بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

📗📕 شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ کے چند عقیدت مندوں کی طرف سے پوسٹ شئیر کیا گیا ہے کہ احناف کو شیخ ابن تیمیہ کا احسان مند ہونا چاہیے کہ انکی کتاب “رفع الملام عن الأئمة الأعلام” کی وجہ سے امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ کی شخصیت صاف ہوئی اور بعد کے ائمہ ثلاثہ کے محدثین نے اسی وجہ سے امام ابو حنیفہ کی تعریف و توصیف کی۔۔۔۔۔۔۔الخ

📗📗الجواب :

📗🔋مسلک احناف کی ترویج کے اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ مسلک مکمل طور پر مدون ہوچکا تھا۔۔۔خلافت / حکومت کا سرکاری مسلک تھا۔۔۔ اسلامی قانون کو حسن ترتیب و اصول سے مدون احناف نے ہی کیا۔۔ امام ابو جعفر طحاوی رحمتہ اللہ جیسے بڑے محدث نے قرآن و احادیث سے مسلک احناف کا دفاع کیا۔آپکی حیثیت حنفی بیریسٹر کی طرح ہے۔ اگر احناف قرآن و احادیث سے مسائل کا استنباط نہ کرتے تو انکا مسلک بھی معتزلہ، قدریہ، جبریہ کی طرح کب کا ختم ہوگیا ہوتا۔۔۔۔چاہے شیخ ابن تیمیہ دفاع کرتے یا انکے روحانی استاد شیخ ابن حزم۔

📕🔋شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے جتنا دفاع، تعریف و توصیف شیخ ابن حزم کا کیا ہے اسکے عشر عشیر بھی امام ابو حنیفہ کا نہی کیا۔۔۔۔اس کے بعد بھی ظاہری مسلک کے ساتھ کیا ہوا؟؟

🔋حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ :

“حجاج کی تلوار اور ابن حزم کا قلم ایک ہی درجہ کی چیز ہے”.

🔋اسی طرح امام ذھبی رحمتہ اللہ نے شیخ ابن حزم پر جا بجا تنقید کی ہے۔

📕📗شیخ ابن تیمیہ کا مسلک انہیں کے زمانے میں ختم ہوگیا تھا۔۔۔ جنہوں نے بھی اس زمانے میں انکی تائید کی انہوں نے سخت آزمائشیں جھیلیں۔ شیخ ابن تیمیہ کے مسلک کو دوبارہ سے زندہ شیخ ابن عبدالوہاب نجدی نے کیا۔ اور رہی انکی کتاب جو دفاع میں لکھی گئی ہے تو آج کے زمانے میں اتنی جدید سہولت میسر ہے پھر بھی پڑھنے والے کم ہی ہیں۔۔۔600 سال قبل تو خواص کو بھی ہر نسخہ پر رسائی نہی تھی۔

📕اس لیے یہ دعوی کرنا کہ شیخ ابن تیمیہ کے دفاع کی وجہ سے امام اعظم کی شخصیت صاف ہوئی بعید از قیاس ہے۔اور خوش فہمی کے سوا کچھ نہی۔بلکہ غلط فہمی یا عقیدت مندی کہہ لیں تو بجا ہے۔

🔋باقی ہم اسکے شکر گزار ہیں کہ : شیخ ابن تیمیہ اور انکے شاگرد خاص شیخ ابن عبدالہادی نے احناف کے دفاع میں تصانیف لکھیں۔۔ انہوں نے سلف کے دفاع کا حق ادا کردیا۔

📗مسلک حنفی کو احادیث کے موافق جس نے ثابت کیا  (متقدمین میں امام طحاوی رحمتہ اللہ) وہ امام ماردینی حنفی رحمتہ اللہ 751 ھجری ہیں جنہوں نے سنن کبری بیہقی پر حاشیہ لکھ کر جا بجا امام بیہقی کا تعاقب کرکے انکا تعصب واضح کیا اور احناف کے مسائل کو صحیح و حسن احادیث کے موافق ثابت کیا۔یہ کتاب سنن کبری بیہقی کے ساتھ پچھلے 600 سالوں سے چھپ رہی تھی۔۔۔ابھی 30،40 سال پہلے سلفیوں نے امام ماردینی کے حاشیہ کو سنن کبری بیہقی سے نکال کر سنن کبری بیہقی کو الگ سے چھاپا ہے۔

📗اسی طرح انکے معاصر دوسرے امام : امام زیلعی حنفی رحمتہ اللہ متوفی 769 ھجری ہیں۔  جہنوں نے علم حدیث اور تخریج الحدیث پر بہت زبردست علمی کام کیا۔

📗حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ متوفی 852 ھجری نے ان دو ائمہ احناف کی تصانیف سے بہت زیادہ گائیڈنس حاصل کیا۔۔۔جس نے بھی امام ماردینی و امام زیلعی کی کتب کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے وہ دعوی کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ تخریج احادیث، دلائل کا تعاقب و حسن ترتیب میں حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نے اپنی اکثر تصانیف میں ان دو ائمہ احناف کے طریقہ کار کو ہی اپنایا ہے۔

📗اسی طرح تیسرے اور چوتھے بڑے محقق جنہوں نے احادیث کے مطابق فقہ حنفی کو ثابت کیا وہ محقق علی الاطلاق شیخ کمال ابن ھمام رحمتہ اللہ 861 ھجری ہیں۔ اور شیخ بدرالدین عینی حنفی رحمتہ اللہ 856 ھجری شارح صحیح بخاری ہیں۔۔جو محتاج تعارف نہیں۔

📗شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اللہ جب حجاز احادیث کا علم حاصل کرنے گئے تو وہ کتب احادیث پڑھ کر بہت زیادہ پریشان ہوئے اور چاہا کہ مسلک حنفی ترک کردیں۔۔ مگر انکے شیخ جو کہ شافعی محدث امام تھے۔۔۔۔نے انہیں کمال ابن ھمام کی فتح القدیر اور امام زیلعی و امام ماردینی کی تصانیف کی طرح متوجہ کروایا۔۔۔ جسے پڑھ کر شیخ عبدالحق محدث دہلوی کا یہ یقین کامل ہوگیا کہ مسلک احناف ہی قرآن و سنت کے سب سے زیادہ موافق ہے۔

اسد الطحاوی الحنفی Shahrukh Khaan Salman Shahid Talha Khan Adravi Khuzaima Xahiri عبدالسلام عباسی Sareer Ahmad Shoaib Khan