۱۰۹- حدثنا المكي بن إبراهيم قال حدثنا يزيد بن أبي عبيد، عن سلمة بن الأكوع قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول من يقل على مالم اقل، فليتبوأ مقعده من النار.  

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں مکی بن ابراہیم نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن ابی عبید نے حدیث بیان کی از سلمہ بن الاکوع انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: جس نے میری طرف اس بات کی نسبت کی جس کو میں نے نہیں کہا، وہ اپنے بیٹھنے کی جگہ دوزخ کی آگ میں بنالے۔

( سنن ابن ماجه: ۳۴، صحیح ابن حبان : ۲۸ مسند احمد ج ۲ ص۵۰۱ طبع قدیم مسند احمد : ۱۰۵۱۳- ج16 ص 305 مؤسسة الرسالة بیروت)

نوٹ: ’’ مسند احمد، ابن ماجہ اور صحیح ابن حبان‘‘ میں یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہ حدیث لفظا متواتر ہے ۔

عنوان باب کی مطابقت میں یہ چوتھی حدیث ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف اور حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کا تذکرہ

(۱) المکی بن ابراہیم البلخی، ان کا تعارف ہو چکا ہے .

(۲) یزید بن ابی عبید ابوخالد اسلمی، یہ حضرت سلمہ بن الاکوع کے آزاد شدہ غلام ہیں ۶ ۱۴ یا ۷ ۱۴ ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۳) حضرت سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ یہ بیعت رضوان میں حاضر ہوئے تھے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ بیعت کی تھی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے 77 احادیث روایت کی ہیں امام بخاری اور امام مسلم ان میں سے ۱۶ احادیث پر متفق ہیں امام بخاری پانچ احادیث کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم 9 احادیث کے ساتھ منفرد ہیں یہ ۸۰ سال کی عمر میں ۷۴ ھ میں مدینہ میں فوت ہو گئے، ان سے ایک بڑی جماعت نے احادیث روایت کی ہیں، یہ بہت بہادر، تیر انداز اور شہ سواری میں سبقت کرنے والے تھے ان کے اخلاق بہت عمدہ تھے کہا جاتا ہے کہ ان سے بھیٹریے نے کلام کیا تھا۔ حضرت سلمہ نے کہا: میں نے بھیڑیے کو دیکھا اس نے ہرن کو پکڑ لیا تھا، میں نے اس سے ہرن کو طلب کیا اور اس کو اس بھیٹریے سے چھڑالیا بھیڑیے نے ان سے کہا: تم پر افسوس ہے! تمہارا اور میرا کیا تعلق ہے! میں نے اس رزق کا قصد کیا جواللہ تعالی نے مجھے دیا ہے اور وہ تمہارا مال نہیں تھا، پھر تم نے کیوں اس کو مجھ سے چھینا حضرت سلمہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے بندو! یہ بہت عجیب بات ہے کہ بھیٹریا کلام کر رہا ہے بھیڑیے نے کہا: اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کے درمیان تم کو اللہ کی عبادت کی طرف بلاتے ہیں اور تم بتوں کی عبادت کے سوا اور کسی کی عبادت سے انکار کرتے ہو حضرت سلمہ نے کہا: پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاملا اور اسلام لے آیا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص۲۳۱۔۲۳۰)

روایت بالمعنی پر ایک اعتراض کا جواب

اس حدیث میں فرمایا گیا ہے: جس نے میری طرف اس بات کی نسبت کی جس کو میں نے نہیں کہا۔ یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کے ساتھ خاص ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی اس میں حکما داخل ہیں کیونکہ آپ پر جھوٹ باندھنے کے امتناع کی علت میں دونوں مشترک ہیں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روایت بالمعنی بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں وہ الفاظ نہیں ہوتے، جو آپ نے فرماۓ ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ اس سے مقصود یہ ہے کہ حدیث کے معنی کو ایسے الفاظ سے نہ تعبیر کیا جاۓ جس سے حدیث میں بیان کردہ حکم متغیر ہوجاۓ۔