9۔باب حلاوتہ الایمان

ایمان کی حلاوت(مٹھاس)

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اس باب میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایمان کی مٹھاس تین چیزوں سے محبت ہے اور باب سابق میں ان میں سے ایک چیز کی محبت کو بیان کیا گیا تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت ہے، سو ان دونوں بابوں میں جز اور کل کی مناسبت ہے ۔

16- حدثنا محمد بن المثنى قال حدثنا عبد الوهاب الثقفي قال حدثنا أيوب، عن أبي قلابة عـن انـس عـن النبي صلى الله عليه وسلم قال ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما ، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله وان يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ محمد بن المثنی نے کہا: ہمیں عبد الوہاب الثقفی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ایوب نے ازابی قلابه از حضرت انس رضی اللہ عنہ حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص میں تین خصلتیں ہوں وہ ایمان کی مٹھاس کو پالے گا: (۱) یہ کہ اس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہو( ۲ ) اور یہ کہ وہ جس شخص سے بھی محبت کرے صرف اللہ کے لیے محبت کرے ( ۳) اور یہ کہ اس کے نزدیک کفرمیں لوٹنا ایسا نا پسندیدہ ہو جیسے آگ میں ڈالا جانا ناپسندیدہ ہے۔(اطراف الحدیث:۲۱۔6041 ۔6941] ۔

( صحیح مسلم : 43 سنن ترمذی: 2664 سنن نسائی : ۴۹۸۸ مسند ابویعلی :3279 صحیح ابن حبان: ۷ ۲۳ شعب الایمان : 1624 مسند احمد ج ۳ ص ۱۷۴ طبع قدیم، مسند احمد ج۲۰ ص 182، مؤسسة الرسالہ بیروت )

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن المثنی بن عبید بن قیس البصری، انہوں نے ابن عیینہ، وکیع بن الجراح، اسماعیل بن علیہ وغیر ہم سے سماع کیا ہے اور ان سے ابوزرعہ، ابو حاتم اورمحمد بن یحیی الذھلی نے سماع کیا ہے الخطیب نے کہا: یہ ثقہ اور ثبت تھے اور تمام ائمہ ان کی حدیث سے استدلال کرتے ہیں یہ ۲۵۲ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے .

(۲) عبدالوہاب بن عبدالمجید بن الصلت الثقفی البصری انہوں نے یحیی انصاری اور ایوب السختیانی اور دیگر سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے امام محمد بن ادریس شافعی، امام احمد، ابن معین اور ابن المدینی نے سماع کیا ہے، ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ تھے اور ان میں ضعف ہے یہ ۱۰۸ھ میں پیدا ہوۓ اور ۱۹۴ ھ میں فوت ہو گئے.

( ۳) ایوب بن ابی تمیمہ کیسان السختیانی البصری، انہوں نے حضرت انس بن مالک کی زیارت کی ہے اور عمر بن سلمہ الجرمی اور ابوعثمان النھدی اور بہت اعلام سے احادیث کا سماع کیا ہے اور ان سے محمد بن سیرین عمرو بن دینار،الاعمش اور امام مالک نے سماع کیا ہے نیز ان سے امام ابوحنیفہ نے بھی احادیث روایت کی ہیں امام نسائی نے کہا: یہ ثقہ اور ثبت ہیں یہ 66 ھ میں پیدا ہوۓ اور 131ھ میں بصرہ میں فوت ہو گئے .

( ۴ ) ابوقلابہ عبد اللہ بن زید بن عمرو البصری، انہوں نے حضرت ثابت بن قیس انصاری اور حضرت انس بن مالک انصاری اور دیگر صحابہ سے سماع کیا ہے ان کی توثیق پر سب کا اتفاق ہے یہ ۱۰۴ھ میں شام میں فوت ہو گئے تھے.

