۳۸- باب إثم من كذب على النبي صلى الله عليه وسلم

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کا گناہ

 

جھوٹ اور سچ کی تین تعریفیں ہیں:

(۱) مذہب حق یہ ہے کہ کلام کا واقع کے مطابق نہ ہونا جھوٹ ہے اور کلام کا واقع کے مطابق ہونا سچ ہے ۔

(۲) نظام معتزلی کے نزدیک کلام کا اعتقاد مخبر کے مطابق نہ ہونا جھوٹ ہے اور کلام کا اعتقاد مخبر کے مطابق ہونا سچ ہے ۔

(۳) جاحظ کے نزدیک کلام کا واقع اور اعتقاد خبر کے مطابق نہ ہونا جھوٹ ہے اور کلام کا واقع اور اعتقاد مخبر کے مطابق  ہونا سچ ہے ۔

( مختصر المعانی ص ۷۲۔ 67 ملخصا الکتب الفاروقیہ ملتان )

آخری تعریف کے اعتبار سے صدق اور کذب میں ایک واسطہ نکل آۓ گا، یعنی جو کلام اعتقاد مخبر کے مطابق نہ ہو خواہ واقع کے مطابق ہو یا نہ ہو وہ کلام صادق ہوگا نہ کاذب ۔

اس حدیث کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ جس کو علم نہ ہو اس کو علم پہنچایا جائے اور اس باب میں یہ بتایا ہے کہ علم اور حدیث پہنچانے میں جھوٹ سے احتراز کیا جاۓ ۔

١٠٦- حدثنا علي بن الجعد قال أخبرنا شعبة قال أخبرني منصور قال سمعت ربعي بن حراش يقول سمعت عليا يقول قال النبي صلى الله عليہ وسلم لا تكذبوا على ، فإنه من كذب على فليلج النار۔

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں علی بن الجعد نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے خبر دی انہوں نے کہا: مجھے منصور نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ربعی بن حراش کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے : میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ کہتے ہوۓ سنا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ نہ باندھو کیونکہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا، اسے دوزخ میں داخل ہونا چاہیے ۔

( مقدمہ صحیح مسلم : ۲ ، سنن ترمذی: ۷۱۵ ۳۔266پ، سنن ابن ماجہ :۳۱،سنن کبری للنسائی :۵۹۱۱ مسند ابویعلی: 647 مسند ابوداؤد الطیالسی : ۱۰۷ مسند البزار: ۹۰۳ مسند احمد ج ۱ ص ۸۳ طبع قدیم مسند احمد :629 ۔ ج ۲ ص ۶۴ مؤسسة الرسالة بيروت )

اس حدیث کی باب کے عنوان کے ساتھ مطابقت اس طرح ہے کہ اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کے لیے دوزخ کی وعید ہے اور اس باب کا عنوان ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے والے کا گناہ

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور ثقہ تابعی ربعی بن حراش کا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ

 

(۱) علی بن الجعد الجوہری البغدادی

( ۲ ) شعبہ بن الحجاج

( ۳ ) منصور ابن المعتمر، ان سب کا تعارف گزر چکا ہے

(۴) ربعی بن حراش الغطفانی العبسی الکوفی، یہ بہت متقی اور عبادت گزار تھے  کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بالکل جھوٹ نہیں بولا انہوں نے  یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک نہیں ہنسیں گے جب تک کہ انہیں یہ نہ معلوم ہو جاۓ کہ ان کا ٹھکانا کہاں ہے جنت میں یا دوزخ میں؟ پھر موت کے بعد یہ ہنسنے لگے، ان کے دو بھائی تھے: مسعود اور ربیع، مسعود نے موت کے بعد کلام کیا تھا اور ربیع نے بھی قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک نہیں ہنسیں گے جب تک کہ انہیں یہ نہ معلوم ہو جاۓ کہ وہ جنت میں ہیں یا نہیں، ان کونسل دینے والے نے بتایا کہ جب تک وہ تخت پر تھے، مسلسل ہنستے رہے حتی کہ ہم انہیں غسل دے کر فارغ ہوگئے ابن المدینی نے کہا: مسعود سے صرف یہ چیز مروی ہے کہ انہوں نے موت کے بعد کلام کیا ربعی کی اولاد نہیں تھی، ان کے بھائی مسعود کی اولاد تھی ابوالحسن القابسی نے کہا ہے کہ ربعی نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف اس حدیث کا سماع کیا ہے وہ شام میں آۓ اور الجابیہ میں انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا خطبہ سنا العجلی نے کہا: وہ ثقہ تابعی ہیں، عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ۱۰۴ھ میں فوت ہو گئے تھے۔( عمدة القاری ج ۲ ص ۲۲۲ دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ )حافظ یوسف المزی المتوفی 742ھ نے ربعی بن حراش کا تذکرہ تفصیل سے لکھا ہے ۔( تہذیب الکمال فی اسماء الرجال ج 6 ص۱۲۱ دارالفکر بیروت ۱۴ ۱۴ ھ تہذیب التہذیب ج 3 ص 206، علامہ نووی نے بھی ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔مقدمہ مسلم ج۱ ص۳۲۰ مکتبه نزار مصطفی ۱۴۱۷ھ )

