۲۸ – باب الغضب في الموعظة والتعليم إذا رأى ما يكره

 کسی ناپسندیدہ کام کو دیکھ کر نصیحت اور تعلیم میں اظہار غضب کرنا

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ باب سابق میں حصول علم کے لیے استاذ اور معلم کے پاس جانے کا ذکر تھا۔ اور اس حدیث میں یہ بیان ہے کہ استاذ تعلیم دیتے وقت کبھی اظہار غضب بھی کرتا ہے

۹۰- حدثنا محمد بن كثير قال أخبرنا سفيان ، عـن ابـن أبي خالد، عن قيس بن ابی حازم عن ابی مسعود الأنصاري قال قال رجل يارسول الله ، لا اكاد أدرك الصلوة ممّا يطول بنا فلان، فما رايت النبي صلى الله عليه وسلم في موعظة أشد غضبا من يوميذ فقال ياايها الناس إنكم منفرون فمن صلى بالناس فليخفف، فإن فيهم المريض والضعيف وذا الحاجتہ۔

اطراف الحدیث : ۷۰۲ ۔ ۸۰۴ – 6110 – ۷۱۵۹

امام بخاری روایت کرتے ہیں : ہمیں محمد بن کثیر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں سفیان نے خبر دی از ابن ابی خالد از قيس بن ابی حازم از حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! میں فلاں شخص کی لمبی نماز پڑھانے کی وجہ سے ( جماعت سے ) نماز کو نہیں پاسکتا’ پس میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ کبھی غضب ناک ہوتے ہوۓ نہیں دیکھا، آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم (نمازیوں کو ) متنفر کر تے ہو! پس جو شخص لوگوں کو نماز پڑھاۓ وہ تخفیف کے ساتھ پڑھاۓ کیونکہ نمازیوں میں بیمار، کمزور اور کسی ضروری کام پر جانے والے بھی ہوتے ہیں ۔

( صحیح مسلم :466،  سنن ابن ماجه : ٬۹۸۴ مصنف عبد الرزاق 3726، مسند الحمیدی: ۴۵۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۲ ص ۵۵ – ۵۴ صحیح ابن خزیمہ:1605،  صحیح ابن حبان :  2137، المعجم الکبیر:۵۵۵ ج ۱۷، سنن بیہقی ج ۳ ص ۱۱۵ شرح السنۃ : ۸۴۴ مسند احمد ج ۴ ص ۱۱۸ طبع قدیم، مسند احمد :17065 ج 28 ص 698، موسسة الرسالة بيروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت بالکل واضح ہے کیونکہ اس حدیث میں مذکور ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو نصیحت کرنے میں اس دن سے زیادہ بھی غضب ناک ہوتے ہوۓ نہیں دیکھا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) محمد بن کثیر ،یہ اپنے بھائی سلیمان، شعبہ اور ثوری سے روایت کرتے ہیں اور ان سے امام بخاری اور امام ابوداؤد وغیرہ نے روایت کی ہے امام ابوحاتم نے کہا: یہ بہت سچے ہیں یہ ۹۰ سال کی عمر میں ۲۲۳ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۲) سفیان ثوری ان کا تعارف ہو چکا ہے.

( ۳)اسماعیل بن ابی خالد البجلی ، ان کا تعارف بھی ہوچکا ہے .

(۴) حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔(عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۵۹۔ ۱۵۸ )

لمبی اور مختصر نماز پڑھانے کے محامل اور دیگر مسائل

(۱) اس حدیث میں مذکور ہے کہ میں فلاں شخص کی لمبی نماز کی وجہ سے جماعت سے نماز نہیں پڑھ سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر رد نہیں فرمایا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر امام لمبی نماز پڑھاۓ تو جماعت کو ترک کرنا جائز ہے ۔

(۲) اس شخص نے امام کی شکایت کی اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص غیر شرعی کام کرے اس کی شکایت کرنا جائز ہے۔

(۳) جو شخص دین میں کوئی غلط کام کرے اس پر غضب ناک ہونا جائز ہے اور کس مکروہ کام پر انکار کرنا جائز ہے کیونکہ اس امام کا بہت لمبی نماز پڑھانا غلط اور مکروہ کام تھا، اگرچہ حرام نہیں تھا۔

(۴) جب نمازی بھی نماز پڑھنے پر راضی نہ ہوں اور امام حد اعتدال سے لمبی نماز پڑھاۓ تو مفتی کے لیے جائز ہے کہ وہ امام کو سختی سے منع کرے۔

(۵) امام کو لبمی نماز پڑھانے سے منع کرنے کا محمل یہ ہے کہ جب نمازیوں میں بوڑھے کمزور اور بیمار ہوں اور اگر نمازیوں میں سب صحت مند اور توانا ہوں اور وہ لمبی نماز پڑھانے سے خوش ہوں تو پھر امام کے لیے لمبی نماز پڑھانا جائز ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم لمبی سورتوں مثلا سورۂ یوسف پڑھ کر بھی نماز پڑھاتے تھے اور آپ نے مغرب کی نماز میں سورۃ الاعراف بھی پڑھی ہے، تاہم جب  آپ نماز میں کسی بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کر دیتے کہ بچے کے رونے کی وجہ سے اس کی ماں نماز میں مضطرب ہوگی۔

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۷ ۹۴ ۔ ج۱ ص ۱۲۵۹ پر ہے وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی۔