٤٢- باب قول النبي صلى الله علیه وسلم الدين النصيحة لله ولرسولہ ولائمة المسلمين وعامتهم وقوله تعالى (إذا نصحوا لله ورسوله)التوبہ:۹۱

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد: اللہ کی خیر خواہی کرنا اور اس کے رسول کی خیر خواہی کرنا اور ائمہ مسلمین کی خیر خواہی کرنا اور عام لوگوں کی خیر خواہی کرنا دین ہے اور اللہ تعالی کا یہ ارشاد : ” جب وہ اللہ کی اور اس کے رسول کی خیر خواہی کریں‘‘ (التوبہ :۹۱)۔

 

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں یہ ذکر تھا کہ اعمال کا مدار نیت پر ہے یعنی جب تک انسان اخلاص کے ساتھ اللہ کی رضا جوئی کے لیے عمل نہ کرے، جس میں کوئی دکھاوا نہ ہو اس کا عمل قبول نہیں ہوتا، اور یہی چیز اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ خیر خواہی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے تمام احکام پر عمل کرے اور جن کاموں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے، ان سے باز رہے، امام بخاری نے اس حدیث پر کتاب الایمان کو اس لیے ختم کیا ہے کہ یہ حدیث بہت جلیل القدر ہے اور اسی پر اسلام کے تمام احکام موقوف ہیں اور یہ حدیث ان چار حدیثوں میں سے ایک ہے جن پر اسلام کا مدار ہے ۔

اس حدیث میں فرمایا ہے: دین خیر خواہی ہے اس کا معنی ہے: خیر خواہی کرنا دین کا معظم رکن ہے جیسے کہا جاتا ہے : حج عرفہ ہے ۔

اللہ، اس کے رسول اس کی کتاب، ائمہ دین اور عام مسلمانوں کے ساتھ خیر خواہی کامحمل

اللہ کی خیر خواہی کا معنی یہ ہے کہ انسان اللہ پر ایمان لاۓ اور اس کی صفات میں شک اور الحاد نہ کرے اور عیوب سے اس کی ذات کو پاکیزہ قرار دے، اس کے احکام کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرے، اس کی اطاعت کرنے والوں سے محبت کرے اور اس کی نافرمانی کرنے والوں سے بغض رکھے، اس کی نعمتوں کا اعتراف کرے اور اس کا شکر ادا کرے اور تمام عبادات اخلاص سے کرے اور یہ حقیقت میں انسان کی اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی ہے، کیونکہ اللہ تعالی تمام خیر خواہی کرنے والوں اور تمام جہانوں سے مستغنی ہے۔

اللہ سبحانہ کی کتاب کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ اس پر ایمان لائے کہ وہ اللہ کا کلام ہے اور مخلوق اس کی مثل لانے پر قادر نہیں ہے، تعظیم اور ادب سے اس کی تلاوت کرے، اس کے معانی پر غور کرے اور ان کی تصدیق کرے اور ان کے تقاضوں پرعمل کرے اور اس کے علوم کی تبلیغ کرے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ آپ کی رسالت کی تصدیق کرے اور آپ کی دی ہوئی تمام خبروں پر ایمان لاۓ اور آپ کے تمام احکام کی اطاعت کرے آپ کے دین کی نصرت کرے اور آپ کی سنتوں پر عمل کرے اور آپ کے اخلاق سے متخلق ہو اور آپ کی تعظیم بجالائے اور آپ پر کثرت سے صلوۃ وسلام پڑھے اور آپ کے اہل بیت اور آپ کے اصحاب سے محبت رکھے ۔

ائمہ دین کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ حق بات میں ان کی معاونت کرے اور ان کی غلط باتوں پر ان کو نرمی سے ٹوکے ان کے خلاف بغاوت نہ کرے ان کی اقتداء میں نماز پڑھے اور جہاد کرے اور ان کو صدقات ادا کرے یہ تفسیر اس صورت میں ہے کہ جب ائمہ دین سے مراد ارباب حکومت ہوں، جیسے خلفاء راشدین تھے اور اگر اس سے مراد علماء ہوں تو ان کے ساتھ خیر خواہی یہ ہے کہ ان کے فتاوی کو مانے اور ان پر عمل کرے ان کے ساتھ حسن ظن رکھے اور ان کی تعظیم کرے ۔

