أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّا خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ نُّطۡفَةٍ اَمۡشَاجٍۖ  نَّبۡتَلِيۡهِ فَجَعَلۡنٰهُ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ہے، ہم اس کو آزماتے ہیں سو ہم نے اس کو سننے والا، دیکھنے والا بنادیا.

الدھر : ٢ میں فرمایا : بیشک ہم نے انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا ہے، ہم اس کو آزماتے ہیں، سو ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنادیا۔

” نطفہ “ اور امشاج “ کا معنی

اس آیت میں ” نطفۃ “ کا لفظ ہے، نطفہ منی کے قطرہ کو کہتے ہیں، قلیل پانی جو کسی جگہ محفوظ ہو اس کو نطفہ کہتے ہیں، اور ” امشاج “ کا معنی اخلاط ہے ” امشاج “ کا واحد ” مشج “ اور ” مشیج “ ہے، یعنی دو چیزوں کا ایک دوسرے سے مل جانا، فراء نے کہا :” امشاج “ سے مراد ہے : مرد کے پانی اور عورت کے پانی کا مختلط ہونا، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” امشاج “ کا معنی ہے : سفیدی میں سرخی یا سرخی میں سفیدی۔

حضرت ام سلمیٰ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پیلا پیلا ہوتا ہے، ان میں سے جس کا پانی بھی غالب یا سابق ہو، بچہ اس کے مشابہ ہوتا ہے۔

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣١١، سنن نسائی رقم الحدیث : ١٩٥، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٦٠١)

حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں : مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے، وہ عورت کے پانی سے مختلط ہوجاتا ہے جو پیلا پیلا ہوتا ہے، ان دونوں پانیوں سے بچہ پیدا ہوتا ہے، بچے کے پٹھے، ہڈی اور اس کی قوت مرد کے پانی سے ہوتی ہے، اور اس کا خون، گوشت اور بال عورت کے پانی سے بنتے ہیں۔

نطفہ کے اختلاط میں متعدد اقوال

حسن بصری نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : نطفہ حیض کے خون کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے کیونکہ جب عورت کے رحم میں مرد کا پانی داخل ہوتا ہے اور عورت حاملہ ہوجاتی ہے تو اس کا حیض آنا بند ہوجاتا ہے، تو پھر مرد کا نطفہ حیض کے خون کے ساتھ مخلوط ہوجاتا ہے۔ قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا :” امشاج “ کا معنی یہ ہے کہ پہلے پانی اور خون مختلط ہوتا ہے، پھر وہ جما ہوا خون بن جاتا ہے، پھر وہ گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ نطفہ کے اختلاً سے مراد یہ ہے کہ نطفہ ایک حال سے دوسرے حال کی طرف اور ایک صفت سے دوسری صفت کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : ہم اس کو آزماتے ہیں، سو ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنادیا۔

اس کا معنی ہے : جب ہم نے انسان کو پیدا کیا تھا تو ہم اس کو آزمائش میں ڈالنے کا ارادہ کرنے والے تھے، سو ہم نے اس کو سننے والا دیکھنے والا بنادیا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں سننے اور دیکھنے کا معنی سمجھنا ہو، جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے آزر سے فرمایا تھا :

لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَلَا یُبْصِرُ (مریم : ٤٢) تم اس کی عبادت کیوں کرتے ہو جو نہ سنتا ہے اور نہ دیکھتا ہے ؟

یعنی جو کسی چیز کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 76 الانسان آیت نمبر 2