کتاب العلم باب 10
۱۰ – باب العلم قبل القول والعمل
قول اور عمل سے پہلے علم کا حصول
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں مبلغ اور سامع کا حال بیان کیا گیا اور مبلغ وہ شخص ہے، جس کو حدیث پہنچائی جائے اور حدیث کا پہنچانا، علم کی تعلیم اور تعلم کے ذریعہ ہوگا امام بخاری نے اس باب کے عنوان کے ثبوت میں اپنی سند کے ساتھ کوئی حدیث روایت نہیں کی البتہ عنوان پر قرآن مجید کی آیات اور دیگر ائمہ کی روایت کردہ احادیث سے استدلال کیا ہے:
علم کی فضیلت میں آیات، احادیث اور آثار
لقول الله تعالى (فاعلم أنه لا إله إلا الله) (محمد:19) فبدا بالعلم۔
امام بخاری کہتے ہیں: کیونکہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:’’ پس جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے (محمد :19 ) اللہ تعالی نے علم سے ابتداء کی ہے ۔
امام بخاری کا منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالی نے حکم دیا کہ پہلے اللہ تعالی کے واحد ہونے کا علم حاصل کرو، پھر لا الہ الا اللہ کہو اس کے بعد فرمایا:
واستغفر لذنبك وللمؤمنين والمؤمنت . (محمد:19)
اور آپ اپنے بہ ظاہر خلاف اولی کاموں پر اللہ سے مغفرت طلب کریں اور مسلمان مردوں اور عورتوں کے گناہوں کے لیے مغفرت طلب کریں ۔
اس آیت میں پہلے علم کے حصول کا حکم دیا ہے اور پھر مغفرت طلب کرنے کے عمل کا حکم دیا ہے ۔
اس کے بعد امام بخاری نے اس حدیث سے استدلال کیا:
وان العلماء هم ورثة الأنبياء، ورثوا العلم، من أخذه أخذ بحظ وافر۔
اور بے شک علماء ہی انبیاء کے وارث ہیں، انہوں نے علم کا وارث بنایا ہے پس جس نے علم کو حاصل کیا۔ اس نے بڑے حصہ کوحاصل کیا۔
امام بخاری نے اس مکمل حدیث کا ایک قطعہ ذکر کیا ہے مکمل حدیث اس طرح ہے:
حضرت ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص علم کو طلب کر نے کے لیے کسی راستہ پر چل، ا اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے اور بے شک فرشتے طالب علم کی رضا کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں اور بے شک عالم کے لیے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں مغفرت طلب کرتی ہیں، حتی کہ پانی کی مچھلیاں بھی ۔ اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے، اور بے شک علماء انبیاء کے وارث ہیں اور بے شک انبیاء نے دینار کا وارث کیا ہے نہ درہم کا، انہوں نے صرف علم کا وارث کیا ہے ۔
( سنن ترمذی: ۲۶۸۲ سنن ابوداؤد : 3641، سنن ابن ماجہ : ۲۲۳،مسند احمد ج ۵ ص ۱۹۶)
ائمہ شیعہ نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے ۔
( فقیہ من لایحضرہ الفقیہ ج ۴ ص ۷۷ ۲ جامع احادیث الشیعۃ :26۔ ج۱ ص ۱۴۲ ، مطبع المبر قم ایران 1413ھ )
ائمہ شیعہ کا حوالہ ہم نے اس لیے دیا ہے تا کہ شیعہ پر حجت قائم ہو کہ انبیاء علیہم السلام مال کا وارث نہیں کرتے، علم کا وارث کرتے ہیں اور باغ فدک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ترکہ نہ تھا کہ اس میں وراثت جاری ہوتی ۔
اس کے بعد امام بخاری نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے:
ومن سلك طريقا يطلب به علما سهل الله له طريقا إلى الجنة۔
جو شخص علم کی طلب میں کسی راستہ پر چلا اللہ تعالی اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کردیتا ہے ۔
یہ بھی مذکور الصدر مکمل حدیث کا ایک قطعہ ہے
اس کے بعد امام بخاری نے اس آیت سے استدلال کیا ہے :
وقال جل ذكرة( وإنما يخشى الله من عباده العلماء (فاطر:۲۸)
اور اللہ عزوجل نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے صرف علماءاللہ سے ڈرتے ہیں‘‘ ( فاطر :۲۸) ۔
امام ابومنصور محمد بن محمد ماتریدی حنفی سمرقندی متوفی ۳۳۳ھ لکھتے ہیں :
اس آیت کا معنی یہ ہے کہ عالم پر یہ حق ہے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ سے ڈرے، کیونکہ اس کو اللہ تعالی کی سلطنت، اس کی ہیبت،اس کی قدرت اور اس کے جلال کا علم ہوتا ہے اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ جس کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا علم ہو اور وہ اس پر ایمان لایا ہو، وہ اللہ کے احکام کی مخالفت کرنے اور اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرے گا، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ تعالی نافرمانی سے ناراض ہوتا ہے اور اس پر عذاب دیتا ہے، لیکن جس کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا علم نہ ہو اور وہ اس پر ایمان نہ لایا ہو وہ اس سے نہیں ڈرے گا ۔( تاویلات اہل السنۃ ج ۸ ص ۴۸۵ دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ )
وقال «وما يعقلها إلا العالمون» (العنکبوت :43)
امام بخاری نے کہا: اور اللہ تعالی نے فرمایا: قرآن مجید میں بیان کی ہوئی مثالوں کو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں ‘‘(العنکبوت:۴۳)۔
یعنی عقول اشیاء کے اسباب اور ان کے دلائل کو سمجھتی ہیں کیونکہ علم اشیاء کے حقائق کی معرفت کی طرف پہنچاتا ہے لہذا قرآن میں بیان کی ہوئی مثالوں سے صرف علماء ہی نفع اٹھاسکتے ہیں اور بے علم شخص تو ان مثالوں کے معنی ہی کو نہیں جانے گا ۔( تاویلات اہل السنت ج ۸ ص ۲۳۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۶ھ )
وقالوا لو كنا نسمع أو نعقل ما كنّا في أصحاب السعير (الملك:۱۰)
امام بخاری نے کہا: اللہ تعالی کا ارشاد ہے :’’ اور کافروں نے کہا: کاش! ہم بہ غور سنتے یا سمجھتے تو ہم دوزخ والوں میں سے نہ ہوتے (الملک :۱۰ )۔
جب کافروں نے یہ اعتراف کیا کہ ہمارے پاس اللہ کے عذاب سے ڈرانے والا آیا تھا تو گویا انہوں نے مان لیا کہ انہوں نے اس کی آیات کو سنا اور سمجھا لیکن انہوں نے اپنے سننے اور سمجھنے سے فائدہ نہیں اٹھایا کیونکہ سننے کا فائدہ یہ تھا کہ اس کو مانتے اور سمجھنے کا فائدہ یہ تھا کہ اس کے تقاضے پرعمل کرتے ۔ ( تاویلات اہل السنۃ ج ۱۰ص۱۱۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۶ھ )
وقال «قل هل يستوى الذين يعلمون والذين لا يعلمون ﴾ (الزمر:۹)
اور امام بخاری نے کہا: اور اللہ تعالی نے فرمایا:” آپ کہیے: کیا جولوگ علم والے ہیں اور جولوگ بے علم ہیں، برابر ہیں؟‘‘( الزمر:۹)۔
یعنی جن لوگوں کو اللہ تعالی کی نعمتوں کا علم ہے اور وہ ان کا شکر ادا کرتے ہیں اور اس کی نافرمانی اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور جو ان چیزوں کو نہیں جانتے، کیا یہ دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ ( تاویلات اہل السنۃ ج ۸ ص ۶۶۵ دار الکتب العلمیہ بیروت 1426ھ)
وقال النبي صلى الله عليه وسلم من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين.
امام بخاری نے کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ فرماتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے ۔
یہ حدیث معلق ہے، اور پوری حدیث کا ایک قطعہ ہے، آگے چل کر امام بخاری نے اس حدیث کو مکمل موصول روایت کیا، وہ حدیث یہ ہے :
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوۓ کہا: میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرلیتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور میں صرف تقسیم کر نے والا ہوں اور اللہ عطا فرماتا ہے، اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور اس کو مخالفین سے ضرر نہیں ہوگا حتی کہ قیامت آ جائے گی ۔ (صحیح البخاری:71 صحیح مسلم: 1037(
امام بخاری نے کہا:
وإنما العلم بالتعلم۔.
اور علم صرف تعلم یعنی سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ۔
یہ بھی ایک مکمل حدیث کا قطعہ ہے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے :علم صرف تعلم ( سیکھنے) سے حاصل ہوتا ہے اور فقہ صرف تفقہ ( سمجھنے) سے حاصل ہوتی ہے، اور جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین کی سمجھ عطا فرماتا ہے اور اللہ کے بندوں میں سے صرف علماء اللہ سے ڈرتے ہیں ۔ امام طبرانی نے اس حدیث کو’’ معجم کبیر‘‘ میں روایت کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی کا نام نہیں لیا گیا، اور اس کی سند میں عتبہ بن ابی حکیم ہے، اس کی ابو حاتم اور ابوزرعہ اور ابن حبان نے توثیق کی ہے اور ایک جماعت نے اس کو ضعیف کہا ہے ۔ (مجمع الزوائد ج ۱ ص ۱۲۸)
وقال أبو ذر لو وضعتم الصمصامة على هـذه . وأشار إلى قفاه. ثم ظننت أني أنفذ كلمه سمعتها من النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان تجيزوا على لانفذتها.