(۵) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف پہلے ہو چکا ہے ۔ ( عمدۃ القاری ج۱ص ۲۳۹)

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ اس میں ایمان کی مٹھاس کا ذکر ہے ۔

ایمان کے استحکام کو مٹھاس سے تشبیہ دینے کی توجیہ

حدیث مذکور میں تین خصلتوں کا ذکر فرمایا، جس نے ان کو مکمل کر لیا وہ ایمان کی مٹھاس کو پالے گا اس سے معلوم ہوا کہ ایمان کا ذائقہ اور مٹھاس ہے، جس کو صرف دل سے محسوس کیا جا سکتا ہے جیسے کھانے پینے کی چیزوں کا ذائقہ اور مٹھاس صرف زبان سے محسوس کی جاتی ہے کیونکہ ایمان دل کی غذا اور اس کی قوت ہے، جیسے کھانے پینے کی چیز میں بدن کی غذا اور اس کی قوت ہیں اور جس طرح جسم کھانے پینے کی چیزوں کی لذت اور مٹھاس اسی وقت پاتا ہے جب جسم صحیح اور تندرست ہو اور جب جسم بیمار ہو تو اس کو میٹھی چیزیں بھی کڑوی لگتی ہیں جیسے جس شخص پر صفراء کا غلبہ ہو، اس کو ایسا ہی لگتا ہے اسی طرح انسان کا دل بھی ایمان کی مٹھاس اس وقت پاتا ہے جب اس کا دل بیاریوں اور آفتوں سے محفوظ ہو اور جب اس کا دل گم راہی اور شہوت کے مرض میں مبتلا ہو تو پھر وہ ایمان کی مٹھاس نہیں پاتا بلکہ وہ حرام کاموں اور شہوت کے تقاضے پورے کرنے میں لذت پاتا ہے اسی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس وقت کوئی زانی زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا الحدیث ۔ ( صحیح البخاری: ۷۵ ۲۴ صحیح مسلم : ۵۷ سنن ترمذی :2625 سنن ابن ماجه : ۳۹۳۶) کیونکہ اگر اس کا ایمان کامل ہوتا تو وہ ایمان کی مٹھاس کو پاتا اور حرام کاموں کی مٹھاس سے مستغنی ہوجاتا، سو جس طرح بیماری کے ساتھ کھانے پینے کی چیزوں میں لذت نہیں آتی اسی طرح حرام کاموں اور گناہوں کے ساتھ عبادت میں لذت نہیں آتی ۔

اللہ اور اس کے رسول کی محبت کے اسباب اور ان کی محبت کے درجات

ان تین خصلتوں میں سے پہلی خصلت یہ ہے کہ انسان کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہو اور اللہ کی محبت اس کی معرفت سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی معرفت کا کمال، اس کے اسماء، صفات اور اس کے افعال کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے اور جن کاموں میں اس کی حکمتیں، فوائد اور عجائب ہیں ان میں غور کرنے سے اس کی قدرت اس کی حکمت، اس کے علم اور اس اس کی رحمت کا پتا چلتا ہے اور کبھی اللہ تعالی کی نعمتوں کا مطالعہ کرنے سے اس کی محبت پیدا ہوتی ہے حدیث میں ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے اس لیے محبت کرو کہ تمہیں اپنی نعمتوں سے غذادیتا ہے اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت کرو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت سے محبت کرو۔

( سنن ترمذی:۷۸۹ ۳ المعجم الکبیر : ۶۳۹ ۲ المستدرک ج ۳ ص ۱۵۰ حلیة الاولیاء، ج ۳ ص 211 التاریخ الکبیر : 562 )

سو جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہو گئی، وہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو اس سے محبت کرتا ہے وہ اس کی اطاعت کرتا ہے اور اللہ تعالی کی محبت کے دو درجے ہیں ایک فرض ہے یعنی اللہ کی محبت یہ تقاضا کرتی ہے کہ جن فرائض کا اس نے حکم دیا ہے ان پر عمل کیا جاۓ اور جن حرام کاموں سے اس نے منع کیا ہے ان سے باز رہا جاۓ اللہ تعالی کی محبت میں کم از کم اتنا درجہ حاصل کرنا ضروری ہے اور جس کو یہ درجہ بھی حاصل نہ ہو وہ اللہ کی محبت کے دعوی میں جھوٹا ہے کیونکہ جس شخص نے کسی حرام کام کو کیا یا کسی فرض یا واجب کو ترک کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دل میں اللہ کی محبت کم ہے اسی وجہ سے اس نے اپنے نفس کی خواہش اور اس کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دی اگر اس کے دل میں اللہ کی کامل محبت ہوتی تو وہ اللہ کے فرائض کو ترک نہ کرتا اور اس کے منع کیے ہوۓ کاموں کا ارتکاب نہ کرتا۔

