (آل عمران:۸۵)۔
50- حدثنا مسدد قال حدثنا إسماعيل بن إبراهيم أخبرنا أبو حيان التيمي عن أبي زرعة، عن ابی هريرة قال كان النبي صلى الله عليه وسلم بارزاً يوما للنّاس، فاتاه جبريل فقال ما الإيمان؟ قال الإيمان أن تؤمن بالله وملائكته وبلقائه ورسله وتؤمن بالبعث، قال ما الإسلام؟ قال الإسلام أن تعبد الله ولا تشرك به، وتقيم الصلوة وتؤدي الزكوة المفروضة، وتصوم رمضان، قال ما الإحسان؟ قال أن تعبدالله كانك تراه، فإن لم تكن تراه فإنه يراك، قال متى الساعة؟ قال ما المسؤول عنها بأعلم من السائل، وسأخبرك عن أشراطها إذا ولدت الأمة ربها، وإذا تطاول رعاة الإبل البهم في البنيان في خمس لا يعلمهن إلا الله، ثم تلا النبي صلى الله عليه وسلم (إن الله عنده علم الساعة (لقمان: ٣٤)الآية ثم أدبر فقال ردوه، فلم يروا شيئا فقال هذا جبريل جاء يعلم الناس دينهم.
امام بخاری روایت کرتے ہیں، ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوحیان التیمی نے خبر دی، از ابوزرعہ از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے بیٹھے ہوۓ تھے، پس آپ کے پاس حضرت جبریل آۓ، سو آپ سے پوچھا: ایمان کی کیا تعریف ہے؟ آپ نے فرمایا: ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ایمان لاؤ، اور اس کے فرشتوں پر اور اللہ سے ملاقات پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان لاؤ انہوں نے پوچھا: اور اسلام کی کیا تعریف ہے؟ آپ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور نماز قائم کرو اور زکوۃ مفروضہ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو انہوں نے پوچھا: احسان کی کیا تعریف ہے؟ آپ نے فرمایا: تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ اس کو تم دیکھ رہے ہو پس اگر تم اس کو نہ دیکھ سکو ( تو یہ یقین رکھو) کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: قیامت کب ہوگی؟ آپ نے فرمایا: جس سے اس کا سوال کیا گیا ہے وہ سائل سے زیادہ جاننے والا نہیں ہے اور میں تم کو عنقریب اس کی علامتوں کی خبر دوں گا جب باندی سے اس کا مالک پیدا ہو اور جب سیاہ اونٹوں کو چرانے والے لمبی لمبی عمارتیں بنائیں تو یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہیں جن کو اللہ تعالی کے سوا کوئی ( ازخود) نہیں جانتا پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی:” بے شک اللہ ہی کے پاس قیامت کا (ازخود ) علم ہے وہی بارش نازل فرماتا ہے اور وہی (ازخود ) جانتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے اور کوئی شخص (ازخود) نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور نہ کوئی شخص ( ازخود ) جانتا ہے کہ وہ کس زمین میں مرے گا بے شک اللہ ہی بے حد جاننے والا خوب خبر دینے والا ہے O ‘‘ (لقمان:۳۴) پھر حضرت جبریل پیٹھ پھیر کر چلے گئے، آپ نے فرمایا: ان کو واپس بلاؤ، تو صحابہ نے کسی چیز کو نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: یہ جبریل تھے، جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آۓ تھے ۔
قال أبو عبد الله جعل ذلك كله من الإيمان .
امام بخاری نے کہا: آپ نے ان تمام امور کو دین قرار دیا ۔
طرف الحدیث: ۴۷۷۷
سنن ابن ماجہ:640 – ۴۰۴۴ یہ حدیث حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے اس کی تخریج یہ ہے: صحیح مسلم : ۸ سنن ابوداؤد:۴۵۹۵ سنن ترمذی:۲۶۱۰ سنن نسائی:۴۹۹۰ سنن ابن ماجه : 63 مصنف ابن ابی شیبہ ج ۳ ص ۱۱ سنن کبری:۳۳۱۰، سنن دارمی : ۱۷۰۰ مسند ابویعلی : ۲۵۷ صحیح ابن خزیمہ: ۲۰۵۸، صحیح ابن حبان: ٬۳۵۱۳ حلیة الاولیاء ج ۸ ص۷۱ ۳ مسند احمد ج۱ ص ۲۷ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۲ ۔ ج۱ ص ۳۲۳ مؤسسة الرسالة بیروت۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) مسدد بن مسرهد ان کا تعارف’’باب يحب لاخيـه مـا يحب لنفسه ‘‘ میں ہو چکا ہے۔
(۲) اسماعیل بن ابراہیم ان کا تعارف” باب حب الرسول من الايمان ‘‘میں ہو چکا ہے۔
(۳) ابوحیان یحیی بن حیان تمیمی، امام احمد بن عبداللہ نے کہا: یہ ثقہ صالح اور صاحب سنت ہیں، ۱۴۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۴) ابوزرعہ ھرم بن عمرو البجلی‘ ان کا تعارف’’باب الجهاد من الايمان ‘‘ میں ہو چکا ہے۔
(۵) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ص ۴۴۰ )
’’بارز‘بعث‘ عبادة احسان ‘‘اور باندیوں سے مالک پیدا ہونے کے معانی
اس حدیث میں’’ بارزا‘‘ کا لفظ ہے یہ بروز ‘‘ سے بنا ہے اس کا معنی ہے: ظہور۔
’’بعث ‘‘ مردوں کا قبر سے اٹھنا، اس کا معنی انبیاء کی بعثت بھی ہے مگر یہاں پہلا معنی مراد ہے۔
اللہ کی عبادت کرو یعنی خضوع اور خشوع اور تذلل اور عجز کے ساتھ اللہ تعالی کی اطاعت کرو ۔
“احسان ‘‘ اس کا مادہ حسن ہے اور اس کی ضد قبیح ہے، اس کا شرعی معنی یہ ہے کہ انسان اللہ کے ہر حکم کو اس کی شرائط اور آداب کے ساتھ بجالائے اور جب بندہ کو اس پر یقین ہو کہ اللہ تعالی اس کو ہر حال میں دیکھ رہا ہے تو وہ برے کاموں کو ترک کرے گا اور صفات مذمومہ کو زائل کرے گا اور اپنے باطن کو پاک اور صاف کرے گا اور صفات محمودہ سے متصف ہوگا حتی کہ اس کے دل میں اللہ تعالی کی تجلیات منعکس ہوں گی ۔
گویا کہ تم اللہ کو دیکھ رہے ہو ورنہ یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالی تم کو دیکھ رہا ہے : اس میں بندہ کو عبادت میں کامل اخلاص کی ترغیب دی ہے کیونکہ انسان نیک لوگوں کے سامنے برے کام نہیں کرتا اور حکام کے سامنے قانون شکنی نہیں کرتا تو جس شخص کا اللہ تعالی کے علم اور اس کی قدرت پر کامل ایمان ہوگا وہ اپنی خلوت اور جلوت میں اللہ تعالی کی نافرمانی نہیں کرے گا اور اس کے ہرحکم کی اطاعت کامل طریقہ سے کرے گا ۔
اور باندی سے مالک پیدا ہوگا: اس کا معنی یہ ہے کہ آخر زمانہ میں باندیاں بہ کثرت ہوں گی، حتی کہ ایک شخص کسی باندی کو خریدے گا اور وہ درحقیقت اس کی ماں ہو گی، اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ آخر زمانہ میں لوگ اپنی ماؤں کی عزت اور احترام نہیں کریں گے۔اور ان کے ساتھ وہ ایسی بدسلوکی کریں گے جیسے وہ ان کی باندیاں ہوں ۔
اور جب سیاہ اونٹوں کو چرانے والے لمبی لمبی عمارتیں بنائیں گے: اس سے مقصود یہ خبر دینا ہے کہ آخر زمانہ میں حالات بدل جائیں گے اور دیہاتیوں کا شہریوں پر غلبہ ہو جاۓ گا اور وہ اپنے زور اور غلبہ سے شہریوں کی املاک پر قابض ہوجائیں گے اس کا اب مشاہدہ متحدہ عرب امارات میں ہورہا ہے جو صحرائی بادیہ نشین تھے، انہوں نے اونچے محلات بنا لیے اور قیمتی کاریں اور سامان عیش و عشرت ان کے تصرف میں ہے ۔
یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے ، جن کو اللہ کے سوا کوئی از خود نہیں جانتا: ان پانچ چیزوں سے مراد ہے : (۱) قیامت کب آۓ گی؟ (۲) بارش کب ہوگی؟ ( ۳ ) ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ ( ۴ ) بندہ کل کیا کرے گا ؟ ( ۵ ) بندہ کس زمین میں مرے گا؟
آیا علوم خمسہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے تھے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماء غیر مقلدین کا نظریہ
متقدمین جمہور علماء اس کے قائل اور معتقد تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ عطا کیے گئے تھے، جیسا کہ ہم اس کے ثبوت میں ان شاء اللہ عنقریب واضح تصریحات پیش کریں گے اور متاخرین علماء میں سے غیر مقلدین اور دیوبندی علماء نے آپ کو علوم خمسہ عطا کیے جانے کا انکار کیا ہے:
مشہور غیر مقلد عالم نواب وحید الزمان متوفی ۱۳۲۸ ھ لکھتے ہیں:
قیامت کے علاوہ باقی چار باتیں یہ ہیں: ابر سے پانی برسے گا یا نہیں؟ پیٹ میں لڑکا ہے یا لڑ کی ؟ کل کیا ہو گا ؟ آ دمی کہاں مرے گا؟ یہ باتیں حقیقی غیب کی ہیں، جن کا علم پیغمبروں کو بھی نہیں ہے ۔(الی قولہ ) حضرت عائشہ فرماتی ہیں: جو کوئی کہے کہ پیغمبر صاحب ان باتوں کو جانتے تھے اس نے بڑا بہتان کیا ۔ (تیسیر الباری ج۱ ص۱۱۰ نعمانی کتب خانہ لا ہور ۱۹۹۰ ء )
نواب صدیق حسن خاں بھوپالی متوفی ۱۳۰۷ ھ لکھتے ہیں:
ان پانچ علوم کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پہلی تین چیزوں کے متعلق لقمان : ۳۴ میں فرمایا: ’ ان کا علم اللہ ہی کے پاس ہے کیونکہ ان کا علم بہت عظیم ہے اور باقی دو کے متعلق فرمایا مخلوق کو ان کا علم نہیں ہے ۔
