۱۱۰- حدثنا موسى قال حدثنا أبو عوانة ،عن ابي حصين، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال تسموا بإسمي ولا تـكـتنـوا بكنيتي ومن راني في المنام فقدر اني فان الشيطان لا يتمثل في صورتي، ومن كذب علی متعمدا فليتبوأ مقعده من النار .

اطراف الحدیث: ۳۵۳۹-6188 – 6197 – 6993

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں موسی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے حدیث بیان کی، از ابی حصین از ابي صالح از ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ از نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے فرمایا: میرا نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو اور جس نے مجھے نیند میں دیکھا اس نے بے شک مجھے ہی دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری صورت کی مثل نہیں بناسکتا اور جس نے مجھ پر عمداً جھوٹ باندھا وہ اپنے بیٹھنے کی جگہ دوذخ کی آگ میں بنالے۔

صحیح مسلم المقدمہ باب: ۲ حدیث : ۴، صحیح مسلم : ۲۱۳۴-۱ ۲۱۳، سنن ابوداؤد:۴۹۶۵ سنن ابن ماجه : ٬۳۷۳۵ مسند الحمیدی: ۱۱۴۴ مصنف ابن  ابی شیبہ ج ۸ ص 671 ، سنن بیہقی ج۹ص٬۳۰۸ شرح السنۃ: ۶۳ ۳۳، مسند احمد ج ۲ ص ۲۴۸ طبع قدیم مسند احمد : 7377۔ ج ۱۲ ص ۳۳۳ مؤسسة الرسالة بيروت 

عنوان باب کی مطابقت میں یہ پانچویں حدیث ہے ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) موسی بن اسماعیل المنقری البصری التبوذکی۔

(۲) ابوعوانہ الوضاح الیشکری ان کا تعارف ہوچکا ہے۔

(۳) ابوحصین عثمان بن عاصم الکوفی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوصالح وغیرہ سے سماع کیا ہے اور ان سے شعبہ اور سفیان ثوری وغیرہ نے سماع کیا ہے یہ ثقہ اور صاحب سنت تھے اور حفاظ کوفہ میں سے تھے ان کے پاس چارسو احادیث تھیں یہ ۱۲۸ھ یا ۷ ۱۲ ھ میں فوت ہوگئے۔

(۴)ابوصالح ذکوان السمان الزيات المدنی۔

(۵) حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ تعالی عنہ ان کا تعارف گزر چکا ہے ۔ (عمدۃ القاری: ۲۳۲۔۲۳۱)

کنیت کا معنی اور شیطان کا صیغہ اور معنی

کنیت کا مادہ کنایہ ہے، اس کا معنی ہے: ایک لفظ بولا جاۓ اور اس سے اس کے لازم کا ارادہ کیا جاۓ اور کنیت اسم کی ایک قسم ہے اسم کی تین قسمیں ہیں : علم، لقب اور کنیت جس اسم سے کسی شخص معین کا ارادہ کیا جاۓ اس کو عربی میں علم اور اردو میں نام کہتے ہیں اور اگر وہ اسم مدح یا ذم کی خبر دے تو اس کو لقب کہتے ہیں اور اگر وہ اسم اب یا ام سے شروع ہو اور اس کی کسی دوسرے اسم کی طرف اضافت ہو تو اس کو کنیت کہتے ہیں ۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا علم اور نام محمد ہے اور آپ کا لقب مثلا سید المرسلین اور خاتم النبیین ہے اورآپ کی کنیت ابوالقاسم ہے۔

نیز اس حدیث میں شیطان کا ذکر ہے، اس کا مادہ شیط ہے اور اس کا وزن فعلان ہے اور اس کا معنی ہے : ہلاک ہونے والا یعنی اللہ کے غضب میں اور یا اس کا مادہ شطن ہے اور اس کا وزن فیعال ہے اور اس کا معنی ہے : دور ہونے والا یعنی اللہ کی رحمت سے ۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کے متعلق متعدد احادیث

نیز اس حدیث میں فرمایا گیا: جس نے مجھے نیند میں دیکھا اس نے بے شک مجھے ہی دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری صورت کی مثل نہیں بنا سکتا۔

