أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ كُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوۡمِ الدِّيۡنِۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم یوم جزا کی تکذیب کرتے تھے

یقینی چیز کی وضاحت

المدثر : ٤٧۔ ٤٦ میں فرمایا : اور ہم یوم جزاء کی تکذیب کرتے تھے۔ حتیٰ کہ ہم پر یقینی چیز آگئی۔

قیامت کے انکار کو سب سے آخر میں ذکر کیا کیونکہ یہ کافروں کا سب سے بڑا جرم تھا، پھر کہا کہ ہم پر یقینی چیزآ گئی مفسرین نے اس سے مراد موت لی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ موت کا انکار نہیں کرتے تھے بلکہ مرنے کے بعد اٹھنے کا انکار کرتے تھے اور وہ اپنی زندگی میں اس کا انکار کرتے رہے حتیٰ کہ آخرت میں ان پر منکشف ہوگیا کہ جزا اور سزا برحق ہے اور انہوں نے اس چیز کو یقین سے جان لیا۔

القرآن – سورۃ نمبر 74 المدثر آیت نمبر 46