اس کے متصل بغیر حوالہ کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب کر کے لکھا: ان پانچ امور کو کوئی نہیں جانتا، نہ ملک مقرب نہ نبی مرسل ۔ سو جس نے یہ دعوی کیا کہ اس کو ان میں سے کسی چیز کا علم ہے اس کو کافر قرار دیا جاۓ گا۔
(فتح البیان ج ۵ ص 312 دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۰ھ )
شیخ محمد عبد الرحمان بن عبد الرحیم مبارک پوری متوفی ۱۳۵۳ ھ لکھتے ہیں :
نی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس سے علم قیامت کے متعلق سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس کلام سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ وقوع قیامت میں دونوں کا علم برابر ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے کہ وقوع قیامت کے عدم علم میں دونوں برابر ہیں کیونکہ اللہ تعالی نے وقوع قیامت کے علم کو اپنے ساتھ خاص کرلیا اور یہ ان پانچ چیزوں میں سے ہے، جن کو اللہ تعالی کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (تحفۃ الاحوذی ج ۷ ص ۳۸۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۹ھ )
آیا علوم خمسہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیے گئے تھے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں علماء دیوبند کا نظریہ
سید احمد رضا بجنوری لکھتے ہیں:
فی خمس اور علم غیب
فرمایا: مراد یہ ہے کہ وقت قیامت کا علم بھی ان ہی پانچ میں داخل ہے، پھر فرمایا کہ یہ پانچ چیزیں چونکہ امور تکوین سے متعلق ہیں امور تشریع سے ان کا کوئی تعلق نہیں اس لیے انبیاء علیہم السلام ان کو ان کا علم نہیں دیا گیا الا ماشاء اللہ، اور بھی فرمایا: وعـنـده مفاتح الغيب لا يعلمها إلا هو ‘‘’ اس کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، جن کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا‘‘ کیونکہ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کا مقصد تشریع ہی ہے جس کے لیے علوم شریعت موزوں ہیں علوم تکوین نہیں ۔
علم غیب سے مراد
پھر علم غیب سے مراد اصول کا علم ہے، علم جزئیات نہیں ہے جو اولیاء کرام کو بھی عطا ہوا ہے کیونکہ علم جزئیات حقیقت میں علم ہی نہیں ہے، علم تو حقیقت میں وہی ہے جس سے ایک نوع کے تمام افراد کا علم حاصل ہو جاۓ اور وہ علم اصول شئی ہی ہوسکتا ہے ۔
اس کی مثال ایسی سمجھو کہ ہزاروں چیزیں یورپ سے بن کر آ رہی ہیں ان کو ہم دیکھتے ہیں، پہچانتے ہیں، لیکن ہم ان کے اصول سے ناواقف ہیں، تو علم جزئیات بغیر علم کلی کے علم ہی کہلانے کا مستحق نہیں ہے، کسی چیز کا علم کلی اگر ہمیں حاصل ہو جاۓ تو ہم اس نوع کی تمام جزئیات پر مطلع اور ان کے حقائق سے باخبر ہو سکتے ہیں، اسی کو حضرت حق جل مجدہ نے مفاتح سے تعبیر کیا ہے ۔
( انوار الباری ج ۳ ص ۱۷۵ اداره تالیفات اشرفیہ ملتان ۱۴۴۵ھ )
دراصل یہ تقریر شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ۱۳۵۲ھ نے’’ صحیح بخاری‘‘ کی عربی شرح میں کی ہے دیکھئے: فیض الباری ج۱ ص ۱۵۱ مطبع مجازی قاہرہ ۱۳۵۷ ھ۔
پھر اسی تقریر کو شیخ سلیم اللہ خان نے زیادہ وضاحت سے لکھا ہے، وہ لکھتے ہیں :
شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
اس آیت میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے احادیث میں ان کو” مـفـاتـيـح الغیب ‘‘فرمایا گیا ہے جن کا علم کلی بجز اللہ کے کسی کو نہیں، فی الحقیقت ان پانچ چیزوں میں کل اکوان عینیہ کی انواع کی طرف اشارہ ہے جن میں جملہ غیر متناہی مغیبات شامل ہیں ۔
مغیبات اولا دوقسم پر ہیں:
(۱) ان کا تعلق جنس احکام سے ہوگا ( ۲ ) یا جنس اکوان سے ۔
جو مغیبات جنس احکام سے ہیں، ان کا علم کلی اور اصولی بقدر ضرورت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیز انبیاء سابقین کو دیا گیا تھا اذکیا ء امت نے ان کی تفصیل وتبویب کی، ان سے تو یہاں بحث نہیں کیونکہ یہ اللہ تعالی کے ساتھ کا مختص نہیں رہے ۔
یہاں بحث مغیبات اکوان سے ہے، کیونکہ ان کی کلیات اور اصول تو اللہ تعالی نے کلیتہ اپنے ساتھ مختص رکھے، البتہ جزئیات منتشرہ پر بہت سے حضرات کو حسب استعداد اطلاع دی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی اتناعظیم الشان اور وافر حصہ ملا جس کا کوئی اندازہ نہیں ہوسکتا، اور یہ مغیبات اکوان میں تو غیر متناہی، مگر ان کی پانچ انواع ہیں : (۱) مکانی ( ۲ ) زمانی ۔
اور زمانی کی پھر تین انواع میں:
(۱ ) وہ جو ماضی سے متعلق ہے (۲) وہ جو حال سے متعلق ہے(۳) وہ جو مستقبل سے متعلق ہے، مجموعی طور پر یہ چار انواع ہوئیں
پھر وقت ساعت کا علم اگر چہ ان چار میں مندرج تھا، کیونکہ دو اکوان مستقبلیہ میں سے ہے، تاہم اس کو علیحدہ ذکر کیا کیونکہ یہ ایک بہت بڑا عظیم حادثہ ہے کہ اس جیسا حادثہ دنیا کو بھی پیش نہیں آیا اور نہ پھر پیش آۓ گا، کسی مخلوق کو اس کے وقت کا علم نہیں دیا گیا۔ اس لیے خصوصیت سے اس کو مستقلا ذکر کردیا۔
ان اشیاۓ خمسہ میں سے” بأي أرض تموت ‘‘ مغیبات مکانیہ کی طرف اشارہ ہے،’’یعلم ما في الأرحام ‘‘مغیبات زمانیہ حالیہ کی طرف اشارہ ہے کیونکہ آثار حمل فی الحال نمایاں ہیں’’ ماذا تكسب غدا‘‘ سے مغیبات زمانیہ مستقبلیہ کی طرف اشارہ ہے۔
( کشف الباری ج ۲ ص 633 طبع مکتبہ فاروقیہ کراچی 1426ھ )
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حقیقی علم وہ ہے کہ اس کے اصول سے آگاہی ہو، لہذا کسی چیز کا عالم اس وقت کہلاۓ گا جب اس کے اصول سے واقف ہو ۔
اس مقدمہ کوسمجھ لینے کے بعد اب یہ سمجھئے کہ غیب کے جزئیات بھی ہیں اور کلیات بھی، جس طرح جزئیات طب کے جاننے والے کو عالم طب اور طبیب نہیں کہیں گے اسی طرح جزئیات غیبیہ پر مطلع ہونے والے کو عالم غیب نہیں کہہ سکتے ۔
کلیات کے علم کا مطلب یہ ہے کہ ضابطہ بتلا دیا جائے کہ مثلا فلاں ضابطہ سے پہچان لیں کہ فلاں جگہ فلاں وقت میں اتنے انچ بارش ہوگی اور پھر اتنی ہی بارش اسی وقت میں جس کا تعین کیا گیا ہے ہوبھی جاۓ، اس میں تخلف نہ ہو، بس جو اس ضابطہ کا علم رکھتا ہے اسے عالم غیب کہا جاۓ گا اور جو یہ ضابطہ نہیں جانتا اسے عالم غیب بھی نہیں کہہ سکتے ۔
اب ہم کہتے ہیں کہ دنیا میں کسی کو عالم غیب نہیں کہ سکتے کیونکہ کسی کو بھی کلیات تکوینیہ کا علم نہیں ہوسکتا، صرف ایک ہی ذات ہے اور وہ اللہ تعالی کی ہے، جسے تکوینیات کا علم محیط حاصل ہے، ہاں ! بعض امور کا انکشاف ہو جاتا ہے مگر اسے علم نہیں کہتے، کسی طرح اگر ہم کو معلوم ہو جائے کہ اس کے پیٹ میں لڑکا ہے لیکن اگر کوئی پوچھ لے کہ لڑکا کیوں ہے؟ تو یقینا ہمارے پاس اس کا جواب نہ ہوگا تو ضوابط اور اصول غیب کا علم کسی نبی، کسی ولی کو نہیں ہوسکتا۔ علم اللہ تعالی کی قدرت کے ساتھ مخصوص ہے ایک کلیہ کاعلم اگر ہو تو وہ مفتاح بنتا ہے، بہت سی جزئیات کے علم کا، خود اللہ تعالی نے فرمایا:” وعنده مفاتح الغيب لا يعلمها الا هو(۲۷) اس سے معلوم ہوا کہ قواعد وضوابط غیب کا اور تکوینیات میں کلیات غیب کا علم بجز خدا کے اور کسی کو نہیں، ہاں! بعض جزئیات کا انکشاف ہوسکتا ہے۔ ہاں! تشریعیات کے مد میں کلیات کا علم غیب انبیاء علیہم السلام کو ہے، کیونکہ اگر یہ علم انہیں نہ دیا جاۓ تو ان کے کام میں فرق آ جاۓ ۔البتہ وہ اسی قدر ملتا ہے جتنا اللہ اپنی حکمت کے موافق عطا فرمادے۔
خلاصہ یہ ہے کہ حوادث دہر پر کوئی مطلع نہیں ہوسکتا اور جزئیات کے عالم کو عالم الغیب نہیں کہہ سکتے، رہا کسی جزئی کے علم کا کسی پر منکشف ہوجانا تو یہ دوسری بات ہے اور یہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام دونوں کو ہوتا ہے، البتہ ان دونوں کشوف میں فرق ہوتا ہے اور وہ فرق وہی ہے جس کو سورہ جن میں بیان فرمایا گیا ہے: : عـالـم الغيب فلا يظهر على غيبه أحدا إلا من ارتضى من رسول فإنه يسلك من بين يديه ومن خلفہ رصدا ‘‘(۲۸) یعنی وہ عالم غیب ہے اور غیب پر کسی کو حاوی اور مسلط نہیں کرتا ہاں انبیاء و رسل کو تشریعیات اور تکوینیات میں سے جتنے پر چاہے، مطلع کر دیتا ہے، اسی طرح کہ کوئی چیز اس میں خلل انداز نہ ہو سکے، نہ نفس کو کچھ دخل ہو، نہ شیطان کو، نہ کسی قسم کے شک وشبہ کو، غرض یہ کہ ہر شے سے محفوظ ہو، کیونکہ اس کے آگے پیچھے پہرے دار ہوتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ نبی کو جو کشف ہوتا ہے یا وحی آتی ہے، اس کے ساتھ پہرے دار ہوتے ہیں، اس لیے اس میں غلطی کا احتمال نہیں ہوتا بخلاف ولی کے کشف کے، کہ اس میں غلطی کا احتمال بھی ہے اور شبہ کی گنجائش بھی، اس لیے دونوں یکساں نہیں ہوسکتے، اب دو فرق ہوئے: نبی کا علم قطعی اور ولی کاظنی، وہاں اللہ تعالی کی ذمہ داری ہے اور یہاں نہیں اور یہ سب جزئیات علم ہیں کلیات کا علم مختص بالباری تعالی ہے، یہ علوم نہ نبی کو حاصل ہیں نہ ولی کو، انہیں جو کچھ حاصل ہوتا ہے خواہ کتنا کثیر ہو، سب جزئیات ہیں، اس لیے عالم الغیب نہیں کہہ سکتے۔
