۲- باب من سئل علما وهو مشتغل في حديثه، فاتم الحديث ثم أجاب السائل

جس شخص سے کسی چیز کے علم کے متعلق سوال کیا گیا اور وہ اپنی کا گفتگو میں مشغول رہا۔ اس نے اپنی بات مکمل کی، پھر سائل کے سوال کا جواب دیا۔

 

اس عنوان کی سابق عنوان کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ کسی چیز کے علم کے سوال کا جواب دینا، کتاب العلم کے مناسب ہے ۔

٥٩- حدثنا محمد بن سنان قال حدثنا فليح (ح)وحدثني إبراهيم بن المنذر قال حدثنا محمد بن فليح قال حدثني أبي قال حدثني هلال بن علي عن عطاء بن يسار عن أبي هريرة قال بينما النبی صلى الله عليه وسلم في مجلس يحدث القوم جاءة أعـرابـي فـقـال متى الساعة؟ فمضى رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث، فقال بعض الـقـوم سـمع ما قال فكرة ما قال. وقال بعضهم بل لم يسمع. حتى إذا قضى حديثه قال این اراہ السّـائـل عـن الساعة؟ قال ها أنا يا رسول الله قال فإذا ضيعت الأمـانـة فـانتـظـر الساعة. قال كيف اضاعتها؟ قال إذا وسد الأمر إلى غير اهله فانتظر الساعة. [ طرف الحدیث :۶۴۹۶ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن سنان نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں فلیح نے حدیث بیان کی ( ح ) وہ کہتے ہیں: ہمیں ابراہیم بن المنذر نے حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں ہمیں محمد بن فلیح نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں : مجھے حلال بن علی نے حدیث بیان کی، از عطاء بن یسار از حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ انہوں نے کہا: ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مجلس میں بیٹھے ہوۓ تھے آپ صحابہ کے سامنے حدیث بیان فرمارہے تھے کہ ایک دیہاتی آکر کہنے لگا: قیامت کب آۓ گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گفتگو میں مشغول رہے بعض صحابہ نے کہا: آپ نے اس کی بات سنی اور اس کی بات کو ناپسند فرمایا اور بعض نے کہا: بلکہ آپ نے سنا نہیں حتی کہ جب آپ نے اپنی حدیث مکمل کر لی تو فرمایا: وہ کہاں ہے؟ راوی کہتے ہیں: میرا گمان ہے آپ نے اس کے متعلق فرمایا جس کو میں نے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہوۓ دیکھا تھا، اس سائل نے کہا: یارسول اللہ! میں یہاں ہوں، آپ نے فرمایا: جب امانت کو ضائع کر دیا جاۓ تو تم قیامت کا انتظار کرو ۔ سائل نے کہا:امانت کیسے ضائع ہو گی؟ آپ نے فرمایا: جب کوئی منصب نااہل کے سپرد کر دیا جاۓ تو قیامت کا انتظار کرنا ۔

 

( سنن ترمندی: ۲۳۸۵ صحیح مسلم :161، صحیح ابن حبان :۱۰۵ تاریخ بغدادی ج ۴ ص ۲۵۹ شرح السنۃ :۳۴۷۹ حلیۃ الاولیاء ج6 ص ۳۳۸ مسند احمد ج ۳ ص ۱۰۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۲۰۱۳۔ ج 19 ص 71،مؤسسة الرسالة بیروت)

ان تمام کتب حدیث کی احادیث میں امام بخاری کی اس روایت کے خلاف یہ مذکور ہے کہ آپ نے سائل سے پوچھا: تم نے قیامت کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے قیامت کے لیے بہت عمل نہیں کیے، روزے نہ نمازیں، مگر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: انسان اس کے ساتھ رہتا ہے،جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ یہ حدیث مسند احمد کے ان نمبروں میں بھی ہے:۷۷۵ ۱۲۔ ۰۳ ۷ ۱۲- ۷۱۵ ۱۲ – 12762 ـ 12769- ۱۳۰۹۲ – ۱۳۲۲۴ –

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت واضح ہے کیونکہ آپ نے بیچ میں سوال کرنے والے کوفورا جواب نہیں دیا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن سنان الباھلی البصری ،ان سے امام بخاری اور امام ابوداؤد نے روایت کی ہے یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ اور مامون ہیں یہ ۲۲۳ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) فلیح بن سلیمان الخزاعی المدنی یہ نافع اور دیگر سے روایت کرتے ہیں، ان سے عبداللہ بن وہب بہت روایت کرتے ہیں، یحیی بن معین نے کہا: یہ ضعیف راوی ہیں ان کی احادیث سے استدلال نہیں کیا جاتا ابوحاتم اور امام نسانی نے کہا: یہ قوی نہیں ہیں ابن عدی نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں امام بخاری نے ان پر اعتماد کیا ہے یہ 168ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔

(۳) ابراہیم بن المنذر القرشی الخزاعی، ان سے امام ابوزرعہ، ابوحاتم، امام ابن ماجہ اور امام بخاری نے روایت کی ہے یہ ۲۳۵ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۴) محمد بن فلیح، انہوں نے ہشام بن عروہ وغیرہ سے روایت کی ہے اور ان سے ہارون بن موسی نے روایت کی ہے، ابن معین نے ان کو ضعیف قرار دیا ابوحاتم نے کہا: یہ قوی تو نہیں ہے مگر ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے امام بخاری، امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے ان سے روایت کی ہے یہ ۱۹۷ھ میں فوت ہو گئے تھے ۔

(۵) محمد بن فلیح مذکور کے والد۔

(۶) ھلال بن علي الفهري القرشي المدنی ،یہ کم سن تابعین میں سے ہیں انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ اور دیگر سے سماع کیا ہے ان سے بہت بڑی جماعت نے روایت کی ہے، یہ ہشام کی خلافت کے آخر میں فوت ہو گئے تھے ۔

( ۷ ) عطاء بن یسار، ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۸) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف بھی ہوچکا ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۷۔6 )

کسی کی بات کاٹ کر بات کرنا جائز نہیں

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے سائل کے سوال کو ناپسند کیا تھا کیونکہ اس نے آپ کی بات مکمل ہونے سے پہلے سوال کیا تھا اس سے معلوم ہوا کہ گفتگو کے آداب میں سے یہ ہے کہ متکلم کی بات کو درمیان میں نہ ٹوکا جاۓ، اسی طرح جب تک استاذ خود کسی بات کی وضاحت نہ کرے، اس پر اعتراض نہ کیا جائے کہ حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسی علیہ السلام کو اسی بات کی تلقین کی تھی ۔

نااہل کو منصب پر فائز کرنے کی اجتماعی خرابیاں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کسی نااہل کو منصب سونپ دیا جاۓ تو قیامت کا انتظار کرو، جیسے خلافت، قضاء اور افتاء کے معاملات نااہل لوگوں کے سپرد کردیئے جائیں ہمارے زمانہ میں اکثر و بیشتر ایسا ہی ہے، اور جس طرح شرعی علوم سے نابلد لوگوں کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کا جج بنادیا جاتا ہے اور وہ دینی معاملات کے فیصلے کرتے ہیں اور جس طرح دینی علوم سے بے بہرہ لوگوں کو قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی، اور سینٹ کا رکن بنادیا جاتا ہے اور ان کو اسلامی ریاست کی حکومت چلانے کا استحقاق دے دیا جاتا ہے اور جس طرح ناتجربہ کار لوگوں کو ڈرائیونگ لائسنس دے دیا جاتا ہے اور ان سے بسوں اور بھاری گاڑیوں کے حادثات ہوتے رہتے ہیں، اسی طرح دیگر صنعتی اداروں میں رشوت اور سفارش سے ناتجربہ کار افراد کو بھرتی کر لیا جا تا ہے اور وہ ادارے تباہ ہو ر ہے ہیں ۔ خائن اور نااہل کو منصب پر فائز کرنے کی اجتماعی خرابیوں کی مزید تفصیل تبیان القرآن ج ۲ ص۷۰۱۔۷۰۰ النساء: ۵۸ میں ملاحظہ فرمائیں ۔

اس اعتراض کے جوابات کہ نبی ﷺ نے دینی سوال کے جواب میں تاخیر کی اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے سوال کا فوراً جواب نہیں دیا۔ اس پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دینی مسئلہ معلوم کرے تو کیا عالم کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ جواب میں تاخیر کرے؟ اس کے تین جواب ہیں: ایک یہ کہ وہ سائل فوری جواب کا مستحق نہیں تھا، کیونکہ اس نے کسی شرعی عملی کام کے متعلق سوال نہیں کیا تھا اس کا سوال وقوع قیامت کے معین وقت کے متعلق تھا اور اس کو اللہ تعالی نے مخفی رکھا ہے دوسرا جواب یہ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جواب سے زیادہ اہم کام میں مشغول ہوں اور جو حدیث سنارہے ہوں، وہ اس کے جواب سے زیادہ اہم ہو یا آپ وحی کا انتظار فرمارہے ہوں اور تیسرا جواب یہ ہے کہ آپ سائل کو اور دیگر صحابہ کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ کسی کی بات کاٹنی نہیں چاہیے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل کو ڈانٹا اور جھڑکا نہیں اور اس میں یہ تعلیم ہے کہ طلبہ کو پڑھاتے وقت اساتذہ کو شفقت سے کام لینا چاہیے اور ان کے ساتھ نرمی برتنا چاہیے، خصوصا بادیہ نشینوں کے ساتھ ۔