اللہ تعالی کی محبت کا دوسرا درجہ مستحبات پرعمل کرنا اور مکروہات کو ترک کرنا ہے اور یہ کہ وہ نوافل پر دوام کرکے اللہ کا قرب حاصل کرے اور جو مصائب اللہ تعالی نے مقدر کر دیئے ہیں ان پر صبر کرنا ہے اور اللہ تعالی کی رضا پر راضی رہنا ہے ۔

رسول اللہ ﷺ کی محبت کے بھی دو درجے میں ایک درجہ فرض ہے، وہ یہ ہے کہ جن فرائض کا آپ نے حکم دیا ہے ان پرعمل کیا جاۓ اور جن حرام کاموں سے آپ نے منع کیا ہے ان سے اجتناب کیا جاۓ آپ کے احکام پر مل کر نے میں اپنے دل میں تنگی نہ پاۓ اور دوسرا درجہ آپ کی سنتوں، آداب، اخلاق کی اتباع کرنا ہے آپ کی سیرت اور آپ کے حسن معاشرت میں آپ کی اقتداء کرنا ہے ،آپ کے اخلاق سے متخلق ہونا ہے دنیا سے زہد اور آخرت میں رغبت کرنا ہے سخاوت، ایثار، درگزر کر نے، حلم اور تواضع کو اپنانا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق باطنہ میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنا اور اس سے سب سے زیادہ محبت اور اس سے ملاقات کا شوق اس کی قضاء پر راضی رہنا اس کے ساتھ قلب کا دائمی تعلق اس پر توکل اور اعتماد، زبان کا اس کے ذکر سے تر رہنا، خلوت میں اس سے دعا اور مناجات کرنا، تدبر اور تفکر سے اس کی کتاب کی تلاوت کرنا، خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن کریم تھا آپ اللہ کی رضا سے راضی اور اس کی ناراضی سے ناراض ہوتے تھے پس جو لوگ اپنے قول، عمل اور حال میں آپ کی سب سے زیادہ متابعت کر نے والے ہیں وہ آپ کی امت کے صدیقین ہیں جن کے سرخیل حضرت ابوبکر اور آپ کے بعد کے خلفا میں رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

اس ضمن میں احادیث کہ انسان جس سے بھی محبت کرے اللہ کے سبب سے محبت کرے.

اس حدیث میں دوسری خصلت یہ بیان فرمائی ہے کہ انسان جس سے بھی محبت کر ے صرف اللہ کے لیے محبت کرے اور اللہ کے سبب سے محبت کرنا اصول ایمان سے ہے اور اس کا سب سے اعلی درجہ ہے حدیث میں ہے:

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی سی سے افضل ایمان کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: تم اللہ کے سبب سے محبت کرو اور اللہ کے سبب سے بغض رکھو اور تمہاری زبان اللہ کے ذکر میں عمل کرتی رہے ۔

( مسند احمد ج ۵ ص ۲۴۷ طبع قدیم المعجم الكبير :426۔ ج۲۰ مسند احمد :22130۰ – ج 26 ص ۴۴۵ مؤسسة الرسالة بيروت )

حضرت عمرو بن جموح رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: کسی بندہ کا اس وقت تک صریح ایمان محقق نہیں ہوگا حتی کہ وہ اللہ کے سب سے محبت رکھے اور اللہ کے سبب سے بغض رکھے پس جب وہ اللہ کے سبب سے محبت رکھے گا اور اللہ کے سبب سے بغض رکھے گا تو وہ اللہ کی محبت کا حق ہوجاۓ گا ۔

