۲۷ – باب التناوب في العلم

حصول علم کے لیے باری باری جانا

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں حصول علم کے لیے سفر پر جانے کا ذکر تھا اور اس باب میں طلب علم کے لیے باری باری جانے کا ذکر ہے اور یہ دونوں باب علم کی حرص میں مشترک ہیں ۔

۸۹- حدثنا أبو اليمان أخبرنا شعيب عن الزهري  (ح)  قال أبو عبدالله وقال ابن وهب أخبرنا يونس، عن ابن شهاب، عن عبيدالله بن عبداللہ بن ابی ثور،عن عبدالله بن عباس، عن عمر قال كنت انا وجار لي من الأنصار، في بني أمية بن زيد، وهى مـن عـوالـى الـمـديـنـة، وكنا نتناوب النزول علی  رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ينزل يوما وانزل يوما، فإذا نزلت جئتـة بخبر ذلك اليوم من الـوحـي وغيره، وإذا نزل فعل مثل ذلك فنزل صاحبي الأنصاري يـوم نوبته فضرب بابی ضربا شديداً فقال اثم هو ؟ ففزعت فخرجت إليه فقال قد حدث أمر عظيم قال فدخلت على حفصة، فإذا هي تبكي ، فقلت طلقكن رسول اللہ صلّی الله عليه وسلم ؟ قالت لا أدرى، ثم دخلت علی النبي صلى الله عليه وسلم فقلت وانا قائم اطلقت نساء ك؟ قال لا فقلت الله اكبر۔

اطراف الحدیث: ۲۴۶۸۔ ۴۹۱۳ – ۴۹۱۴۔ ۴۹۱۵۔ ۵۱۱۹۔5218۔5843۔7256۔7263

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوالیمان نے حدیث  بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعیب نے خبر دی از الزہری (ح) امام ابوعبد اللہ بخاری کہتے ہیں: اور ابن وہب نے کہا: ہمیں یونس نے خبر دی از ابن شہاب از عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور از حضرت عبدالله بن عباس از حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ انہوں نے بیان کیا کہ میں اور میرا ایک انصاری پڑوسی بنی امیہ بن زید کے قبیلہ اور ان کے مواضع میں رہتے تھے اور یہ مدینہ کے بالائی حصہ پر تھا ہم باری باری رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ایک دن وہ جاتا اور ایک دن میں جاتا پس جب میں جاتا تو اس دن نزول وحی کی خبر لے کر آتا، اور جس دن وہ جاتا تو وہ بھی اسی طرح کرتا۔ پس ایک دن میرا انصاری ساتھی اپنی باری کے دن آیا اور اس نے بہت زور سے میرا دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: کیا وہ ہے؟ میں گھبرا کر اس کی طرف نکلا تو اس نے کہا: بہت سنگین حادثہ ہوگیا۔ حضرت عمر نے کہا: پس میں حفصہ کے پاس گیا تو وہ رو رہی تھی، میں نے پوچھا: کیا تم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق دے دی ہے؟ انہوں نے کہا: پتا نہیں پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے کھڑے ہوکر کہا: کیا آپ نے اپنی ازواج کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا: نہیں میں نے کہا: اللہ اکبر۔

صحیح مسلم:1479، سنن ترمذی :2461، سنن نسائی 2131۔۲۷۵ سنن ابن ماجه: ۴۱۵۳ مسند ابویعلی : 222 صحیح ابن حبان : 4268، سنن بیہقی ج ۵ ص ۷ ۳ مسند البزار : 206 ادب المفرد : ۸۳۵ مسند احمد ج ۱ ص ۳۳ طبع قدیم، مسند احمد : 222 ج ۱ ص۳۵۰-346 مؤسسة الرسالة بیروت

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابق اس طرح ہے کہ باب کا عنوان ہے : طلب علم کے لیے باری باری جانا اور اس حدیث میں حضرت عمر اور ایک انصاری کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس باری باری جانے کا ذکر ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

اس حدیث کے تمام رجال کا تعارف ہو چکا ہے ۔

حدیث مذکور کے بعض الفاظ کی وضاحت

اس حدیث میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے جس انصاری پڑوسی کا ذکر ہے، اس کا نام عتبان بن مالک بن عمرو بن العجلان الانصاری الخزرجی ہے۔اس  حدیث میں مذکور ہے کہ انصاری کی زور دار دستک سے حضرت عمر گھبرا گئے امام بخاری نے” کتاب التفسیر ‘‘ میں حضرت عمر سے روایت کیا ہے: ہمیں یہ خطرہ تھا کہ غسان کا کوئی بادشاہ ہم پر حملہ کرے گا پس جب اس انصاری نے زوردار دروازہ کھٹکھٹایا تو میں سمجھا کہ اس غسانی نے حملہ کر دیا ہے ۔ اس انصاری نے کہا: بہت سنگین حادثہ ہوگیا ہے، اس سے اس کی مراد یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہ سے علیحدہ ہوگئے ہیں اور اس میں سنگینی کی وجہ تھی کہ اس سے یہ گمان ہوتا تھا کہ شاید آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے اور میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے لیے بہت سنگین بات تھی کیونکہ ان کی بیٹی حضرت حفصہ اللہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ تھیں،  اس انصاری نے آپ کے ازواج سے علیحدہ ہونے سے یہ گمان کیا کہ آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے اس لیے اس کے گمان کے اعتبار سے حضرت عمر نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ پوچھا: کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے ۔

حدیث مذکور سے استنباط شدہ مسائل

اس حدیث سے حسب ذیل مسائل نکالے گئے ہیں:

(۱) اس سے طلب علم کی حرص کا جواز معلوم ہوتا ہے اس لیے حضرت عمر اور وہ انصاری باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔

(۲) طلب علم کے ساتھ اپنی گزر اوقات اور اہل وعیال کی کفالت کا بھی انتظام کرنا چاہیے اس لیے حضرت عمر ایک دن حصول علم کے لیے جاتے تھے اور ایک دن گزر اوقات کے انتظام میں مشغول رہتے ۔

(۳) صحابہ کرام ایک دوسرے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ کی احادیث سے مطلع کرتے رہتے تھے،  جیسے اس انصاری نے حضرت عمر کو مطلع کیا کہ آپ اپنی ازواج سے الگ ہو گئے ہیں اور اس میں خبر واحد کو قبول کرنے کا بھی ثبوت ہے ۔

(۴) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ کا اپنی بیٹی کے گھر اس کے شوہر کی اجازت کے بغیر داخل ہونا جائز ہے اور ان کے گھریلو معاملات کی تفتیش کرنا بھی جائز ہے کیونکہ حضرت عمر نے حضرت حفصہ کے گھر جا کر ایسا ہی کیا تھا۔

(۵) اس حدیث میں پڑوسی کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے اور کھڑے ہو کر سوال کرنے کا بھی ثبوت ہے ۔