– باب ما يذكر في المناولة و كتاب أهل العلم بالعلم إلى البلدان

مناولہ کے متعلق جو ذکر کیا جاتا ہے اور اہل علم کا علم کو شہر والوں کی طرف لکھنا

 

مناولہ کا لغت میں معنی ہے : کسی کا کوئی چیز دینا، اور اس کا اس چیز کو لینا، اور اصطلاح میں مناولہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) مناولہ مقرونه بالاجازہ ( ۲ ) مناوله مجرده۔ ” مناوله مقرونة بالاجازہ ‘‘ کی تعریف یہ ہے کہ شیخ اپنا مجموعہ احادیث طالب کو دے اور کہے کہ میں تم کو اجازت دیتا ہوں کہ تم ان احادیث کی مجھ سے روایت کرو، امام مالک کے نزدیک یہ سماع کی حالت ہے اور اس صورت میں طالب ان احادیث کو حدثنا ‘‘ کے ساتھ روایت کر سکتا ہے ( ۲ ) دوسری قسم ہے : مناولہ مجردہ یعنی شیخ طالب کو اپنا مجموعہ احادیث دے اور یہ نہ کہے کہ میں تم کو اس کی روایت کی اجازت دیتا ہوں، طالب کے لیے ان احادیث کو حـدثنا‘‘ کے ساتھ روایت کرنا جائز نہیں ہے امام بخاری کی یہاں مناولہ سے مراد پہلی قسم ہے ۔

اس باب کی ابواب سابقہ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ ان ابواب میں حدیث کی ادائیگی کے طریقہ کو بیان کیا گیا ہے۔

مـكـاتبـہ‘‘ کا معنی ہے: شیخ طالب کی طرف کوئی حدیث لکھ کر بھیج دے اس کی بھی دو قسمیں ہیں: (۱) مکاتب مقرونہ بالاجازہ (۲) مکاتبه مجردہ ۔

مکاتبہ پر آثار صحابہ سے استدلال

وقال انس نسخ عثمان المصاحف فبعث بها إلى الأفاق۔

امام بخاری فرماتے ہیں: اور حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا:

حضرت عثمان نے مصاحف لکھے اور ان کو شہروں میں بھیج دیا۔

مصاحف ‘‘’مصحف ‘‘ کی جمع ہے اس کا معنی ہے لکھی ہوئی آسمانی کتاب، قرآن مجید میں ہے:

صحف إبرهيم وموسى ( الاعلى :19)

ابراہیم اور موسی پر نازل ہونے والے صحیفے0

اب ہمارے عرف میں مصحف سے مراد لکھا ہوا یا چھپا ہوا قرآن مجید ہوتا ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ان کو حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اس وقت وہ آرمینیا ء اور آذربائی جان کی فتح کے لیے اہل شام کے خلاف جہاد کررہے تھے اور ان کے ساتھ اہل عراق تھے اس وقت حضرت حذیفہ قرآن مجید کے پڑھنے میں مسلمانوں کے اختلاف سے گھبرا گئے، پھر حضرت حذیفہ نے حضرت عثمان سے کہا: اے امیر المؤمنین ! اس سے پہلے کہ یہ امت یہود و نصاری کی طرح اپنی کتاب میں اختلاف کرنے لگے، آپ اس امت کو سنبھال لیں پھر حضرت عثمان نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کے پاس پیغام بھیجا، آپ ہمارے پاس وہ مصحف بھیج دیں ( جس کو صحابہ کی ایک جماعت نے تحقیق سے مرتب کیا تھا ) ہم اس کی نقل کرا کے آپ کو واپس کر دیں گے حضرت حفصہ نے حضرت عثمان کے پاس وہ مصحف بھیج دیا، پھر حضرت عثمان نے حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص، حضرت عبدالرحمان بن الحارث بن بشام رضی اللہ تعالی عنہم کوحکم دیا کہ وہ اس کے موافق مصاحف لکھیں، پھر حضرت عثمان نے تین قرشی صحابہ سے کہا: جب تمہارا اور حضرت زید بن ثابت کا قرآن کے کسی لفظ میں اختلاف ہو تو اس کو لغت قریش کے موافق لکھنا کیونکہ قرآن کریم ان کی لغت پر نازل ہوا ہے انہوں نے ایسا ہی کیا، حتی کہ جب انہوں نے مصاحف تیار کر لیے تو حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کا مصحف واپس کر دیا اور ان صحابہ نے جو مصاحف تیار کیے تھے ان کی نقول تمام شہروں میں بھیج دیں اور حکم دیا کہ تمام شہروں میں ان کے علاوہ جو مصاحف میں ( ان کی سیاہی کو دھو کر اور ان کے غسالہ اور دھوون کو تبرکا پی کر) ان کاغذوں کو جلا دیا جاۓ ( تا کہ کلیہ ان کا وجود ختم ہو جاۓ ) ۔ ( صحیح البخاری :۴۹۸۷)