( مسند احمد ج ۳ ص ۰ ۳ ۴ طبع قدیم مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۸۹ مسند احمد ج ۴۴ ص ۳۱۷ مؤسسة الرسالة بیروت اس کی سند منقطع ہے ۔ )

حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ کہ بیان کر تے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ایمان کی مضبوط گرہ اللہ کے سبب سے محبت رکھنا اور اللہ کے سبب سے بغض رکھنا ہے ۔

( مسند احمد ج ۴ ص ۲۸۶ طبع قدیم مسند ابوداؤد الطیالسی : ۷ ۷۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج۱۱ ص 41 شعب الایمان : ۱۳ )

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” احب الاعمال ‘‘اللہ کے سبب سے محبت رکھنا اور اللہ کے سبب سے بغض رکھنا ہے ۔ ( مسند احمد ج ۵ ص 146 سنن ابوداود : 4599 اس کی سند ضعیف ہے مسنداحمد : ۰۳ ۲۱۳- ج ۵ ۳ ص ۲۲۹ بیروت )

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس نے اللہ کے سبب سے محبت کی اور اللہ کے سبب سے بغض رکھا اور اللہ کے سبب سے عطا کیا اور اللہ کے سبب سے منع کیا اس کا ایمان کامل ہو گیا ایک روایت میں ہے: اس نے اللہ کے سبب سے نکاح کیا ( یعنی اس کی رضا کے لیے ) ۔ ( سنن ابوداؤد: 468 سنن ترمذی :۲۵۴۱ المستدرک ج ۲ ص 164 مسند احمد ج ۳ ص 438-440)

اس دوسری خصلت کی پہلی خصلت کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ جس شخص کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہوگا، اس کی تمام محبت اللہ کے لیے ہو گی اور اس کو یہ لازم ہے کہ اس کی دوستی بھی اللہ کے سبب سے ہو اور اس کی دشمنی بھی اللہ کے سبب سے ہو اور اس کے نفس میں اپنی کوئی خواہش نہ ہو اور اللہ اور اس کے رسول کی محبت جب ہی مکمل ہو گیا جب اس کے اولیاء سے محبت رکھی جائے اور اس کے دشمنوں سے بغض رکھا جائے ۔

اس سلسلہ میں دلائل کہ ایمان کے بعد کفر کرنا آگ میں جھونکے جانے کے مترادف ہے

تیسری خصلت یہ ہے کہ اس کے نزدیک کفر میں لوٹنا، ایسا ناپسندیدہ ہو، جیسے آ گ میں ڈالا جانا ناپسندیدہ ہے ۔ جب انسان کے دل میں ایمان راسخ اور متحقق ہوجاتا ہے تو وہ ایمان کی مٹھاس پاتا ہے اور ایمان کے دوام اور ثبات سے محبت کرتاہے اور ایمان کو چھوڑنا اس کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہوتا ہے، جیسے اس کے نزدیک آگ میں جھونکا جانا ناپسندیدہ ہے قرآن مجید میں ہے:’

ولكن الله حبب إليكم الإيمان وزينه في قلوبكم وكرة إليكم الكفر والفسوق والعصيان.(الحجرات:۷)

لیکن اللہ نے تمہارے دلوں میں ایمان کو محبوب بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں خوش نما بنادیا اور اس نے تمہارے نزدیک کفر نافرمانی اور گناہوں کو ناپسندیدہ بنادیا۔