پھر یہاں یہ بھی واضح رہے کہ’’غیب ‘‘ کے معنی ہے: ” مالا يقع تحت الحواس، ولا تقتضيه بداهة العقل‘‘ اور جس غیب کے ساتھ حق تعالی متفرد ہیں، اس میں اتنی قید اور ہے:’’ ولم ينصب عليه دلیل ‘‘(۲۹) یعنی نظر وفکر اور دلیل عقلی سے بھی معلوم نہ ہو وگرنہ پھر غیب نہیں رہے گا ۔ ( کشف الباری ج ۲ ص 635 )
کیا اکوان غیبیہ پر اطلاع یابی ممکن نہیں؟
اس آیت کی رو سے ہونا یہ چاہیے کہ ان اشیاۓ خمسہ میں سے کسی ایک کی جزئی بات کا علم بھی کسی کو حاصل نہ ہو حالانکہ ہم سینکڑوں واقعات اس کے خلاف پاتے ہیں، اولیاء کرام کی کرامتیں کثرت سے منقول ہیں جو اس اختصاص کے خلاف پر دلالت کرتی ہیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کو رحم کی حالت معلوم ہو گئی تھی، اور آپ نے انتقال سے پہلے اپنی حاملہ بیوی کے متعلق فرمادیا تھا کہ ان کے لڑکی ہوگی اس لیے آپ نے وصیت فرمائی کہ اس عمل کو لڑکی مان کر ترکہ تقسیم کیا جاۓ، اسی طرح پنجاب میں ایک بزرگ تھے :عبداللہ شاہ، یہ حضرت میاں جی نورمحمد جھنجھادی رحمۃ اللہ علیہ کے پیر بھائی تھے اور حضرت شاہ عبد الرحیم ولایتی کے خلیفہ مجاز وہ دردزہ کا تعویذ دیتے وقت ساتھ ساتھ یہ بھی کہہ دیتے کہ لڑکا ہوگا یا لڑکی یہ ان کی مشہور کرامت تھی ۔ایسے ہی منجمین اور کہان پیشین گوئیاں کرتے ہیں، جو کبھی کبھی واقع کے مطابق بھی نکل آتی ہیں، اسی طرح آج کل جدید آلات کے ذریعے رحم کے اندر بچہ کی جنس کیا ہے؟
اس کا انکشاف ہوجاتا ہے محکمہ موسمیات کے ماہرین بارش ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں پیشگی بتا دیتے ہیں ان کی یہ پیش گوئی بسا اوقات درست بھی ہو جاتی ہے ۔
اس اشکال کے جواب سے پہلے ایک مقدمہ سمجھ لیجئے، اگر ایک چیز کے کچھ اصول ہوں اور کچھ فروع، تو اصلی علم اس وقت کہیں گے جب اس کے اصول کا علم ہو، فرض کیجئے ایک شخص سو دوسو یا دو چار ہزار امراض اور ان کے نسخے رٹ لے تو کیا اس کو طبیب کہہ سکیں گے؟ نہیں! بلکہ طبیب وہ سمجھا جاۓ گا جو اصول طب اور اس کے فن سے واقف ہو، چاہے امراض اور نسخے رٹے نہ ہوں، اسی طرح عالم وہ ہوگا، جو اصول علم سے واقف ہو، فقیہ وہ نہیں جسے محض جزئیات فقہ یاد ہوں، بلکہ فقیہ وہ کہلاۓ گا، جو اصول اور مآخذ پر مطلع ہو خواہ جزئیات کم یاد ہوں ۔ ( کشف الباری ج ۲ ص 633 )
نیز شیخ سلیم اللہ خان لکھتے ہیں
حدیث باب کے جملے’’ما المسئول عنها باعلم من السائل‘‘اور’ في خمس لا يعلمهن الا الله صاف دلالت کررہے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب نہیں ہیں، کئی ساری چیزیں ایسی ہیں، جن کا علم سوائے اللہ جل جلالہ کے اور کسی کو نہیں۔
کشف الباری ج ۲ ص 650 مکتبہ فاروقیہ کراچی ۱۴۲۶ھ ۔
علوم خمسہ کے مصداق کے متعلق علماء دیوبند کے موقف پر مصنف کا تبصرہ
شیخ انور شاہ کشمیری، شیخ احمد رضا بجنوری اور شیخ سلیم اللہ خان نے جو لکھا ہے کہ اللہ تعالی کے علم سے مراد ہے: اصول، کلیات اور ضوابط کا علم، یہ ان کی اپنی اصطلاح ہے، قد ما متکلمین جمہور مفسرین، محدثین اور فقہاء اسلام اور اکابر علماء اسلام کی عبارات میں اس اصطلاح کا کوئی ثبوت نہیں ہے قدیم علماء نے اللہ تعالی کے علم کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کا علم ذاتی ہے، یعنی بے تعلیم غیر، اور قدیم ہے واجب ہے، ازلی، ابدی ہے اور بس! جیسا کہ عنقریب ہمارے پیش کردہ حوالہ جات سے ان شاء اللہ واضح ہو جاۓ گا لیکن’’ لا مشاحة في الاصطلاح‘‘ ہمیں ان کی اس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔
اسی طرح ہم اہل سنت و جماعت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم کلی مانتے ہیں، اس سے ہماری مراد کل مخلوقات سے زیادہ علم ہے جیسا کہ شیخ سلیم اللہ خان نے بھی لکھا ہے:
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے بھی اتنا عظیم الشان ملا جس کا کوئی انداز نہیں ہوسکتا۔ ( کشف الباری ج۲ ص 633 )
اور شیخ تقی عثمانی نے لکھا ہے: قرآن کریم میں ہے کہ بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھی انباءالغیب یعنی غیب کی خبریں دی گئی ہیں اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ عطا ہوئیں ۔ ( انعام الباری ج ا ص ۵۴۷ مکتبۃ الحرا کراچی )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کلی سے ہماری یہی مراد ہے نہ کہ کل کائنات کا علم محیط یا اللہ تعالی کے علم کا مساوی علم، جیسا کہ ہم اس پر ان شاء اللہ عنقریب اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کی تصریحات پیش کریں گے، سو علماء دیوبند کو بھی اس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چا ہیے کیونکہ لا مشاحة في الاصطلاح‘‘۔
* ہم نے شرح صحیح مسلم ج ۵ ص ۱۱۱ پر عنوان’’ مخلوق کی طرف علم غیب کی نسبت کرنے کی تحقیق‘‘ کے تحت علم غیب کے متعلق جو بحث کی ہے اس پر خود شیخ تقی عثمانی نے تبصرہ کرتے ہوۓ لکھا ہے :
اس موضوع پر مفصل بحث کے بعد آخر میں فاضل مصنف لکھتے ہیں:
خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالی اس غیب مطلق کے ساتھ منفرد ہے جو جمیع معلومات کے ساتھ متعلق ہے اور اللہ تعالی وحی کے ذریعہ اپنے رسولوں کو ان بعض علوم غیبیہ پر مطلع فرماتا ہے جو رسالت کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں ۔
شیخ عثمانی نے لکھا ہے: اگر فاضل مولف کے تمام اہل مسلک اس پر متفق ہو جائیں تو اس سنگین مسئلہ میں کوئی اختلاف باقی نہ ر ہے ۔ ( البلاغ ص ۵۵ جمادی الاخری 1416 ھ نومبر ۱۹۹۵ء)
واضح رہے کہ ہم نے جو بعض علوم غیبیہ کہا ہے اس سے اللہ کے علم غیب کے مقابلہ میں بعض علوم غیبیہ مراد ہیں جو کہ تمام مخلوق کے علوم سے زیادہ ہیں جیسا کہ شیخ سلیم اللہ خاں اور شیخ تقی عثمانی کو بھی تسلیم ہے اور ہمارے تمام اہل مسلک اس پر متفق ہیں جیسا کہ ہم ان شاء اللہ عنقریب اس پر اعلی حضرت امام احمد رضا کی تصریحات پیش کریں گے ۔
اعلی حضرت قدس سرہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم تفصیلی محیط ثابت کرنے اور آپ کو عالم الغیب کہنے کا الزام
شیخ سلیم اللہ خان صاحب لکھتے ہیں:
مولوی احمد رضا خان صاحب بریلوی نے مختلف کتابوں میں جو کچھ تحریر کیا ہے، اس کی رو سے ان کا مسلک یہ ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے لے کر ہنگام محشر ( حساب و کتاب وغیرہ ) کے اختتام یا بالفاظ دیگر جنت و نار تک کے تمام واقعات جزئیہ وکلیه دینیہ و دنیویہ کاعلم تفصیلی محیط حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا گیا ہے ۔ ( کشف الباری ج ۲ ص ۷ ۶۳ )
نیز شیخ سلیم اللہ خان صاحب لکھتے ہیں:
اگر اللہ تعالی کے تمام غیوب اور جزئیات غیب پر مطلع کردینے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہہ سکتے ہیں تو پھر آپ کے حضرات صحابہ کرام کے سامنے ان تمام امور کو بیان کردینے سے ان تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عالم الغیب ہونا بھی تو لازم آۓ گا، پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی تخصیص کیوں؟ ( کشف الباری ج ۲ ص ۷ ۶۴ )
حقیقت یہ ہے کہ اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہتے ہیں یا مانتے ہیں اور نہ آپ کے لیے علم تفصیلی محیط مانتے ہیں، بلکہ آپ کے لیے اللہ تعالی کے علم سے بعض علوم عطا کیے جانے کے قائل ہیں تاہم آپ کے یہ بعض علوم تمام مخلوق کے علوم سے بہت زیادہ ہیں، اعلی حضرت کی عبارات ملاحظہ فرمائیں:
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عالم الغیب کہنا جائز نہیں
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں:
علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق اور بعض اجلہ اکابر کے کلام میں اگرچہ بندہ مومن کی نسبت صریح لفظ يعلم الغيب ‘‘ وارد ہے’کما في مرقاة المفاتيح شرح مشكوة المصابيح للملا على القاری‘‘ بلکہ خودحدیث سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما میں سیدنا خضر علیہ الصلوۃ والسلام کی نسبت ارشاد ہے:’’ كـان يـعـلم علم الغيب ‘‘ مگر ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے ۔ کشاف میں ہے: الـمـراد به الخفي الذي لا ينفذ فيه ابتداء الا علم اللطيف الخبير ولهذا لا يجوزان يطلق فيقال فلان يعلم الغیب ‘‘ ( غیب سے مراد وہ پوشیدہ چیز ہے ۔ جس میں ابتداء صرف اللہ تعالی کا علم نافذ ہوتا ہے، اس لیے مطلقا یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص غیب کو جانتا ہے )۔
اور اس سے انکار معنی لازم نہیں آ تا حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قطعا بے شمار غیوب وماكان ومایکون کے عالم ہیں، مگر عالم الغیب صرف اللہ عزوجل کو کہا جاۓ گا، جس طرح حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم قطعا عزت و جلالت والے ہیں، تمام عالم میں ان کے برابر کوئی عزیز و جلیل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے مگر محمد عزوجل کہنا جائز نہیں بلکہ اللہ عزوجل و محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔غرض صدق وصورت معنی کو جواز اطلاق لفظ لازم نہیں نہ منع اطلاق لفظ کو نفی صحت معنی امام ابن المنیر اسکندری کتاب الانتصاف‘‘ میں فرماتے ہیں: ” كم من معتقد لا يطلق القول به خشية ايهام غيره مما لا يجوز اعتقاده فلا ربط بين الاعتقاد والاطلاق‘‘’ کتنے عقائد ایسے ہیں جن کا مطابقا قول نہیں کیا جاتا، مبادا ان کے غیر کا وہم کیا جائے جن کا اعتقاد جائز نہیں ہے، اس لیے کسی چیز کا اعتقاد رکھنے اور اس کا اطلاق کرنے میں کوئی تلازم نہیں ہے۔ یہ سب اس صورت میں ہے کہ مقید بقید اطلاق کیا جاۓ یا بلا قید علی الاطلاق مثلا عالم الغيب يا عالم الغیب علی الاطلاق اور اگر ایسا نہ ہو بلکہ بالواسطہ یا بالعطاء کی تصریح کر دی جاۓ تو وہ محذور نہیں کہ ایہام زائل اور مراد حاصل ۔ علامہ سید شریف قدس سرہ ” حواشی کشاف‘‘ میں فرماتے ہیں:’’ وانما لم يجز الاطلاق في غيره تعالى لانه يتبادر منه تعلق علم به ابتداء فيكون منا قضا واما اذا قيد وقيل اعلمه الله تعالى الغيب او اطلعه عليه فلا محذور فیہ‘‘’ اللہ تعالی کے غیر کے لیے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لیے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداء ہے، تو یہ قرآن مجید کے خلاف ہو جاۓ گا لیکن جب اس کو مقید کیا جاۓ اور یوں کہا جائے کہ اس کو اللہ تعالی نے غیب کی خبر دی ہے یا اس کو غیب پر مطلع فرمایا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
( حاشیه کشاف بر کشاف ج۱ ص ۱۲۸ مطبوعہ مطبعہ المصطفی البابی الحنی واولادہ، مصر، ۸۵ ۱۳ ھ فتاوی رضویہ ج ۹ ص 81، مطبوعہ دارالعلوم امجدیہ، کراچی)۔
نیز اعلی حضرت امام احمد رضا فرماتے ہیں
تعلم مافی الغد ( کل کا علم ) کے بارہ میں ام المؤمنین کا قول ہے کہ جو یہ کہے کہ حضور کوعلم مافی الغد تھا( کل کا علم تھا) وہ جھوٹا ہے۔
اس سے مطلق علم کا انکار نکالنا محض جہالت ہے، علم جب کہ مطلق بولا جاۓ خصوصا جب کہ غیب کی خبر کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ۔ اس کی تصریح’’ حاشیہ کشاف‘ پر میرسید شریف رحمۃ اللہ علیہ نے کر دی ہے اور یہ یقینا حق ہے کہ کوئی شخص کسی مخلوق کے لیے ایک ذرہ کا بھی علم ذاتی مانے یقینا کافر ہے ۔ (ملفوظات ج ۳ ص 34، مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی )
اعلی حضرت امام احمد رضا کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم تفصیلی محیط ماننا جائز نہیں
اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العز یز تحریر فرماتے ہیں :
کسی علم کی حضرت عز وجل سے تخصیص اور اس کی ذات پاک میں حصر اور اس کے غیر سے مطلقا نفی چند وجہ پر ہے:
اول : علم کا ذاتی ہونا کہ بذات خود بے عطا غیر ہو۔
دوم : علم کا غنا کہ کسی آلہ جارحہ و تدبیر فکر ونظر والتفات و انفعال کا اصلا محتاج نہ ہو ۔
سوم : علم کا سرمدی ہوتا کہ از لا ابدا ہو ۔
چہارم : علم کا وجوب کہ کسی طرح اس کا سلب ممکن نہ ہو ۔
پنجم:علم کا اثبات و استمرار کہ کبھی کسی وجہ سے اس میں تغیر، تبدل، فرق اور تفاوت کا امکان نہ ہو ۔
ششم: علم کا اقصی غایت کمال پر ہونا کہ معلوم کی ذات، ذاتیات، اعراض، احوال، لازمه، مفارقه، ذاتیہ، اضافیہ، ماضیه آتیه (مستقبله )
موجودہ ممکنہ سے کوئی ذرہ کسی وجہ پر خفی نہ ہو سکے ۔
ان چھ وجوہ پر مطلق علم حضرت احمدیت جل وعلا سے خاص اور اس کے غیر سے مطلقا منفی یعنی کسی کو کسی ذرہ کا ایسا علم، جو ان چھ وجوہ سے ایک وجہ بھی رکھتا ہو حاصل ہونا ممکن نہیں ہے، جو کسی غیر الہی کے لیے عقول مفارقہ ہوں، خواہ نفوس ناطقہ ایک ذرے کا ایسا علم ثابت کرے، یقینا اجتماعا کافر مشرک ہے ۔ ( الصمام ص 4 فتاوی رضویہ ج 26 ص 471-472 رضا فاؤنڈیشن لاہور )
نیز امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں:
میں نے اپنی کتابوں میں تصریح کر دی ہے کہ اگر تمام اولین و آخرین کا علم جمع کیا جائے تو اس علم کو علم الہی سے وہ نسبت ہرگز نہیں ہو سکتی جو ایک قطرہ کے کروڑویں حصہ کو سمندر سے ہے کیونکہ یہ نسبت متناہی کی متناہی کے ساتھ ہے اور وہ غیر متناہی کی متناہی سے ۔ (ملفوظ ج۱ ص 46 نوری کتب خانہ لا ہور )
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو( اللہ تعالی کے علوم سے ) بعض علوم عطا کیے گئے ہیں اس کے متعلق اعلی حضرت قدس سرہ کی تصریح یہ ہے:
ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ کا علم اللہ تعالی کے علم کے مساوی ہے اور نہ یہ کہتے ہیں کہ آپ کاعلم مستقل ہے اور ہم اللہ تعالی کی عطا سے بھی صرف بعض علوم ثابت رکھتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض علوم میں اور مخلوق کے بعض علوم میں آسمان اور زمین کی مثل فرق ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ عظیم اور کثیر ہے اور اللہ سب سے زیادہ بڑا ہے ۔( اعلی حضرت کی عربی عبارت درج ذیل ہے: )
اعلی حضرت کی یہ تصریح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض علم عطا کیا گیا ہے
“لا نقول بمساواة علم الله تعالى ولا بحصوله بالاستقلال، ولا نثبت بعطاء الله تعالى ايضا الا البعض لكن بون بين البعض والبعض كالفرق بين السماء والارض، بل اعظم واكثر والله اکبر ‘‘۔
( الدولة المكية بالمادة الغبية ص ۶۹ مرکز اہل سنت برکات رضا هند )
اب چونکہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض علوم جزئیہ کی اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ سے تصریح پیش کر دی اس لیے حسب وعدہ شیخ تقی عثمانی کو اس مسئلہ میں اختلاف نہیں کرنا چاہیے۔
علم ذاتی اور عطائی کی بحث
شیخ سلیم اللہ خاں لکھتے ہیں:
یہاں ایک اہم بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ نصوص قطعیہ مثلا’’ لا اعـلـم الغیب ‘‘ وغیرہ جیسی آیتوں میں چونکہ صریحا علم غیب کی نفی کا ذکر ہے، اس لیے ایسے موقع پرمنحرف لوگ ذاتی اور عطائی کی بے جا تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں کہیں آپ کی ذات سے علم غیب کی نفی آئی ہے اس سے ذاتی علم کی نفی مراد ہے، آپ کو جوعلم ما کان و ما یکون حاصل تھا وہ عطائی تھا نہ کہ ذاتی اور اس کی نفی نہیں ہے۔
لیکن ان لوگوں کا یہ کہنا بے جا اور باطل ہے:
اولا اس لیے کہ پیچھے اشارہ گزر چکا ہے کہ وہ علم غیب جس کے ساتھ اللہ تعالی منفرد ہیں، وہ ہے’’ مالا يقع تحت الحواس ولا تقتضيه بداهة العقل ولم ينصب علیه دلیل ‘‘ جب کہ مخلوقات کو جس قدر بھی علم اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہوتا ہے اس پر ’’غیب‘‘ کی تعریف ہی صادق نہیں آتی ، کسی کے بتانے اور خبر دینے سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو اخبار الغیب ‘‘اور’ انباء الغیب ‘ تو کہہ سکتے ہیں، علم غیب نہیں اور دونوں میں بون بعید ہے ۔ ( کشف الباری ج 2 ص 653)
اس کا جواب یہ ہے کہ جن آیات میں اللہ تعالی کے غیر سے علم غیب کی نفی ہے تو تقریبا سب ہی علماء نے اس کو ذاتی علم کی نفی پر محمول کیا ہے ۔
علامہ ابن حجر مکی متوفی 911ھ تحریر فرماتے ہیں:
وما ذكرناه في الآية صرح به النووي رحمه الله تعالى فتاواه فقال معناها لا يعلم ذالك استقلالا وعلم احاطة بكل المعلومات الله تعالى.
