کتاب العلم باب 31 حدیث نمبر 97
sulemansubhani نے Wednesday، 25 September 2024 کو شائع کیا.
۳۱- باب تعليم الرجل أمته وأهله
کسی شخص کا اپنی باندی اور اپنی اہلیہ کو تعلیم دینا
اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں عام تعلیم کا ذکر تھا اور اس باب میں خاص تعلیم کا ذکر ہے۔
۹۷- حدثنا محمد، هو ابن سلام، قال حدثنا المحاربي قال حدثنا صالح بن حيان قال قال عامر الشعبي حدثني أبوبردة، عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة لهم أجران رجل من أهل الكتاب امن بنبيه و امن بمحمد صلى اللہ عليه وسلم والعبـد المملوك إذا ادى حق الله تعالى وحق مواليه ، ورجل كانت عنده امة ، فاذبها فأحسن تأديبها، وعلمها فاحسن تعليمها ثم اعتقها فتزوجها، فله أجران .
امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سلام نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں محاربی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں صالح بن حیان نے حدیث بیان کی وہ کہتے ہیں کہ عامر الشعبی نے کہا: مجھے ابوبردہ نے حدیث بیان کی از والد خود کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تین (قسم کے) لوگوں کے لیے دواجر ہیں : (۱ ) وہ اہل کتاب جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا (۲)وہ مملوک غلام جس نے اللہ تعالی کا حق ادا کیا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کیا ( ۳) اور وہ شخص جس کے پاس ایک باندی تھی اس نے اس کو ادب سکھایا تو اچھا ادب سکھایا اور اس کو تعلیم دی تو اچھی تعلیم دی، پھر اس کو آزاد کر دیا، پھر اس سے نکاح کرلیا تو اس کو دوا جرملیں گے ۔
ثم قال عامر أعطيناكها بغير شيء، قد كان يركب فيما دونها إلى المدينة. [ اطراف الحديث : ۲۵۴۴۔ 2547۔۲۵۵۱۔۳۰۱۱-3446۔ ۵۰۸۳]
پھر عامر نے کہا: ہم نے تم کو یہ حدیث بغیر کسی معاوضہ کے سنائی ہے بے شک اس سے کم عبارت کی حدیث کے سننے کے لیے مدینہ کا سفر کیا جاتا تھا ۔
( صحیح مسلم : ۲۵۳، سنن ابوداؤد : ٬2053 سنن ترمذی: ۱۱۱۶، سنن ابن ماجه :۱۹۵۶، سنن نسائی : ۳۳۴۴ مصنف عبد الرزاق :13112، مسند ابوعوانه ج ا ص ۱۰۳ سنن بیہقی ج ۷ ص ۱۲۸ شعب الایمان : 8608، مسند الحمیدی: 768، سنن سعید بن منصور : ۹۱۴ – ۹۱۳ سنن دارمی : ۲۲۴۴ الادب المفرد:203، السنن الکبری للنسائی: ٬۵۵۰۲ حلیۃ الاولیاء ج ۷ ص۳۳۱، المحلی ج۹ص۵۰۵، شرح السنۃ:26، المعجم الاوسط :۱ ۷ ۵۸ – ۳۰۷۳۔ ۱۸۸۹ المعجم الصغیر : ۱۱۳ تاریخ بغداد ج ۴ ص ۲۸۸، مسند ابویعلی : ۷۳۰۸ الاداب للبیہقی :71، مسند احمد ج ۴ ص ۹۵ ۳ طبع قدیم، مسند احمد : ۱۹۵۳۲ – ج 32 ص 299،مؤسسة الرسالة بیروت) “
اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت باندی کوتعلیم دینے میں ہے کیونکہ اس میں بیوی کو تعلیم دینے کا کوئی ذکر نہیں ہے البتہ یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ جب باندی کوتعلیم دینا جائز ہے تو بیوی جو آزاد عورت ہے اس کو مسائل دینیہ کی تعلیم کی زیادہ ضرورت ہے۔
حدیث مذکور کے رجال کا تعارف
(۱) محمد بن سلام ، ان کا تعارف ہو چکا ہے۔
