٣٥- باب هل يجعل للنساء یوم على حدة في العلم

کیا خواتین کی تعلیم کے لیے علیحدہ دن مقرر کیا جاۓ

 

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق علم کو اٹھانے کے متعلق تھا، جس کو علم کی حفاظت لازم ہے اور اس باب میں بھی علم کی حفاظت کا بیان ہے کیونکہ جب خواتین نے آپ سے یہ سوال کیا کہ آپ ان کی تعلیم کے لیے علیحدہ دن مقرر کردیں تو آپ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمالیا جس میں آپ ان کو تعلیم دیں گے اور اس سے بھی علم کی حفاظت ہوگی ۔

۱۰۱- حدثنا ادم قال حدثنا شعبة قال حدثني  ابن الأصبهاني قال سمعت أبا صالح ذکوان يحدث عن أبي سعيد الخدري قال قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم غلبنا عليك الرجال فاجعل لنا يوما من نفسك ، فوعدهن يوما لقيهن فيه فوعظهن وأمرهن، فكان فيما قال لهن ما منكن امرأة تقدم ثلاثة من ولدها إلا كان لها حجابا من النّار . فقالت امرأة واثنين؟ فقال واثنين. (اطراف الحدیث :1249۔۷۳۱۰ 

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں آدم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: مجھے ابن الاصبہانی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوصالح ذکوان سے سنا، وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ خواتین نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ آپ کے اوپر مرد غالب ہو گئے ہیں، آپ اپنی طرف سے ہمارے لیے ایک دن مقرر کردیں، آپ نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرمالیا جس دن میں آپ نے ان سے ملاقات کی ان کو نصیحت کی اور ان کو ( کچھ اعمال کا) حکم دیا اور آپ نے ان سے جو کچھ فرمایا اس میں یہ ارشاد بھی تھا: تم میں سے جوعورت بھی اپنے تین بچوں کو پہلے بھیج دے گی وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے حجاب ہو جائیں گے ایک خاتون نے کہا: اور دو؟ آپ نے فرمایا: اور دو بھی ۔

صحیح مسلم: 2633، السنن الکبری للنسائی:5896،  مسند ابویعلی : ۱۲۷۹، صحیح ابن حبان : 2944،  شرح السنتہ :1546، شعب الایمان : ٬۹۷۴۳ مسند احمد ج ۳ ص ۳۴ طبع قدیم  مسند احمد : 11296 ۔ ج ۱۷ ص 398 مؤسسة الرسالة بیروت

اس حدیث کی عنوان باب کے ساتھ مطابقت واضح ہے کیونکہ اس حدیث میں خواتین کے لیے علیحدہ دن مقرر کر نے کا ذکر ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) آدم بن ابی ایاس

(۲) شعبہ ابن الحجاج ان کا تعارف ہو چکا ہے

(۳) عبدالرحمان بن عبداللہ الاصیبانی الکوفی’ یہ شعبۂ ابوعوانہ اور ابن عیینہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عبداللہ بن معقل اور ابوصالح وغیرہ روایت کرتے ہیں ابوحاتم نے کہا: ان کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، امام نسائی کے علاوہ باقی ائمہ ستہ نے ان سے احادیث کی روایت کی ہے، یہ خالد کی امارت میں عراق میں فوت ہو گئے تھے .

(۴) ابوصالح ذکوان.

( ۵ ) حضرت ابوسعید سعد بن مالک الخدری رضی اللہ عنہ ان کا تعارف ہوچکا ہے ۔( عمدة القاری ج ۲ ص۲۰۰)

آپ پر مردوں کے غالب آنے کی وضاحت

اس حدیث میں مذکور ہے کہ خواتین نے کہا: آپ پر مرد غالب آ گئے ۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ہفتہ کے تمام دنوں میں مرد آپ کے ساتھ لازم رہتے ہیں، اور وہی آپ سے علم کی باتیں اور دینی مسائل کو سنتے ہیں، اور ہم خواتین جسمانی طور پر کمزور ہیں اور مردوں سے مزاحمت کی طاقت نہیں رکھتیں، تو آپ ہفتہ کے دنوں میں سے کوئی ایک دن ہمارے لیے بھی مقرر کردیں، جس دن میں ہم آپ سے علم کی باتیں اور دینی مسائل کا سماع کریں ۔

پلک جھپکنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کا رابطہ

اس حدیث میں مذکور ہے کہ ایک خاتون نے کہا: اور دو؟ آپ نے فرمایا: اور دو بھی ۔

یہ خاتون حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا تھیں ایک قول یہ ہے کہ کوئی اور خاتون تھیں ۔

اس میں یہ دلیل ہے کہ دو فوت شدہ بچوں کا بھی تین فوت شدہ بچوں والاحکم ہے، ہوسکتا ہے کہ اس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی ہو کہ آپ دو بچوں کے متعلق بھی مثبت جواب دے دیں اور یہ محال نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت سوال کیا گیا تھا۔ اسی وقت پلک جھپکنے میں آپ پر وحی نازل ہوگئی ہو، علامہ نووی نے کہا ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے پہلے آپ پر وحی نازل ہوگئی ہو اور علامہ ابوالحسن القابسی وغیرہ نے کہا ہے کہ امام بخاری نے کتاب الرقاق‘‘ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک حدیث روایت کی ہے،  جو اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک بھی دو کی مثل ہے وہ احادیث یہ ہیں :

نابالغ بچوں کے ماں باپ کو بخشوانے کے متعلق دیگر احادیث

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: جب میں اپنے مومن بندہ کے اہل دنیا میں سے ( گناہوں سے) صاف بندے کی روح کو قبض کرلوں اور وہ (اس پر صبر کرنے میں ) ثواب کی نیت کرے تو میرے پاس اس کی جزاء صرف جنت ہے ۔ ( صحیح البخاری: ۶۴۲۴)

اور نابالغ بچہ سے بڑھ کر صاف بندہ کون ہوگا! اور’’ سنن ترمذی‘‘ میں صریح حدیث ہے کہ دو اور ایک بھی تین کی طرح ہیں:

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے تین نابالغ بچوں کو بھیجا، وہ اس کے لیے دوزخ کی آگ سے محفوظ قلعہ بن جائیں گے، حضرت ابوذر نے کہا: میں نے تو دوکو بھیجا ہے، آپ نے فرمایا: اور دو بھی، پھر حضرت ابی بن کعب سید القراء نے کہا: میں نے تو ایک کو بھیجا ہے، آپ نے فرمایا: اور ایک بھی، لیکن یہ اس وقت ہے جب وہ پہلی بارصدمہ پہنچنے کے وقت صبر کرے ۔ ( سنن ترمذی: 1061، سنن ابن ماجه : 1606،  مسند احمد ج۱ ص ۳۷۵)

ایک اور حدیث میں اس سے زیادہ تصریح ہے:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جس نے دو نابالغ بچے اپنے سے پہلے بھیج دیئے، اللہ تعالی ان بچوں کے سبب سے اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔

حضرت عائشہ نے کہا: اور آپ کی امت میں سے جس شخص کا پہلے بھیجا ہوا ایک بچہ ہو؟ آپ نے فرمایا: اور جس کا ایک بچہ ہوا اسے خیر کی توفیق دی گئی!! حضرت عائشہ نے کہا: اور جس کا آپ کی امت میں سے پہلے بھیجا ہوا کوئی بچہ نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: پھر میں اپنی امت کا پیش رو ہوں ! میری (وفات کی ) مثل سے بڑھ کر ان کو کوئی مصیبت نہیں پہنچی ۔ (سنن ترمذی: ٬۱۰۶۲ مسند احمد ج۱ ص ۳۳۴)

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بے شک ایک ناتمام بچہ اپنے رب سے جھگڑے گا جب اس کے ماں باپ کو دوزخ میں داخل کیا جائے گا۔ پس کہا جائے گا: اے نا تمام بچے! اپنے رب سے جھگڑ نے والے! اپنے ماں باپ کو جنت میں داخل کردے، پس وہ اپنے ماں باپ کو اپنی ناف سے پکڑکر گھسیٹتا ہوا لاۓ گا، حتی کہ ان کو جنت میں داخل کر دے گا ۔

( سنن ابن ماجه : 1608، اس حدیث کی سند ضعیف ہے )

خواتین کا عالم سے دینی مسائل معلوم کرنے کا جواز، تعیین یوم کا جواز اور مسلمان بچوں کا جنت میں ہونا

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خواتین اپنے دینی مسائل مرد عالم سے معلوم کر سکتی ہیں اور مرد ان کو جواب دے سکتا ہے، اسی طرح  اور بھی ضروری امور میں وہ مردوں سے بات کر سکتی ہیں ۔

اس حدیث میں ذکر ہے کہ آپ نے عورتوں کو تعلیم دینے کے لیے ایک دن معین فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم اور عبادت کے لیے اپنے اجتہاد سے دن کا تعین کرنا جائز ہے، اس پر قیاس کر کے دیگر کارہائے خیر کے لیے بھی دن کو معین کرنا جائز ہے ۔

اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسلمانوں کی نابالغ اولاد  جنت میں ہوگی کیونکہ جب وہ اپنے ماں باپ کو جنت میں لے جائیں گے تو خود توبه طریق اولی جنت میں ہوں گے ۔

اس باب کی حدیث شرح صحیح مسلم:6575، ۔ ج ۷ ص۲۴۶ پر مذکور ہے، وہاں اس حدیث کی شرح نہیں کی گئی ۔