اسانید صحیحہ کے ساتھ اس قسم کی متعدد احادیث ہیں :

(۱) حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ کو دیکھا، اس نے حق دیکھا۔

 صحیح البخاری :6996، صحیح مسلم : ۲۵۷ سنن دارمی: 2140، مسند احمد ج ۵ ص 306

(۲) حضرت ابوسعید خدری  رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوۓ سنا ہے: جس نے مجھ کو دیکھا اس نے حق دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بنا سکتا ۔ ( صحیح البخاری: 6997 مسند احمد ج ۳ ص ۵۵ )

(۳) حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھے نیند میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا اور شیطان میری مثل نہیں بنا سکتا۔

( صحیح البخاری: 6993،  صحیح مسلم :۲۲۶۶، سنن ابوداؤد : ۵۰۲۳ مسند احمد ج ۳ ص 269- ج ۵ ص٬306 تاریخ بغداد ج ۱۰ ص ۲۸۴)

(۴) حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ جس نے مجھے نیند میں دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے کیونکہ شیطان مجھے خیال میں نہیں لاسکتا ۔ (صحیح البخاری : 6994 صحیح مسلم : 2264، سنن ابن ماجه : 3893 مسند احمد ج ۳ ص ۲۹۳)

(۵) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھے نیند میں دیکھا،  گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا اور شیطان میری مثل نہیں بن سکتا ۔ (انجم الاوسط : 612، مجمع الزوائد ج ۷، ص۱۸۱ )

(۲) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مجھے نیند میں دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔ ایک روایت میں ہے: میرے مشابہ نہیں ہوسکتا۔(مسند احمد ج ۲ ص 261، مجمع الزوائد ج ۷ ص ۱۷۳)

اس کی تحقیق کہ آپ کو خواب میں دیکھنے والا آپ کو آپ کی معروف صفات میں دیکھتا ہے ۔۔ یا دوسری صفات میں

حافظ بدرالدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ۸۵۵ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

آپ نے جو فرمایا: جس نے مجھے نیند میں دیکھا اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے کیونکہ شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔ علامہ الماوردی نے کہا: اس کی تاویل میں اختلاف ہے، قاضی ابوبکر بن الطیب نے کہا: اس کا معنی یہ ہے اس نے حق دیکھا اور اس کا خواب اضغاث احلام یعنی منتشر خیالات اور شوریدہ پریشان خواب نہیں ہے اور نہ شیطان کی تشبیہ ہے اور اس کا یہ خواب برحق اور صحیح ہے۔

قاضی ابوبکر نے کہا: کبھی آپ کو خواب میں دیکھنے والا ان صفات کے مطابق نہیں دیکھتا، جو ہم تک منقول ہوئی ہیں مثلا وہ آپ کوسفید ڈاڑھی میں دیکھتا ہے یا آپ کا کوئی اور رنگ دیکھتا ہے اور کبھی آپ کو دو آدمی ایک وقت میں دو مختلف جگہوں سے دیکھتے ہیں ایک مشرق میں اور دوسرا مغرب میں اور ان میں سے ہر ایک آپ کو اپنی جگہ سے دیکھتا ہے ۔

دوسرے علماء نے یہ کہا ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہر پر ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ جس نے آپ کو خواب میں دیکھا اس نے آپ کو پالیا اور اس سے کوئی مانع نہیں ہے اور نہ عقل اس کو محال قرار دیتی ہے اور یہ جو ذکر کیا گیا ہے کہ کبھی آپ کو دیکھنے والا دوسری صفات میں دیکھتا ہے یا جو آپ کی معروف صفات میں نہیں دیکھتا ہے یا دو آدمی آپ کو دو مختلف جگہوں سے دیکھتے ہیں تو یہ دیکھنے والے کی غلطی ہے اور اس کا غلط تخیل ہے اور اس نے اپنے بعض خیالات کو متشکل دیکھا ہے اور ادراک میں آنکھوں کے پھیرنے اور قرب مسافت کی شرط نہیں ہے اور نہ یہ شرط ہے کہ دکھائی دینے والا زمین میں مدفون ہو یا زمین پر ظاہر ہو اس میں صرف یہ شرط ہے کہ وہ موجود ہواور احادیث میں آیا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے اجسام باقی ہیں اور زمین میں ان پر کوئی تغیر نہیں ہوتا ۔

یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر آپ کو بوڑھا دیکھا گیا تو وہ کسی آفت اور مصیبت سے نجات کا سال ہے اور اگر آپ کو جوان دیکھا گیا تو وہ قحط کا سال ہے اور اگر آپ کو حسین شکل میں عمدہ اقوال اور افعال کے ساتھ دیکھا گیا تو اس کا معنی یہ ہے کہ دیکھنے والے میں خیر ہے اور اگر اس کے خلاف دیکھا تو اس کا معنی یہ ہے کہ دیکھنے والے میں شر ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی چیز اثر انداز نہیں ہوگی اور اگر کسی نے خواب میں یہ دیکھا کہ آپ نے کسی کوقتل کر نے کا حکم دیا ہے تو اس شخص کے لیے قتل کرنا جائز نہیں ہے اور یہ اس کی صفات مخیلہ ہیں اس کو اس طرح دکھائی نہیں دیا اور اس میں تیسرا قول وہ ہے جو قاضی عیاض اور ابو بکر ابن العربی کا ہے کہ اگر اس نے آپ کو آپ کی صفات معروفہ میں دیکھا ہے تو وہ حقیقت کا ادراک ہے اور اگر اس نے آپ کو اس کے خلاف صفت میں دیکھا ہے تو وہ مثال کا ادراک ہے اور اس خواب کی تاویل ہوگی علامہ نووی نے کہا ہے کہ یہ تیسرا قول ضعیف ہے اور صحیح دوسرا قول ہے ۔

آپ کو خواب میں دیکھنے والا بعینہ آپ کو دیکھتا ہے یا آپ کی مثال کو؟

یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ نے جو فرمایا ہے: اس نے مجھ ہی کو دیکھا ہے اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے حقیقت میں میری مثال کو   دیکھا ہے کیونکہ خواب میں مثال ہی دکھائی دیتی ہے، اور آپ نے فرمایا ہے: شیطان میری مثل نہیں بن سکتا، یہ بھی اس پر دلالت کرتا ہے اور اسی کے قریب امام غزالی نے کہا ہے انہوں نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس نے میرے جسم اور میرے بدن کو دیکھا ہے بلکہ اس نے مثال کو دیکھا ہے اور یہ مثال اس معنی کو ادا کرنے کا آلہ ہے، جو میرے دل میں ہے بلکہ بدن بیداری میں بھی صرف نفس کا آلہ ہوتا ہے، پس حق یہ ہے کہ دیکھنے والا جودیکھتا ہے وہ آپ کی روح مقدسہ کی حقیقت کی مثال ہے جو روح مقدسہ محل نبوت ہے، پس اس نے جو شکل دیکھی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روح ہے،  نہ وہ آپ کا شخص ہے، بلکہ تحقیق میں وہ آپ کی مثال ہے ۔

اگر تم یہ کہو کہ خواب کی تین قسمیں ہیں (۱) اللہ کی جانب سے خواب (۲) شیطان کی جانب سے خواب (۳) انسان جو کچھ سوچتا رہتا ہے اس کی خیالی صورتیں اور انسان خواب میں جو آپ کو دیکھتا ہے وہ شیطان کی طرف سے تو بہرحال نہیں ہے، پس کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اس نے جو آپ کو دیکھا ہے وہ اس کی سوچ اور اس کے خیال کی صورت ہو؟ میں کہتا ہوں کہ یہ جائز نہیں ہے کیونکہ انسان خواب میں اس صورت کو دیکھتا ہے جس کے ساتھ اس کو کوئی مناسبت ہوتی ہے خواہ وہ مناسبت ذات میں اشتراک کی وجہ سے ہو یا صفات اور افعال میں اشتراک کی وجہ سے ہو اور انسان جو کچھ سوچتا ہے اس میں یہ قدرت نہیں ہے کہ وہ اپنے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی مناسبت پیدا کرلے، حتی کہ وہ خواب میں آپ کی صورت کی مثال دکھائی دینے کا سبب بن جاۓ لہذا خواب کی یہ قسم اللہ کی جانب سے ہے، نہ شیطان کی جانب سے ہے اور نہ اس کی سوچ اور اس کی باتوں کی خیالی صورت ہے ۔اس کے برخلاف جو فرشتہ خواب دکھانے پر مؤکل ہے وہ لوح محفوظ سے مناسبت کی مثل قائم کردیتا ہے ۔