(۲) المحاربی عبدالرحمان بن محمد بن زیاد الکوفی، یحیی بن معین نے کہا: یہ ثقہ ہیں، ابوحاتم نے کہا: جب یہ ثقات سے حدیث بیان کریں تو صدوق ہیں، یہ مجہولین سے احادیث منکرہ بیان کرتے ہیں تو ان کی حدیث میں فساد آجاتا ہے یہ 195ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
(۳) صالح بن حیان الکوفی، ان کے طبقہ میں ان کا ہم نام صالح بن حیان القرشی ہے لیکن وہ ضعیف راوی ہے یہ ۱۳۵ھ میں فوت ہو گئے تھے۔
( ۴ ) عامر بن شراحیل الشعبی۔
( ۵ ) ابوبرده عامر الاشعری الکوفی۔
(۲ ) حضرت عبداللہ بن قیس الاشعری رضی اللہ عنہ ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۱۷۷)
جن اہل کتاب کو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی وجہ سے دگنا اجر ملے گا اس سے مراد عہد رسالت کے اہل کتاب ہیں یا قیامت تک کے اہل کتاب ہیں
اس حدیث میں مذکور ہے: وہ شخص جو اہل کتاب سے ہو وہ اپنے نبی پر بھی ایمان لایا ہو اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا ہو اس کے لیے بھی دو اجر ہیں ۔
علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:
اس کے مصداق میں اختلاف ہے، اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اپنے نبی کے لاۓ ہوۓ دین پر بغیر کسی تبدیل اور تحریف کے قائم رہے حتی کہ ہمارے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوگئے، پھر وہ آپ پر بھی ایمان لے آۓ سوان کے لیے دواجر ہوں گے اور جن لوگوں نے اپنے نبی کے دین کو تبدیل کر دیا یا اس میں تحریف کردی ان کے لیے اپنے دین کا کوئی اجر باقی نہیں رہا، ان کو صرف سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا اجر ملے گا۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہاں عموم مراد ہو کیونکہ یہ بعید نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ان کے لیے دہرے اجر کا مقتضی ہو، ایک مرتبہ ان کے ان نیک اعمال پر جو انہوں نے اس نبی کے دین میں کیئے خواہ وہ تبدیل اور تحریف کرنے والے ہوں کیونکہ روایات میں آیا ہے کہ کفار کے نیک اعمال اسلام لانے کے بعد مقبول ہوتے ہیں اور ایک مرتبہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے بعد ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۱۷۹)
حافظ ابن حجر کے نزدیک اس سے قیامت تک کے اہل کتاب مراد ہیں، اس پر ان کے دلائل
اس مسئلہ کو حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ نے بہت تفصیل سے بیان کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
اس حدیث میں لفظ’ کتاب ‘‘عام ہے اور اس کا معنی خاص ہے یعنی وہ کتاب جو اللہ کے پاس سے نازل کی گئی ہو اور اس سے مراد تورات اور انجیل ہے جیسا کہ ظاہر کتاب اور سنت میں کتاب کے اطلاق سے معلوم ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد صرف انجیل ہے، جب کہ ہم یہ کہیں کہ نصرانیت یہودیت کے لیے ناسخ ہے، جیسا کہ ایک جماعت نے اس کو مقرر رکھا ہے اور نسخ کی شرط کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام بالاتفاق بنی اسرائیل کی طرف مبعوث تھے، ان میں سے جس نے حضرت عیسی کی دعوت کو قبول کرلیا وہ حضرت عیسی کی طرف منسوب ہوگئے اور جنہوں نے ان کی تکذیب کی اور یہودیت