٢٦- باب الرحلة في المسألة النازلة وتعليم أهله

کسی پیش آمدہ مسئلہ کا حل معلوم کرنے کے لیے سفر کرنا اور اپنے گھر والوں کو تعلیم دینا

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں علم کی ترغیب کا ذکر تھا اور جس کو شدت سے علم کی ترغیب دی جاۓ، وہ کبھی اپنے پیش آمدہ مسئلہ کے حل کی تلاش میں نکل جاتا ہے ۔

۸۸- حدثنا محمد بن مقاتل ابوالحسن قال  أخبرنا عبد الله قال أخبرنا عمر بن سعید بن ابی حـسـيـن قـال حدثني عبد الله بن أبي مليكة، عن عقبة بـن الـحـارث أنه تزوج ابنة لابي إهاب بن عزيز، فاتته إمرأة فقالت إنى قد أرضعت عقبة والتي تزوج، فقال لها عقبة ما أعلم انك أرضعتنی ولا أخبرتني، فركب إلى رسول الله صلى اللہ علیہ وسلم بالمدينة فسأله، فقال رسول الله صلی اللہ  عليه وسلم كيف وقد قيل. ففارقها عقبة ونکحت زوجا غيرہ۔

اطراف الحدیث: ۲۰۵۲۔ ۶۴۰ ۲ – ۲۲۵۹۔2660۔ 5104۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں کہ ہمیں محمد بن مقاتل ابوالحسن نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا : ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عمر بن سعید بن ابی حسین نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے حدیث بیان کی از حضرت عقبہ بن الحارث رضی اللہ عنہ انہوں نے ابواھاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی  پھر ان کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: بے شک میں نے عقبہ کو اور اس کی بیوی کو دودھ پلایا ہے حضرت عقبہ نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تم نے ( پہلے) مجھے اس کی خبر دی تھی، پھر وہ سوار ہوکر مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا،  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیسے؟ (اس کو اپنے نکاح میں برقرار رکھو گے؟ ) حالانکہ اس کے متعلق کہا گیا ہے! پھر حضرت عقبہ اپنی بیوی سے الگ ہوگئے اور اس نے پھر کسی اور شخص سے نکاح کرلیا ۔

( سنن ترمذی: ۱۱۵۱ سنن ابوداود: 3603، مسند الحمیدی:٬۵۷۹ سنن دارمی :۲۲۶۰ سنن نسائی ج 6 ص ۱۰۹ بیروت، السنن الکبری للنسائی: 6028 سنن دارقطنی ج ۴ ص ۱۷۶۔ ۱۷۵ سنن بیہقی ج ۷ ص ۴۶۳ ٬ مصنف عبد الرزاق : ۵ ۴ ۱۵۳ – 13968 ، صحیح ابن حبان :4216 المعجم الکبیر : ۹۷۵ – 974 ج ۱۷ مسند احمد ج ۴ ص 7 طبع قدیم مسند احمد : 16148 ج 26 ص 70 مؤسسة الرسالة بیروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ باب کا عنوان ہے : پیش آمدہ مسئلہ کے حل کے لیے سفر کرنا اور اس حدیث میں حضرت عقبہ کے اس سفر کا ذکر ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن مقاتل المروزی ۔

( ۲ ) عبدالله بن المبارک المروزی ان کا تعارف ہو چکا ہے۔

( ۳) عمر بن سعید بن ابی حسین النوفلی المکی، یہ طاؤس، عطاء اور دیگر سے روایت کرتے ہیں یہ ثقہ ہیں، امام ابوداؤد نے ان سے مراسیل میں روایت کی ہے۔

( ۴ ) عبداللہ بن عبیداللہ بن ابی ملیکہ القرشی، ان کا تعارف ہوچکا ہے۔

( ۵ ) حضرت عقبہ بن الحارث بن عامر بن عدی القرشی رضی اللہ عنہ فتح مکہ کے دن اسلام لاۓ اور مکہ میں رہائش رکھی امام بخاری، امام ابوداؤ ، امام ترمذی اور امام نسائی نے ان کی احادیث روایت کی ہیں امام مسلم نے ان کی کوئی حدیث روایت نہیں کی، امام بخاری نے کتاب العلم كتاب الحدود ‘‘اور کتاب الزکوۃ‘‘ میں ان کی تین احادیث روایت کی ہیں ۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص۱۵۱ ) ( خلاصة تذہیب تہذیب الکمال ج ۲ ص۲۹۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۲ھ )

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت عقبہ بن الحارث نے ابواھاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی اس عورت کا نام ام یحیی غنیہ تھا اور اس خاتون نے بعد میں ضریب بن الحارث سے نکاح کرلیا ۔ رضاعت ثابت نہ ہونے کے باوجود آپ نے حضرت عقبہ کے نکاح کو کیوں ناپسند فرمایا حضرت عقبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے جب اپنی بیوی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا: تم کیسے ( اس کو اپنے نکاح میں برقرار رکھو گے) ؟ حالانکہ اس کے متعلق کہا گیا ہے۔ حضرت عقبہ کا اپنی بیوی کے ساتھ نکاح صحیح تھا اور محض ایک عورت کے خبر دینے سے ان کے درمیان رضاعت ( دودھ کا رشتہ ) ثابت نہیں ہوتا تھا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو پسند نہیں فرمایا کیونکہ حضرت عقبہ پر بہرحال یہ تہمت لگتی کہ انہوں نے اپنی دودھ شریک بہن سے نکاح کیا ہوا ہے اس سے معلوم ہوا کہ خواہ انسان کا دامن پاک ہو اور وہ حرام کام سے بری ہو، پھر بھی اس کو حرام کی تہمت سے بچنا چاہیے ۔   ‏