فتاوی حدیثیہ ۲۶۸ مطبوعہ مطبعه مصطفی البابی واولادہ مصر 1356ھ)
یعنی ہم نے جو آیات کی تفسیر کی، امام نووی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے فتاوی میں اس کی تصریح کی فرماتے ہیں: آیت کا معنی یہ ہے کہ غیب کا ایسا علم صرف خدا کو ہے، جو بذات خود ہو اور جمیع معلومات الہیہ کو محیط ہو ۔
قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله (النمل: ۲۵)
آپ کہیے: آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی غیب کو نہیں جانتا ۔
اس آیت کی تفسیر میں شیخ شبیر احمد عثمانی متوفی ۱۳۶۹ ھ لکھتے ہیں:
کل مغیبات کا علم بجز خدا کے کسی کو حاصل نہیں، نہ کسی ایک غیب کا علم کسی شخص کو بالذات بدون عطاۓ الہی کے ہوسکتا ہے (الی قولہ) ہاں! بعض بندوں کو بعض غیوب پر باختیار خود مطلع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ فلاں شخص کو حق تعالی نے غیب پر مطلع فرما دیا ۔ ( حاشیہ عثمانی ص 496 مطبوعہ دارالتصنیف کراچی )
اب کیا شیخ سلیم اللہ خاں صاحب، شیخ عثمانی کو بھی منحرف قرارد یں گے، کیونکہ انہوں نے بھی ذاتی اور عطائی کا فرق کیا ہے ۔
رہا مولانا سلیم اللہ خاں صاحب کا دوسرا اعتراض کہ کسی کے خبر دینے سے جو علم حاصل ہوتا ہے اس کو انباء الغیب اور اخبار الغیب تو کہہ سکتے ہیں، علم غیب نہیں اور دونوں میں بہت فرق ہے ۔اس کا جواب یہ ہے کہ: ہمارے نزدیک یہ کہنا صحیح نہیں ہے، کہ انبیاء علیہم السلام کو جو غیب کی خبر میں بتلائی گئی ہیں، اس سے ان کو علم غیب حاصل نہیں ہوا کیونکہ شرح عقائد (ص۱۰) اور دیگر علم کلام کی کتابوں میں مذکور ہے کہ علم کے تین اسباب میں :خبر صادق، حواس سلیمہ اور عقل اور وحی بھی خبر صادق ہے تو جب انبیاء علیہم السلام کو اللہ نے غیب کی خبریں دیں تو ان کو علم غیب حاصل ہو گیا، اس لیے صحیح یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو وحی سے علم غیب حاصل ہوتا ہے لیکن یہ علم محیط یاعلم ذاتی نہیں ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو اللہ کے علم سے بہت کم ماننے کو بھی غلط اور گم راہی کہنے کا جواب
شیخ تقی عثمانی لکھتے ہیں:
سوال: اگر کسی کا عقیدہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم کلی عطا کیا گیا، تو اس کو مشرک کہا جائے گا یا نہیں؟
جواب: اس پر کفر کا فتوی نہیں لگایا جاۓ گا، اس لیے کہ وہ تاویل کرتے ہیں اور تاویل بھی فی الجملہ یعنی غلط سہی، لیکن وہ حضرات جو کچھ کہتے ہیں، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ جل جلالہ کے علم میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ اللہ جل جلالہ کا علم
ازلی ہے وہ کسی لمحہ بھی اللہ تعالی سے نفی نہیں ہوا اور باری تعالی کی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالی کا علم بغیر کسی واسطہ کے ہے، جب کہ نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی علیہ وسلم کے بارے میں اس بات کے قائل ہیں کہ ان کا علم ازلی نہیں ہے، جیسا کہ احمد رضا خان صاحب کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخر عمر میں عطا ہوا ہے، یعنی یہ کہ وہ علم عطا کردہ ہے ۔ احمد رضا خان صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ اللہ جل جلالہ کے علم کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو وہ نسبت بھی نہیں ہے جو ایک قطرے کو سمندر کے ساتھ ہے ۔
اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مقصود اشتراک نہیں ہے اس واسطے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوعلم کلی عطا ہونے کا عقیدہ رکھنے والوں کو مشرک کہنا درست نہیں ہے اور کفر کا فتوی لگا کر کافر نہیں کہا جاۓ گا لیکن بہرحال یہ عقیدہ غلط اور گمراہی کی بات ہے ۔
( انعام الباری ج۱ ص۵۴۹ )
یعنی اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عظیم علم کواللہ تعالی کے علم کے مقابلہ میں ایسا ماننا، جیسا ایک قطرہ بھی سمندر کے مقابلہ میں نہیں ہے، یہ بھی غلط اور گم راہی کی بات ہے!(لا حول ولا قوة الا بالله!)
اب ہم شیخ تقی عثمانی اور مولاناسلیم اللہ خان کے انصاف اور دیانت سے سوال کرتے ہیں کہ ان کے ممدوح شیخ انور شاہ کشمیری کی ایک عبارت یہ ہے:
والذي تحقق عندى ان التحريف فيـه لفظی ايضا اما انه عن عمد منهم او لمغلطة۔
فیض الباری ج ۳ ص 395 مجلس علمی سورت ھند ۱۳۵۷ھ
میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ قرآن مجید میں تحریف لفظی بھی ہے، یا تو یہ تحریف لوگوں نے عمدا کی ہے یا کسی مغالطہ کی بنا پر ہے ۔
مذکورہ عبارت سے ظاہر ہے کہ شیخ کشمیری کے نزدیک قرآن مجید میں تحریف لفظی ثابت ہے، اب بتائیں کہ آپ کے نزدیک یہ عین اسلام ہے؟ کفر ہے؟ گمراہی ہے؟ یا کیا ہے؟
حدیث جبریل کے ضمن میں ’’ فیض الباری انوار الباری کشف الباری اور انعام الباری‘‘ کی عبارات پر تبصرہ کرنے کے بعد
اب ہم پھر اس حدیث کی باقی شرح کرنے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں فنقول وبالله التوفيق وبه الاستعانة يليق –
اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی چند علامات بیان فرمائی ہیں، دیگر احادیث میں آپ نے اور بہت علامات بیان فرمائی ہیں ۔ اب ہم ان احادیث کو بیان کرر ہے ہیں:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا علامات قیامت کی خبر دینا
(۱) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، جب تک کہ ارض حجاز سے ایسی آگ نمودار نہ ہو، جس سے بصری کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہو جائیں ۔
( صحیح البخاری: 7118، صحیح مسلم کتاب الفتن : ۴۲ (۲۹۰۲ )7156 جامع الاصول : ۷ ۷۸۸ ۔ ج ۱۰ )
(۲) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس کذابوں کا خروج نہ ہو ان میں سے ہر ایک یہ زعم کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے ۔
( صحیح مسلم کتاب الفتن : ۱۸۴( ۲۹۲۳)۷۲۰۹ سنن ابوداؤد : ۴۳۳۴، سنن ترمذی: ۲۲۲۵ مسند احمد ج ۲ ص۴۵۰۔ ۷ ۵۲ جامع الاصول : ۷۸۹۵۔ ج۱۰)
(۳) حضرت ابو ریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی، جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو، پس جب سورج مغرب سے طلوع ہو گا تو سب لوگ ایمان لے آئیں گے اور جو لوگ اس سے پہلے ایمان نہ لاۓ ہوں ان کا اس دن ایمان لانا مفید نہ ہوگا یا جن لوگوں نے اس سے پہلے ایمان کے ساتھ کوئی نیکی نہ کی ہو ۔
( صحیح البخاری:6506 صحیح مسلم کتاب الایمان: ۲۴۸( ۱۵۷ )389 سنن ابوداؤد : ٬۴۰۰۲ سنن ترمذی: ۵ ۳۲۳ – 2191 مسند احمد ج ۵ ص 165۔145۔۔ جامع الاصول: ۷۸۹۷ ۔ ج۱۰)
(۴) حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ درندے انسانوں سے باتیں نہ کریں اور انسان سے اس کے کوڑے کا پھندا بات نہ کرے اور اس سے اس کی جوتی کا تسمہ بات نہ کرے ۔
( سنن الترمذی :۲۱۸۸ جامع الاصول :7899 ۔ ج ۱۰ )
(۵) حضرت سلامہ بنت حر رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ اہل مسجد امامت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے کہیں گے اور انہیں نماز پڑھانے کے لیے کوئی امام نہیں ملے گا ۔
(سنن ابوداود، :٬۵۸۱ جامع الاصول : ۷۹۰۸ – ج 10 )
(۲) قیس بن ابی حازم ،حضرت مرداس اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نیک لوگ ایک ایک کر کے چلے جائیں گے اور تلچھٹ ( بھوسی ) باقی رہ جائیں گے، جیسے جو کی بھوسی یا ردی کھجوریں باقی رہ جاتی ہیں ۔
( صحیح البخاری: 6434، مسند احمد ج ۴ ص ۱۹۳، سنن الدارمی: ۷۲۲ ۲ جامع الاصول : ۹۰۹ ۷ ۔ ج۱۰)
(۷) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتی کہ ایک آدمی کسی آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا: کاش! اس کی جگہ میں ہوتا ۔
( صحیح البخاری: ۷۱۱۵ ، صحیح مسلم ۔ کتاب الفتن : ۵۳( ۲۹۰۷ )7168 ، سنن ابن ماجہ :۷ ۴۰۳ الموطا: ۱۶۵ مسند احمد ج ۲ ٬ص 36 جامع الاصول :۷۹۱۱)
(۸) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، حتی کہ زمانہ متقارب ہو جاۓ، سال ایک ماہ کی طرح گزرے گا اور مہینہ ہفتہ کی طرح گزرے گا، اور ہفتہ ایک دن کی طرح اور ایک دن ایک گھنٹہ کی طرح گزرے گا اور ایک گھنٹہ آگ کی چنگاری کی طرح گزر جاۓ گا ۔
( سنن ترمذی :3929، جامع الاصول : ۷۹۱۳ )
(۹) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قیامت صرف اشرار ( بدترین لوگوں) پر قائم ہو گی ۔
( صحیح مسلم کتاب الفتن :۱ ۱۳ ( ۲۹۴۹ 7268 جامع اصول :۷۹۱۶ )
(۱۰) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہو گی، جب تک کہ دو عظیم جماعتوں میں جنگ نہ ہو، ان میں بہت بڑی جنگ ہو گی اور ان کا دعوی ایک ہو گا اور حتی کہ تیس دجالوں، کذابوں کا ظہور ہو گا ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے اور حتی کہ علم اٹھا لیا جائے گا اور زائر لے یہ کثرت ہوں گے اور زمانہ متقارب ہوگا اور فتنوں کا ظہور ہوگا اور بہ کثرت قتل ہوگا۔
( صحیح بخاری:3609، صحیح مسلم کتاب الفتن : ۱۷ (۲۸۸۸۰) ۷۱۲۳ ، مسند احمد ج ۲ ص ۱۳ ۳ جامع اصول : ۷۹۲۰ ج ۱۰)
