اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚ – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 17
sulemansubhani نے Sunday، 15 September 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اِنَّ عَلَيۡنَا جَمۡعَهٗ وَقُرۡاٰنَهٗۚ ۞
ترجمہ:
بیشک اس کو ( آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور آپ کو اس کو پڑھانا ہمارے ذمہ ہے.
القیامہ : ٧ ١ میں فرمایا : بیشک اس کو ( آپ کے سینہ میں) جمع کرنا اور آپ کو اس کا پڑھنا ہمارے ذمہ ہے۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ میں قرآن مجید کو محفوظ کرنا اور اللہ سبحانہ کے ذمہ ہے
حضرت ابن عباس نے فرمایا : یعنی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس قرآن کو آپ کے سینہ میں جمع کریں، پس جب ہم قرآن کی کوئی آیت نازل کریں تو آپ غور سے سنیں، پھر یہ ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس قرآن کو آپ کی زبان سے پڑھوائیں، اس کے بعد جب حضرت جبریل آتے تو آپ سر جھکا کر بیٹھ جاتے، پھر جب وہ چلے جاتے تو آپ قرآن مجید کی ان آیتوں کو اس طرح پڑھ لیتے تھے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔
(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٩٢٩، صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٤٤٨، سنن ترمذی رقم الحدیث : ٣٣٢٩ )
مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہ کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت جبریل دو با رہ آپ کے پاس آئیں اور آپ کے سامنے دوبارہ ان آیات کو پڑھیں اور آپ سن کر ان کو دہرائیں حتیٰ کہ آپ کو وہ آیات حفظ ہوجائیں۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد یہ ہوا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم یہ آیات آپ سے اس طرح پڑھوائیں گے کہ آپ ان کو نہیں بھولیں گے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :
سنقرئک فلا تنسی۔ ( الاعلی : ٦) ہم عنقریب آپ کو پڑھائیں گے سو آپ نہیں بھولیں گے۔
میں کہتا ہوں کہ امام رازی نے اس آیت کی جو پہلی تفسیر ذکر کی ہے وہ صحیح نہیں ہے، اس آیت کی وہی تفسیر صحیح ہے جو ہم نے حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے حوالے سے نقل کی ہے۔
القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 17