کتاب الایمان باب 41 حدیث نمبر 54 و 55
٤١- باب ما جاء أن الأعمال بالنية والحسبة، ولكل امرىء ما نوى
اعمال کا مدار نیت پر ہے اور ہر شخص کو اسی عمل کا اجر ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہے
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اس باب میں ان اعمال کا بیان تھا، جن سے انسان جنت میں داخل ہو جاتا ہے اور عمل اس وقت شرعا معتبر ہوتا ہے جب اس میں اخلاص اور عبادت کی نیت ہو، اسی وجہ سے اس باب کا عنوان ہے: اعمال کا مدار نیت پر ہے اس عنوان میں’’ حسبۃ‘‘ کا لفظ ہے اس سے احتساب ہے یعنی کسی کام کوثواب کے لیے کرنا۔
امام بخاری فرماتے ہیں:
فدخل فيه الإيمان ، والوضوء، والصلوة، والزكوة، والـحـج، والصوم، والأحكام، وقال الله تعالى (قل كل يعمل على شاكلته (الاسرا: ٨٤) على نيته، ونفقة الرجل على اهلـه يحتسبها صدقة. قال النبي صلى الله عليه وسلم ولكن جهاد ونية۔
پس اس باب میں ایمان اور وضو اور نماز اور زکوۃ اور حج اور روزہ اور احکام ( دیگر عبادات اور معاملات ) داخل ہو گئے اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ آپ کہیے: ہر شخص اپنی سرشت کے موافق عمل کرتا ہے ( بنی اسرائیل: ۸۴ ) یعنی اپنی نیت کے موافق عمل کرتا ہے اور جو شخص اپنی بیوی کو ثواب کی نیت سے خرچ دے، وہ بھی صدقہ ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لیکن جہاد اور نیت ہے۔
٥٤- حدثنا عبدالله بن مسلمة قال أخبرنا مالك، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم، عن علقمة بن وقاص، عن عمر أن رسول الله صلی اللہ عليه وسلم قال الأعمال بالنية ، ولكل امرىء ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرتہ الى الله ورسوله ، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها او امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه ۔
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں عبداللہ بن مسلمہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں امام مالک نے خبر دی از یحیی بن سعید از محمد بن ابراہیم از علقمه بن وقاص از حضرت عمر رضی اللہ عنہ که رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اعمال کا مدار نیت پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی اجر ہے، جس کی اس نے نیت کی، پس جس کی ہجرت (کی نیت) اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے تو اس کی ہجرت (واقع میں) اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت ( کی نیت ) دنیا پانے کے لیے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہے ( تو واقع میں ) اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے ۔
(اس حدیث کے اطراف اس کی تخریج اور اس کی شرح تفصیل سے حدیث :1 میں بیان کی جا چکی ہے۔)
55- حدثنا حجاج بن منهال قال حدثنا شعبة قال أخبرني عدي بن ثابت قال سمعت عبداللہ بن يزيد، عن أبي مسعود ، عن النبي صلى اللہ علیہ وسلم قال إذا أنفق الرجل على أهله يحتسبها فھو له صدقة. (اطراف الحدیث :4006-۵۳۵۱]
امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں حجاج بن منہال نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن یزید سے سنا از حضرت ابومسعود از نبی صلی اللہ علیہ وسلم ،آپ نے فرمایا: جب کوئی شخص اپنی بیوی پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔
( صحیح مسلم : ٬۱۰۰۲ سنن ترمذی: ۱۹۶۵، سنن نسائی : ۲۵۴۴ السنن الکبری للنسائی : ۹۲۰۵)
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف خصوصاً حضرت عبداللہ بن یزید انصاری۔۔۔۔ ۔اور حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالی عنہما کا تذکرہ
