۹۲- حدثنا محمد بن العلاء قال حدثنا أبو أسامة عن بريد، عن أبي بردة عن أبي موسى قال سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن أشياء كرهها فلما أكثر عليه غضب، ثم قال للنّاس سلونی عما   شئتم، قال رجل من أبي؟ قال أبوك حذافة، فقام خر فقال من أبي يارسول الله؟ فقال ابوك سالم مولى شيبة. فلما راى عـمـر ما في وجهه قال یارسول الله، إنا نتوب إلى الله عزوجل۔

طرف الحدیث :۷۲۹۱ ۔۔۔ ( صحیح مسلم:2360)

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن العلاء نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے حدیث بیان کی از برید، از ابی بردہ،  از حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے چند اشیا کے متعلق سوال کیا گیا، جن کو آپ نے ناپسند کیا۔ جب آپ سے زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غضب ناک ہوۓ پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو سوال کرو ایک شخص نے کہا: میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ حذافہ ہے، پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر کہا: یارسول اللہ! میرا باپ کون ہے؟ آپ نے فرمایا: تمہارا باپ سالم ہے شیبہ کا آزاد شدہ غلام جب حضرت عمر نے دیکھا کہ آپ کے چہرے میں (غضب کے ) کیا آثار ہیں تو انہوں نے کہا: یارسول اللہ! ہم اللہ عزوجل کی طرف توبہ کرتے ہیں ۔

اس حدیث کے پانچ رجال ہیں ان کا ذکر ’’ باب فضل من علم و علم‘‘  میں ہوچکا ہے ۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے غضب ناک ہونے کا ذکر ہے۔

اشیاء کے صیغے کی تحقیق

اس حدیث میں اشیاء کا لفظ ہے یہ شیئی‘‘ کی جمع ہے یہ غیر منصرف ہے خلیل نے کہا: اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی اصل فعلاء ہے شعراء کی مثل اس کا واحد نہیں ہے پہلے ہمزہ کو اول کلمہ کی طرف نقل کردیا تو اشیاء ہو گیا۔ پس اس کا وزن امعاء ہے، اخفش اور فراء نے کہا: یہ اصل میں افعلاء ہے انبیاء کی طرح یا اور الف کے درمیان جو ہمزہ ہے، اس کو تخفیف کے لیے حذف کردیا، پھر اس کا وزن افعاء ہے، الکسائی نے کہا: یہ اصل میں افعال ہے، افراخ کی مثل، کثرت استعمال کی وجہ سے یہ غیر منصرف ہے اور اس لیے کہ یہ فعلاء کے مشابہ ہے۔

به کثرت سوالات کو ناپسند کرنے کی توجیہ

نیز اس حدیث میں ہے: آپ سے چند اشیاء کے متعلق سوال کیا گیا، جن کو آپ نے ناپسند کیا آپ کے ناپسند کرنے کی وجہ یہ تھی کہ بعض اوقات کسی کے سوال کی وجہ سے کوئی چیز مسلمانوں پر حرام ہوجاتی اور اس سے وہ مشقت میں پڑجاتے یا بعض اوقات اس سوال کا جواب سائل کے لیے ناگوار یا رنج میں ڈالنے والا ہوتا یا بعض اوقات ان کا زیادہ سوال کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اور اذیت میں ڈالتا اور یہ ان کی ہلاکت کا سبب ہوجاتا اور یہ ان کے ایسے سوالات تھے جو غیر ضروری اور بے فائدہ تھے، ورنہ ان کے سوالات کو ناپسند کر نے کی کوئی وجہ نہ تھی، کیونکہ ضرورت کے لیے سوال کرنا یا واجب ہے یا مستحب ہے قرآن مجید میں ہے:

فسئلوا أهل الذكر إن كنتم لا تعلمون 0

پس اگر تم کو علم نہ ہو تو اہل علم سے سوال کرو۔(النحل: ۴۳)

زیادہ سوالات سے آپ کے غضب ناک ہونے کی توجیہ

اس حدیث میں ہے کہ جب آپ سے زیادہ سوال کیے گئے تو آپ غضب ناک ہوۓ آپ کے غضب کی وجہ یہ تھی کہ وہ بلاضرورت اور بے فائدہ سوال کر رہے تھے اور ان کے سوالات غیر ضروری تجسس اور تکلف اور آپ کو مشقت میں ڈالنے پر مبنی تھے اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے، جس نے کسی چیز کے متعلق سوال کیا جو حرام نہ تھی اوراس کے سوال کی وجہ سے وہ چیز حرام کردی گئی ۔ (صحیح البخاری:۷۲۸۹ صحیح مسلم:۲۳۸۵ سنن ابوداؤد :4610، مسند احمد ج ۱ ص ۱۷۹)

