یزید کے شرابی ہونے پر صحابی رسول ﷺ حضرت معقل بن سنان کی گواہی
یزید کے شرابی ہونے پر صحابی رسولﷺ حضرت معقل بن سنان کی گواہی
تحریر: اسد الطحاوی
امام ذھبی حضرت معقل بن سنان ابو یزید کے ترجمہ میں ایک روایت نقل کرتےہیں:
وَقَالَ الْمَدَائِنِيُّ، عَنْ عَوَانَةَ، وَأَبِي زَكَرِيَّا الْعَجْلانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ: إِنَّ مُسْلِمًا لَمَّا دَعَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ إِلَى الْبَيْعَةِ، يَعْنِي بَعْدَ وَقْعَةِ الْحَرَّةِ، قَالَ: لَيْتَ شِعْرِي مَا فَعَلَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ، وَكَانَ لَهُ مُصَافِيًا، فَخَرَجَ نَاسٌ مِنْ أَشْجَعَ، فَأَصَابُوهُ فِي قَصْرِ الْعَرَصَةِ، وَيُقَالُ: فِي جَبَلِ أُحُدٍ، فَقَالُوا لَهُ: الأَمِيرُ يُسْأَلُ عَنْكَ فَارْجِعْ إِلَيْهِ، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِهِ مِنْكُمْ، إِنَّهُ قَاتِلِي، قَالُوا: كَلا، فَأَقْبَلَ مَعَهُمْ، فقال له: مرحبا بأبي محمد، أظنك ظمآنا، وَأَظُنُّ هَؤُلاءِ أَتْعَبُوكَ، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ: شَوِّبُوا لَهُ عَسَلا بِثَلْجٍ، فَفَعَلُوا وَسَقَوْهُ، فَقَالَ: سَقَاكَ اللَّهُ أَيُّهَا الأَمِيرُ مِنْ شَرَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: لا جَرَمَ وَاللَّهِ لا تَشْرَبُ بَعْدَهَا حَتَّى تَشْرَبَ مِنْ حَمِيمِ جَهَنَّمَ، قَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ وَالرَّحِمَ، قَالَ: أَلَسْتَ قُلْتَ لِي بِطَبَرِيَّةَ وَأَنْتَ مُنْصَرِفٌ مِنْ عِنْدِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ وَقَدْ أَحْسَنَ جَائِزَتَكَ: سِرْنَا شَهْرًا وَخَسِرْنَا ظَهْرًا،
” نَرْجِعُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَخْلَعُ الْفَاسِقَ يَشْرَبُ الْخَمْرَ،”
عَاهَدْتُ اللَّهَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ لا أَلْقَاكَ فِي حَرْبٍ أَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلا قَتَلْتُكَ، وَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ.
امام مدائنی عوانہ بن حکم اور زکریا عجلانی کے طریق سے حضرت عکرمہ بن خالد سے روایت کرتے ہیں:
جب مسلم نے مدینہ کے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا، یعنی واقعہ حرہ کے بعد، تو اس نے کہا، “مجھے معلوم نہیں معقل بن سنان کا کیا حال ہے؟” اور وہ اس کا دوست تھا۔ پھر کچھ لوگ اشجع کے نکلے اور اسے قصر العرصة میں پایا، اور کہا جاتا ہے کہ جبل احد میں پایا۔ انہوں نے کہا، “امیر آپ کے بارے میں پوچھ رہا ہے، واپس چلو۔” اس نے کہا، “میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، وہ مجھے قتل کرنے والا ہے۔” انہوں نے کہا، “ایسا نہیں ہوگا۔” پھر وہ ان کے ساتھ چلا آیا۔