(11) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ اللہ کے دین کے لیے قتال کرتی رہے گی اور اپنے دشمنوں پر غالب رہے گی اور کسی کی مخالفت سے ان کو ضرر نہیں ہوگا حتی کہ ان پر قیامت آ جاۓ گی اور وہ اسی حال پر ہوں گے، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا: ہاں! اللہ تعالی ایک ہوا بھیجے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح ہو گی اور اس کا مس ریشم کی طرح ہو گا اور جس شخص کے دل میں ایک رائی کے برابر بھی ایمان ہوگا وہ اس کی روح قبض کر لے گی، پھر اشرار ( بدترین لوگ) باقی رہ جائیں گے اور ان پر قیامت قائم ہوگی ۔
(صحیح مسلم کتاب الامارہ :176 ( ۱۹۲۴ )٬۴۸۷۴ جامع الاصول : ۷۹۱۷ )
(۱۲) حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں بحث کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آۓ آپ نے فرمایا: تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو؟ ہم نے کہا: ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں آپ نے فرمایا: قیامت ہرگز اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو پھر آپ نے دھوئیں کا، دجال کا، دابۃ الارض کا، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا، حضرت عیسی بن مریم کے نزول کا، یاجوج ماجوج کا اور تین مرتبہ زمین کے دھنسنے کا ذکر فرمایا، ایک مرتبہ مشرق میں، ایک مرتبہ مغرب میں، ایک مرتبہ جزیرہ عرب میں، اور سب کے آخر میں ایک آگ ظاہر ہوگی، جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جاۓ گی ۔
( صحیح مسلم کتاب الفتن : ۳۹(۴۹۰۱ )7152، سنن ابوداؤد :4311، سنن ترمذی: 2183،سنن ابن ماجہ :۱ ۰۴ ۴ جامع الاصول : ۷۹۲۱ )
( ۱۳ ) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں تم کو وہ حدیث نہ سناؤں جس کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور میرے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا، جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کو سنا ہو آپ نے فرمایا: قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھایا جاۓ گا، اور جہل کا ظہور ہوگا اور زنا عام ہو گا اور شراب پی جاۓ گی اور مرد چلے جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی حتی کہ پچاس عورتوں کا کفیل ایک مرد ہو گا ۔
(صحیح البخاری:81، صحیح مسلم کتاب العلم: ۹ (2671) 6660، سنن ترمذی: 2212 سنن ابن ماجه:4045،مسند احمد ج 3 ص 120 جامع الاصول : ۷۹۲۲)
( ۱۴ ) حضرت ابو ہریرہ برضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ متقارب ہو جاۓ گا اور علم کم ہو جاۓ گا اور فتنوں کا ظہور ہوگا اور قتل بہت زیادہ ہوگا ۔
( صحیح البخاری: ۰۶۲ ۷ – ۲۰۶۴ صحیح مسلم کتاب العلم : ۱۰( 2672) 6662، سنن ترمذی : ۲۲۰۷، سنن ابوداؤد : 4255 سنن ابن ماجہ : ۴۰۵۱۔۴۰۵۰ مسنداحمد ج ۲ ص ۵۲۵ جامع الاصول : ۷۹۲۴)
(۱۵) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب میری امت پندرہ کاموں کو کرے گی تو اس پر مصائب کا آنا حلال ہو جاۓ گا۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہعلیہوسلم! وہ کیا کام ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب مال غنیمت کو ذاتی دولت بنالیا جاۓ گا اور امانت کو مال غنیمت بنا لیا جاۓ گا اور زکوۃ کو جرمانہ سمجھ لیا جائے گا جب لوگ اپنی بیوی کی اطاعت کریں گے اور اپنی میں کی نافرمانی کریں گئے اور جب دوست کے ساتھ نیکی کریں گئے اور باپ کے ساتھ برائی کریں گئے اور جب مسجدوں میں آواز میں بلند کی جائیں گی اور ذلیل ترین شخص کو قوم کا سردار بنا دیا جاۓ گا اور جب کسی شخص کے شر کے ڈر سے اس کی عزت کی جاۓ گی، شراب پی جاۓ گی اور ریشم پہنا جاۓ گا اور گانے والیاں اور ساز رکھے جائیں گے، اور اس امت کے آخری لوگ پہلوں کو برا کہیں گے اس وقت تم سرخ آندھیوں، زمین کے دھنسنے اور مسخ کا انتظار کرنا۔
( سنن ترمذی: ۲۲۱۷ جامع الاصول : ۷۹۲۵)
(۱۲) حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں ضرور نے ایسے لوگ ہوں گے جو ریشم کو، شراب کو اور گانے بجانے کے آلات کو حلال کہیں گے اور ضرور کچھ لوگ پہاڑ کے دامن میں رہیں گے، جب شام کو وہ اپنے جانوروں کا ریوڑ لے کر لوٹیں گے اور ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت لے کر آئے گا تو وہ کہیں گے کہ کل آنا، اللہ تعالی پہاڑ گرا کر ان کو ہلاک کر دے گا اور دوسرے لوگوں کو ( جو ریشم شراب اور باجوں کو حلال کہیں گے ) مسخ کر کے قیامت تک کے لیے بندر اور خنزیر بنادے گا۔( صحیح البخاری:۵۵۹۰ سنن ابوداؤد : ۴۰۳۹ جامع الاصول : ۴۹۳۷ )
(۱۷) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی، جب تک کہ عرب کا حاکم وہ شخص نہیں ہوگا جو میرے اہل بیت سے ہے اس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا ( یعنی محمد) اور دوسری روایت میں ہے: اگر ایام دنیا میں سے صرف ایک دن باقی رہ جاۓ تو اللہ تعالی اس کو اتنا لمبا کر دے گا حتی کہ اس دن میں ایک شخص کو میرے اہل بیت سے مبعوث کرے گا جس کا نام میرے نام کے موافق اور جس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا، وہ زمین کو اس طرح عدل اور انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی تھی۔
( سنن ابوداؤد : ۴۲۸۲، سنن ترمذی: ۷ ۲۲۳)
( ۱۸ ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مال بہت زیادہ نہ ہو جائے اور حتی کہ ایک آدمی اپنے مال کی زکوۃ لے کر نکلے تو اس کو کوئی شخص نہ ملے، جو اس کو قبول کر ے ۔
( صحیح مسلم ۔ کتاب الزکوۃ: 60( ۱۰۱۲ )۲۳۰۲ المشکوہ :: ۵۴۴۰)
(۱۹) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے! عنقریب تم میں ابن مریم نازل ہوں گئے، وہ حاکم عادل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کوقتل کر دیں گے اور جزیہ موقوف کردیں گے اور مال کو بہائیں گے حتی کہ اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا حتی کہ ایک سجدہ کرنا دنیا اور مافیہا سے بہتر ہوگا۔
( صحیح البخاری: ۲۲۲۲ صحیح مسلم کتاب الایمان : 242 (۱۵۵) ۱۳۸۲ المشکوہ :5505 )
(۲۰) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہاری کیا شان ہو گئی جب تم میں ابن مریم نازل ہوں گے اور امام تم میں سے ہوں گے ۔
( صحیح البخاری:3449، صحیح مسلم ۔ کتاب الایمان: ۲۴۴( ۱۵۵ )385 المشکوہ:5506 )
(۲۱) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عیسی ابن مریم زمین کی طرف نازل ہوں گئے، وہ شادی کریں گے اور ان کی اولاد ہو گی، اور وہ زمین میں پینتالیس سال رہیں گے، پھر فوت ہوں گے اور میرے ساتھ قبر میں دفن کیے جائیں گے پس میں اور عیسی بن مریم ایک قبر سے ابوبکر اور عمر کے درمیان سے کھڑے ہوں گے ۔
( الوفا لابن الجوزی 814، المشکوہ ::۵۵۰۸ )
(۲۲) حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوۓ درآں حالیکہ آپ کا چہرہ سرخ تھا اور آپ فرمار ہے تھے : لا الہ الا اللہ اور اس کو آپ نے تین مرتبہ دہرایا’ آپ نے فرمایا: عرب کے لیے اس شر سے ہلاکت ہو، جو قریب آ پہنچا ہے، یاجوج ماجوج کی بندش آج کے دن کھل گئی، اس کی طرح پھر آپ نے دس کا عقد کیا۔ حضرت زینب نے کہا: یا رسول اللہ! کیا ہم ہلاک ہو جائیں گے حالانکہ ہم میں نیک لوگ موجود ہیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! جب خباثت زیادہ ہوجاۓ ۔
( صحیح البخاری:3346 صحیح مسلم :۲۸۸۰، سنن ترمذی: ۲۱۹۴ سنن ابن ماجه : ۹۵۳ ۳ صحیح ابن حبان :۳۲۷۔ ج ۲’ مصنف عبدالرزاق 20749، مصنف ابن ابی شیبہ : ۱۹۰۶۱ مسند الحمیدی : ۳۰۸ السنن الکبری للبیہقی ج۱۰ص ۹۳ مسند احمد :27486۔ ج۱۰ )
(۲۳) مجمع بن جاریہ الانصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ابن مریم، دجال کو باب لد پرقتل کر یں گے ۔ ( سنن ترمذی: ۲۲۵۸ صحیح ابن حبان :6811 ج ۱۵ المعجم الکبیر :۱۰۷۷ ج۱۹ مصنف عبد الرزاق: ۲۰۸۳۵)
(۲۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دابتہ الارض نکلے گا، اس کے پاس حضرت سلیمان بن داؤد کی انگوٹھی ہو گی اور حضرت موسی بن عمران علیہم السلام کا عصا ہوگا، وہ مومن کے چہرے کو عصا سے روشن کرے گا اور کافر کی ناک پر انگوٹھی سے نشان لگاۓ گا حتی کہ قبیلہ کے لوگ جمع ہو جائیں گے اور وہ کہے گا: یا مومن یا کافر ۔
( سنن ترمذی: ٬۳۱۸۷ مسند احمد : 7942 ۔ ج ۳)
(۲۵) امام ابو بکر احمد بن حسین بیہقی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک طویل ارشاد روایت کیا ہے، جس کے آخر میں آپ نے فرمایا: یوم القیامۃ یوم عاشوراء ہے ( یعنی محرم کے مہینہ کی دس تاریخ ) ۔
( فضائل الاوقات : ۷ ۲۳۔ ص۴۴۱ مکتبہ المنارة مکه مکرمه 1410ھ)
(۲۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے، جس میں حضرت آدم پیدا کیے گئے اور اسی دن جنت سے باہرلاۓ گئے اور قیامت بھی صرف جمعہ کے دن قائم ہو گی ۔
( صحیح مسلم کتاب الجمعه : ۱۹۴۴ – ۸۵۴ – ۱۸، سنن ابن ماجہ : ۱۰۸۴، سنن نسائی: ۷۳ ۱۳ )
(۲۷) حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور دو دنوں میں اس کی روزی پیدا کی پھر استواء فرمایا، پھر دو دنوں میں آ سمانوں کو پیدا فرمایا زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا اور منگل اور بدھ کو اس کی روزی پیدا کی اور آسمانوں کو جمعرات اور جمعہ کے دن پیدا کیا اور جمعہ کی آخری ساعت میں عجلت سے حضرت آدم کو پیدا کیا اور اسی ساعت میں قیامت قائم ہو گی ( یہ حدیث حکما مرفوع ہے ) ۔