پر قائم رہے، وہ حضرت عیسی پر ایمان لانے والے نہ تھے اور یہ حدیث ان کو شامل نہیں ہے کیونکہ اس میں شرط ہے کہ وہ اہل کتاب اپنے نبی پر ایمان لانے والے ہوں ہاں! جو بنی اسرائیل کے علاوہ یہودیت میں داخل ہوا یا جو حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں نہ تھا اور اس کو آپ کی دعوت نہیں پہنچی اس پر یہ صادق آۓ گا کہ وہ یہودی مومن ہے کیونکہ وہ اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لایا اور اس نے کسی دوسرے نبی کی تکذیب نہیں کی، پس ان میں سے جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو پالیا اور آپ پر ایمان لے آیا وہ بلاشبہ اس حدیث کی بشارت میں داخل ہے اسی طرح وہ عرب ہیں جو یمن وغیرہ میں تھے ان میں سے لوگ یہودیت میں داخل ہوئے اور ان کو حضرت عیسی علیہ السلام کی دعوت نہیں پہنچی کیونکہ وہ خصوصا بنی اسرائیل کی طرف بھیجے گئے تھے ہاں! ان یہودیوں کے متعلق اشکال ہوگا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تھے اور یہ ثابت ہے کہ جو آیت اس حدیث کے موافق ہے وہ یہ ہے :
أوليك يؤتون أجرهم مرتين بما صبروا.
ان کو ان کے صبر کرنے کی وجہ سے دگنا اجر دیا جاۓ گا ۔(القصص: ۵۴)
یہ آیت ایمان لانے والوں کی ایک جماعت کے متعلق نازل ہوئی تھی، جن میں حضرت عبداللہ بن سلام کی مثل لوگ تھے ۔
امام طبرانی نے حضرت رفاعہ قرظی سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی ہے اور ان لوگوں کے متعلق جو میرے ساتھ ایمان لاۓ تھے ۔ (المعجم الکبیر: 4564۔ ج ۵ ص ۵۳ داراحیاء التراث العربی بیروت ) اور امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ علی بن رفاعہ القرظی سے روایت کیا ہے کہ دس اہل کتاب میں میرے والد رفاعہ بھی تھے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آۓ، پس وہ ایمان لے آۓ، پھر ان کو ایذاء دی گئی تب یہ آیت نازل ہوئی :
الذين اتينهم الكتب من قبله هم به يؤمنون0(القصص:۵۲)
وہ لوگ جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی، وہ اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں
سو یہ لوگ بنو اسرائیل میں سے تھے اور حضرت عیسی پر ایمان نہیں لائے تھے بلکہ یہودیت پر برقرار رہے تھے حتی کہ وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آۓ اور یہ ثابت ہے کہ ان کو دواجر دیئے جائیں گے ۔
(المعجم الکبیر: ۶۳ ۵ ۴ ۔ ج ۵ ص ۵۳ دار احیاء التراث العربی بیروت )
علامہ طیبی نے کہا: یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حدیث کو اپنے عموم پر برقرار رکھا جائے کیونکہ یہ بعید نہیں ہے کہ ان کا سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانا ان کے ادیان کے قبول ہونے کا سبب بن جاۓ اگر چہ وہ دین منسوخ ہوچکے ہیں ( علامہ طیبی کی عبارت ختم ہوئی )۔
حافظ عسقلانی کہتے ہیں :) میں عنقریب اس بات کو ذکر کروں گا جس سے اس کی تائید ہوتی ہے اور جو یہودی مدینہ میں تھے ان کے متعلق سی بھی کہا جاسکتا ہے کہ ان تک حضرت عیسی علیہ الاسلام کی دعوت نہیں پہنچی کیونکہ وہ اکثر شہروں میں نہیں گئے تھے سو وہ اپنی یہودیت پر ثابت رہے اور اپنے نبی حضرت موسی علیہ السلام پرایمان رکھتے رہے، یہاں تک کہ اسلام آ گیا۔ پھر وہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاۓ اس تقریر سے ان شاءاللہ اشکال دور ہو جاۓ گا۔
فوائد
پہلا فائدہ: ابن التین وغیرہ کی شرح میں مذکور ہے کہ یہ آیت مذکور ہ کعب الاحبار اور حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق نازل ہوئی ہے اور یہ قول حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق تو صحیح ہے لیکن کعب کے متعلق خطاء ہے کیونکہ وہ صحابی نہیں ہیں اور وہ حضرت عمر بن الخطاب کے عہد میں اسلام لائے تھے اور طبری وغیرہ کی تفسیر میں قتادہ سے روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہم کے متعلق نازل ہوئی ہے اور یہ قول درست ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن سلام پہلے یہودی تھے پھر اسلام لے آۓ اور حضرت سلمان فارسی پہلے عیسائی تھے پھر مسلمان ہو گئے اور یہ دونوں مشہور صحابی ہیں ۔
دوسرا فائدہ: علامہ قرطبی نے لکھا ہے: وہ اہل کتاب جس کو دواجر دیئے جائیں گے یہ وہ ہے جس کا ابتداء میں عقیدہ برحق تھا اور وہ اسی پر قائم رہا، حتی کہ وہ ہمارے نبی ﷺ پر ایمان لے آیا سو اس کو پہلی بار حق کی اتباع پر بھی اجر دیا جاۓ گا اور دوسری بار بھی ( علامہ قرطبی کی عبارت ختم ہوئی ) ۔
اس پر یہ اشکال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ھرقل کی طرف مکتوب لکھا: تم اسلام لے آؤ اللہ تم کو دو اجر عطا فرماۓ گا حالانکہ ھرقل نصرانیت میں اس کے تبدیل اور تحریف کے بعد داخل ہوا تھا اور میں اس سے پہلے اس کے متعلق شیخ الاسلام علامہ بلقینی کی بحث لکھ چکا ہوں۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے حدیث ھرقل میں جو ھرقل کو دواجر دینے کی تو جیہ لکھی ہے، وہ یہ ہے:
ھرقل کو دو اجر عطا کیا جانا، اس وجہ سے فرمایا کہ وہ اپنے نبی پر بھی ایمان لایا، پھر سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا، اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے لیے دگنے اجر کا اس لیے فرمایا ہو کہ ایک اجر اس کے اپنے اسلام لانے کی وجہ سے ہوتا اور ایک اجر اس لیے ہوتا کہ اس کی اتباع میں اس کے ماتحت لوگ اور پیروکار بھی اسلام لے آتے، اور اس آیت سے ہمارے شیخ ، شیخ الاسلام نے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ ہر وہ شخص جو اہل کتاب کے طریقہ پر عمل کرے اس سے نکاح کرنا اور اس کا ذبیحہ کھانا اہل کتاب کے حکم میں ہے کیونکہ ھرقل اور اس کی قوم بنی اسرائیل میں سے نہیں تھے اور وہ تبدیل اور تحریف کے بعد نصرانیت میں داخل ہوئے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اور اس کی قوم کے لیے” یااھل الکتب ‘‘فرمایا اور یہ اس کی دلیل ہے کہ ان کے لیے اہل کتاب کا حکم ہے اس کے برخلاف بعض علماء نے اہل کتاب کے اس حکم کو اسرائیلیوں کے ساتھ خاص رکھا ہے یا ان کے ساتھ خاص کیا ہے، جن کے متعلق معلوم ہو کہ ان کے اسلاف یہودیت یا نصرانیت میں تبدیل اور تحریف سے پہلے داخل ہوئے تھے ۔ (فتح الباری ج۱ ص 516، دار المعرفة بیروت 1426ھ )