مسلم نے کہا، “ابو محمد خوش آمدید، مجھے لگتا ہے کہ تم پیاسے ہو اور مجھے لگتا ہے کہ یہ لوگ تمہیں تھکا چکے ہیں۔” اس نے کہا، “ہاں،” مسلم نے کہا، “اس کے لئے شہد کو ٹھندک کے ساتھ ملا دو،” انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسے پلایا۔ اس نے کہا، “اللہ تمہیں جنت کے پانی سے پلائے، اے امیر!” مسلم نے کہا، “بیشک، لیکن خدا کی قسم، تم اس کے بعد کوئی مشروب نہیں پیو گے یہاں تک کہ تم جہنم کے پانی سے پیو گے۔” اس نے کہا، “اللہ اور رشتہ داری کا واسطہ دیتا ہوں۔” مسلم نے کہا، “کیا تم وہی نہیں ہو جو طبریہ میں مجھے ملا تھا جب تم امیر المؤمنین (یزید) کے پاس سے لوٹ رہے تھے اور اس نے تمہیں عمدہ انعام دیا تھا۔ تم نے کہا تھا، ‘ہم نے ایک مہینہ سفر کیا، اور ہمارے جانور تھک گئے، اور ہم خالی ہاتھ واپس آئے۔
“ہم مدینہ واپس جاتے ہیں اور فاسق شراب پینے والے (یزید) کو معزول کرتے ہیں۔”
میں نے اللہ سے اس رات عہد کیا تھا کہ اگر میں تمہیں کسی جنگ میں ملوں جہاں میں تمہیں قتل کر سکوں، تو میں تمہیں قتل کروں گا۔” پھر اس نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔
نوٹ: اسی روایت سے استدلال کرتے ہوئے امام ذھبی حضرت معقل بن سنان کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:
وكان يكون بالكوفة، فوفد على يزيد، فرأى منه قبائح، فسار إلى المدينة وخلع يزيد، وكان من رؤوس أهل الحرة.
قال الحاكم أبو أحمد: كنيته أبو سنان، ويقال: أبو عبد الرحمن، ويقال: أبو محمد، ويقال: أبو يزيد، من غطفان، قتل صبرا يوم الحرة،
وہ کوفہ میں رہتے تھے، پھر یزید کے پاس آئے اور اس سے برائیاں دیکھیں۔ پھر وہ مدینہ گئے اور یزید کی بیعت توڑ دی۔ وہ اہل حرہ کے اہم رہنماؤں میں سے تھے۔
امام حاکمالکبیر ابو احمد نے کہا: ان کی کنیت ابو سنان تھی، اور کہا جاتا ہے کہ ابو عبد الرحمن، اور کہا جاتا ہے کہ ابو محمد، اور کہا جاتا ہے کہ ابو یزید تھی۔ وہ غطفان سے تھے اور واقعہ حرہ کے دن حالت صبر کے ساتھ قتل کئے گئے۔
[تاریخ الاسلام ،برقم:108]
اس روایت کی مکمل متصل سند امام ابن عساکر نے بیان کی ہے جو کہ درج ذیل ہے:
أخبرنا أبو غالب الماوردي أنا أبو الحسين بن الطيوري أنا أبو الحسن محمد بن عبد الواحد بن محمد بن جعفر أنا أبو بكر أحمد بن الحسن بن إبراهيم بن شاذان أنا أبو بكر أحمد بن محمد بن شيبة بن أبي شيبة البزاز أنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخراز نا أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف المدائني عن عوانة وأبي زكريا العجلاني عن عكرمة بن خالد أن مسلما لما دعا الناس إلى البيعة الخ۔۔۔
[تاریخ دمشق، ج59،ص364]
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سند کے رجال کی تحقیق:
۱۔ پہلے راوی: أبو غالب الماوردي محمد بن الحسن بن علي
الشيخ، الإمام، المحدث، الصدوق،
[سیر اعلام النبلاء برقم: 338]
۲۔ دوسرے راوی: أبو الحسين البغدادي الصيرفي المعروف بابن الطيوري المبارك بْن عَبْد الجبّار