اس مصحف کی نقول مختلف شہروں میں بھیجنے سے امام بخاری نے مکاتبہ پر استدلال کیا ہے، یعنی علم کولکھ کر مختلف شہروں میں بھیجنا اور اس کا حجت ہونا، باقی ان مصاحف سے قرآن مجید کا ثبوت نہیں ہے، وہ تواتر سے ثابت ہے، ان مصاحف سے قرآن مجید کی لکھی ہوئی صورت مستفاد ہوئی ہے۔اس کے بعد امام بخاری نے ایک اور تعلیق پیش کی :

وراي عبد الله بن عمر و يحيى بن سعيد و مالك ذلك جائزاً.

اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما، یحیی بن سعید اور امام مالک نے اس کو جائز قراردیا ہے ۔

روایت حدیث کے طریقے

امام بخاری نے ان ابواب میں حدیث بیان کرنے کے طریقے بیان کیے ہیں، پہلے دو بابوں میں تین طریقے بیان کیے: (۱)”حدثنا‘‘ (۲)’’ اخبرنا‘‘(۳)’’ انبانا ‘‘ اس کے بعد ( ۴ )’’ المناولة المقرونة بالاجازہ‘‘ بیان کیا اس کے بعد ( ۵)‘‘ المناولة المجردہ‘‘ بیان کیا اس کے بعد (۲ ) الكتابة المقرونة بالاجازۃ‘‘ بیان کیا اس کے بعد ( ۷ ) الكتابة المجردة‘‘بیان کیا اس کے بعد (۸)’’ الاجازۃ‘‘ ہے اس کی قوی صورت یہ ہے کہ ایک معین استاذ کسی معین طالب سے یہ کہے : میں تم کو امام بخاری یا دیگر محدثین کی احادیث روایت کرنے کی اجازت دیتا ہوں آج کل جو دینی مدارس میں سند حدیث دی جاتی ہے، وہ اسی آٹھویں طریقہ کے مطابق ہے۔

واحتج بعض أهـل الـحـجـاز في المناولة بحديث النبي صلى الله عليه وسلم حيث كتب لأمير السرية كتابا وقال لا تقرأه حتى تبلغ مکان كذا و كذا، فلما بلغ ذلك المكان قراه علی لنّاس، واخبرهم بأمر النبي صلى الله عليه وسلم۔

امام بخاری فرماتے ہیں: اور بعض اہل حجاز نے مناولہ پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے استدلال کیا ہے، جب آپ نے لشکر کے امیر کو ایک مکتوب لکھا اور فرمایا: اس کو اس وقت تک نہ پڑھنا جب تک کہ تم فلاں فلاں مقام پر نہ پہنچ جاؤ، جب وہ اس مقام پر پہنچ گئے تو انہوں نے اس کو لوگوں کے سامنے پڑھا اور انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خبر دی ۔

اسلام کے پہلے لشکر کی کارروائی

حجاز سے مراد مکہ مدینہ اور یمامہ ہے، اور بعض اہل حجاز سے مراد امام بخاری کے استاذ حمیدی ہیں اور لشکر کے امیر حضرت عبداللہ بن جحش الاسدی ہیں، یہ ام المؤمنین حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالی عنہا کے بھائی ہیں، امام محمد بن اسحاق نے کہا: یہ پہلا لشکر تھا، جس میں مسلمانوں نے مال غنیمت حاصل کیا تھا۔ یہ رجب ۲ھ میں غزوہ بدر سے پہلے ہوا تھا، اس میں 8 مہاجرین تھے واپسی میں یہ لشکر مکہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ میں قریش کی گھات میں ٹھہرا تا کہ ان کی جاسوسی کرے، یکم رجب کو انہوں نے عمرو بن الحضرمی کوقتل کر دیا اور ان کے دو آدمی گرفتار کر لیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ملامت کی اور فرمایا: میں نے تم کو حرمت والے مہینہ میں تو قتال کرنے کے لیے نہیں کہا تھا۔ ادھر قریش نے شور مچا دیا کہ ( سیدنا محمد (صلی اللہعلیہوسلم) نے حرمت والے مہینہ کو حلال کرلیا۔ یہ پہلا مقتول تھا، اور پہلے قیدی تھے اور پہلا مال غنیمت تھا ۔ (عمدۃ القاری ج۱ص۴۰۔۳۸ ملخصا دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ )

٦٤- حدثنا إسماعيل بن عبد الله قال حدثني إبـراهـيـم بن سعد، عن صالح ، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود أن عبدالله بن عباس أخبره أن رسول الله صلى الله علیه وسلم بعث بكتابه رجلا، وأمره أن يدفعه إلى عظيم البحرين، فدفعه عظيم البحرين إلى كسری فلما قراة مزقه فحسبت أن ابن المسيب قال فدعا عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يمزقوا كل ممزق.اطراف الحدیث :۹ ۹۳ ۲- ۴۴۲۴۔۷۲۶۴

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں اسماعیل بن عبداللہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابراہیم بن سعد نے حدیث بیان کی از صالح از ابن شہاب از عبیدالله بن عبدالله بن عتبہ بن مسعود که حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا مکتوب دے کر بھیجا اور اس کو حکم دیا کہ یہ مکتوب بحرین کے امیر کو دے، بحرین کے امیر نے وہ مکتوب کسری کو دے دیا اس نے جب اس مکتوب کو پڑھا تو اس کو پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، ابن شہاب کہتے ہیں: میرا گمان ہے کہ ابن المسیب نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف یہ دعا کی: ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں، پورے پورے ٹکڑے ۔

( سنن نسائی:۶ ۸۸۴ السنن الکبری للنسائی:٬۵۸۵۹ الطبقات الکبری ج ۴ ص ۱۸۹، سنن بیہقی ج ۹ ص ۱۷۷ مسند احمد ج ۱ ص ۲۴۴ طبع قدیم، مسند احمد : ۲۱۸۴۔ ج ۴ ص ۶۹ مؤسسة الرسالة بیروت)

اس حدیث کی باب کے عنوان سے اس طرح مطابقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مکتوب اپنے نمائندہ کو دیا اور وہ حدیث ہے سو المناولة‘‘ کی اصل ہے اور آپ نے فرمایا: یہ مکتوب امیر البحرین کو دیا جاۓ سو یہ المکاتبۃ‘‘ کی اصل ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) اسماعیل بن عبداللہ المدنی۔

(۲) ابراہیم بن سعد۔

(۳) صالح بن کیسان الغفاری۔

( ۴ ) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری۔

(۵)عبیداللہ بن عبداللہ۔

(۲) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان سب کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۴۰)

حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی کا تذکرہ

اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا مکتوب دیا، امام بخاری نے کتاب المغازی میں بیان کیا ہے کہ وہ شخص حضرت عبداللہ بن حذافہ السہمی تھے، وہ بہت پہلے اسلام لائے تھے اور مہاجرین اولین میں سے تھے، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے زمانہ میں ان کو رومیوں نے قید کر لیا تھا۔ ان کے بادشاہ نے کہا تھا: تم میرے سر کو بوسہ دو، میں تم کو چھوڑ دوں گا۔ یہ طویل قصہ ہے، جس کو ہم حدیث:16 کی تشریح میں پہلے بیان کر چکے ہیں، انہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی اور بدر میں حاضر تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کسری کی طرف روانہ کیا تھا، ان سے احادیث بھی مروی ہیں، امام مسلم ان کی ایک حدیث کی روایت کے ساتھ منفرد ہیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں فوت ہو گئے تھے۔

( تہذیب الکمال ج ۱۴ ص ۱۱ ۴ طبع قدیم، تہذیب التہذیب ج ۵ ص ۱۸۵، تقریب التہذیب: ٬۳۲۸۳ خلاصة الخزرجی ج ۲ص۵۹ )

عظیم البحرین اور کسری کا تذکرہ

اس حدیث میں مذکور ہے کہ آپ نے عظیم البحرین کو دینے کے لیے مکتوب دیا، بحرین، بصرہ اور عمان کے درمیان ایک شہر ہے ۔(عمدۃ القاری ج۱ص۴۱) خلیج فارس کے ساحل پر ایک چھوٹی سی ریاست ہے، جس کا رقبہ اڑھائی سو مربع میل ہے ۔ ۱۹۷۲ء میں اس کی آبادی تقریبا دو لاکھ تھی ۔ ( معجم البلدان أردو ص 61 )

علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بحرین سے صلح کرلی تھی اور حضرت العلاء بن الحضری کو وہاں کا گورنر مقرر فرمادیا تھا، حضرت ابوعبیدہ کو آپ نے وہاں روانہ کیا تھا اور وہ وہاں سے جزیہ لے کر آئے تھے البحرین کا بادشاہ المنذر بن ساوی تھا، اس نے آپ کی رسالت کی تصدیق کی تھی اور مسلمان ہوگیا تھا۔ آپ نے بہ راہ راست کسری کو خط نہیں بھیجا تھا بلکہ عظیم البحرین کے واسطے سے بھیجا تھا کیونکہ اس کو بہ راہ راست مکتوب بھیجنے میں مشکلات تھیں ۔

( عمدة القاری ج ۲ ص ۴۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ ھ )

 

’’ کسری‘‘ فارس کے بادشاہوں کا لقب ہے جیسے’’ قیصر روم کے بادشاہوں کا لقب ہے جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب گرامی پھاڑا تھا۔ اس کا نام پرویز بن هرمز بن انوشیروان تھا جب اس نے نبی ﷺ کا مکتوب گرامی پھاڑا تو آپ نے فرمایا: اس کا ملک ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور آپ نے فرمایا: جب کسری مرجاۓ گا تو پھر کوئی کسری نہیں ہوگا، الواقدی نے کہا ہے کہ کسری پر اس کا بیٹا شرویہ مسلط ہو گیا اور ۷ ھ میں اس کو قتل کر دیا، پھر اس کے پورے ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اور تمام روۓ زمین سے اس کی سلطنت جاتی رہی ۔

امام محمد بن سعد متوفی ۲۳۰ھ نے کہا ہے کہ جب کسری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکتوب پھاڑ دیا تو اس نے یمن کے عامل بازان کی طرف یہ پیغام بھیجا کہ تم دو قوی مردوں کو اس شخص کے پاس بھیجو، جس نے نبوت کا دعوی کیا ہے اور وہ میرے پاس اس شخص کی خبر لے کر آئیں، بازان نے اپنا مکتوب دے کر اپنے دو آدمیوں کو بھیجا وہ مدینہ میں آۓ اور انہوں نے بازان کا مکتوب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور ان کو اسلام کی دعوت دی، ان کے کندھے کپکپانے لگے آپ نے فرمایا: تم اپنے گورنر کو یہ پیغام پہنچا دینا۔ کہ میرے رب نے اس کے رب کسری کو آج رات سات گھنٹے پہلے قتل کر دیا ہے، یہ ۷ ھ، ۱۰ جمادی الاولی منگل کی رات تھی، بے شک اللہ نے اس کے بیٹے شرویہ کو اس پر مسلط کیا اور اس نے پرویز کو قتل کردیا، زہری نے کہا ہے کہ جب بازان کو یہ خبر پہنچی تو وہ اپنے ساتھیوں سمیت مسلمان ہو گیا ۔ ( الطبقات الکبری ج ۱ ص ۱۹۹ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۸ ۱۴ ھـ )

رسول اللہ ﷺ کی دعا ضرر کو بددعا سے تعبیر کرنا بے ادبی ہے

اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ علم کو لکھ کر دوسرے شہروں میں بھیجنا چاہیے، اور جب کفار بے ادبی سے پیش آئیں تو ان کے خلاف دعاء ضرر کرنی چاہیے ۔

اس حدیث میں’’ دعا علیھم‘‘ کا لفظ ہے ۔ عام اصول کے مطابق اس کا ترجمہ ہوگا، ان پر بددعا کی، لیکن جب دعا کا فاعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں تو پھر یہ ترجمہ صحیح نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فعل بدنہیں ہے، قرآن مجید میں ہے:

لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة

بے شک تمہارے لیے رسول اللہ میں حسین نمونہ ہے۔(الاحزاب:۲۱)

بخاری کے اردو شارحین نے اس حدیث میں فدعا علیہم‘‘ کا ترجمہ اسی طرح کیا ہے:

نواب وحید الزمان نے لکھا ہے: آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایران والوں پر بددعا کی ۔ (تیسیر الباری ج 1 ص 121 )

سید احمد رضا بجنوری نے لکھا ہے : ان لوگوں کے لیے بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کی بددعا فرمائی ۔( انوار الباری ج ۵ ص۵۹)

شیخ سلیم اللہ خان نے لکھا ہے : حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بددعا کی ۔ ( کشف الباری ج ۳ ص ۴۰۴)

شیخ تقی عثمانی نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے ان پر بددعا کی تھی ۔ ( انعام الباری ج ۲ ص 69)

ہمارے نزدیک یہ تمام تراجم غلط ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور آپ کے ادب کے پیش نظر یوں لکھنا چاہیے تھا: آپ نے ان کے خلاف دعاۓ ضرر کی، آپ کسی کے متعلق دعائے خیر کر یں یا دعاۓ ضرر کریں آپ کا ہر فعل حق صواب اور حسن ہے اور آپ کا کوئی فعل بد نہیں ہے ۔