تیسرا فائدہ: داؤدی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دگنے اجر کا حکم سابقہ امتوں کے تمام ان لوگوں کو شامل ہو ل، جنہوں نے کوئی نیک کام کیا ہو جیسا کہ حکیم بن حزام جب اسلام لاۓ تو آپ نے فرمایا: تم نے اپنی پچھلی خیر کو سلامت رکھا ہے، لیکن یہ قول اس لیے صحیح نہیں ہے کہ یہ حدیث اہل کتاب کے ساتھ مقید ہے، لہذا یہ دوسروں کو شامل نہیں ہوگی، سوا اس کے کہ خیر کو ایمان پر قیاس کیا جاۓ، نیز اس میں نکتہ یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: وہ اپنے نبی پر بھی ایمان لایا ہو اس سے معلوم ہوا کہ دگنے اجر کی علت یہ ہے کہ وہ دونبیوں پر ایمان لایا ہو اور کفار اس طرح نہیں ہیں، کفار اور اہل کتاب میں فرق یہ ہے کہ اہل کتاب سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانتے تھے جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا:
يجدونه مكتوبا عندهم في الثورة والإنجيل. الاعراف: ۱۵۷
وہ (نبی امی کو) اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔
پس ان میں سے جو آپ پر ایمان لایا اور اس نے آپ کی اتباع کی اس کو دوسروں پر فضیلت ہے، اسی طرح ان میں سے جس نے آپ کی تکذیب کی اس کا گناہ دوسروں سے زیادہ شدید ہوگا حدیث میں جن تین قسم کے لوگوں کے لیے دائمی اجر کا فرمایا ہے یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے ہمارے شیخ علامہ بلقینی کی یہی تحقیق ہے اس کے برخلاف علامہ کرمانی نے یہ کہا ہے کہ یہ حکم آپ کی بعثت کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ آپ کی بعثت کے بعد صرف آپ ہی نبی ہیں، اب اگر کوئی یہودی یا عیسائی آپ پر ایمان لے آۓ تو اس کو دگنا اجر نہیں ملے گا۔ ( شرح الکرمانی ج ۲ ص ۸۸ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۳۰۱ھ) لیکن علامہ کرمانی کا یہ قول اس شخص کے متعلق کیسے صحیح ہوگا جس تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہ پہنچی ہو اس لیے ہمارے شیخ کی تحقیق ہی ظاہر ہے۔
(فتح الباری ج۱ ص ۲۴۴ ۔ ۶۴۳ دارالمعرفۃ بیروت ۱۴۲۶ھ )
حافظ بدرالدین عینی کے نزدیک اس سے مراد صرف عہد رسالت کے اہل کتاب ہیں اس پر ان کے دلائل
علامہ بدرالدین عینی متوفی ۸۵۵ھ نے حافظ عسقلانی کی اس تحقیق سے اختلاف کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اہل کتاب میں سے جو اب ایمان لائے گا اس کو دو اجر نہیں ملیں گے، یہ حکم اس اہل کتاب کے ساتھ خاص ہے جو آپ کو بعثت کے وقت آپ پر ایمان لایا اس پر یہ صادق آۓ گا کہ وہ اپنے نبی پر بھی ایمان لایا اور آپ پر بھی ایمان لایا اور آپ کی بعثت کے بعد تو ہر نبی کی دعوت منقطع ہوچکی ہے اب صرف آپ ہی کی نبوت ہے اور آپ کی بعثت کے بعد اہل کتاب کے لیے ہمارے نبی کے سوا اور کوئی نبی نہیں ہے کیونکہ آپ کی بعثت سے حضرت عیسی علیہ السلام کی دعوت منقطع ہو چکی ہے اس لیے آپ کی بعثت کے بعد جو آپ پر ایمان لائے گا وہ صرف ایک اجر کا مستحق ہوگا اور وہ آپ پر ایمان لانے کی وجہ سے ہوگا اور باقی دو لوگ جو ہیں یعنی جو غلام اپنے مالک کی بھی خدمت کرے اور اللہ تعالی کی عبادت بھی کرے اور جو شخص اپنی باندی کوتعلیم دے کر آزاد کرے پھر اس سے شادی کر لے ان کے لیے دگنے اجر کا یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۱۸۱۔۱۸۰ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )
دیو بندی شارحین بخاری کے نزدیک اس سے مراد قیامت تک کے اہل کتاب ہیں
شیخ سلیم اللہ خان نے حافظ ابن حجر عسقلانی اور علامہ عینی کی عبارات وضاحت سے لکھنے کے بعد اس طرح محاکمہ کیا ہے:
صحیح بات وہی ہے جو علامہ بلقینی فرمارہے ہیں کہ یہ حکم عام ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔( کشف الباری ج ۳ ص ۲۰۷ جامعہ فاروقیہ کراچی ۱۴۲۶ھ )
سید احمد رضا بجنوری ( دیوبندی ) لکھتے ہیں :
یہ جواب شیخ الاسلام کے نظریہ پر ہی چل سکتا ہے کہ اہل کتاب کے ایمان لانے کا معاملہ وہ قیامت تک مستمر مانتے ہیں مگر کرمانی نے دعوی کیا ہے کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہی زمانہ بعثت کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ بعد بعثت تو سب کے نبی صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت عام ہے۔
علامہ کرمانی کی یہ دلیل اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اگر زمانہ بعثت کے ساتھ خاص کریں گے تو یہ بات حضور ﷺ کے زمانہ بعثت کے بھی سب لوگوں پر پوری نہ اترے گی یعنی جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت نہ پہنچی ہوگی اور اگر ان لوگوں کو مراد لیں جن کو دعوت نہ پہنچی ہو تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ بعثت اور بعد زمانہ بعثت میں کیا فرق رہا! لہذا شیخ الاسلام کی تحقیق زیادہ صاف ہے ۔( انوار الباری ج ۵ ص : 170 ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان )
شیخ تقی عثمانی کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ حکم قیامت تک کے اہل کتاب کے لیے عام ہے وہ لکھتے ہیں :
یہی صورت اہل کتاب کے ساتھ تھی کہ ان کا علم ان کے راستہ میں رکاوٹ بن رہا تھا، لیکن جب اس رکاوٹ کو خاطر میں نہ لاکر اس رکاوٹ کو عبور کرکے آ دمی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا تو یہ ایمان مشقت کے ساتھ ہوا لہذا اس ایمان پر دہرا اجر ملے گا۔
( انعام الباری ج ۲ ص ۱۳۵ مکتبہ الحراء کراچی )
مصنف کے نزدیک اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آپ کی بعثت سے پہلے قرآن مجید پر ۔۔۔۔۔۔اور آپ کی رسالت پر ایمان لا چکے تھے
مصنف کا یہ نظریہ ہے کہ تمام اہل کتاب کے لیے یہ حکم عام نہیں ہے، لیکن مصنف کی دلیل وہ نہیں ہے جو علامہ کرمانی اور علامہ عینی نے قائم کی ہے مصنف کی دلیل وہ ہے جو تبیان القرآن‘‘ میں قائم کی گئی ہے ۔ اس دلیل کی تقریر سے پہلے قرآن مجید کی ان دو آیتوں کو پیش نظر رکھیں جو اس مسئلہ سے متعلق ہیں:
الذين اتينهم الكتب من قبله هم به يؤمنون0وإذا يتلى عليهم قالوا امنا به أنه الحق من ربنا إنا کنا من قبله مسلمين0 أوليك يؤتون أخرهم مرتین بما صبروا. (القصص: 52۔54)
جن کو ہم نے اس سے پہلے کتاب دی تھی، وہ اس ( قرآن )پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور جب ان پر اس ( کتاب ) کی تلاوت کی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لا چکے ہیں بے شک ہہ ہمارے رب کی طرف سے برحق ہے ہم اس سے پہلے ہی مسلمین اور اطاعت شعار ہو چکے تھے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اعمال کا دگنا اجر دیا جاۓ گا کیونکہ انہوں نے صبر کیا ۔