(1) الحجاج بن منہال الانماطی اسلمی، انہوں نے اکابر میں سے شعبہ سے سماع کیا ہے، اور ان سے محمد بن یحیی الذھلی بغوی اور امام بخاری اور دیگر نے سماع کیا ہے، ان کی توثیق اور نیکی پر اتفاق ہے، یہ ۲۱۷ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۲) شعبہ بن حجاج، ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔
(۳) عدی بن ثابت انصاری کوفی، انہوں نے اپنے اخیافی دادا حضرت عبداللہ بن زید انصاری، حضرت البراء بن عازب اور دیگر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم سے سماع کیا ہے، اور ان سے اعمش اور شعبہ وغیرہ نے سماع کیا ہے امام احمد نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابوحاتم نے کہا: یہ صدوق ہیں یہ کوفہ میں مسجد شیعہ کے امام اور ان کے قاضی تھے، ۱۱۶ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔
( ۴ ) عبداللہ بن یزید بن حصین بن عمرو بن الحارث الانصاری، الصحابی، یہ کوفہ کے امیر تھے ۱۷ سال کی عمر میں حدیبیہ میں حاضر ہوۓ، جنگ صفین جنگ جمل اور جنگ نہروان میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ان کا شمار افاضل صحابہ میں ہوتا ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۷ ۱۲ احادیث روایت کی ہیں امام بخاری نے ان کی دو اور امام مسلم نے ان کی ایک حدیث روایت کی ہے یہ حضرت ابن الزبیر رضی اللہ تعالی عنہما کے زمانہ خلافت میں فوت ہو گئے تھے۔
(۵) حضرت ابومسعود عقبہ بن عمرو الانصاری الخزرجی البدری رضی اللہ عنہ یہ ستر (۷۰) انصار کے ساتھ عقبہ میں حاضر ہوۓ، اور ان میں سب سے کم سن تھے، یہ وادی بدر کے رہنے والے تھے غزوہ بدر میں شریک نہیں تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۱۰۲ احادیث روایت کی ہیں جن میں سے 9 احادیث پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں امام بخاری ایک حدیث کے ساتھ منفرد میں اور امام مسلم 9 احادیث کے ساتھ منفرد ہیں یہ 31ھ یا ۴۲ھ میں کوفہ یا مدینہ میں فوت ہو گئے تھے ۔ (عمدۃ القاری ج۱ ص ۴۹۲)
حدیث مذکور کی موید دیگر احادیث
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئیں اور اجازت طلب کی، پس کہا گیا: یارسول اللہ! یہ زینب ہیں، آپ نے پوچھا: کون سی زینب؟ سو بتایا گیا: حضرت ابن مسعود کی بیوی آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے اس کو اجازت دو، ان کو اجازت دی گئی، انہوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے آج صدقہ کرنے کا حکم دیا ہے، میرے پاس میرے زیورات ہیں، میں ان کا صدقہ کرنا چاہتی ہوں، اور حضرت ابن مسعود یہ کہتے ہیں کہ جن پر تم صدقہ کرو گی ان میں میں اور میری اولاد صدقہ کے زیادہ مستحق ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن مسعود نے سچ کہا، جن پر تم صدقہ کروگی ان میں تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد زیادہ مستحق ہیں ۔ ( صحیح البخاری: ۶۲ ۱۴ )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار ہے آپ نے فرمایا: اس کو اپنے اوپر صدقہ کرو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے آپ نے فرمایا: اس کو اپنی اولاد پر صدقہ کرو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے آپ نے فرمایا: اس کو اپنی بیوی پر صدقہ کرو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے آپ نے فرمایا: اس کو اپنے خادم پر صدقہ کرو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور دینار ہے آپ نے فرمایا: اس میں تمہاری صواب دید ہے ۔ ( سنن ابوداؤد :۱۶۹۱، سنن نسائی : 2524)
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس کو یہ پسند ہو کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جاۓ اور اس کی عمر میں اضافہ کیا جاۓ، اس کو چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے۔
( صحیح البخاری: ۲۰۶۷ صحیح مسلم : ۲۵۵۷، سنن ابوداؤد: 1693 –
زیر بحث حدیث شرح صحیح مسلم : ۲۲۱۸۔ ج ۲ ص ۹۲۷ پر ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