5- باب طرح الإمام المسألة على أصحابه ليختبر ما عندهم من العلم

امام کا اپنے اصحاب کے علم کی آ زمائش کے لیے ان سے کوئی سوال کرنا

 

اس باب کے تحت بھی وہی حدیث سابق روایت کی ہے اور پہلے باب کے ساتھ اس باب کی مناسبت یہ ہے کہ اس حدیث کو اس لیے لاۓ کہ اس میں’’ حدثنا‘‘ کا ذکر تھا اور اس باب میں اس حدیث کو اس لیے لائے کہ اس میں علمی آزمائش کا ذکر ہے، البتہ پہلی حد یث قتیبہ کی سند کے ساتھ مروی تھی اور یہ حدیث خالد بن مخلد کی سند سے مروی ہے ۔

٦٢- حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان،حدثنا عبدالله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها، وإنها مثل المسلم، حدثوني ما ھي؟ قال فوقع الناس في شجر البوادي قال عبد الله فوقع في نفسي انها التخلة ، ثم قالوا حدثنا ما هي يا رسول الله قال هي النخلة۔

 

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں خالد بن مخلد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں عبداللہ بن دینار نے حدیث بیان کی، از حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک درختوں میں ایک ایسا درخت ہے، جس کے پتے نہیں گرتے اور بے شک وہ مسلمان کی مثل ہے، پس مجھے بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ حضرت عبداللہ نے کہا: لوگوں کا ذہن جنگل کے درختوں میں چلا گیا۔ حضرت عبداللہ نے کہا: میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، پھر صحابہ نے کہا: یا رسول اللہ! ہمیں بتائے وہ کون سا درخت ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ کھجور کا درخت ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) خالد بن مخلد البجلی لکوفی، یہ امام مالک اور سلیمان بن بلال وغیرہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے اسحاق بن راھویہ اور محمد بن دینار وغیرہ روایت کرتے ہیں، امام احمد بن حنبل نے کہا: ان کی احادیث منکر ہیں، یحیی بن معین نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ ۲۱۳ھ میں وفات پا گئے تھے اس حدیث کے بقیہ رجال کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۹)

یہ حدیث شرح صحیح مسلم :6971 ۔ ج ۷ ص 628 پر مذکور ہے اس کی شرح میں کھجور کے درخت کے ساتھ مؤمن کی مشابہت کی وجوہات اور دیگر مسائل بیان کیے گئے ہیں، تقریبا ایک جیسی شرح ہے ۔ علاوہ ازیں تبیان القرآن ج۲ ص۱۸۰۔۱۷۹ ابراہیم:2624 میں بھی اس کی شرح موجود ہے ۔