ابورزین عقیلی بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ایمان کی کیا تعریف ہے؟ آپ نے فرمایا: تم یہ شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک ( سیدنا) محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اللہ اور اس کا رسول تمہیں ان کے ماسوا سے محبوب ہو اور تمہارے نزدیک آگ میں جل جانا اس سے زیادہ پسندیدہ ہو کہ تم اللہ کے ساتھ شرک کرو اور تم کسی عمدہ نسب والے کے غیر سے صرف اللہ عزوجل کے سبب سے محبت کرو سو جب تم اس طرح ہو جاؤگے تو تمہارے دل میں ایمان کی محبت اس طرح داخل ہو جاۓ گی جس طرح شدید گرمی کے دن میں پیاسے کے دل میں پانی کی محبت داخل ہوتی ہے ۔ الحدیث (مجمع الزوائد ج 1 ص 53-54 مسند احمد ج 4 ص11 مسند احمد ج 26 ص 114 مؤسسة الرسالہ،حافظ الہیثمی نے کہا: اس حدیث کی سند میں سلیمان بن موسی ہے، ابن معین اور ابو حاتم نے اس کی توثیق کی ہے اور دوسروں نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔ )

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دس باتوں کی نصیحت کی، آپ نے فرمایا:

(۱) اللہ کے ساتھ شرک نہ کرنا خواہ تم قتل کردیا جائے یا جلادیا جاۓ.

( ۲ ) اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرنا خواہ وہ تم کو یہ حکم دیں کہ تم اپنے مال اور اہل سے نکل جاؤ .

( ۳) فرض نماز کو ترک نہ کرنا کیونکہ جس نے فرض نماز کو عمدا ترک کیا،وہ اللہ کے ذمہ سے بری ہوگیا.

( ۴ ) شراب نہ پینا کیونکہ وہ ہر بے حیائی کی اصل ہے.

( ۵ ) اللہ کی نافرمانی سے ڈرنا کیونکہ نافرمانی سے اللہ کی ناراضی حلال ہو جاتی ہے.

(۲ ) میدان جہاد سے پیٹھ نہ موڑنا خواہ لوگ ہلاک ہو ر ہے ہوں.

( ۷ ) اور جب لوگوں پر موت آ رہی ہو اور تم بھی ان لوگوں میں ہو تو ثابت قدمرہنا .

(۸ ) اپنے عیال پر اپنے مال سے خرچ کرنا.

( ۹ ) ان کو ادب سکھانے کے لیے ان کے اوپر اپنی لاٹھی بلند نہ کر نا .

( ۱۰ ) ان کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا۔ (المعجم الکبیر :156۔ ج۲۰ مسند الشامیین : ۲۲۰۴، سنن ابن ماجہ :3371 صحیح ابن حبان : 524 المستدرک ج۱ ص ۵۴ شعب الایمان : 8027 مسند احمد ج ۵ ص ۲۳۸ طبع قدیم، مسند احمد ج 36 ص ۳۹۳ – 392 مؤسسة الرسالة بيروت )

قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اصحاب الاخدود کا قصہ بیان فرمایا ان سے کہا گیا: ایمان سے پھرجاؤ، ورنہ آگ میں ڈال دیے جاؤ گے انہوں نے آگ میں جلاۓ جانے کے مقابلہ میں ایمان پر قائم رہنے کو اختیار کر لیا اور ان کو آگ میں جلا یا گیا ۔ (البروج :4-9)

اس کی مزید تفصیل تبیان القرآن جلد ۱۲ سورۃ البروج کی تفسیر میں ملاحظہ کیجئے ۔

حضرت عبداللہ بن حذافہ سہمی کا کفر پر آگ میں جھونکے جانے کو ترجیح دینا

اسی طرح حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی کا واقعہ ہے، انہوں نے کھولتے ہوۓ تیل میں ڈالے جانے کے مقابلہ میں ایمان کو اختیار کرلیا۔

علامہ عزالدین ابن الاثیر ابوالحسن علی بن محمد الجزری المتوفی 630 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

عکرمہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رومیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ تعالی عنہ کو گرفتار کرلیا، ان کے بادشاہ نے ان سے کہا: تم عیسائی ہوجاؤ، ورنہ میں تم کو پیتل کی بنی ہوئی گاۓ کے مجسمہ میں ڈال دوں گا حضرت عبد اللہ بن حذافہ نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا، پھر اس نے اس گاۓ کے مجسمہ کومنگوایا اور اس کو تیل سے بھردیا، پھر اس کو خوب کھولایا اور ایک مسلمان قیدی کو بلوایا اور اس سے کہا: عیسائی ہوجاؤ، اس نے انکار کیا تو اس نے قیدی کو اس مجسمہ کے اندر کھولتے ہوئے تیل میں ڈال دیا۔ حتی کہ اس کا گوشت جل گیا اور اس کی ہڈیاں نکل آئیں پھر حضرت عبداللہ سے کہا: تم عیسائی ہوجاؤ ورنہ میں تم کو بھی اس کھولتے ہوۓ تیل میں ڈال دوں گا حضرت عبداللہ نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا اس نے حکم دیا کہ ان کو اس گاۓ کے مجسمہ میں ڈال دیا جاۓ, حضرت عبد اللہ یہ سن کر رونے لگے, لوگوں نے سردار سے کہا: یہ رو رہا ہے اور فریاد کر رہا ہے سردار نے کہا: اس کو واپس لاؤ حضرت عبد اللہ نے کہا: تم یہ نہ سمجھنا کہ میں اس کھولتے ہوۓ تیل میں ڈالے جانے کے خوف سے رو رہا ہوں بلکہ میں صرف اس لیے رو رہا ہوں کہ میرے پاس صرف یہی ایک جان ہے جس کو اللہ کی راہ میں کھولتے ہوۓ تیل میں ڈالا جاۓ گا میں تو یہ چاہتا ہوں کہ کاش! میرے پاس میرے بالوں کے برابر بھی جانیں ہوتیں، پھر تم مجھ پر مسلط ہوتے اور ان سب کو کھولتے ہوۓ تیل میں ڈال دیتے اس سردار کو حضرت عبد اللہ کی اس بات سے سخت تعجب ہوا اور اس نے چاہا کہ ان کو چھوڑ دے اس نے کہا: تم میرے سر کو بوسہ دو میں تم کو چھوڑ دوں گا حضرت عبداللہ نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا اس نے کہا: تم عیسائی ہو جاؤ‘ میں اپنی بیٹی کی تم سے شادی کر دوں گا اور آدھا ملک تم کو دے دوں گا حضرت عبداللہ نے کہا: میں ایسا نہیں کروں گا اس نے کہا: تم میرے سر کو بوسہ دو میں تم کو بھی چھوڑ دوں گا اور تمہارے ساتھ اسی (۸۰) مسلمانوں کو بھی چھوڑ دوں گا حضرت عبداللہ نے کہا: اس صورت میں میں کر لوں گا پھر حضرت عبداللہ نے اس کے سر کو بوسہ دیا اس نے حضرت عبد اللہ کو بھی رہا کر دیا اور ان کے ساتھ اسی دوسرے مسلمانوں کو بھی رہا کر دیا جب یہ مسلمان حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو حضرت عمر نے کھڑے ہو کر حضرت عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دیا، مسلمان حضرت عبد اللہ سے مذاق میں کہتے کہ آپ نے کافر کے سر کو بوسہ دیا۔ حضرت عبداللہ جواب دیتے : ہاں ! میں نے اس بوسے کے عوض اسی (۸۰) مسلمانوں کو کافر کی قید سے رہا کر الیا ۔ (اسد الغابۃ ج ۳ ص ۲۱۴ دار الکتب العلمیہ بیروت )

امام ابوالقاسم علی بن الحسن ابن عسا کر متوفی ۵۷۱ ھ نے بھی اس واقعہ کو اسی تفصیل کے ساتھ امام بیہقی کی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر ج ۲۹ ص ۲۴۵ – ۴۴۴ دار احیاء التراث العربی بیروت 1421ھ )

حافظ شمس الدین محمد بن احمد ذہبی متوفی 847 ھ نے بھی اس واقعہ کو اسی تفصیل سے اپنی سند کے ساتھ ابورافع سے روایت کیا ہے ۔(سیر اعلام النبلاء ج ۳ ص ۳۵۸ دارالفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے بھی اس واقعہ کو امام بیہقی کی سند سے روایت کیا ہے اور اس میں کچھ اضافہ اور کچھ اختصار ہے ۔ (الاصابہ ج ۴ ص ۵۲ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۵ھ )