(۵) حضرت علی بن ابی طالب  رضی اللہ عنہ لہاشمی المکی المدنی امیر المؤمنین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عم زاد آپ کی صاحب زادی حضرت سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے شوہر، حضرت علی کی والدہ حضرت فاطمہ بنت اسد بن ہاشم تھیں یہ پہلی ہاشمیہ تھیں جن سے ایک ہاشمی پیدا ہوئے یہ اسلام لائیں اور مدینہ کی طرف ہجرت کی یہ رسول اللہ ﷺ کی حیات میں فوت ہوئیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں اترے حضرت علی کی کنیت ابوالحسن تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کنیت ابوتراب رکھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنا بھائی بنایا تھا اورفرمایا تھا: تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو حضرت علی آپ کے دونواسوں کے والد ہیں اور پہلے ہاشمی مرد ہیں، جن سے دو ہاشمی پیدا ہوۓ، جن دس مسلمانوں کو آپ نے جنت کی بشارت دی تھی، ان میں سے ایک ہیں اور ان چھ اصحاب شوری میں سے ایک ہیں جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت راضی تھے،  خلفاء راشدین میں سے ایک ہیں اور علماء ربانین اور مشہور بہادروں اور زاہدوں میں سے ایک ہیں اور اسلام میں سبقت کرنے والوں میں سے ایک ہیں، غزوہ تبوک کے سوا تمام مغازی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے غزوہ تبوک میں آپ نے حضرت علی کو مدینہ میں اپنا خلیفہ بنا دیا تھا’ غزوہ احد میں حضرت علی کو سولہ زخم لگے تھے غزوہ خیبر میں آپ نے ان کو جھنڈا عطا کیا تھا اور یہ بشارت دی تھی کہ فتح ان کے ہاتھوں سے ہوگی، ان کے مناقب بہت زیادہ ہیں اور شجاعت میں ان کے احوال بہت مشہور ہیں ان کا علم بھی بہت زیادہ ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے ۵۸۶ احادیث روایت کی ہیں، امام بخاری ۹ ( نو ) احادیث کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم ۱۵ احادیث کے ساتھ منفرد ہیں پانچ سال خلیفہ رہے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد ان کی بیعت کی گئی،  کیونکہ اس وقت یہ سب سے افضل صحابی تھے عبدالرحمان بن ملجم مراری نے جمعہ کی شب زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے آپ کے دماغ پر ضرب لگائی تریسٹھ سال کی عمر گزار کر 19 رمضان ۴۰ ھ اتوار کی شب آپ کا انتقال ہوگیا،  آپ کا گندمی رنگ تھا’ چوتھائی سر پر بال نہیں تھے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید تھے بعض اوقات ڈاڑھی میں خضاب لگاتے تھے ڈاڑھی گھنی اور لمبی، چہرہ حسین تھا، جیسے چودھویں رات کا چاند ہو آپ کی قبر کوفہ میں ہے لیکن خوارج کے خطرہ سے غائب کردی گئی ۔ صحابہ میں علی بن ابی طالب نام کا اور کوئی نہیں ہے ۔( عمدة القاری ج ۲ ص ۲۲۳ ۲۲۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ )

حافظ یوسف المزى المتوفی ۷۴۲ھ نے آپ کی وفات کے متعلق چار تاریخیں لکھی ہیں: تیرہ رمضان، گیارہ رمضان، انیس رمضان اور اکیس رمضان اور موضع وفن کے متعلق تین قول لکھے ہیں : کوفہ کا قصر امارت، کوفہ کی کشادہ زمین اور نجف الحیرۃ ۔

( تہذیب الکمال ج ۱۳ ص ۳۰۵ ۳۰۴ دار الفکر بیروت ۱۴۱۴ھ )

حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ھ لکھتے ہیں: حضرت علی کو ۱۳ رمضان ۴۰ ھ کو شہید کیا گیا اور ایک قول اکیس رمضان کا ہے ۔

( تہذیب التہذیب ج ۷ ص ۲۸۷ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۵ ۱۴ھ )

حافظ صفی الدین الخزرجی المتوفی ۹۲۳ھ نے لکھا ہے کہ حضرت علی جمعہ کی شب ۱۹ رمضان کو شہید ہوئے ۔

( خلاصه تذہیب تہذیب الکمال ج ۲ ص ۳۱۰ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۲ ھـ )

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات کو منسوب کرنا سنگین گناہ کبیرہ ہے

نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنا دوزخ میں داخل ہونے کا سبب ہے خواہ آپ کے دین کی تائید اور تقویت میں آپ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کی جاۓ یا آپ کے دین کوضرر پہنچانے کے لیے آپ کی طرف جھوٹی بات کی نسبت کی جائے اور اللہ تعالی پر جھوٹ باندھنا بھی رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے میں داخل ہے کیونکہ آپ پر جھوٹ باندھنے کا معنی ہے: دین کے احکام میں جھوٹی بات گھڑ کر اس کی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کرنا۔

اگر یہ اعتراض کیا جاۓ کہ جھوٹ بولنا معصیت ہے اور ہر معصیت دوزخ میں دخول کا سبب ہے قرآن مجید میں ہے:

ومن يعص الله ورسوله ويتعد حدودة يدخله نارا خالدا فيها . (النساء:۴)

اور جو اللہ کی اور اس کے رسول کی معصیت کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے اللہ اس کو دوزخ کی آگ میں داخل کردے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ 

 ‏لہذا ہر شخص پر جھوٹ باندھنا معصیت ہے اور دخول نار کا سبب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنے کی کیا تخصیص ہے اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنا دوسرے لوگوں پر جھوٹ باندھنے کی بہ نسبت بہت سنگین ہے کیونکہ آپ کی طرف جو جھوٹی بات گھڑکر منسوب کی جاۓ گا اس کا تقاضا یہ ہوگا کہ وہ شرعی حکم ہے اور جولوگ اس کے جھوٹے ہونے پر مطلع نہیں ہوں گے وہ قیامت تک اس حکم پر عمل کرتے رہیں گئے عام لوگوں پر جھوٹ باندھنا بھی گناہ کبیرہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا بہت سنگین گناہ کبیرہ ہے ۔

علامہ نووی نے کہا ہے کہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ آپ پر جھوٹ باندھنے کی سزا دوزخ میں داخل ہونا ہے اور کبھی اللہ تعالی اس سزا کو معاف بھی کر دیتا ہے لہذا قطعی طور پر نہیں کیا جاۓ گا کہ آپ پر جھوٹ باندھنے والا دوزخ میں داخل ہوگا اسی طرح ہر گناہ کبیرہ کا حکم ہے پھر اگر کسی مسلمان کو اس کبیرہ کی وجہ سے دوزخ میں داخل کیا گیا تو وہ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا بلکہ سزا دینے کے بعد اللہ تعالی اس کو اپنے فضل اور رحمت سے دوزخ سے نکال لے گا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۱۴۔ ۲۲۳)

بعض زاہدوں کا ترغیب اور ترہیب کے لیے احادیث وضع کرنا

علامہ اسماعیل حقی حنفی بروسوی متوفی ۹۱۱ ھ لکھتے ہیں:

محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ فضائل اعمال میں ضعیفۃ الاسانید احادیث پر عمل کرنا جائز ہے، علامہ علی بن برہان الدین حلبی نے کہا ہے : خواہ ان کی اسانید موضوعۃ ہوں کیونکہ حاکم وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ قرآن مجید کی فضیلت ثابت کرنے کے لیے ایک زاہد احادیث وضع کرنے کے درپے ہوا اس سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن میں بے رغبتی کرتے ہیں تو میں نے ان کو قرآن مجید کی طرف راغب کرنے کے لیے احادیث وضع کیں ان سے کہا گیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھ پر عمدا جھوٹ باندھا وہ اپنے بیٹھنے کی جگہ دوزخ میں بنالے، اس نے جواب دیا : اس حدیث میں لفظ’’ علی‘‘ ہے اور علی ‘‘ضرر کے لیے آ تا ہے یعنی جس نے آپ کے دین کوضرر پہنچانے کے لیے آپ پر جھوٹ باندھا وہ دوزخ میں اپنی جگہ بنا لے اور میں تو آپ کے دین کو نفع پہنچانے کے لیے احادیث وضع کر رہا ہوں جیسا کہ فتح القریب شرح الترغیب والترہیب‘‘ میں مذکور ہے، ان کی مراد یہ ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی جھوٹی بات کی نسبت کرے،  جس سے قواعد اسلام منہدم ہوں اور شرعی احکام فاسد ہوں اس پر وعید ہے، اور جو آپ کی طرف ایسے جھوٹے کلام کی نسبت کرے جو شریعت کی اتباع پر برانگیختہ کرے اور آپ کی سیرت کی اتباع پر محرک ہو یعنی جو کذب علیہ نہ ہو بلکہ کذب لہ ہو، اس کے متعلق وعید نہیں ہے خلاصہ یہ ہے کہ جو چاہے ان اکابر کی ( موضوع ) روایات پرعمل کرے اور ان کی برکات سے مستفید ہو اور جو چاہے ان کی روایات پر عمل نہ کرے اور ان کی برکات سے محروم ہو جاۓ ۔( روح البیان ج ۳ ص ۲۹۵ – ۶۹۴ دار احیاء التراث العربي بیروت ۱۴۲۱ھ )

ترغیب اور ترہیب کے لیے حدیث وضع کر نے والوں کا رد

علامہ یحی بن شرف نووی متوفی ۶ ۶۷ ھ لکھتے ہیں:

نبی ﷺ پر جھوٹ باندھنا حرام ہے اور بہت سنگین گناہ کبیرہ ہے، لیکن اس سے وہ کافر نہیں ہوگا، ہاں ! جو اس کو حلال اور جائز سمجھ کر کرے وہ کافر ہو جاۓ گا (جیسا کہ علامہ اسماعیل حقی نے اس زاہد کا قول نقل کیا ہے، ہر چند کہ اس نے تاویل کی ہے لیکن ایسے واضعین کا ایمان بہرحال خطرہ میں ہے ۔سعیدی غفرلہ ) ۔

شیخ ابو محمد جوینی نے کہا ہے کہ جس نے عمدا آپ پر جھوٹ باندھا وہ کافر ہوگیا، لیکن صحیح یہ ہے کہ جو حلال سمجھ کر آپ پر جھوٹ باندھے گا، وہ کافر ہوجاۓ گا البتہ وہ شخص فاسق ہے اور اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جاۓ گی ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھنا مطلقاً حرام ہے خواہ وہ احکام میں ہو یا ترغیب اور ترھیب میں ہو یا مواعظ میں ہو ان میں سے ہر کذب حرام ہے اور اکبر الکبائر میں سے ہے بعض مبتدعین نے کہا ہے کہ ترغیب اور ترھیب کے لیے احادیث وضع کرنا جائز ہے انہوں نے کہا: یہ کذب علیہ نہیں ہے بلکہ کذب لہ ہے یعنی یہ جھوٹ دین میں ضرر کے لیے نہیں ہے بلکہ دین کے نفع کے لیے ہے اور بعض جاہل زاہدوں نے اس قول کی پیروی کی ہے اور انہوں نے ان صریح آیات کا انکار کیا ہے جن میں اللہ تعالی نے مطلقاً جھوٹ پر عذاب کی وعید سنائی ہے اور جھوٹوں پر لعنت فرمائی ہے قرآن مجید میں ہے:

ولهم عذاب أليم بما كانوا يكذبون (البقرہ:۱۰)

اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے

لعنة الله على الكذبين ( آل عمران:۲۱ )

جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہوں

اور انہوں نے ان احادیث صریحہ متواترہ کی مخالفت کی، جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ کو حرام اور سنگین گناہ قرار دیا ہے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام وحی ہے قرآن مجید میں ہے:

وما ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى۔(النجم:۴۔۳)

وہ اپنی خواہش سے نہیں کلام کرتے O آپ صرف وہی کلام  کرتے ہیں جس کی آپ کی طرف وحی کی جاتی  ہے

ان کا یہ کہنا کہ یہ کذب لہ ہے اور آپ کے حق میں جھوٹ ہے یہ عربی زبان اور خطاب شرع سے جہالت ہے۔

جس شخص کو علم ہو یا اس کوظن غالب ہو کہ یہ روایت موضوع ہے اس پر لازم ہے کہ وہ اس روایت کو نہ بیان کرے اور اگر بیان کرنا پڑے تو یہ بتا کر بیان کرے کہ یہ روایت موضوع ہے اور اگر اس کے بغیر بیان کرے گا تو وہ بھی آپ پر جھوٹ باندھنے والوں میں داخل ہوگا کیونکہ حدیث میں ہے: جس نے مجھ سے روایت کرکے کوئی حدیث بیان کی اور اس کو معلوم تھا کہ یہ جھوٹ ہے تو وہ بھی جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔(مقدمہ صحیح مسلم)

( شرح مقدمہ صحیح مسلم ج۱ص ۳۲۹۔ ۳۲۷ ملخصا مکتبہ نزار مصطفی مکه مکرمه 1417 ھ، عمدة القاری ج ۲ ص ۲۲۵- ۲۲۴)

حافظ شہاب الدین احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ۸۵۲ ھ لکھتے ہیں:

جاہلوں کی ایک قوم نے دھوکا کھایا اور انہوں نے ترغیب اور ترھیب میں احادیث وضع کیں اور انہوں نے کہا: ہم آپ پر جھوٹ نہیں باندھ رہے بلکہ ہم آپ کی شریعت کی تائید کے لیے احادیث بنار ہے ہیں اور انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جس بات کو رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا اس کو آپ کی طرف منسوب کر کے وہ اللہ تعالی پر جھوٹ باندھ رہے ہیں کیونکہ ان احادیث موضوعہ کے ذریعہ وہ اپنی طرف سے شریعت کا کوئی حکم ثابت کرتا ہے خواہ وہ واجب ہو یا مستحب ہو یا حرام ہو۔( فتح الباری ج۱ ص 651 دارالمعرفہ بیروت 1426ھ )

واضعین حدیث کی اقسام

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ ھ لکھتے ہیں:

احادیث وضع کرنے والوں کی حسب ذیل اقسام ہیں:

(۱) ’’ الزنادقہ‘‘ جیسے المغیرہ بن سعید الکوفی اور محمد بن سعید المصلوب انہوں نے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرنے کا ارادہ کیا۔انہوں نے یہ حدیث وضع کی : میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا مگر اگر اللہ چاہے ۔

(۲) متعصب لوگ : ان میں سے بعض حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے تعصب رکھتے تھے،  انہوں نے حضرت علی کی تنقیص میں احادیث وضع کیں اور بعض حضرت معاویہ سے تعصب رکھتے تھے انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں احادیث وضع کیں اور بعض امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے تعصب رکھتے تھے، امام ابن حبان نے کہا: الحسن بن علی بن زکریا العدوی الرازی نے یہ حدیث وضع کی کہ علی کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے الخطیب نے’ الکفایہ میں لکھا ہے کہ مہدی نے کہا: میرے سامنے ایک زندیق نے کہا کہ میں نے چار سو احادیث وضع کرکے لوگوں میں پھیلادی ہیں ۔

(۳) بعض زاہدوں نے ترغیب اور ترھیب میں احادیث وضع کیں ابن صلاح نے روایت کی ہے کہ ابوعصمہ نوح بن ابی مریم سے کہا گیا کہ تم نے فضائل قرآن میں ہر سورت کی فضیلت از عکرمہ از ابن عباس کہاں سے روایت کی ہے اس نے کہا: میں نے دیکھا لوگ قرآن سے اعراض کررہے ہیں اور ابوحنیفہ اور معاذ بن اسحاق کی فقہ میں مشغول ہور ہے ہیں تو میں نے ان احادیث کو وضع کیا۔

حدیث موضوع کی شناخت کے طریقے

علامہ بدرالدین عینی فرماتے ہیں:

حد یث موضوع کی شناخت واضع کے اعتراف سے ہوتی ہے یا راوی کے حال میں قرینہ سے ہوتی ہے یا اس کی روایت رکیک الفاظ سے ہوتی ہے یا وہ اس شخص سے روایت کرتا ہے جس کو اس نے نہیں پایا اور جو اس فن کے ماہرین ہوتے ہیں جیسے عبداللہ بن المبارک وہ قرآئن سے حدیث موضوع کو پہچان لیتے ہیں ۔حدیث کا واضع یا تو اپنے کلام کو حدیث بنالیتا ہے یا بعض حکماء یا بعض صحابہ کے کلام کو حدیث بنالیتا ہے، جیسا کہ احمد بن اسماعیل السہمی نے از مالک از وہب بن کیسان از حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ نماز جس میں سورۃ الفاتحہ نہ پڑھی جائے، وہ ناقص ہے ماسوا امام کے ۔ یہ حد بیث موطاء میں ہے اسی طرح اور بہت علمی قرائن ہیں ۔

( عمدة القاری ج ۲ ص ۲۲۷-226 دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ )

شرح صحیح مسلم میں ہم نے ۳۶ قواعد حدیث موضوع کی معرفت کے قوائد اور ضوابط ‘ لکھے ہیں جن سے حدیث موضوع کی شناخت ہوتی ہے ۔ ( شرح صحیح مسلم ج۱ ص ۱۳۸ – ۱۳۲ )

 

 

         ‏