أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تَظُنُّ اَنۡ يُّفۡعَلَ بِهَا فَاقِرَةٌ ۞

ترجمہ:

وہ یہ گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا

القیامہ : ٢٥۔ ٢٤ میں فرمایا : اور بہت چہرے مر جھائے ہوئے ہوں گے۔ اور یہ گمان کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا معاملہ کیا جائے گا۔

القیامہ : ٢٥ میں ” فاقرہ “ کا لفظ ہے، اس کا معنی ہے : مصیبت اور سختی اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا معنی ہے : پشت کے مہرے کو توڑنے والی مصیبت۔

یعنی کفار کے چہرے تا قیامت کے دن بہت بگڑے ہوئے، اداس اور مر جھائے ہوئے ہوں گے۔

مجاہد وغیرہ نے کہا : ” فاقرہ “ کا معنی ہے : ایسی مصیبت جو آدمی کی کمر توڑ دے، قتادہ نے کہا : اس کا معنی ہے : شر، سدی نے کہا : اس کا معنی ہے : ہلاکت، حضرت ابن عباس (رض) اور ابن زید نے کہا : اس سے مراد : دوزخ میں داخل ہونا اور یہ سب مقارب معانی ہیں۔

اصل میں اس کا معنی ہے : لوہا گرم کر کے اونٹ کی ناک پر ایسا گرم نشان لگانا جو اس کی ہڈی تک پہنچ جائے۔

( الجامع الاحکام القرآن جز ٢٩ ص ١٠٠، دارالفکر، بیرو ت، ١٤١٥ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 75 القيامة آیت نمبر 25