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ میں بھی یہ دلیل ہے کہ انہوں نے کفر کو اختیار نہیں کیا، حتی کہ انہیں آگ میں ڈال دیا گیا دیکھئے الانبیا ء:69۔

دل میں تصدیق قائم ہوتو زبان سے کلمہ کفر کہنے کی اجازت کی بحث

اگر کسی مسلمان سے کہا جاۓ کہ تم کلمہ کفر کہو ورنہ ہم تم کوقتل کر دیں گے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ جان بچانے کے لیے زبان سے کلمہ کفر کہہ دے، لیکن دل میں اپنے ایمان کو ثابت اور برقرار رکھئے یہ اس کے لیے رخصت ہے، جب کہ اس کے لیے عزیمت یہ ہے کہ وہ زبان سے بھی کلمہ کفر نہ کہے، خواہ اس کوقتل کر دیا جاۓ ۔ قرآن مجید میں ہے : إلا من أكرة وقلبه مطمئن بالإيمان. (أحل:۱۰۶)

سوا اس کے جس کو کفر پر مجبور کیا جاۓ اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ۔

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ مسیلمہ کے جاسوس دو مسلمانوں کو پکڑ کر اس کے پاس لے گئے اس نے ان میں سے ایک سے کہا: کیا تم میں گواہی دیتے ہو کہ ( سید نا ) محمد (صلی اللہ علیہوسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں! پھر اس نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا: میں بہرہ ہوں ۔ اس نے کہا: کیا وجہ ہے جب میں تم سے کہتا ہوں کہ کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو تم کہتے ہو کہ میں بہرہ ہوں، پھر اس نے ان کو قتل کر نے کا حکم دیا پھر اس نے دوسرے مسلمان سے کہا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ ( سیدنا ) محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )اللہ کے رسول ہیں؟ اس نے کہا: ہاں پھر اس نے کہا: کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: ہاں پھر اس نے اس کو چھوڑ دیا، پھر وہ مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! میں ہلاک ہو گیا۔ آپ نے پوچھا: کیا ہوا ؟ تو اس نے اپنے اور اپنے مسلمان ساتھی کا ماجرا سنایا۔ آپ نے فرمایا: رہا تمہارا ساتھی تو وہ اپنے ایمان پر قائم رہا اور رہے تم تو تم نے رخصت پرعمل کیا ۔ ( مصنف ابن ابی شیبه ۷ ۲۳۰۲ دار الکتب العلم به بیروت 1416ھ )

اللہ اور اس کے رسول کے ذکر کو ایک ضمیر میں جمع کرنے کی بحث

ایک بحث یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہو۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے ذکر کو ایک ضمیر میں جمع کرنا جائز ہے جیسا کہ اس حدیث میں بھی ہے:

حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایا: جس نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان کی نافرمانی کی وہ صرف اپنے آپ کو ضرر پہنچائے گا اور اللہ کو بالکل ضرر نہیں ہو گا ۔ (سنن ابوداود: ۱۰۹۷)

اس پر یہ اعتراض ہے کہ ایک اور حدیث میں اللہ اور اس کے رسول کے ذکر کو ایک ضمیر میں جمع کرنے کی آپ نے مذمت فرمائی ہے:

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے خطبہ میں کہا: جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ ہدایت پا گیا اور جس نے ان کی نافرمانی کی وہ سیدھی راہ سے بھٹک گیا تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم برے خطیب ہو یوں کہو : جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔( صحیح مسلم :۸۷۰)

اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ممانعت امت کے لیے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے ذکر کو ایک ضمیر میں جمع کر دیں ۔

اس حدیث کی شرح ہم نے شرح صحیح مسلم :۷۵۔ ج۱ ص ۴۲۵ – 424 میں بھی کی ہے لیکن اس کی شرح میں نے ہم جن مباحث کا یہاں’’ نعمتہ الباری‘‘ میں ذکر کیا ہے وہاں ان میں سے کسی کا ذکر نہیں کیا۔