( کتاب الاسماء والصفات للبیہقی ص 383 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی، بیروت)
خاص وقوع قیامت کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت واقع ہونے سے پہلے اس کی تمام نشانیاں بیان فرمائیں اور موخر الذکرتین حدیثوں میں یہ بھی بتادیا کہ محرم کے مہینہ کی دس تاریخ کو جمعہ کے دن، دن کی آخری ساعت میں قیامت واقع ہوگی، مہینہ، تاریخ ، دن اور خاص وقت سب بتادیا صرف سن نہیں بتایا کیونکہ اگر سن بھی بتا دیتے تو ہم آج جان لیتے کہ قیامت آنے میں اب اتنے سال باقی رہ گئے ہیں اور ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ پہلے لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اب ایک گھنٹہ بعد قیامت آۓ گی اور قیامت کا آنا اچانک نہ رہتا اور قرآن جھوٹا ہوجاتا
کیونکہ قرآن نے فرمایا ہے:
لا تأتيكم إلا بغتة. (الاعراف: ۱۸۷)
قیامت تمہارے پاس اچانک ہی آۓ گی ۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید کے مکذب نہیں، مصدق تھے، اس لیے آپ نے قرآن مجید کے صدق کو قائم رکھنے کے لیے سن نہیں بتایا اور اپنا علم ظاہر فرمانے کے لیے باقی سب کچھ بتادیا ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ اور علم روح وغیرہ دیئے جانے کے متعلق علماء اسلام کے نظریات
قیامت کب واقع ہوگی؟ بارش کب ہوگی ؟ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ انسان کل کیا کرے گا ؟ اور کون شخص کس جگہ مرے گا ؟ یہ وہ امور خمسہ ہیں، جن کا ذاتی علم اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، بحث اس میں ہے کہ اللہ تعالی نے کسی مخلوق کو ان پانچ چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے یا نہیں ۔ بعض علماء سلف نے نیک نیتی کے ساتھ یہ کہا کہ یہ علوم اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہیں اور اس نے مخلوق میں سے کسی کو ان پانچ چیزوں پر مطلع نہیں فرمایا، اور اکثر اہل اسلام نے یہ کہا کہ اللہ تعالی نے انبیاء علیہم السلام کو عموماً اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خصوصا ان پانچ چیزوں کے علوم میں سے بھی حظ وافر عطا فرمایا ہے ۔
اعلی حضرت امام احمد رضا فاضل بریلوی متوفی ۱۳۴۰ ھ لکھتے ہیں:۔
ان تمام اجماعات کے بعد ہمارے علماء میں یہ اختلاف ہوا کہ بے شمار علوم غیب جو مولى عزوجل نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرماۓ، آیا وہ روز اول سے یوم آخر تک تمام کائنات کو شامل ہیں، جیسا کہ عموم آیات و احادیث کا مفاد ہے یا ان میں تخصیص ہے ۔
بہت اہل ظاہر جانب خصوص کے گئے ہیں کسی نے کہا: متشابہات کا، کسی نے خمس کا، کثیر نے کہا: ساعت کا اور عام علماء باطن اور ان کے اتباع سے بہ کثرت علماء ظاہر نے آیات و احادیث کو ان کے عموم پر رکھا ۔
( خالص الاعقاد ص 27، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی کراچی )
علماء دیوبند اور علماء غیر مقلدین یہ تاثر دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علوم خمسہ کو ثابت کرنے میں صرف اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ اور ان کے متبعین منفرد ہیں، ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ صرف ہمارا تفرد نہیں بلکہ بہت علماء اسلام کا یہی مسلک ہے ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ وعلم روح وغیرہ دیئے جانے کے متعلق جمہور علماء اسلام کی تصریحات
علامہ ابوالعباس احمد بن عمر بن ابراہیم المالکی القرطبی المتوفی 656 ھ لکھتے ہیں :
فمن ادعى علم شي منها غير مسند الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كان كاذبا في دعواه ۔
جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت کے بغیر ان پانچ چیزوں کے جاننے کا دعوی کرے وہ اس دعوی میں جھوٹا ہے ۔
(المفہم ج۱ ص 156،مطبوعہ دار ابن کثیر، بیروت 1417ھ )
علامہ بدرالدین عینی حنفی’ علامہ ابن حجر عسقلانی، علامہ احمد قسطلانی، ملاعلی قاری اور شیخ عثمانی نے بھی اپنی شروح میں علامہ قرطبی کی اس عبارت کو ذکر کیا ہے ۔
( عمدة القاری ج۱ ص ۲۹۰ فتح الباری ج۱ ص ۱۲۴ ارشاد الساری ج ۱ ص ۱۳۸ مرقات ج ا ص 65، فتح المنہم ج ا ص ۱۷۲ )
علامہ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں:
قال بعضهم ليس في الآية دليل على ان الله لم يطلع نبيه على حقيقة الروح بل يحتمل أن يكون اطلعه ولم يأمره انه يطلعهم وقد قالوا في علم الساعة نحو هذا والله اعلم ۔ (فتح الباری ج ۸ ص ۴۰۳)۔
بعض علماء نے کہا ہے کہ ( سورہ بنی اسرائیل کی ) آیت میں یہ دلیل نہیں ہے کہ اللہ تعالی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا، بلکہ احتمال یہ ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو روح کی حقیقت پر مطلع کیا ہو اور آپ کو اس کی اطلاع دینے کا حکم نہ دیا ہو قیامت کے علم کے متعلق بھی علماء نے اسی طرح کہا ہے ۔ واللہ اعلم
علامہ احمد قسطلانی الشافعی نے بھی یہ عبارت نقل کی ہے ۔ (ارشاد الساری ج ۷ ص ۲۰۳)
علامہ زرقانی’’ المواہب‘‘ کی شرح میں لکھتے ہیں:
(وقـد قـالـوا في علم الساعة) وباقى الخمس المذكورة في اية ان الله عنده علم الساعة (نحو هذا) یعنی انه علمها ثم امر بكتمها۔ ( شرح المواہب اللدنیہ ج ا ص 265)۔
علم قیامت اور باقی ان پانچ چیزوں کے متعلق جن کا سورۂ لقمان کی آخری آیت میں ذکر ہے، علماء نے یہی کہا ہے کہ اللہ تعالی نے آپ کو ان پانچ چیزوں کا علم عطا فرمایا اور آپ کو انہیں مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا۔
علامہ جلال الدین سیوطی الشافعی لکھتے ہیں :
ذهب بعضهم الى انه صلى الله علیہ وسلم اوتی علم الخمس ايضا وعلم وقت الساعة والروح وانہ امربكتم ذالک۔
( شرح الصدور ص 319 مطبوعہ بیروت الخصائص الکبری ج ۲ ص 335 بیروت ۱۴۰۵ھ )
اور بعض علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو امور خمسہ کا علم دیا گیا ہے اور وقوع قیامت کا اور روح کا بھی علم دیا گیا ہے اور آپ کو ان کے مخفی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
علامہ صاوی مالکی لکھتے ہیں:
قال العلماء الحق انه لم يخرج نبينا من الدنيا حتى اطلعه الله على تلك الخمس ولكنه امره بكتمها۔
)تفسیر صاوی ج ۳ ص 215)
علماء کرام نے فرمایا کہ حق بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا سے اس وقت تک وفات نہیں پائی، جب تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو ان پانچ چیزوں کے علوم پر مطلع نہیں فرمادیا، لیکن آپ کو ان علوم کے مخفی رکھنے کا حکم فرمایا۔
اور علامہ آلوسی حنفی فرماتے ہیں:
لم يقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى علم كل شي يمكن العلم به. (روح المعانی ج ۱۵ ص ۱۵۴)۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک وفات نہیں پائی، جب تک کہ اللہ تعالی نے آپ کو ہر اس چیز کا علم نہیں دے دیا، جس کا علم دینا ممکن تھا۔
نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں:
ويجوز ان يكون الله تعالى قد اطلع حبيبه عليه الصلوة والسلام على وقت قيامها على وجه کامل لكن لاعلى وجه يحا کی علمه تعالی به الا انه سبحانہ اوجب عليه صلى الله تعالى عليه وسلم كتمه لحكمة ويكون ذلك من خواصه عليه الصلوة والسلام وليس عندى ما يفيد الجزم بذلك . ( روح المعانی ج۱ ۲ ص ۱۱۳)
اور یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حبیب علیہ الصلوۃ والسلام کو وقت وقوع قیامت پر مکمل اطلاع دی ہو مگر اس طریقہ نہیں کہ اس سے علم الہی کا اشتباہ ہو، الا یہ کہ اللہ تعالی نے کسی حکمت کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کا اخفاء واجب کر دیا ہو اور یہ علم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خواص میں سے ہو لیکن مجھے اس پر کوئی قطعی دلیل حاصل نہیں ہوئی ۔
امام رازی لکھتے ہیں:
عالم الغيب فلا يظهر على غيبه المخصوص هو قيام القيامة احدا ثم قال بعده لكن من ارتضی من رسول. ( تفسیر کبیر ج ۱۰ص 678 )
اللہ تعالی عالم الغیب ہے، وہ اپنے مخصوص غیب یعنی قیامت قائم ہونے کے وقت پر کسی کو مطلع نہیں فرماتا، البتہ ان کو مطلع فرماتاہے، جن سے وہ راضی ہوتا ہے اور وہ اللہ کے رسول ہیں ۔
علامہ علاؤ الدین خازن نے بھی یہی تفسیر کی ہے ۔
(تفسیر خازن ج ۴ ص ۳۱۹)
علامہ تفتازانی لکھتے ہیں:
والجواب ان الغيب ههنا ليس للعموم بل مطلق او معيـن هـو وقـت وقـوع الـقـيـمـة بـقـريـنـة السياق ولا یبعدان يـطـلـع عـلـيـه بعـض الرسل من الملئكة او البشر . (شرح المقاصد ج ۵ ص 6 طبع ایران )
اور جواب یہ ہے کہ یہاں غیب عموم کے لیے نہیں ہے، بلکہ مطلق ہے یا اس سے غیب خاص مراد ہے یعنی وقت وقوع قیامت، اور آیات کے سلسلہ رابط سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے اور یہ بات مستبعد نہیں ہے کہ اللہ تعالی بعض رسولوں کو وقت وقوع قیامت پر مطلع فرماۓ خواہ وہ رسل ملائکہ ہوں یا رسل بشر ۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں
شیخ عبد الحق محدث دہلوی لکھتے ہیں :
