۹- باب قول النبي صلى الله عليه وسلم رب مبلغ أوعى من سامع

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد : بعض اوقات جس کو حدیث پہنچائی جاۓ، وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں علم کی مجلس میں بیٹھنے والوں کا ذکر تھا اور علم کی مجلس میں وہ لوگ ہوتے ہیں، جو حدیث کو سنتے ہیں اور دوسروں تک اس حدیث کو پہنچاتے ہیں ۔

اس باب کے عنوان پر درج ذیل حدیث صراحتہ دلالت کرتی ہے:

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالی اس شخص کو تروتازہ رکھے، جس نے ہم سے کوئی بات سنی، پھر جس طرح اس بات کو سنا، ویسے ہی اس کو دوسروں تک پہنچادیا کیونکہ بعض اوقات جن کو حدیث پہنچائی جاۓ، وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والے ہوتے ہیں ۔

( سنن ترمذی: ۲۶۵۷، سنن ابن ماجه : ۲۳۲ مسند احمد ج۱ ص 436)

 

67- حدثنا مسدد قال حدثنا بشر قال حدثنا ابن عون، عن ابن سيرين، عن عبد الرحمن بن ابی بكرة ، عن أبيه ذكر النبي صلى الله علیہ وسلم قعد على بعيره، وأمسك إنسان بخطامه، أو بزمامه ،قال أن يـوم هـذا؟ فسكتنا حتى ظننا انه سيسمیہ سـوى اسـمـه، قال اليس يوم النحر ؟ قلنا بلى . قال فای شهـر هـذا؟ فسكتنا حتى ظننا سيسميه بغیر اسمه، فقال اليس بذي الحجة؟ قلنا بلى ، قال فان دمـاءکـم، وأمـوالـكـم، وأعراضكم بينكم حرام،کحرمة يومكم هذا في شهركم هذا ، في بلدکم ھذا ليبلغ الشاهد الغائب، فإن الشاهد عسى أن یبلغ من هو أوعى له منه۔

اطراف الحدیث: ۱۰۵۔۱۷۴۱۔ 3197 -4406 – 4662۔5550۔7078۔7447)

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں مسدد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں بشر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن عون نے حدیث بیان کی، از ابن سیرین از عبدالرحمان بن ابی بکره از والد خود که نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوۓ تھے اور ایک انسان نے اس کی مہار یا لگام پکڑی ہوئی تھی، آپ نے فرمایا: آج کون سا دن ہے؟ ہم خاموش رہے، ہم نے گمان کیا کہ آپ عنقریب اس دن کے نام کے سوا کوئی اور نام رکھیں گے آپ نے فرمایا: کیا آج قربانی کرنے کا دن نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: یہ کون سا مہینہ ہے؟ ہم خاموش رہے، حتی کہ ہم نے گمان کیا کہ عنقریب آپ اس مہینہ کے نام کے علاوہ کوئی اور نام رکھیں گے، پھر آپ نے فرمایا: کیا یہ ذوالحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں! آپ نے فرمایا: تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے درمیان اس طرح حرام ہیں، جس طرح یہ آج کے دن، اس مہینہ میں اور اس شہر میں حرام ہیں، حاضر کو چاہیے کہ غائب کو یہ حدیث پہنچا دے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ حاضر اس شخص کو یہ حدیث پہنچاۓ جو اس حدیث کو اس سے زیادہ یاد رکھنے والا ہو ۔

صحیح مسلم :1679، سنن ترمذی:۱۵۲۰، سنن نسائی:4401، سنن دارمی 1916، سنن الکبری للنسائی:۰۹۱ ۴، صحیح ابن حبان: ۔5973۔ ۳۸۴۸السنن الکبری للبیہقی ج ۳ ص ۲۹۸ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص 26، مسند البزار :3616، مسند احمد ج ۵ ص ۷ ۳ طبع قدیم، مسند احمد :۲۰۳۸۷۔ ج ۵ ص ۲۸ مؤسسة الرسالۃ بیروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بالکل واضح ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) مسور بن مسرھد ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۲) بشر بن المفضل بن لاحق الرقاشی، انہوں نے ابن المنکدراور عبداللہ بن عون وغیرہ سے سماع کیا ہے، اور ان سے امام احمد نے سماع کیا ہے، ابوزرعہ اور ابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ ہیں ابن سعد نے کہا: یہ ثقہ اور کثیر الحدیث ہیں 186ھ میں فوت ہوگئے تھے .

(۳) عبداللہ بن عون بن ارطبان البصری، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کی زیارت کی ہے اور ان سے سماع نہیں کیا قاسم بن محمد، حسن بصری اور محمد بن سیرین وغیرہ سے سماع کیا ہے ان سے شعبہ، ثوری، ابن المبارک اور دیگر نے سماع کیا ہے ابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ ہیں یہ 66 سال کی عمر میں ۸۵ ھ میں فوت ہو گئے تھے.