قال السمعاني: كان محدثا مكثرا صالحا أمينا، صدوقا،
وذكره أبو عليّ بْن سُكَّرَة، فقال: الشَّيْخ الصالح الثقة، كان ثبتا فهما، عفيفا، متقنا، صحب الحفاظ
[تاریخ الاسلام، برقم: 375]
۳۔ تیسرے راوی: محمد بن عبد الواحد بن محمد بن جعفر بن أحمد بن جعفر بن الحسن بن وهب أبو الحسن
وكتبنا عنه وكان صدوقا
[تاریخ بغداد، برقم: 1134]
۴۔ چوتھے راوی: أحمد بن إبراهيم بن الحسن بن محمد بن شاذان بن حرب بن مهران أبو بكر
وكان ثقة ثبتا، صحيح السماع كثير الحديث
[تاریخ بغداد، برقم: 1882]
نوٹ: مذکورہ روایت کی سند میں انکا نام غلطی سے احمد بن الحسن بن ابراھیم شاذان لکھا ہوا ہے ۔
جبکہ راوی کا اصل نام احمد بن ابراھیم الحسن شاذان البزاز ہے ۔
جیسا کہ امام ابن عساکر دوسرے مقام پر یہی سند بیان کرتے ہیں اور اس میں اس راوی کا نام بالکل ٹھیک لکھا ہوا ہے :
خبرنا أبو غالب محمد بن الحسن الماوردي أنا المبارك بن أحمد بن عبد الجبار أنا محمد بن عبد الواحد بن محمد بن جعفر المعدل أنا
“أحمد بن إبراهيم بن الحسن بن شاذان”
أنا أحمد بن محمد بن شيبة بن أبي شيبة البزاز أنا أبو جعفر أحمد بن الحارث الخراز عن أبي الحسن علي بن محمد بن عبد الله بن أبي يوسف المدائني عن عبد الله بن محمد الثقفي الخ۔۔۔
[تاریخ دمشق، برقم:2235]
۵۔ پانچویں راوی: أحمد بْن محمد بْن شبيب البغداديّ البزّاز، أبو بَكْر بْن أَبِي شَيْبة
ووثَّقه الدَّارَقُطْنيّ.
[تاریخ الاسلام ، برقم: 288]
۶۔ چھٹا راوی: أَحمَد بْن الحارث البَغْداديُّ، أَبُو جعْفَر الخرّاز.
شيخ صدوق
حمل عَنْ أبي الْحَسَن المدائنيّ تصانيفه.
[تاریخ الاسلام، برقم:برقم:13]
۷۔ ساتویں راوی: عَليّ بن محمد بن عبد الله بن أبي سيف، أبو الحسن المدائني الأخباري.
وكان عالمًا بالمغازي والسِّير والأنساب، وأيام العرب، صدوقا فيما ينقله.
[تاریخ الاسلام برقم: 291]
۸۔ آٹھواں راوی: عوانة بن الحکم
وكان صدوقا في نقله
[تاریخ الاسلام برقم: 78]
اسکا متابع ایک راوی ہے جو کہ مجہول ہے ۔ لیکن وہ اس راوی سے تقویت حاصل کرتا ہے۔
۹۔ نواں راوی: عكرمة بن خالد بن العاص
سمعت أحمد، قال: عكرمة بن خالد، ثقة
[سؤلاته ابی داود، برقم: 151]
نوٹ: عکرمہ بن خالد کی وفات ۱۱۵ھ ہے اور انکا سماع حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس وغیرہ سے ثابت ہے۔
اور جبکہ مذکورہ روایت میں معقل بن سنان ہیں جنکی وفات ۶۳ھ ہے۔ تو لقاء کا بھی کوئی مسلہ نہیں ہے۔
اس سے ثابت ہوا کہ جن دیگر اصحاب رسولﷺ نے محمد بن حنفیہ کے سامنے یزید کو شرابی اور تارک نماز کہا تھا ۔ اور امام محمد بن حنیفہ نے انکار کیا تو صحابہ کرامؓ نے فرمایا تھا کہ یزید آپکو دکھانے کے لیے ایسا کرتا تھا ۔
یہ بات سچی ثابت ہوئی ۔
کیونکہ حضرت معقل بن سنان تو یزید کو جانتے تھے اور اسکے برے اعمال کو دیکھ کر ہی بیعت توڑی تھی۔
تو صحابہ کرام کی بات مقدم اور شہادت کے لیے کافی ہے یزید کے فسق و شرابی ہونے کے لیے ۔
تحیقق: اسد الطحاوی