 

آپ نے فرمایا:’’ تم مجھ سے جو چاہو سوال کرو‘‘ اس کی تشریح میں شراح سابقین کی تقاریر

اس حدیث میں ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو سوال کرو ۔ علامہ عینی متوفی ۸۵۵ ھ نے کہا: آپ کا یہ ارشاد اس پر محمول ہے کہ آپ پر یہ وحی کی گئی تھی کہ آپ یہ کہیں، ورنہ اللہ تعالی کی وحی اور اس کے بتانے کے بغیر آپ سے جس غیب کے متعلق سوال کیا جاتا آپ کو از خود اس کا علم نہ تھا ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۱۴ طبع مصر ۱۳۴۸ ھ )

قاضی عیاض متوفی 544ھ نے لکھا ہے: ہر سوال کا از خود جواب دینا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ممکن نہ تھا، آپ صرف وحی سے مطلع ہوکر بتاسکتے تھے، کیونکہ آپ کو امور مغیبات میں سے صرف ان ہی چیزوں کا علم تھا، جن کی اللہ تعالی نے آپ کو خبر دے دی تھی ۔( اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۷ ص ۳۳۲۔۳۳۱ دار الوفا 1419 ھ )

علامہ ابوالعباس احمد بن عمر القرطبي المتوفی 656 ھ نے لکھا ہے: بعض روایات میں مذکور ہے کہ آپ کے اصحاب میں بعض ایسے اصحاب داخل ہوگئے تھے جن کا ایمان متحقق نہیں ہوا تھا انہوں نے سوالات کر کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آزمانے کا قصد کیا اور آپ کو عاجز کرنے کے لیے آپ سے بہت زیادہ سوالات کیے اور یہ منافقین اور آپ کے اعداء اور دین اسلام کے دشمنوں کا وطیرہ تھا اور وہ اس آیت کے مصداق تھے:

يريدون أن يطفئوا نور الله بأفواههم ويابى الله إلا أن يتم نوره ولوكره الكفرون (التوبۃ : ۳۲)

وہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ اس کے سوا انکار کرتا ہے کہ وہ اپنے نور کو مکمل فرماۓ گا خواہ کافروں کو برا لگے۔

جب نبی ﷺ نے ان کے منشاء کو سمجھ لیا تو آپ نے اسی مجلس میں ان سے فرمایا:” مجھ سے سوال کرو مجھ سے سوال کرو‘ پس اللہ کی قسم ! تم مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہیں کرو گے مگر میں تم کو اس کی خبر دوں گا ۔ (المفہم ج۶ ص 165 دار ابن کثیر دمشق ۱۴۲۰ھ )

علامہ یحیی بن شرف نووی متوفی 676 ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بار بارفرمایا مجھ سے سوال کرو علماء نے کہا: یہ اس پر محمول ہے کہ آپ پر یہ وحی کی گئی تھی، ورنہ آپ اللہ تعالی کی وحی اور اس کے خبر دینے کے بغیر غیب کی ہر اس چیز کو از خود نہیں جانتے تھے جس کے متعلق آپ سے سوال کیا جاۓ ۔

قاضی عیاض نے کہا ہے کہ ظاہر حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ نے جوش غضب میں فرمایا: مجھ سے سوال کرو اور آپ چاہتے یہ تھے کہ وہ یہ سوال نہ کرتے، لیکن آپ نے جواب میں ان کی موافقت کی کیونکہ آپ کے لیے ان کے سوال کو رد کرنا ممکن نہ تھا ۔ ( میں کہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب میں ہوں یا رضا میں،  آپ کے منہ سے حق کے سوا کوئی بات نہیں نکلتی۔ سنن ابوداؤد : 3646،  سعیدی غفرله ) ( صحیح مسلم بشرح النووی ج ۱۰ ص 2605 مکتبه نزار مصطفی الباز مکه مکرمه ۱۴۱۷ھ )

شراح سابقین کی تقاریر پر مصنف کا تبصرہ اور پھر مصنف کی تقریر

مصنف کے نزدیک یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالی نے ان کے تمام متوقع سوالات کے جوابات کا پہلے ہی آپ کو علم عطا فرما دیا تھا۔

