۱۰۸- حدثنا أبو معمر قال حدثنا عبد الوارث ، عن عبد لعزيز قال قال أنس إنه ليمنعنى ان أحدثكم حديثا كثيرا أن النبي صلى الله عليه وسـلـم قـال مـن تعمد على كذبا فليتبوأ مقعده من النار .

(مسند البزار : 384،  مسند احمد ج۱ ص۷۰ طبع قدیم مسند احمد : ۵۰۷۔ج۱ ص ۵۳۳ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت نوٹ: مسند احمد میں یہ حدیث حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ۔ )

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں ابوعمر نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں عبد الوارث نے حدیث بیان کی از عبدالعزیز کہ حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا: مجھے تم کو بہ کثرت حدیثیں بیان کرنے سے ضرور یہ چیز منع کرتی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا ہے: جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا وہ دوزخ کی آگ میں اپنے بیٹھنے کی جگہ بنالے۔

عنوان باب کی مطابقت میں یہ تیسری حدیث ہے۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱)ابومعمرعبداللہ بن عمرو المنقری البصری۔

(۲) عبدالوارث بن سعید التمیمی البصری۔

( ۳) عبدالعزیز بن صہیب الاعمی البصری۔

(۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ ان سب کا تعارف بھی گزر چکا ہے۔

اس اعتراض کا جواب کہ جھوٹی احادیث پر عذاب کی وعید احادیث صادقہ کی روایت سے تو مانع نہیں ہے

حضرت انس نے جو بہ کثرت احادیث روایت نہ کرنے کا عذر بیان کیا ہے، وہ جھوٹی اور موضوع احادیث سے احتراز ہے اس پر یہ اعتراض ہے کہ وہ احادیث صادقہ تو بہ کثرت روایت کر سکتے تھے تو پھر انہوں نے بہ کثرت احادیث روایت کرنے سے احتراز کیوں کیا، اس کا جواب یہ ہے کہ جب کوئی شخص بہ کثرت احادیث روایت کرے گا تو عادتا یہ خطرہ ہوگا کہ کہیں کوئی جھوٹی حدیث نہ روایت کردے تاہم حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ مکثرین روایت میں سے ہیں اور انہوں نے ۱۲۸۶ احادیث روایت کی ہیں ۔

( خلاصة الخزرجی ج۱ ص ۱۱۷ )