وحق آنست که درآیت دلیلے نیست بر آنکه حق تعالی مطلع نگر دانیده است حـبـيـب خـود را صلى الله عليه وسلم بر ماہیت روح بلکه احتمال دارد که مطلع گردانیـده بـاشـد وامـر نکرد اوراکه مطلع گردانید این قوم راو بعضی از علماء در علم سـاعـت نيـزایں معنی گفته اندالی ان قال ولے گویـد بـنـده مسكين خصه الله بنور الـعـلـم والـيقين و چگونه جرات کند مومن عارف که نفی علم به حقیقت روح سیدالـمـر سـلـيـن وامـام الـعـارفين صلى اللـه عـلـيـه وسـلـم كـنـد و داده است او را حق سبـحـانـه عـلـم ذات وصفات خودوفتح کرده بروے فتـح مـبـيـن از علوم اولین وآخـریـن روح انسانی چه باشد که در جنب حـقـیـقـت جـامـعـه وے قطره ایست از دریائے ذره از بيـضـائـے فـافهم وبالله التوفيق۔ (مدارج النبوة ج 2 ص 40)
حق یہ ہے کہ قرآن کی آیت میں اس بات پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ حق تعالی نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو روح کی حقیقت پر مطلع نہیں کیا، بلکہ جائز ہے کہ مطلع کیا ہو اور لوگوں کو بتلانے کا حکم آپ کو نہ دیا ہو اور بعض علماء نے علم قیامت کے بارے میں بھی یہی قول کیا ہے اور بندہ مسکین ( اللہ اس کو نور علم اور یقین کے ساتھ خاص فرماۓ) یہ کہتا ہے کہ کوئی مؤمن عارف حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روح کے علم کی کیسے نفی کر سکتا ہے، وہ جو سید مرسلین اور امام العارفین ہیں، جن کو اللہ تعالی نے اپنی ذات اور صفات کا علم عطا فرمایا ہے، اور تمام اولین اور آخرین کے علوم آپ کو عطا کیے ہیں، ان کے سامنے روح کے علم کی کیا حیثیت ہے؟ آپ کے علم کے سمندر کے سامنے روح کے علم کی ایک قطرہ سے زیادہ کیا حقیت ہے ۔
سیدی عبدالعزیز دباغ عارف کامل فرماتے ہیں :
وكيف يخفى امر الخمس عليه صلى الله عليه وسلم والواحد من أهل التصرف من امته الشريفة لا يمكنه التصرف الا بمعرفة هذه الخمس۔الابریز ص ۴۸۳)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان پانچ چیزوں کا علم کیسے مخفی ہوگا حالانکہ آپ کی امت شریفہ میں سے کوئی شخص اس وقت تک صاحب تصرف نہیں ہوسکتا جب تک اس کو ان پانچ چیزوں کی معرفت نہ ہو ۔
علامہ احمد قسطلانی شافعی متوفی 911 تحریرفرماتے ہیں:
لا يعلم متى تقوم الساعة الا الله الا من ارتضى من رسول فأنه يطلعه على من يشاء من غيبه والولی تابع له يأخذ عنه. (ارشاد الساری ج ۷ ص۱۷۸)۔
کوئی غیر خدا نہیں جانتا کہ قیامت کب آۓ گی؟ سوا اس کے پسندیدہ رسولوں کے کہ انہیں اپنے جس غیب پر چاہے، اطلاع ) دے دیتا ہے ( یعنی وقت قیامت کا علم بھی ان پر بند نہیں رہے اولیا ، وہ رسولوں کے تابع ہیں، ان سے علم حاصل کر تے ہیں ۔
ہر چیز کاعلم ذاتی اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہے، پھر ان پانچ چیزوں کے علم کی تخصیص کی وجہ اس آیت میں ان پانچ چیزوں کا شمار کیا گیا ہے، حالانکہ تمام مغیبات کا علم صرف اللہ تعالی کو ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ان چیزوں کے متعلق سوال کرتے تھے، روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے حارث بن عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ اور آپ سے قیامت کے وقت کے متعلق سوال کیا اور یہ کہ ہماری زمین خشک ہے میں نے اس میں بیچ ڈالنے ہیں، بارش کب ہو گی؟ اور میری عورت حاملہ ہے، اس کے پیٹ میں مذکر ہے یا مؤنٹ اور مجھے گزشتہ کل کا تو علم ہے، لیکن آئندہ کل میں کیا کروں گا ؟ اور مجھے علم تو ہے کہ میں کس جگہ پیدا ہوا ہوں، لیکن میں کہاں مروں گا؟ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ۔
نیز اہل جاہلیت نجومیوں کے پاس جا کر سوال کرتے تھے اور ان کا یہ زعم تھا کہ نجومیوں کو ان چیزوں کا علم ہوتا ہے اور اگر کاہن غیب کی کوئی خبر دے اور کوئی شخص اس کی تصدیق کرے تو یہ کفر ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کاہن کے پاس گیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل شدہ دین کا کفر کیا۔
اور یہ جو بعض روایات میں ہے کہ انبیاء علیہم السلام اور اولیاء کرام غیب کی خبریں دیتے ہیں تو ان کا یہ خبر دینا وحی، الہام اور کشف کے ذریعہ اللہ تعالی کی تعلیم دینے سے ہوتا ہے لہذا ان پانچ چیزوں کے علم کا اللہ تعالی کے ساتھ خاص ہونا، اس بات کے منافی نہیں ہے کہ ان غیوب پر انبیاء، اولیاء اور ملائکہ کے سوا اور کوئی مطلع نہیں ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشادفرمایا:
علم الغيب فلا يظهر على غيبة أحدا 0 إلا من ارتضى من رسول ( الجن : 27-26)
( اللہ ) غیب جاننے والا ہے تو اپنے غیب پر کسی کو ( کامل ) اطلاع نہیں دیتا مگر جن کو اس نے پسند فرمالیا، جواس کے ( سب ) رسول ہیں ۔
اور بعض غیوب وہ ہیں جن کو اللہ تعالی نے اپنی ذات کے ساتھ خاص کر لیا جن کی اطلاع کسی مقرب فرشتے کو ہے اور نہ کسی نبی مرسل کو، جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے:
وعنده مفاتح الغيب لا يعلمها إلا هو
اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، اس کے سوا ( بذات ( انعام :۵۹) خود) انہیں کوئی نہیں جانتا۔
قیامت کا علم بھی انہی امور میں سے ہے، اللہ تعالی نے وقوع قیامت کے علم مخفی رکھا، لیکن صاحب شرع کی زبان سے ان کی علامتوں کو ظاہر فرمادیا مثلا خروج دجال، نزول عیسی اور سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، اسی طرح بعض اولیاء نے بھی الہام صحیح سے بارش ہونے کی خبر دی اور یہ بھی بتایا کہ ماں کے پیٹ میں کیا ہے؟ اسی طرح ابو العزم اصفہانی شیراز میں بیمار ہو گئے انہوں نے کہا کہ میں نے اللہ تعالی سے طرطوس میں موت کی دعا کی ہے، اگر بالفرض شیراز میں مر گیا تو مجھے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کر دینا( یعنی ان کو یقین تھا کہ ان کی موت طرطوس میں آۓ گی ) وہ تندرست ہو گئے اور بعد میں طرطوس میں ان کی وفات ہوئی اور میرے شیخ نے بیس سال پہلے اپنی موت کا وقت بتادیا تھا اور وہ اپنے بتاۓ ہوۓ وقت پر ہی فوت ہوۓ تھے ۔
( روح البیان ج ۷ ص ۱۰۵ – ۱۰۳ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم ماکان و مایکون پر شیخ سلیم اللہ اور شیخ عثمانی نے جو اعتراضات کیے ہیں، وہ ان لوگوں کے پرانے اعتراضات ہیں اور ان کے جوابات تفسیر بیان القرآن الجن : 27۔26 کی تفسیر میں مذکور ہیں اور ان شاء اللہ ان کا ذکر ’’نعمۃ الباری‘‘ میں بھی حسب مقام کیا جاۓ گا ۔
شرح صحیح مسلم میں حدیث مذکور کی شرح
یہ حدیث شرح صحیح مسلم :۱۔ ج۱ ص۲۷۱ پر مذکور ہے اور اس کی شرح ۳۲۹۔ ۲۷۷ صفحات پر محیط ہے اور اس کے عنوانات حسب ذیل ہیں:
تمام علماء اور صالحین کے لیے رضی اللہ عنہ کہنے اور لکھنے کا جواز (۴) اللہ تعالی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے نام لکھنے کے آداب (3) قضاء وقدر کے لغوی معنی کی تحقیق ۴) قضاء وقدر کے اصطلاحی معنی کی تحقیق (۵) تقدیر کی تعریف (1) معتزلہ اور جبریہ کے نظریہ کا بطلان اور افعال کے خلق اور کسب کا بیان سے(7) تقدیر کے متعلق اہل سنت اور اہل بدعت کے نظریات (8) تقدیر کے متعلق قرآن مجید کی آیات (۹) انسان کے لیے آزادی عمل اور کسب اور اختیار کا بیان (۱۰) انسان کے کسب اور اختیار کے متعلق قرآن مجید کی آیات (۱۱) انسان کا امور سماویہ میں مجبور اور احکام شرعیہ میں مختار ہونا ۱۲( )بعض کفار کے دلوں پر مہر لگا دینا، ان کے اختیار کے منافی نہیں ہے (۳) تقدیر مبرم اور تقدیر معلق کے متعلق قرآن مجید کی آیات اور احادیث (۱۴) تقدیر مبرم اور تقدیر معلق کے متعلق مفسرین کی آراء ۱۵ تقدیر مبرم اور تقدم معلق کے متعلق محدثین کی آراء (۲) تقدیر مبرم اور تقدر تعلق کے متعلق متکلمین کی آراء (۱۷ کفار اور بدعقیدہ لوگوں سے تعلقات رکھنے کی تحقیق (۱۸) کفار اور بدعقیدہ لوگوں سے محبت رکھنے اور دوستی رکھنے کی ممانعت کے متعلق قرآن مجید کی آیات (۱۹) کفار اور بدعقیدہ لوگوں سے محبت رکھنے اور دوستی رکھنے کی ممانعت کے متعلق احادیث اور آثار (۲۰) کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ معاشرتی معاملات اور نیکی کرنے پر احادیث سے استدلال (۴) کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کرنے کے متعلق علماء شافعیہ کا نظریہ (۲۲) کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کرنے کے متعلق علماء مالکیہ کا نظریہ (۲۳ کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ نیکی اورصلہ رحمی کے متعلق علماء حنبلیہ کا نظریہ ۴۴ کفار اور بدعقیدہ لوگوں کے ساتھ نیکی اور صلہ رحمی کرنے کے متعلق علماء احناف کی آراء (۲۵)نداء یامحمد کا جواز اور بحث و نظر (۴۶) اللہ تعالی کا رسول اللہ ﷺ کو نداء یا محمد کے ساتھ خطاب کرنا ۴۷ انبیاء علیہم السلام کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یامحمد کے ساتھ نداء اور خطاب کر نا ۴۸) ارکان اسلام میں جہاد کونہ ذکر کرنے کی وجہ ۴۹) مرتبہ احسان کی تفصیل اور تحقیق (۳۰) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علوم خمسہ حاصل ہونے کے متعلق علماء اسلام کی تصریحات (۳ اللہ تعالی کی ذات میں علوم خمسہ کے انحصار کی خصوصیت کا سبب (۳۴ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیامت کی دیگر علامات کو بیان فرمانے اور ان کو بیان نہ فرمانے کا سبب ۔