اور آپ نے اسی علم پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو سوال کرو اور دوسری حدیث میں فرمایا: پس اللہ کی قسم ! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کرو گے میں تم کو اس کا جواب دوں گا اگر اس کا یہ محمل ہوتا جیسا کہ علامہ عینی، قاضی عیاض اور علامہ نووی نے بیان کیا ہے کہ آپ غیب سے متعلق ہر سوال کا جواب اس وقت وحی سے مطلع ہو کردیتے تو یہ اس موقع اور مقام کے مناسب نہیں  ہے، کیونکہ سائلین لگاتار سوال کر رہے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی تردد اور وقفہ کے بغیر فی الفور ان کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے، بلکہ غور کیا جائے تو یہ نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کلی کی دلیل ہے،  کیونکہ آپ نے قسم کھا کرفرمایا: تم مجھ سے جس چیز کا بھی سوال کروگے، میں تم کو اس کا جواب دوں گا، اگر اللہ تعالی نے پہلے ہی آپ کو تمام چیزوں کا علم کلی نہ دیا ہوتا تو آپ اس طرح تحدی اور للکار سے نہ فرماتے۔

آپ کے اس ارشاد پرشیخ سلیم اللہ خان دیوبندی کی تقریر اوران کا علم غیب اور علم کلی کو رد کرنا

شیخ سلیم اللہ خان دیوبندی حدیث کے اس جملہ کی شرح میں لکھتے ہیں :

یہاں یہ اشکال ہوتا ہے کہ یہ تو علم غیب کا ادعاء ہے کہ آپ فرمارہے ہیں:’’ سلونی عما شئتم ‘‘اس طرح آپ بتارہے ہیں کہ عبداللہ کا باپ حذافہ ہے اور سعد کا باپ سالم ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ صحیح بخاری ہی میں حضرت انس  رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث کے ایک طریق میں ہے کہ آپ نے فرمایا: جوشخص مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہے و ہ سوال کرے پس اللہ کی قسم! تم مجھ سے جس چیز کے متعلق بھی سوال کرو گے میں تم کو اس کی خبر دوں گا جب تک کہ میں اس مقام میں ہوں ۔ ( صحیح البخاری : ۷۲۹۴ صحیح مسلم :6121)

اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو معجزہ تھا، اس مقام میں جب تک آپ تشریف فرما تھے اس وقت تک کے لیے آپ نے فرمایا تھا کہ تم جو سوال کروگے میں اس کا جواب دوں گا، لہذا اس کو اطلاق پر حمل کرنا اور اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب ثابت کرنا درست نہیں ۔ ( کشف الباری ج ۳ ص ۵۶۷ مکتبہ فاروقیہ کراچی 1426ھ )

شیخ سلیم اللہ خان کی تقریر پر مصنف کا تبصرہ اور علم غیب اور علم کلی پر دلائل

قرآن کریم کی جن آیات اور جن احادیث صحیحہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم غیب کی وسعت اور عموم اور علم کلی ثابت ہوتا ہے،  علماء دیوبند اسی طرح آپ کے علم کی تنقیص کرتے ہیں اور ان نصوص کے عموم اور اطلاق کو خانہ زاد قیود کے ساتھ مقید کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں شیخ سلیم اللہ خان نے نبی ﷺ کے علم کلی کی تنقیص پر جو شبہات پیش کیے ہیں اس کے متعلق ہماری چند گزارشات میں جن کو غور سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے ۔

(۱) شیخ سلیم اللہ خان نے مان لیا ہے کہ اس موقع پر اور اس مجلس میں آپ کو علم کلی عطا فرمادیا گیا تھا چنانچہ انہوں نے لکھا ہے :

اس سے معلوم ہوا کہ یہ تو معجزہ تھا، اس مقام میں جب تک آپ تشریف فرما تھے اس وقت تک کے لیے آپ نے فرمایا تھا کہ تم جو سوال کرو گے میں اس کا جواب دوں گا ۔ ( کشف الباری ج 3  ص 567)

ان لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب اور علم کلی ماننا شرک ہے اور جو چیز شرک ہو وہ ہر وقت اور ہر جگہ شرک ہے اور جو چیز شرک ہو، اس کا ایک آن کے لیے بھی وقوع نہیں ہوسکتا تو جب آپ کے لیے علم غیب اور علم کلی شرک ہے تو اس مجلس میں اس کا وقوع کیسے ہو گیا! شیخ سلیم اللہ خان نے اس حدیث سے یہ کہہ کر اپنی جان چھڑائی ہے کہ یہ تو آپ کا معجزہ تھا! سوال یہ ہے کہ جو چیز شرک ہو، کیا وہ آپ کو بہ طور معجزہ عطا کی جاسکتی ہے اور کیا شرک بھی معجزہ بن سکتا ہے ۔

(۲) شیخ سلیم اللہ خان نے اس ضمن میں مزید لکھا ہے: لہذا اس کو اطلاق پر حمل کرنا اور اس سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے علم غیب ثابت کرنا درست نہیں ۔ ( کشف الباری ج ۳ ص ۵۶۷)

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب اور علم کلی اس خاص مجلس میں عطا کیا گیا تھا دائما اور مطلقا نہیں گویا یہ علم غیب اور علم کلی  بعد میں آپ سے سلب کر لیا گیا ہم کہتے ہیں: یہ دعوی چند وجوہ سے مردود ہے:

(۱) اللہ تعالی فرماتا ہے:

وقل رب زدنی علما( طہ:۱۴)

اور آپ کہیے: اے میرے رب! میرے علم کو زیادہ کر دے

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کا مطلوب اور منشاء آپ کے علم کو زیادہ کرنا ہے لہذا اگر اس مجلس میں آپ کو علم غیب اور علم کلی عطا کرکے پھر اس کو سلب کر لیا جاۓ تو یہ اللہ تعالی کے مطلوب اور منشاء کے خلاف ہوگا۔

( ب ) وللاخرة خير لك من الأولى (الضحی: ۴)

آپ کی بعد والی ساعت پہلی ساعت سے بہتر ہے O

اگر آپ کو پہلی ساعت میں علم غیب اور علم کلی حاصل ہو اور بعد والی ساعت میں اس علم کو سلب کر لیا جاۓ تو آپ کی بعد والی ساعت پہلی ساعت سے بہتر نہیں ہوگی اور یہ اس آیت کے خلاف ہے۔

( ج ) اللہ تعالی نے منافقین کا یہ حال بیان فرمایا ہے :

كلما اضالهم مشوا فيه وإذا أظلم عليهم قامو (البقرہ:20)

جب ان کے لیے بجلی نے روشنی کر دی تو یہ اس میں چلتے پھرتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا کر دیا تو یہ کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں۔

ان لوگوں نے یہی حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کیا ہے کہ اس مجلس میں لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے کے لیے آپ کو علم غیب عطا کردیا اور جب وہ مجلس ختم ہوگئی تو پھر آپ سے اس علم کو سلب کرلیا ۔

حضرت ابن عمر کی رائے تھی کہ خوارج اللہ تعالی کی بدترین مخلوق ہیں، انہوں نے کہا: جو آیات کفار کے متعلق نازل ہوئی ہیں خوارج ان کو مؤمنوں پر منطبق کرتے ہیں ۔ ( صحیح بخاری باب قتل الخوارج والملحدين )

خوارج کفار کی آیات کو مؤمنوں پر منطبق کرتے تھے اور یہ لوگ منافقین کی آیات کو سید الانبیاء سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر منطبق کر رہے ہیں۔

(۱) اگر نعمت پر شکر ادا کیا جائے تو اللہ تعالی اس نعمت میں زیادتی فرماتا ہے قرآن مجید میں ہے :

لين شكرتم لأزيدنكم ، (ابراہیم:۷)

اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور تمہیں زیادہ ( نعمت ) دوں گا ۔

علم سب سے بڑی نعمت ہے اور جب اس مجلس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب اور علم کلمی دیا گیا تو اب یہ مانعین اور تنقیص علم کرنے والے بتلائیں کہ آپ نے اس نعمت پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا یانہیں! اگر آپ اس نعمت پر اللہ تعالی کے شکر گزار ہیں تو پھر بعد میں علم سلب نہیں ہوگا بلکہ اس علم میں اضافہ ہوگا اور اگر یہ لوگ آپ کو اللہ تعالی کی نعمتوں کا شکر گزار نہیں مانتے تو پھر ہمیں از خود کچھ نہیں کہنا اس کا انجام یہ لوگ خود جانتے ہوں گے ۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے توبہ کرنے کی توجیہ

نیز اس حدیث میں ہے: جب حضرت عمر نے دیکھا کہ آپ کے چہرے میں ( غضب کے ) کیا آثار ہیں تو انہوں نے کہا:یا رسول اللہ ! ہم اللہ عز وجل کی طرف توبہ کر تے ہیں ۔

یعنی ایسے ناپسندیدہ سوالات جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوۓ،  ان سے ہم توبہ کرتے ہیں حضرت عمر  رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ دیکھا بعض صحابہ نے تو علم کی حرص کی وجہ سے سوال کیے تھے اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر منافقین نے آپ کی نبوت کو آزمانے کے لیے   اور آپ کو تنگ کر نے اور آپ کو مشقت میں ڈالنے کے لیے سوالات کرنے شروع کر دیے، جس سے آپ ناراض ہوۓ تو حضرت عمر نے سب کی طرف سے اللہ تعالی کی طرف توبہ کی ۔

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : 6004 ۔ ج۶ ص ۸۲۳ پر مذکور ہے اور اس کے یہ عنوانات ہیں:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے زیادہ سوال کر نے کی ممانعت کی وجوہات۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مجھ سے جو چاہو سوال کرو‘ کی تشریح ۔