۱۳ – باب من يرد الله به خيرا  یفقهه في الدين

جس شخص کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کر لے اس کو دین کی فقہ (سمجھ ) عطافرماتا ہے

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اس سے پہلے باب میں اہل علم کو نصیحت کر نے کا ذکر تھا کہ کیا چیز ان کے دین میں مفید ہے اور کیا چیز مضر ہے، اور ایسی نصیحت کرنا فقیہ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس باب میں فقیہ کی مدح کا ذکر ہے اور وہ کیوں کر ممدوح نہ ہوگا، جب کہ اللہ نے اس کے ساتھ خیر کا ارادہ فرمالیا ہے ۔

 

۷۱- حدثنا سعيد بن عفير قال حدثنا ابن وهب، عن يونس ، عن ابن شهاب قال قال حميد بن عبدالرحمن سمعت معاوية خطيبا يقول سمعت النبی صلى الله عليه وسلم يقول من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، وإنما أنا قاسم والله يعطى ، ولن تزال هذه الأمة قائمة على أمر ال،له لا يضرهم من خالفهم حتى يأتي امر الله اطراف الحمد بیث:3116۔3641۔7312۔7460)

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں سعید بن عفیر نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے حدیث بیان کی، از یونس از ابن شہاب، وہ کہتے ہیں کہ حمید بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے حضرت معاویہ کو خطبہ دیتے ہوۓ سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے،  اس کو دین میں فقہ عطا فرماتا ہے اور میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا فرماتا ہے اور یہ امت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور کسی کی مخالفت سے اس کو ضرر نہیں ہو گا حتی کہ اللہ کا حکم آ جاۓ ( یعنی قیامت)۔

( صحیح مسلم : ۷ ۱۰۳ سنن ابن ماجہ : 221، المعجم الکبیر 860، ج ۱۹ مسند ابویعلی 7381،  حلیۃ اولیاء ج ۵ ص ۱۳۲ مسند احد ج ۴ ص ۹۲ طبع قدیم مسند احمد 16834، ج 28 ص 48، مؤسسہ الرسالہ، بیروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت بالکل واضح ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) سعید بن عفیر البصری ،انہوں نے امام مالک، ابن وہب ،لیث اور دیگر سے سماع کیا ہے،اور ان سے محمد بن یحیی الذھلی،  امام بخاری اور امام مسلم وغیرہ نے سماع کیا ہے، امام ابن ابی حاتم نے کہا: میں نے ان سے سماع کیا ہے، لیکن یہ ثبت نہ تھے، المقدسی نے کہا:یہ انساب اور تاریخ میں سب سے بڑے عالم تھے 226ھ میں ان کی وفات ہوئی۔

( ۲ ) عبداللہ بن وہب البصری، انہوں نے امام مالک،لیث اور ثوری سے سماع کیا ہے امام احمد نے کہا: یہ صحیح الحدیث تھے،  سماع اور عرض میں فرق کر تے تھے، یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ تھے 197ھ میں مصر میں فوت ہو گئے۔

( ۳ ) یونس بن یزید الایلی ان کا تعارف ہوچکا ہے۔

( ۴ ) محمد بن مسلم بن شہاب الزہری ان کا تعارف بھی ہوچکا ہے۔

( ۵ ) حمید بن عبدالرحمان بن عوف، ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔

(۶) حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالی عنہ یہ کاتب الوحی  تھے، فتح مکہ کے سال اسلام لاۓ، اور ۷۸ سال کی عمر گزار کر ۲۲ رجب 60ھ میں ان کی وفات ہو گئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 163 احادیث روایت کی ہیں،  امام بخاری نے ان میں سے آٹھ احادیث روایت کی ہیں اور امام مسلم نے پانچ احادیث روایت کی ہیں اور چار احادیث کی روایت پر دونوں متفق ہیں ان سے بہت بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں ۔عمدة القاری ج ۲ ص ۷۴۔ ۷۳

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فضائل میں احادیث اور آثار

بعض لوگ حضرت معاویہ سے بغض رکھتے ہیں اور ان کی تنقیص کرتے ہیں،  اس لیے ہم ان کے فضائل میں احادیث ذکر کر رہے ہیں:

حضرت عبدالرحمن بن ابی عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاویہ کے لیے دعا کی : اے اللہ ! ان کو ھادی اور مھدی بنا اور ان کے سبب سے ہدایت دے ۔ ( سنن ترمذی: ۳۸۴۲ مسند احمد ج ۴ ص 365۔216، المعجم الکبیر ج ۲ ص 399، مصنف ابن ابی شیبہ ج 12 ص ۱۵۳ التاريخ الکبیر ج ۵ ص ۲۴۰ حلیۃ الاولیاء، ج ۸ ص 358، تاریخ بغداد ج ۱ ص ۲۰۷)