امام بخاری نے کہا: اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم اس پر تلوار رکھ دو اور اپنی گدی کی طرف اشارہ کیا۔ پھر مجھے یہ گمان ہو کہ تمہارے گدی پر وار کرنے سے پہلے میں وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو میں اس بات کو ضرور کہوں گا ۔
یہ بھی ایک حدیث کا قطعہ ہے، مکمل حدیث اس طرح ہے:
ابوکثیر بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا وہ جمرہ وسطی کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ان کے گرد لوگ جمع تھے اور ان سے فتوے طلب کر رہے تھے کہ ایک شخص ان کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور ان سے کہنے لگا : کیا تم فتوی دینے سے باز نہیں آتے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا : کیا تم میرے محاسب مقرر کیے گئے ہو؟ اور اپنی گدی کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: اگر تم اس پر تلوار رکھ دو، پھر مجھے یہ گمان ہو کہ تمہارے گدی پر وار کر نے سے پہلے میں وہ بات کہہ سکتا ہوں، جس کو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے تو میں اس بات کو ضرور کہوں گا۔( سنن دارمی :۵۴۹ – ج۱ ص 156، دارالمعرفه بیروت ۱ ۱۴۲ ھ )
حضرت ابوذر کوربذہ میں جلاوطن کرنے کا سبب اور سربراہ ملک کے منع کرنے کے باوجود احادیث بیان کرنا اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضرت ابوذر شام میں تھے تو حضرت ابوذر کا اور حضرت امیر معاویہ کا اس آیت کے مصداق میں اختلاف ہو گیا تھا:
والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم (التوبہ:34)
جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، آپ ان کو دردناک عذاب کی خبر دے دیجئے 0
حضرت معاویہ کہتے تھے : یہ آیت اہل کتاب کے متعلق ہے اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے تھے: یہ آیت ہم مسلمانوں اور اہل کتاب دونوں کے متعلق ہے، پھر حضرت معاویہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو حضرت عثمان نے حضرت ابوذر کوربذہ میں جلاوطن کردیا اور ان کوفتوی دینے سے منع کر دیا اور اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان ہر حال میں حضور سے سنی ہوئی حدیث پہنچاۓ خواہ اس کو قتل کی دھمکی دی جائے یا اس کی گدی پر تلوار رکھ دی جائے اور اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ اگر سربراہ ملک کسی عالم کوفتوی دینے سے روک دے تو اس پر اس سربراہ کی اطاعت واجب نہیں بلکہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کی اطاعت واجب ہے کہ میری حدیث دوسروں تک پہنچاؤ ۔ اس حدیث کی فقہ یہ ہے کہ عالم پر واجب ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتا رہے اور برائی کو شدت سے روکتا رہے، خواہ اس کو اس راہ میں مصائب برداشت کرنا پڑیں اور وہ اللہ تعالی سے ثواب کی امید رکھے، اور اگر وہ اذیت کے خوف سے خاموش رہے تو یہ بھی اس کے لیے مباح ہے حدیث میں ہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے دو قسم کے علم یادرکھے، ایک قسم کا علم تو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا اور اگر علم کی دوسری قسم کو میں پھیلا دوں تو میرے حلقوم کو کاٹ دیا جاۓ گا ۔ ( صحیح البخاری:120 )
حسن بصری نے کہا: حضرت ابو ہریرہ نے سچ کہا ان کی مراد ایسی احادیث تھیں، جن میں آنے والے فتنوں کی خبر تھی اور ان کی خبر دینے میں کوئی مصلحت شرعی نہ تھی ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص 64 ۔ 63 )
ربانی، حلم ، حکمت اور فقہ کے معانی
وقال ابن عباس وكونوا ربانيين ﴾ (آل عمران:۔٧٩)حلماء فقهاء.
امام بخاری کہتے ہیں : اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ’’ رب والے بن جاؤ‘‘ ۔ ( آل عمران:۷۹ ) علم والے اور فقہ والے
لغت میں’’ ربانی‘‘ کا معنی ہے: جو اللہ عز وجل والا اور عارف باللہ ہو اور عرف میں عالم اور معلم کو ربانی کہا جا تا ہے’’ حلم ‘‘ کا معنی برد باری ہے، یعنی غضب، کے وقت پر سکون رہنا صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں’’ حکماء‘‘ کا لفظ ہے حکمت کا معنی ہے: واقع کے مطابق اشیاء کی معرفت اور عقیدہ، قول اور فعل کی صحت اور فقہ کا معنی ہے: دلائل تفصیلیہ سے احکام شرعیہ کی معرفت یا نفس کو اپنے نفع اور ضرر کے کاموں کی معرفت ۔
ويقال الرباني الذي يربي الناس بصغار العلم قبل كباره
امام بخاری کہتے ہیں: ربانی اس کو کہتے ہیں جو لوگوں کو علم کی بڑی کتابوں سے پہلے علم کی چھوٹی کتابیں پڑھاۓ ۔
امام بخاری نے یہ بعض علماء کا قول نقل کیا ہے۔