۱۱- باب ماکان النبي صلى الله عليه  وسلم يتخولهم بالموعظة والعلم كي لا ينفروا

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نصیحت اور علم میں صحابہ کی حفاظت اور رعایت کرتے تھے تاکہ وہ اکتا نہ جائیں

 

اس عنوان میں” تخول ‘‘ کا لفظ ہے، جس کا معنی ہے : حفاظت کرنا اور رعایت کرنا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو وقفہ وقفہ سے نصیحت کرتے تھے اور مسلسل تعلیم نہیں دیتے تھے تا کہ وہ گھبرا نہ جائیں اور ا کتا نہ جائیں ۔ اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ پہلے باب میں علم کا ذکر تھا اور اس باب میں علم کو سکھانے کا ذکر ہے ۔

٦٨- حدثنا محمد بن يوسف قال أخبرنا سفيان عن الاعمش، عن أبي وائل، عـن ابـن مـسـعـود قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يتخولنا بالموعظة في الايام ، كراهة السامية علينا۔.اطراف الحدیث : ۷۰۔6411

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از اعمش از ابووائل از حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف ایام میں نصیحت کر کے ہماری حفاظت اور رعایت کرتے تھے،  ہماری اکتاہٹ کو ناپسند کرنے کی وجہ سے ۔

( صحیح مسلم :2821،  سنن ترمذی: 2855، المعجم الکبیر ۱۰۳۴۰ الکامل لابن عدی ج ۲ ص ۵۵۴ شرح السنه : 145 علل دارقطنی ج ۵ ص ۱۲۹ مسند احمد ج ا ص ۷۷ ۳ طبع قدیم، مسند احمد ج 6 ص ۵۷ مؤسسة الرسالة بيروت )

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مناسبت بالکل واضح ہے کیونکہ باب کے عنوان میں تعلیم میں رعایت کر نے کا ذکر ہے اور حدیث میں بھی یہی مذکور ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن یوسف فریابی ، نہوں نے اعمش اور سفیان وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے امام احمد اور محمد ذہلی وغیرہ نے سماع کیا ہے اور امام بخاری نے بھی ان کی روایات سے بہت جگہ استدلال کیا ہے۔ امام احمد نے کہا: یہ نیک آدمی تھے، امام نسائی اور ابوحاتم نے کہا: یہ ثقہ تھے ۲۱۲ ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) سفیان ثوری۔

( ۳) سلیمان بن مہران الأعمش۔

( ۴ )ابو وائل شقیق بن سلمہ الکوفی۔

(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان سب کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص 66 )

حدیث مذکور کا معنی

اس حدیث میں’’ السامة ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی ملال اور اکتاہٹ ہے۔

اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مختلف اوقات میں صحابہ کو نصیحت کرتے تھے اور تمام اوقات میں نصیحت نہیں کرتے تھے تا کہ صحابہ کو ملال نہ ہو اور وہ ا کتا نہ جائیں ۔ قرآن مجید میں ہے:

عزيز عليه ما عنتم . ( التوبہ : ۱۳۸ )

جن کو تمہارا مشقت میں پڑنا بہت گراں ہے ۔

مسلمانوں کی مشقت سے حفاظت ان کی رعایت اور ان پر شفقت کے متعلق دیگر احادیث

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رات کا کھانا رکھ دیا جاۓ اور اسی وقت نماز کی اقامت ہو تو رات کے کھانے سے ابتداء کرو ۔ ( صحیح البخاری:۶۷۱، صحیح مسلم:560)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کر تے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب رات کا کھانا رکھ دیا جاۓ تو مغرب کی نماز پڑھنے سے پہلے اس کی ابتداء کرو،  اور اپنے کھانے سے پہلے نماز نہ پڑھو ۔

( صحیح البخاری: ۶۷۲، صحیح مسلم : ۵۵۷ ، سنن ترمذی: ٬۳۵۳ سنن نسائی : ۸۵۲ ، سنن ابن ماجہ : ۹۳۳ مسند احمد ج 3 ص ۱۱۰ )

قاسم بن محمد بیان کر تے ہیں کہ ہم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے،  اس وقت ان کا کھانا لایا گیا، قاسم نماز پڑھنے لگے تو حضرت عائشہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جب کھانا آجائے تو نماز نہ پڑھے اور نہ اس وقت نماز پڑ ھے جب وہ پیشاب یا پاخانہ کی ضرورت کو روک رہا ہو ۔ ( صحیح مسلم : 560 سنن ابوداؤد : ۸۹ )

حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جب تم میں سے کوئی بیت الخلاء جانے کا ارادہ کرے اور جماعت کھڑی ہو تو وہ بیت الخلاء جانے سے ابتداء کرے ۔

( سنن ابوداؤد : ۸۸ سنن نسائی : ٬۸۵۱ سنن ابن ماجه : 616 مسند احمد :۱۵۹۵۹ دار الفکر، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۴۲۳)

ابن عون بیان کرتے ہیں کہ نافع سے ایک شخص نے سوال کیا کہ ایک شخص کو اپنے پیٹ میں ریح ( گیس ) محسوس ہو رہی ہو؟ انہوں نے کہا: جس کے پیٹ میں ریح محسوس ہورہی ہو، وہ اس کو روک کر نماز نہ پڑھے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص 423)

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم :۷۰۰۰۔ ج ۷ ص 658 پر ہے، اس کی شرح کا عنوان ہے: امت پر نبی ﷺ کی شفقت کا بیان، اس کے تحت صرف ایک حدیث کا ذکر ہے ۔