رویم بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ ! میرے ساتھ کشتی لڑیے حضرت معاویہ نے اس کی طرف کھڑے ہو کر کہا: اے اعرابی! میں تیرے ساتھ کشتی لڑوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا: معاویہ بھی بھی مغلوب نہیں ہوگا حضرت معاویہ نے اس اعرابی کو پچھاڑ دیا’ جنگ صفین کے دن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: اگر مجھے یہ حدیث یاد ہوتی تو میں معاویہ سے کبھی جنگ نہ کرتا ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر : ۱۳۴۶۵ ج 26 ص۱۶ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۴۱ھ )

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان آسمان کی طرف اتنے ہاتھ بلند کر کے دعا کر رہے تھے کہ آپ کی بغلیں نظر آ رہی تھیں، آپ کہہ رہے تھے : اے اللہ ! آ گ کو معاویہ کے بدن پر حرام کر دے اے اللہ ! آ گ کو معاویہ کے بدن پر حرام کر دے ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر : ۱۳۴۸۴ ج 26، ص 66 – 66 )

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے سامنے اس دروازہ سے ایک شخص آۓ گا جو اہل جنت سے ہے تو اس دروازہ سے حضرت معاویہ آۓ، دوسرے دن پھر آپ نے اسی طرح فرمایا پھر حضرت معاویہ آۓ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ یہ ہیں، آپ نے فرمایا: ہاں ! وہ یہ ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں آپ نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: تم جنت کے دروازہ پر مجھ سے اس طرح ملوگے ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر : ۱۳۵۰۰ ج 26 ص۷۰)

یزید بن الاصم بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت علی اور حضرت معاویہ نے رضی اللہ عنہما کے درمیان صلح ہو گئی تو حضرت علی اپنے لشکر کے مقتولوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: یہ جنت میں ہیں، پھر حضرت معاویہ کے لشکر کے مقتولین کے پاس گئے اور فرمایا: یہ ( بھی ) جنت میں ہیں، اور ضرور میرے اور معاویہ کے درمیان معاملہ ہو گا۔ پھر میرے حق میں فیصلہ کیا جاۓ گا اور معاویہ کی مغفرت کی جاۓ گی اسی طرح میرے حبیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی ہے ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر ج 62 ص ۹۷ )

حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: معاویہ کی امارت کو ناپسند نہ کرو پس اللہ کی قسم ! اگر تم نے معاویہ کو گم کر دیا تو تمہارے کندھوں سے تمہارے سر اس طرح کٹ کٹ کر گریں گے گویا کہ وہ حنظل ( اندرائن ) ہیں ۔ ( تاریخ دمشق الکبیر ج 26 ص ۱۰۵ )

میمون بن مہران اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جس مرض میں حضرت معاویہ کی وفات ہوئی، اس میں انہوں نے بیان کیا  کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرارہا تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا: کیا میں تم کو قمیص نہ پہناؤں، میں نے کہا: کیوں نہیں آپ پر میرے ماں اور باپ فدا ہوں، آپ جو قمیص پہنے ہوئے تھے  آپ نے وہ اتار کر مجھے پہنا دی، میں نے اس کو پہنا پھر اٹھا کر رکھ لیا’ آپ نے اپنے ناخن تراشے، میں نے وہ ناخن لے کر ایک شیشی میں رکھ لیے اور وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو وہ قمیص میرے جسم کے ساتھ ملادینا اور ان ناخنوں کو میری آنکھوں پر رکھ دیا امید ہے ان کی برکت سے اللہ مجھ پر رحم فرمائے گا۔ ( تاریخ دمشق الکبیر ج 62 ص 156 )

فقہ کے لغوی اور اصطلاحی معانی

اس حدیث میں فرمایا ہے: جس کے ساتھ اللہ خیر کا ارادہ کرتا ہے، خیر کا لفظ شر کی ضد ہے، اس کا معنی ہے: خالص مشقت اور اللہ تعالی کے ارادہ کا معنی ہے : دومقدور چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو واقع کرنا۔

اس کے بعد فر مایا: ’يفقه في الدين ‘‘ یعنی اس کو دین میں فقیہ بنادیتا ہے ۔’’الفقہ‘‘ کا لغوی معنی ہے: دین کی فہم اور اس کا عرفی معنی ہے: دلائل تفصیلیہ سے احکام شرعیہ پر استدلال کرنا، اور اس حدیث میں لغوی معنی ہی مناسب ہے، پھر فقہ کی حسب ذیل تعریفیں ہیں:

الحسن البصری نے کہا: فقیہ وہ شخص ہے، جو دنیا میں زاہد ہو اور آخرت میں راغب ہو، دین پر بصیرت رکھتا ہو اور دائمی عبادت کرتا ہو۔

’’المحکم ‘‘میں لکھا ہے: کسی چیز کے علم اور اس کی فہم کوفقہ کہتے ہیں اور اس کا غالب اطلاق علوم دینیہ پر کیا جاتا ہے ۔

ثعلب نے کہا: قرآن مجید ہر علم کی اصل ہے اور اسی سے علماء کو دین کی فقہ حاصل ہوئی ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۷۴ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قائم ہونے کی توجیہ

نیز اس حدیث میں فرمایا: میں تو صرف قاسم ہوں اور عطا، اللہ فرماتا ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور بھی صفات ہیں آپ نبی اور رسول ہیں، بشیر اور نذیر ہیں، پھر یہ کیوں فرمایا: میں تو صرف قاسم ہوں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں مراد قصر قلب ہے یعنی میں عطا نہیں کرتا ۔ عطا تو اللہ تعالی کرتا ہے میں تو صرف اس عطا کی تقسیم کرتا ہوں اور کیا تقسیم کرتا ہوں یہ نہیں فرمایا تا کہ آپ کی تقسیم صرف فقہ میں منحصر نہ ہو، اللہ تعالی ہر چیز عطا کرتا ہے خواہ وہ علم ہو یا مال اور میں ہر چیز کوتقسیم کرتا ہوں خواہ وہ علم ہو یا مال ہو، اسی وجہ سے ائمہ حدیث نے اس حدیث کو’’ باب العلم‘‘میں بھی ذکر کیا ہے اور’’ باب الغنيمة‘‘ میں بھی ذکر کیا ہے بلکہ حق یہ ہے کہ ابتداء آفرینش عالم سے جس کو جو کچھ ملا، وہ آپ کی تقسیم سے ملا اور آپ کی تقسیم سے ملے گا۔

اور اس حدیث میں فرمایا: میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر غالب رہے گا اور کسی کی مخالفت سے اس کوضرر نہیں ہو گا۔ امام احمد نے کہا: اس گروہ سے مراد محدثین ہیں قاضی عیاض نے کہا: اس گروہ سے مراد اہل السنت والجماعت ہیں علامہ نووی نے کہا: اس گروہ کی کئی شاخیں ہیں، بعض مجاہد ہیں، بعض فقہاء ہیں، بعض محدث ہیں اور بعض زاہدین ہیں ۔

حجیت اجماع پر احادیث سے دلائل

اس حدیث میں فرمایا: یہ امت ہمیشہ اللہ کے دین پر قائم رہے گی، یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں اجماع کے حجت ہونے پر دلیل ہے ۔ حجیت اجماع پر یہ حدیثیں بھی دلیل ہیں :

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت گم راہی پر مجتمع نہیں ہوگی ۔( السنة لابی عاصم : ۸۶ حلیۃ الاولیا ء ج ۳ ص ۳۷، سنن دارمی ج۱ ص۲۹)

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی اس امت کو کبھی بھی گم راہی پر مجتمع نہیں فرماۓ گا۔ ( سنن ترمذی:2506، الترغیب والترہیب ج ۳ص ۳۱۰  تاریخ بغداد ج ۹ ص ۹۶ اللئالی المصنوعة ج ۲ ص 228، حلیۃ الاولیاء، ج ۵ ص ۱۸۶)

نیز اس حدیث میں فقہ کی تمام علوم پر فضیلت ہے اور یہ فضیلت اس وقت ہے جب فقیہ اللہ تعالی سے ڈرے اور علم کے تقاضوں پرعمل کرے اور اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غیب کی خبر دی ہے کہ  یہ امت قیامت تک اللہ کے دین پر قائم رہے گی اور الحمد للہ ! علماء حق کی جماعت اسی طرح دین پر قائم ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۷۸ – ۷۴ ، ملخصا و موضحا ومخرجا )

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم :۲۲۸۵۔ ج۲ ص۹۵۸ پر ہے اس کی شرح کے عنوانات یہ ہیں:

سوال کرنے کے جواز اور عدم جواز کا محمل

(۲) دور فاروقی میں روایت حدیث میں احتیاط

(۳) فقہ کی فضیلت

(۴) ” انـمـا انـا قاسم ‘‘ کی تشریح۔