عام لوگوں کے ساتھ نصیحت ( خیر خواہی ) یہ ہے کہ ان کی دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے ان کو نصیحت کرے، ان سے ایذاء کو دور کرے، جو احکام نہ جانتے ہوں ان کو بتاۓ، نیکی کے کاموں میں ان کی مدد کرے، ان کے عیوب پر پردہ رکھے، ان پر شفقت کرے اور ان کے لیے ان ہی چیزوں کو پسند کرے، جن کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اپنے ہاتھ اور زبان سے ان کو ضرر نہ پہنچاۓ اور ضرورت مندوں کی مدد کرے، جو بیمار ہوں ان کی عیادت کرے اور ان کی نماز جنازہ پڑھے، موت کے بعد ان کے لیے ایصال ثواب اور دعا کرے۔(عمدۃ القاری ج۱ ص ۴۹۹ موضحا ومزيدا )

٥٧- حدثنا مسدد قال حدثنا يحيى عن إسماعيل قال حدثني قيس بن ابی حازم، عن جرير بن عبدالله قال بايعت رسول الله صلى الله علیہ وسلم على إقـام الـصـلـوة، وإيتاء الزكوة، والنصح لكل مسلم . [ اطراف الحديث : ۵۲۴-۱۴۰۱۔ ۲۱۵۷۔ ۲۷۱۴۔2715۔7204)

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں: ہمیں یحیی نے حدیث بیان کی از اسماعیل، وہ کہتے ہیں: مجھے قیس بن ابی حازم نے حدیث بیان کی از جریر بن عبد اللہ، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز قائم کرنے، زکوۃ دینے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کر نے پر بیعت کی ۔

( صحیح مسلم :56، سنن ترمذی: ۱۹۲۵ سنن نسائی: ۴۱۶۷، مصنف عبد الرزاق:۱۹ ۹۸ مسند الشافعی ج۱ ص ۱۳ مسندالحمیدی: ۷۹۴ السنن الکبری للنسائی:7777 مسند ابوعوانہ ج ا ص سے37، المعجم الکبیر 2467، مسند احمد ج 4 ص 361 طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۱۹ – ج 31 ص 535 مؤسسة الرسالة بیروت )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

(۱) سعد بن مسرهد ۔

(۲) یحیی بن سعید القطان۔

( ۳)اسماعیل بن ابی خالد البجلی التابعی ان سب کا تعارف گزر چکا ہے۔

(۴) قیس بن ابی حازم الکوفی البجلی المخضرم، انہوں نے زمانہ جاہلیت کو پایا تھا یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے آۓ ابھی یہ راستے میں ہی تھے کہ آپ کا وصال ہو گیا۔ ان کے والد صحابی ہیں انہوں نے دس صحابہ سے سماع کیا، جن کو جنت کی بشارت دی گئی اور بہت سے تابعین سے سماع کیا۔ ان کی جلالت پر اتفاق ہے ان سے تابعین نے سماع کیا ہے ۹۷ھ یا ۹۸ھ میں ان کی وفات ہو گئی تھی۔

( ۵ ) حضرت جریر بن عبد اللہ بن جابر البجلی الاحمسی، ان کی رہائش کوفہ میں تھی یہ ۵۱ھ میں فوت ہو گئے تھے، ان سے ۱۰۰ احادیث مروی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ۸ احادیث پر متفق ہیں امام بخاری ایک حدیث کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم 6 احادیث کے ساتھ منفرد ہیں ۔( عمدة القاری ج۱ ص۵۰۱-۵۰۰)

بیعت سنت اور بیعت مروجہ

اس حدیث میں مذکور ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بیعت کا معنی ہے : کسی کے ہاتھ پر عہد کر نا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو مختلف اوقات میں مختلف وجوہ سے بیعت کر تے تھے آج کل جو بیعت مروج ہے، اس میں کسی عالم باعمل کے ہاتھ پر یہ عہد کیا جاتا ہے کہ وہ آئندہ احکام شرعیہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور سابقہ گناہوں سے توبہ کرتا ہے یہ بیعت کرنا فرض یا واجب نہیں ہے مستحسن اور مبارک فعل ہے ۔

اس حدیث میں نماز اور زکوۃ پر بیعت کا ذکر ہے روزے کا ذکر نہیں ہے اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت جریر کی دوسری روایت میں سماع اور اطاعت پر بیعت کا ذکر ہے (مسنداحمد :۱۹۱۹۵) اور یہ تمام احکام شرعیہ کو شامل ہے۔

* یہ حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۰۷ ۔ ج۱ ص ۴۷۳ پر بیان کی گئی ہے اور اس میں نصیحت اور خیر خواہی کے معنی کی تفصیل ہے ۔