٨٥- حدثنا المكي بن إبراهيم قال أخبرنا حنظلة بن أبي سفيان عن سالم قال سمعت أبا هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال يقبض العلم، ويظهر الجهل والفتن ، ويكثر الهرج قيل يارسول الله وما الهرج؟ فقال هكذا بيده فحرفها، كانه يريد القتل۔

اطراف الحدیث :۶ ۱۰۳۔ 6037- 7061

 

 امام بخاری روایت کر تے ہیں: ہمیں المکی بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں حنظلہ بن ابی سفیان نے حدیث بیان کی از سالم انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم اٹھالیا جائے گا اور جہل اور فتنوں کا ظہور ہوگا اور بہ کثرت ھرج ہوگا آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ! ھرج کیا ہے؟ آپ نے اشارہ سے ہاتھ کو گردن پر پھیرا گویا آپ نے اس لفظ سے قتل کا ارادہ کیا۔

( سنن ابن ماجہ : 4052، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۶۴ مصنف عبد الرزاق:۲۰۷۵۱ مسند احمد ج ۲ ص ۲۳۳ طبع قدیم مسند احمد : ۷۱۸۶۔ج ۱۲ ص 111، مؤسسة الرسالة بيروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان سے اس طرح مطابقت ہے کہ اس میں ہاتھ کے اشارہ سے جواب دینے کا ذکر ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) المکی بن ابراہیم بن بشر الخراسانی یہ امام بخاری کے سب سے بڑے شیوخ میں سے ہیں، کیونکہ یہ تابعین سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام احمد اور یحیی بن معین اور امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد اور امام ترمذی نے روایت کی ہے ۔ امام احمد نے کہا: یہ ثقہ اور ثبت ہیں یہ ۱۲۶ھ میں پیدا ہوۓ اور ۲۱۴ھ میں بلخ میں فوت ہو گئے۔

( ۲ ) حنظلہ بن ابی سفیان۔

( ۳) سالم بن عبد اللہ بن عمر بن الخطاب ۔

( ۴ ) حضرت ابوہریرہ عبدالرحمان بن صخر رضی اللہ عنہ ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۳۸)

اس حدیث میں هـــرج ‘‘ کا لفظ ہے اس کا معنی فتنہ اور اختلاط ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تفسیر قتل سے فرمائی ہے،  نیز اس حدیث میں فرمایا ہے : علم کو اٹھا لیا جائے گا اور اس سے پہلے حدیث میں آچکا ہے کہ علماء کو اٹھانے سے مراد یہ ہے کہ علم کو اٹھا لیا جاۓ گا۔