۲۱- باب رفع العلم وظهور الجهل

علم کا اٹھ جانا اور جہل کا غالب ہونا

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق عالم اور متعلم کی فضیلت میں تھا اور اس سے علم کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے اور اس باب میں اس کی ضد کا بیان ہے یعنی جہل کا غالب ہونا ۔

علماء کوضائع کر نے کا معنی

وقال ربيعة لا ينبغي لأحد عنده شيء من العلم أن يضيع نفسہ

  ربیعہ نے کہا: جس کے پاس تھوڑا سا بھی علم ہوا اسے اپنے آپ کو ضائع نہیں کرنا چاہیے ۔

یہ ربیعہ بن ابوعبدالرحمان فروخ ہیں، امام مالک بن انس کے شیخ ہیں ان سے امام ابوحنیفہ نے احادیث روایت کی ہیں یہ ۱۳۶ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے تھے۔

اس قول کا معنی یہ ہے کہ عالم کو دنیاداروں کے پاس نہیں جانا چاہیے اور علم کی عظمت قائم رکھنے کے لیے ان کے سامنے تواضع نہیں کرنی چاہیے اور ایسا نہ کرے کہ وہ تعلیم و تعلم میں کم مشغول ہو اور نمود و نمائش کے کاموں میں زیادہ مشغول ہو اور علم کے تقاضے پر

عمل کر نے کو چھوڑنا اور ظالم حکام کے سامنے حق بیان کرنے کو ترک کرنا نہیں چاہیے فقہاء نے کہا ہے کہ حاکم شہر پر لازم ہے کہ وہ بیت

المال سے علماء کا وظیفہ مقرر کر ے، جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں، جس طرح حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے آ دھی بکری یا سالم بکری کا بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا گیا تھا۔

۸۰- حدثنا عمران بن ميسرة قال حدثنا عبد الوارث، عن أبي التياح، عن أنس قال قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم إن من أشراط الساعة أن يرفع العلم ويثبت الجهل ويشرب الخمر ويظهر الزنا.اطراف الحدیث :۸۱ -۵۲۳۱۔۵۵۷۷-6808

 امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں عمران بن میسرہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الوارث نے حدیث بیان کی از ابي التياح از حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جاۓ گا اور جہل ثابت ہو گا اور شراب پی جاۓ گی اور زنا بہ کثرت ہوگا۔

( صحیح مسلم :۰۲۶۷۱ خلق افعال العباد :341 السنن الکبری للنسائی:۵۹۰۵ دلائل النبوہ للبیہقی ج۶ ص ۵۴۳ مسند احمد ج ۳ ص ۱۵۱ طبع قدیم مسنداحمد : ۱۲۵۲۷۔ ج۲۰ ص ۸ مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت واضح ہے کیونکہ باب کا عنوان ہے : علم کا اٹھ جانا اور حدیث میں اس کا ذکر ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) عمران بن میسرہ المنقری البصری، ان سے ابوزرعہ ،ابوحاتم، امام بخاری اور امام ابوداؤد نے احادیث روایت کی ہیں یہ ۲۲۳ھ میں فوت ہوگئے تھے.

(۲) عبدالوارث بن سعید بن ذکوان التیمی البصری، ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۳) ابوالتیاح یزید بن زیادہ المضبعی یہ ثقہ، ثبت اور صالح ہیں ۱۲۸ھ میں فوت ہو گئے تھے ان سے ایک جماعت نے روایت کی ہے.

(۴) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ ۔

(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۲۳)

ہمارے زمانہ میں جاہلوں کا غلبہ

علم کے اٹھ جانے سے مراد یہ ہے کہ علماء اٹھ جائیں گے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ علماء کے سینوں سے علم کو محو کردیا جاۓ گا لیکن جب علماء فوت ہو جائیں گے اور لوگ جاہلوں کو اپنا پیر اور پیشوا بنالیں گے اور وہ اپنی راۓ سے دین میں احکام جاری کر یں گے اور اپنی جہالت کے باوجود فتوے جاری کریں گے احادیث کے غلط ترجمے کریں گے اردو کی کتابیں پڑھ کر اور ان میں اپنی طرف سے رنگ آمیزی کر کے وعظ کریں گے خود بھی گم راہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گم راہ کریں گے ہمارے زمانہ میں اس کی بہت نظائر ہیں ہم ان جاہلوں کے غلبہ سے اللہ کی پناہ طلب کر تے ہیں ۔

شرح صحیح مسلم میں باب مذکور کی حدیث کی شرح

باب مذکور کی حد یث شرح صحیح مسلم :6661 ۔ ج ۷ ص ۴۰۲ پر مذکور ہے اور اس کی شرح کے حسب ذیل عنوانات ہیں:

علم کے اٹھنے اور جہل کے پھیلنے کی پیش گوئی ہمارے زمانہ میں پوری ہوئی

قیامت کی علامت میں سے مردوں کے کم ہونے اور عورتوں کے زیادہ ہونے کی وجہ

 جاہلوں کو رئیس اور شیخ بنانے کی مذمت ۔