( ۴ ) محمد بن سیرین، ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۵) عبدالرحمان بن ابی بکرہ نفیع بن الحارث البصری، یہ ۱۴ ھ میں بصرہ میں پہلے مسلمان پیدا ہوۓ، انہوں نے اپنے والد ابوبکرہ اور حضرت علی اور دیگر سے سماع کیا ہے یہ ۹۹ ھ میں فوت ہو گئے تھے، ان سے بہت بڑی جماعت نے روایت کی ہے.

(6 ) حضرت ابوبکرہ نفیع بن الحارث رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہوچکا ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۵۳ )

 

اس اعتراض کا جواب کہ سواری پر بیٹھ کر باتیں کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے پھر آپ نے سواری پر خطبہ کیوں دیا؟ اور دیگر مسائل

اس حدیث میں مذکور ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ پر بیٹھے ہوۓ تھے، یہ منی میں حجۃ الوداع کا واقعہ ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اس اونٹ کی مہار پکڑی ہوئی تھی ۔

یہ حدیث صحیح مسلم میں اور صحیح بخاری کے ایک اور باب میں بھی ہے اس میں یہ مذکور ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ کون سا شہر ہے؟ یہ کون سا مہینہ ہے؟ اور آج کون سا دن ہے؟ تو صحابہ نے ہر سوال کے جواب میں کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں ۔ ( صحیح البخاری :۴۴۰۶، صحیح مسلم :۱۶۷۹، سنن نسائی:۵۸۵۱)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عالم پر واجب ہے کہ جن لوگوں تک علم نہیں پہنچا ہے، ان تک علم پہنچاۓ اور جن کو پیغام سمجھ میں نہیں آیا ان کو پیغام وضاحت سے بیان کرے قرآن مجید میں ہے:

وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتب لتبيننه للناس ولا تكتمونه. ( آل عمران: ۱۸۷)

اور جب اللہ نے ان لوگوں سے عہد لیا جن کو کتاب دی گئی تھی کہ تم اس کو تمام لوگوں سے بیان کرو گے اور چھپاؤ گے نہیں ۔

اس حدیث میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ پر بیٹھ کر خطبہ دیا حالانکہ اس کے خلاف یہ حدیث ہے:

حضرت سہل بن معاذ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے، جو اپنی سواریوں پر کھڑے ہوۓ تھے، آپ نے فرمایا: اپنی سواریوں پر سلامتی کے ساتھ سوار ہو اور ان کو سلامتی کے ساتھ چھوڑ دو اور راستوں اور بازاروں میں ان سواریوں کو اپنی باتوں کے لیے کرسیاں نہ بناؤ، بعض سواریاں اپنے سوار سے بہتر ہوتی ہیں اور اللہ تبارک وتعالی کا بہ کثرت ذکر کرو ۔ (العجم الکبیر: ٬432 ج 8 ص 107 مسند احمد :15629 ج ۳ ص۴۳۹ مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی سند ضعیف ہے ۔ (مجمع الزوائد ج ۸ ص ۱۰۷ ) تاہم ایک اور حدیث کی سند حسن ہے:

سعد بن معاذ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان سواریوں پر سلامتی کے ساتھ سوار ہو اور ان کو سلامتی کے ساتھ چھوڑ دو اور ان کو کرسیاں نہ بناؤ ۔ (سنن دارمی ج ۲ ص۲۸۶ صحیح ابن خزیمہ : ۲۵۴۴ صحیح ابن حبان : 5219 المعجم الکبیر: ۴۳۱ ج۲۰، المستدرک ج ۱ ص ۴۴۴، سنن بیہقی ج ۵ ص ۲۵۵ مسند احمد :15639، ج 3 ص 440،مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاضرورت سواریوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے سے منع فرمایا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اونٹ پر بیٹھ کر خطبہ دیناضرورت پر محمول ہے اور یہ ممانعت تکبر کی وجہ سے ہے یا پھر یہ آپ کی خصوصیت ہے، عام مسلمانوں کے لیے جائز نہیں ہے ۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالم کو اونچی جگہ پر بیٹھ کر خطاب کرنا چاہیے اور جو چیز شدید حرام ہو، عالم پر واجب ہے کہ اس کی تحریم کو زیادہ شدت اور تاکید سے بیان کرے جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی جانوں، مالوں اور عزتوں کو حج کے مہینہ، حج کے دن اور مکہ مکرمہ کی حرمت کے ساتھ تشبیہ دی اور اس سے معلوم ہوا کہ تمام مسلمانوں کا خون، ان کا مال اور ان کی عزت حرمت میں برابر ہے۔

یہ حدیث شرح صحیح مسلم:۴۲۷۰۔ ج ۴ ص ۷۰۳ پر مذکور ہے اور اس کی شرح کے درج ذیل عنوان میں :

(۱) اشہر حرم میں رد و بدل کی تفصیل اور تحقیق

(۲) آیا شہر حرم میں قتال منسوخ ہو چکا ہے یا نہیں؟

(۳) حدیث الباب سے استنباط شدہ مسائل ۔