’’حدیث اتقوا مواضع التهم‘‘ کی تحقیق

امام محمد بن محمد غزالی متوفی ۵۰۵ھ نے ذکر کیا ہے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:” اتـقـوا مـواضع النهم‘‘( تہمتوں کی جگہوں سے بچو ) ۔ ( احیاء العلوم ج ۳ ص ٬۳۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۹ھ )

اس کے حاشیہ پر علامہ عراقی نے لکھا ہے: مجھے اس حدیث کی کوئی اصل نہیں ملی ۔

سید محمد بن محمد الحسینی الزبیدی متوفی ۱۲۰۵ھ نے’’ احیاء العلوم‘‘ کی شرح میں لکھا ہے:

الزبیر بن بکار نے’’ الوفقیات‘‘میں اپنی سند سے روایت کیا ہے : حضرت عمر بن الخطاب نے کہا: جو شخص تہمت کے درپے ہوا تو وہ اس کو ملامت نہ کرے، جو اس کے ساتھ بدگمانی کرے، اور امام بیہقی نے’’ شعب الایمان‘‘میں سعید بن مسیب سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے میرے بعض بھائیوں نے میرے لیے لکھا، جس شخص نے اپنے نفس کو تہمتوں کے لیے پیش کیا وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے ۔ ( اتحاف السادۃ المتقین ج ۷ ص ۸۳ ۲ داراحیاء التراث العربی بيروت ۱۴ ۱۴ ھ )

علامہ اسماعیل بن محمد العجلونی المتوفی 1163 ھ لکھتے ہیں:

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: جو شخص بدگمانی کے راستوں پر چلا اس کو تہمت لگے گی ۔

( کشف الخفا ومزیل الالباس ج۱ ص ۴۴ مکتبه الغزالی دمشق )

تہمت کی جگہوں سے بچنے کی اصل اس حدیث میں ہے:

حضرت علی بن الحسین رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اعتکاف میں تھے، وہ آپ کی زیارت کرنے کے لیے آئیں اور کچھ دیر آپ سے باتیں کیں پھر جانے کے لیے کھڑی ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کو رخصت کرنے کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہوۓ حتی کہ جب وہ مسجد کے دروازے پر پہنچیں جو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس تھا،  تو دو انصاری مرد وہاں سے گزرے اور انہوں نے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا،  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ٹھہرو! یہ صفیہ بنت حیی ہیں ان دونوں نے کہا: سبحان اللہ ! یا رسول اللہ ! اور ان پر یہ بات بہت شاق گزری، تو نبی ﷺ نے فرمایا: بے شک شیطان انسان کے خون کی جگہ پہنچ جاتا ہے اور مجھے خطرہ ہوا کہ وہ تمہارے دلوں میں کوئی چیز ( بدگمانی ) ڈال دے گا۔ ( صحیح البخاری: ۲۰۳۵ صحیح مسلم : 2175، سنن ابوداؤد : 2470  سنن ابن ماجه : ۱۹ ۱۷ )

نیز حضرت النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے کہ حلال ظاہر ہے اور حرام ظاہر ہے اور ان کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جن کو اکثر لوگ نہیں جانتے، پس جو شخص مشتبہ چیزوں سے بچا اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا۔ (صحیح البخاری: ۵۲ صحیح مسلم:۱۵۹۹ مسند الحمیدی: ۱۵۱۸، سنن ابوداؤد :۳۳۲۹ سنن ترمذی:۱۲۰۵، سنن ابن ماجه : ۳۹۸۴ سنن نسائی ج 7 ص 241، مسند احمد ج ۴ ص 269 سفن داری: ۲۵۳۴)

اور اس میں کوئی شک نہیں، جب اس عورت نے حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے تم کو اور تمہاری بیوی کو دودھ پلایا ہے تو ان کا نکاح مشتبہ ہو گیا اور ان کے دین اور ان کی عزت کی حفاظت کے لیے یہی مناسب تھا کہ وہ اپنی بیوی کو چھوڑ دیتے ۔

رضاعت کے ثبوت کے لیے نصاب شہادت میں مذاہب فقہاء

علامہ بدرالدین محمود بن عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ لکھتے ہیں :

اس حدیث کے ظاہر سے ان فقہاء نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ ایک دودھ پلانے والی عورت کی شہادت سے رضاعت   ثابت ہوجاتی ہے اور جو فقہاء کہتے ہیں کہ ایک عورت کے قول سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، وہ کہتے ہیں کہ حضرت عقبہ کی حدیث احتیاط پر محمول ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ ایک عورت کے خبر دینے سے ان پر ان کی بیوی حرام ہوگئی تھی ۔ علامہ ابن بطال مالکی متوفی449ھ لکھتے ہیں:

جمهور العلماء نے یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شبہ سے بچنے کے لیے یہ حکم دیا ہے،  اور ان کو یہ حکم دیا کہ محل شک سے اجتناب کریں، تاکہ وہ اس خطرہ سے نکل جائیں کہ وہ اپنی رضاعی بہن سے مجامعت کر رہے ہیں، لیکن آپ نے قطعی طور پر سختی سے منع نہیں فرمایا، نیز اس پر علماء کا اجماع ہے کہ ایک عورت کی گواہی سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی ، ( اجماع کا دعوی صحیح نہیں ہے ۔ سعیدی غفرلہ ) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے محتاط طریقہ پر عمل کرنے کی طرف اشارہ فرمایا ۔ دوسرے علماء نے یہ کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بہ طریقہ قضاء نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ طور احتیاط سے حکم دیا جیسے کہ امام بخاری نے کتاب البیوع‘‘ میں تفسیر مشتبہات میں اس حدیث کو درج کیاہے۔

بعض علماء نے یہ کہا کہ حضرت عقبہ کی یہ حدیث وجوبی حکم پر محمول ہے اور انہوں نے کہا کہ دودھ پلانے کے ثبوت میں ایک عورت کی گواہی کو بھی قبول کیا جاتا ہے، یہ امام احمد کا قول ہے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب ایک عورت دودھ پلانے والی ہو تو اس کی گواہی قبول کی جاۓ گی اور اس کی گواہی کے ساتھ اس کے قول پر قسم بھی لی جاۓ گی ۔

امام مالک نے کہا: دودھ پلانے والی عورت کا قول قبول کیا جاۓ گا، بہ شرطیکہ اس کا دودھ پلانا گھر میں اور پڑوسیوں میں مشہور ہوچکا ہو اور اگر دو عورتیں گواہی دیں تو پھر رضاعت کے ثبوت میں کوئی اختلاف نہیں ہے ۔

جن فقہاء نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث میں حضرت عقبہ پر واجب تھا کہ وہ اپنی بیوی سے الگ ہوجائیں، ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر آپ نے تقوی اور احتیاط کے طور پر حضرت عقبہ کوحکم دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی سے الگ ہوجائیں تو آپ پر لازم تھا کہ آپ حضرت عقبہ کو یہ حکم دیتے کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دیں تا کہ وہ دوسرے شوہر پر حلال ہوجائیں کیونکہ اگر یہ حکم احتیاطا تھا اور ان کی بیوی بہ دستور ان کے نکاح میں تھیں تو حضرت عقبہ کے چھوڑنے کے بعد ان کا دوسرے شخص سے نکاح جائز نہ ہوتا، اور آپ نے جو فرمایا: تم کیسے (اس کو اپنے نکاح میں برقرار رکھو گے؟) حالانکہ اس کے متعلق کہا گیا ہے ۔ آپ کا یہ ارشاد اس لیے تھا کہ حضرت عقبہ پر معاملہ آسان ہوجاۓ اور اس کی تائید آپ کے تبسم سے ہوتی ہے ۔ ہم اس کے جواب میں یہ کہتے ہیں کہ حدیث میں جو مذکور ہے کہ حضرت عقبہ اپنی بیوی سے علیحدہ ہوگئے، وہ اس پر محمول ہے کہ وہ اس کو طلاق دے کر علیحدہ ہوگئے ۔

امام ابوحنیفہ نے رضاعت کے ثبوت میں صرف عورتوں کی شہادت کو منع فرمایا ہے ان کے نزدیک دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے رضاعت ثابت ہوتی ہے ۔

امام شافعی کے مذہب کی تفصیل یہ ہے کہ جب ایک دودھ پلانے والی شہادت دے اور اپنی شہادت کے ساتھ وہ دودھ پلانے کی اجرت کا بھی دعوی کرے تو اس کی شہادت قبول نہیں ہوگی، کیونکہ وہ اپنے فائدہ کے لیے شہادت دے رہی ہے اور اس کی شہادت متہم ہوگی اور اگر وہ اپنی اجرت کا دعوی نہ کرے صرف یہ کہے کہ میں گواہی دیتی ہوں کہ میں نے اس کو دودھ پلایا ہے تو اس کی شہادت کو قبول کرنے میں ان کا اختلاف ہے، اور ان کا زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس کی شہادت قبول ہوگی ۔

ہمارا مذہب یہ ہے کہ رضاعت کی شہادت مال کی شہادت کی طرح ہے اس میں دومردوں یا ایک مرد اور دوعورتوں کی شہادت ضروری ہے اور تنہا عورتوں کی شہادت قبول نہیں کی جاۓ گی، امام شافعی کے نزدیک چارعورتوں کی گواہی سے رضاعت ثابت ہوجاۓ  گی، امام مالک کے نزدیک دوعورتوں کی گواہی سے اور امام احمد کے نزدیک ایک عورت کی گواہی سے ۔

( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۵۴ – ۱۵۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )