کھرپ پتی قریشی!

زید مفتی حنیف قریشی اپنی ایک تقریر کا 80ہزار لیتا ہے اور دن میں عموما دو محفلیں کرلیتا ہے یعنی یہ ایک دن میں فقط ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے کما لیتا ہے

ایک سال365دن کا ہوتا ہے اب اس میں ضروری مصروفیات وغیرہ چھوڑ کر اگر فقط 300دن کی تقریریں شمار کریں تو اسکی ایک سال کی کل مالیت 48کروڑ روپے بنتی ہے اور زید حنیف قریشی مسلسل 15سال تو تقریر کررہا ہے جس میں فقط اسکے تین سال کے تقریروں کی مالیت 1 ارب 92کروڑ بنتی ہے یہ وہ موٹا موٹا حساب ہے جو کسی کمی پیشی کے ساتھ اندازا لگایا گیا ہے!!

یعنی ہم کہ سکتے ہیں زید حنیف قریشی اس وقت کھرب پتی ہونے کے قریب ہے یا کھرب پتی ہے اب  اس سارا حساب کرنے کا مقصد کیا ہے سنیے!

کھرب پتی قریشی صاحب کے دین کے نام پر کمائے گئے ان رقوم سے آپکو نا اسکا مدرسہ نظر آئے گا نا مسجد نظر آئے گی نا مسلکی ترویج و اشاعت کے لیے اسکی کوئی خدمات نظر آئیں گی بلکے خود جس جامعہ میں تدریس کرتا ہے اسکے کھانے پینے کے معاملات بھی نارمل ہیں یعنی کم ازکم اس جامعہ کو تو شاندار رکھتا مگر یہ کنجوس انسان پیسہ پر پیسہ بنارہا ہے!

اگر نظر آئیں گے تو چرپ زبانی سے کیے گئے تھکے ہوئے مناظرے،آگ نکالتی اہلسنت مشائخ کیخلاف کالی زبان،سبقت لسانی کے نام پر صحابہ کرام علیھم الرضوان پر نکلتا سینے کا بغض،منبر پر اچھالتے ہوئے روافض کی بولی میں شان اہلبیت پر مبنی غلو امیز تقرریں بس!!

اب میرا مطالبہ فقط اتنا ہے کہ زید حنیف قریشی دوسروں کی عیب جوئی مالی معاملات پر تبصرے کرنے کے بجائے ایک ویڈیو اپنی ذاتی مالی تعاون سے کیے گئے خدمات پر بھی بنائے تاکہ پتہ چلے زید حنیف قریشی فقط چر چر کرنے کا عادی ہے یا اسکے دامن میں بھی دین کی خدمات کا کوئی حصہ آیا ہے لیکن نا نو من کا تیل ہوگا نا رادھا ناچے گی!

وقار احمد