کتاب العلم باب 24 حدیث نمبر 84
٢٤- باب من أجاب الفتيا بإشارة اليد والراس
جس نے ہاتھ یا سر کے اشارہ سے سوال کا جواب دیا
اس سے پہلے باب میں صرف سوال کرنے کا ذکر تھا اور اس باب میں سوال اور جواب دونوں کا ذکر ہے ۔
٨٤- حدثنا موسى بن إسماعيل قال حدثنا وهيب قال حدثنا أيوب، عن عكرمة عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل فی حـجـتـه فـقال ذبحت قبل أن ارمی؟ فاوما بيده قال ولا خرج قال وحلقت قبل أن أذبح؟ فاوما بيده لا خرج۔ اطراف الحدیث:۱۷۲۱۔1722۔1723۔ ۱۷۳۴۔۱۷۳۵-6666
امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں موسی بن اسماعیل نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں وہیب نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی از عکرمہ از حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حج کے متعلق سوال کیا گیا ایک شخص نے کہا: میں نے کنکریاں مارنے سے پہلے ذبح کر لیا۔ آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ایک شخص نے کہا: میں نے ذبح کرنے سے پہلے سرمونڈ لیا آپ نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ کوئی حرج نہیں ۔
اس حدیث کی باب کے عنوان سے اس طرح مطابقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں سوالوں کا جواب ہاتھ کے اشارہ سے دیا ۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
اس حدیث کے تمام رجال کا تعارف ہو چکا ہے۔
اس حدیث سے یہ معلوم ہوا کہ ہاتھ کے اشارہ سے بھی عالم کے لیے سوال کا جواب دینا جائز ہے باقی حج کے افعال میں تقدیم اور تاخیر سے دم ( قربانی) لازم ہے یانہیں اس کی تفصیل گزشتہ حدیث کی شرح میں بیان کی جا چکی ہے ۔