ان آیات کی تفسیر میں ہم نے لکھا ہے:
قرآن مجید میں چونکہ’’ من قبلہ‘‘ کی قید ہے یعنی وہ اہل کتاب جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت یا قرآن مجید کے نزول سے پہلے اپنی کتابوں میں ہمارے نبی اور قرآن مجید کی بشارت کا پڑھ کر آپ پر یا قرآن مجید پر ایمان لا چکے تھے اور آپ کے ظہور کے بعد انہوں نے اسلام قبول کرلیا، سو دگنے اجر کی بشارت صرف ان کے لیے ہے، قیامت تک کے تمام اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کے لیے نہیں ہے۔ امام رازی متوفی 606ھ علامہ قرطبی متوفی 668ھ علامه بیضاوی متوفی 685ھ حافظ ابن کثیر متوفی ۷۷۴ھ اور علامہ آلوسی متوفی ۷۰ ۱۲ ھ نے ان کو دگنے اجر دیئے جانے کی یہی وجہ لکھی ہے کہ یہ لوگ بعثت سے پہلے بھی ہمارے نبی پر ایمان لاۓ اور بعثت کے بعد بھی ہمارے نبی پر ایمان لاۓ اس وجہ سے ان کو دگنا اجر ملے گا ۔ ( تفسیر کبیر ج ۸ ص 607، الجامع لاحکام القرآن جز ۱۳ ص ۲۷۲ تفسیر البيضاوي مع الخفاجی ج ۷ ص ۳۰۷، تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 241، روح المعانی جز 20 ص 139۔140،دارالفکر بیروت 1419ھ )تبیان القرآن ج ۸ ص 826 القصص: ۵۳ فرید بک سٹال لاہور،
دگنے اجر کی کیفیت اور ان تین قسم کے لوگوں کو دگنا اجر عطا فرمانے کی خصوصیت
ان تین قسم کے لوگوں کو دہرے اور دگنے اجر عطا فرمانے کا محمل یہ ہے کہ جس عبادت کا اجر ہمیں دس گنا عطا کیا جاۓ ان کو اس عبادت کا اجر بیس گنا عطا کیا جاۓ گا اور جس عبادت کا اجر ہمیں ستر گنا عطا کیا جاۓ گا ان کو اس کا اجر ایک سو چالیس گنا عطا کیا جاۓ گا ـ وعلى هذا القياس .
ان تین لوگوں کو دگنا اجر اس لیے عطا کیا جاۓ گا کہ ان کی مشقت بھی دگنی ہے، چنانچہ جو اہل کتاب پہلے اپنے نبی پر ایمان لاۓ گا، پھر ہمارے نبی پر ایمان لائے گا اس کو ان دوسرے اہل کتاب کی سخت مخالفت کا سامنا ہوگا جو ہمارے نبی پر ایمان نہیں لاۓ اور جو غلام اپنے مالک کی بھی اطاعت کرے اور اللہ تعالی کی بھی عبادت کرے اس کی دگنی مشقت بالکل واضح ہے اسی طرح جو شخص اپنی باندی کو تعلیم اور تربیت دے پھر اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے اس کی مشقت اس طرح ہے کہ اب وہ بیوی سے باندی والی خدمات نہیں لے سکتا۔
عامر شعبی کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے خراسانی کو یہ حدیث سنا کر کہا کہ علم کا مرکز چونکہ مدینہ منورہ ہے جہاں خلفاء راشدین اور فقہا صحابہ ہیں اس لیے ہم اس سے بھی کم مسئلہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے پہلے مدینہ کا سفر کیا کرتے تھے اور تم کو بغیر مشقت اٹھاۓ یہ مسئلہ معلوم ہوگیا۔
اس حدیث میں خواتین کو تعلیم دینے کی دلیل ہے کیونکہ اس شخص کو دگنا اجر ملے گا جو اپنی باندی کو تعلیم دے اور ادب سکھاۓ ۔
صحیح البخاری: ۹۸ میں اس مسئلہ کی زیادہ وضاحت آۓ گی ان شاء اللہ ۔
ٹیگز:-
Allama Ghulam Rasool Saeedi , صحیح البخاری , شرح صحیح البخاری , نعمۃ الباری فی شرح صحیح البخاری , کتاب العلم