69- حدثنا محمد بن بشار قال حدثنا يحيى بن سعيد قال حدثنا شعبة قال حدثني أبو التياح، عن انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يسروا ولا تعسّروا وبشروا ولا تنفروا۔طرف اللہ حدیث: 6125

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن بشار حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحیی بن سعید نے حدیث بیان کی،  انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے ابو التیاح نے حدیث بیان کی، از حضرت انس رضی اللہ عنہ از نبی ) صلی اللہ علیہ وسلم،  آپ نے فرمایا: آسان احکام بیان کرو اور مشکل احکام نہ بیان کرو اور بشارت دو اور لوگوں کو متنفر نہ کرو ۔

( صحیح مسلم : ۱۷۳۴ مسند ابوعوانہ ج ۴ ص ۸۳ مسند ابوداؤد الطیالسی :2066، مسند البزار : ۷۵ السنن الکبری للنسائی:۵۸۹۰ مسند ابویعلی : ۴۱۷۲ حلیة الاولیا ، ج ۳ ص ۸۴ المعجم اوسط : ۴۱۲ ۷ مسند احمد ج ۳ ص ۱۳۱ طبع قدیم، مسنداحمد : 12333 -ج ۱۹ ص 341، مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی عنوان باب کے دوسرے جز کے ساتھ مطابقت ہے کہ مسلمان اکتا نہ جا ئیں ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن بشار بن عثمان بن داؤد بن کیسان البصری ،امام احمد نے کہا: میں نے ان سے پچاس ہزار احادیث لکھی ہیں ان سے ابراہیم حربی، ابوزرعہ اور ابوحاتم وغیرہ نے روایت کی ہے یہ ۲۵۲ھ میں فوت ہو گئے تھے۔

(۲) یحیی بن سعید القطان۔

( ۳) شعبہ بن الحجاج، ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔

( ۴ ) ابوالتیاح یزید بن حمید انہوں نے حضرت انس اور حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سےاور بہت  تابعین سے سماع کیا ہے، امام احمد نے کہا: یہ ثقہ اور ثبت ہیں یہ ۱۲۸ھ میں فوت ہو گئے تھے، بہت بڑی جماعت نے ان سے روایت کی ہے۔

(۵) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف ہو چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۶۸ )

آسان احکام کے متعلق قرآن مجید کی آیات

اس حدیث میں حکام اور علماء کے لیے ہدایت ہے کہ وہ عوام کو آسان احکام بیان کریں اور مشکل احکام بیان کر کے لوگوں عمل سے دور نہ کریں اور نیک کاموں پر جنت اور ثواب کی خبر سنائیں ۔

قرآن مجید میں آسان احکام کے لیے حسب ذیل آیات ہیں:

وإن كنتم مرضى أو على سفر أو جاء أحد منكم من الغائط أو لمستم النساء فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا فامسحوا بوجوهكم وایدیکم  منه ما يريد الله لیجعل عليكم من حرج ولكن يريد ليطهركم۔ (المائدہ:6)

اگر تم بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کر کے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو، پس اس کو تم اپنے چہروں اور ہاتھوں پر ملو، اللہ تم کوکسی تنگی میں ڈالنا نہیں چاہتا لیکن تم کو پاک کرناچاہتا ہے۔

وما جعل عليكم في الدين من حرج . (الحج:۷۸)

اور اللہ نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی ۔

ومن كان مريضا أو على سفر فعدة من أيام أخـر يـريـد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العسر  ولتكملوا العدة. (البقرہ:۱۸۵)

جو شخص بیمار ہو یا مسافر ہو،اسے دوسرے دنوں میں ( روزوں کی ) تعداد پوری کرنی چاہیے اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ کرتا ہے اور تمہیں مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں کرتا اور تا کہ تم گنتی پوری کرو۔

وعلى الذين يطيقونة فدية طعام مسكين(البقرہ: 184)

اور جو روزہ رکھنے کی دشواری سے طاقت رکھیں ( جیسے شیخ فانی اور دائمی مریض ) ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ( دوکلو گرام گندم) ہے۔

آسان احکام کے متعلق احادیث

اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھاۓ تو تخفیف کے ساتھ نماز پڑھاۓ کیونکہ ان ( نمازیوں) میں کمزور، بیمار اور بوڑھے ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز پڑھے تو جتنی چاہے لمبی نماز پڑھے ۔( صحیح البخاری : ۰۳ ۷ صحیح مسلم : ۴۶۷ ،سنن ترمذی:236، مسند احمد ج ۲ص۴۸۶)

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں فجر کی نماز اس لیے تاخیر سے پڑھتا ہوں کہ فلاں شخص فجر میں بہت لمبی قراءت کرتا ہے تو رسول اللہ ہم اس قدرغضب میں آۓ کہ میں نے آپ کو کبھی اس قدر غضب میں نہیں دیکھا پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم میں سے بعض لوگ دوسروں کو متنفر کرنے والے ہیں سو جو شخص لوگوں کا امام ہو، وہ اختصار سے نماز پڑھاۓ، کیونکہ اس کے پیچھے کم زور بوڑھے اور کسی کام پر جانے والے ہوتے ہیں ۔ (صحیح البخاری : ۰۴ ۷ مسلم :466 ، سنن ابن ماجہ : ۹۸۴)

حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طائف کا امیر بنایا تو مجھے آخری نصیحت یہ فرمائی : اے عثمان ! نماز اختصار کے ساتھ پڑھانا اور جو سب سے کمزور لوگ ہوں ان کا خیال رکھنا کیونکہ نمازیوں میں بوڑھے، کم عمر، بیمار، دور جانے والے اور کام پر جانے والے( بھی) ہوتے ہیں ۔

( سنن ابوداؤد :۱ ۵۳ سنن نسائی : ۶۶۸ سنن ابن ماجه: ۷ ۹۸ مسند احمد : ۷۳ ۱۶۲ دار الفکر )

حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: پس میری وجہ سے اللہ تعالی نے اس امت کے احکام میں تخفیف کر دی ہے ۔ ( سنن ترمذی:۳۳۰۰)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی عمل کو ترک کر دیتے تھے،  حالانکہ وہ عمل آپ کو محبوب ہوتا تھا۔ آپ کو یہ ناپسند ہوتا تھا کہ لوگ اس عمل میں آپ کی اقتداء کریں گے، پھر ان پر وہ عمل فرض کر دیا جاۓ گا اور آپ کو یہ پسند تھا کہ مسلمانوں پر فرائض میں تخفیف کر دی جاۓ ۔

( مسند احمد ج ۲ ص ۴ ۳ طبع قدیم مسنداحمد : 24056،  مؤسسة الرسالة بیروت اس حدیث کی سند امام بخاری اور امام مسلم کی شرط کے مطابق صحیح ہے۔ )

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۱۳ ۴۴ – ج ۵ ص 265 پر درج ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