لَنَسۡفَعَۢا
قرآن پاک میں ہے
كَلَّا لَىِٕن لَّمۡ یَنتَهِ لَنَسۡفَعَۢا بِٱلنَّاصِیَةِ
ایک بندہ کہہ رہا تھا کہ لَنَسۡفَعَۢا گرائمر کے اعتبار سے غلط ہے جب کہ یہ بات درست نہیں
اگرچہ یہ فعل ہے اور فعل پر تنوین نہیں آتی لیکن یہ درست ہے اور درست کیوں ہے اس کا جواب تفاسیر میں صدیوں پہلے دے دیا گیا ہے کہ یہاں الف کے ساتھ جو اس کو لکھا گیا ہے وہ حکم وقف پر لکھا گیا ہے یعنی وقف کا اعتبار کیا گیا ہے نطق کی رعایت کرتے ہوئے
تفسير أبي السعود — أبو السعود (٩٨٢ هـ) میں ہے
وقُرِئَ “نَسْفَعَنَّ” بِالنُّونِ المُشَدَّدَةِ، وقُرِئَ “لَأسْفَعَنَّ” وكِتابَتُهُ في المُصْحَفِ بِالألْفِ عَلى حُكْمِ الوَقْفِ
الکشاف میں ہے
وقرئ: لنسفعنّ، بالنون المشدّدة. وقرأ ابن مسعود، لأسفعا. وكتبتها في المصحف بالألف على حكم الوقف،
البحر المحيط لأبي حيان — أبو حيان (٧٤٥ هـ) میں یے
وكُتِبَتْ بِالألِفِ بِاعْتِبارِ الوَقْفِ
التحرير والتنوير — ابن عاشور (١٣٩٣ هـ) میں ہے
وكُتِبَتْ في المُصْحَفِ ألِفًا رَعْيًا لِلنُّطْقِ لَها في الوَقْفِ؛ لِأنَّ أواخِرَ الكَلِمِ أكْثَرُ ما تُرْسَمُ عَلى مُراعاةِ النُّطْقِ في الوَقْفِ
جامع البيان للإيجي — الإيجي (٩٠٥ هـ) میں ہے
﴿لَنَسْفَعًا﴾: لنأخذن، وكتابتها في المصحف بالألف على حكم الوقف،
بیضاوی شریف میں ہے
وكِتابَتُهُ في المُصْحَفِ بِالألِفِ عَلى حُكْمِ الوَقْفِ
تفسیر نسفی میں ہے
وكِتْبَتُها في المُصْحَفِ بِالألِفِ، عَلى حُكْمِ الوَقْفِ،
اللہ پاک اپنے پیاروں کے صدقے ہمیں اسلام پر قائم رکھے اور خاتم بالخیر عطا فرمائے
زوہیب علی
20 ستمبر 2024
طارق مسعود! کم از کم علم الصیغہ تو پڑھ لیتے۔
لنسفعا کو صاحب علم الصیغہ نے بھی مشکل صیغوں میں ذکر کیا ہے۔ مفہوم کچھ یوں کہ یہ اصل میں لنسفن (نون خفیفہ کے ساتھ) تھا، نون خفیفہ تنوین کے مشابہ ہے وہ اس طرح کے تنوین نون ساکن کا نام ہے اور نون خفیفہ نون ساکن ہی ہوتا ہے لہذا اس مشابہت کی وجہ کبھی نون خفیفہ کو تنوین کی شکل میں لکھا جاتا ہے تو یہاں بھی اس طرح ہوا ہے نون خفیفہ کو نون تنوین کی صورت میں لکھ دیا گیا ہے۔
یہ فقط رسم الخط کے اعتبار سے تنوین ہے اور چونکہ قرآن کریم کا رسم الخط توقیفی ہے اس لئے اسی طرح لکھا جائے گا۔
اس حوالے سے مجھے حاشیہ هداية النحو کی بات بہترین لگی؛ ایک قاعدہ ہے کہ اسم تفضیل کا استعمال تین طریقوں پر ہوتا ہے، اول: اضافت کے ساتھ، دوم: معرف باللام کے ساتھ
سوم: من کے ساتھ۔
حاشیہ هداية النحو میں ہے: اعلم انه قد جاء استعمال اسم التفضيل عاريا عن الوجوه الثلاثة اذا كان بمعناه فى كلام الله عزوجل، قال الله تعالى: اعدلوا هو أقرب للتقوى، و قولوا للناس حسنا، الى غير ذالك من الآيات. *ولا حاجة الى التأويل لأن قواعد النحو تابعة لكلام الفصحاء و لا عكس فينبغى يؤول القاعدة.*
ابو الحسن