آپ کو بیداری میں دیکھنے کا معنی

بعض روایات میں ہے کہ “وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا” اور یہ بھی حدیث ہے کہ” گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا‘‘ اس کے معنی میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنے خواب کی تفسیر دیکھے گا کیونکہ وہ حق ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ وہ عنقریب آپ کو قیامت میں دیکھے گا اور تیسرا قول یہ ہے کہ آپ کے زمانہ کے جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی تھی اور انہوں نے آپ کو خواب میں دیکھا تھا وہ عنقریب بیداری میں بھی آپ کی زیارت کریں گے ۔ ( عنقریب میں اس حدیث کے متعلق اپنا موقف پیش کروں گا ۔ سعیدی غفرلہ )

اس کی تحقیق کہ شیطان آپ کی صورت کی مثل نہیں بنا سکتا

اس حدیث میں فرمایا گیا ہے: بے شک شیطان میری صورت میں متمثل نہیں ہوسکتا، یعنی میری صورت میں نہیں آسکتا۔ اس حدیث میں صورت کے معنی میں اختلاف ہے، ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد میری صفت ہدایت ہے، دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اپنی حقیقت پر ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جوصورت مشاہد تھی وہ اس میں نہیں آسکتا۔

علماء نے کہا ہے کہ دیکھنے والا آپ کو اس صورت میں دیکھے جو آپ کی اس صورت اور اس حلیہ سے مشابہ ہے جونقل صحیح سے ثابت ہے حتی کہ اگر اس نے آپ کو اس کی مخالف صورت میں دیکھا تو اس نے آپ کو نہیں دیکھا مثلا اس نے آپ کو بہت لمبا دیکھا یا بہت چھوٹا دیکھا یا آپ کو بہت بالوں والا دیکھا یا بوڑھا دیکھا یا بہت گندمی دیکھا۔ اللہ تعالی نے آپ کو یہ خصوصیت عطا کی ہے کہ لوگ جو آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا دیکھنا صحیح ہوتا ہے اور ان تمام کی رؤیت صادق ہے اور شیطان کو آپ کی صورت میں آنے سے منع کردیا ہے تاکہ وہ آپ کی زبان سے لوگوں کو گم راہ نہ کرے جیسا کہ اللہ تعالی نے بیداری میں شیطان کو یہ قدرت نہیں دی کہ وہ آپ کی صورت میں آسکے، محی السنہ نے کہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نیند میں دیکھنا حق ہے اور شیطان آپ کی مثل میں نہیں آسکتا اسی طرح وہ تمام انبیاء علیہم السلام اور فرشتوں کی مثل میں نہیں آسکتا۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۳۴ – ۲۳۳ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۱ھ ) 

اس زمانہ میں اور اس جہان میں آپ کو بیداری میں دیکھنے کے متعلق علماء کی تصریحات

جس حدیث میں یہ فرمایا ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا وہ مجھے عنقریب بیداری میں بھی دیکھے گا علامہ بدر الدین عینی نے اس کی مکمل تحقیق نہیں کی، اکابر امت نے اس حدیث کا یہ معنی بھی کیا ہے کہ جس نے مجھے خواب میں دیکھا ہے، وہ عنقریب اس دنیا میں حقیقتہ میری زیارت کرے گا ۔

علامہ سید محمود آلوسی متوفی ۱۲۷۰ ھ لکھتے ہیں:

خاتم الحفاظ حافظ جلال الدین سیوطی نے’’ تنویر الحوالک‘‘ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی زیارت پر اس حدیث سے استدلال کیا ہے :

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے مجھ کو نیند میں دیکھا وہ مجھ کو عنقریب بیداری میں بھی دیکھے گا اور شیطان میری مثل نہیں بن سکتا۔ (صحیح البخاری: 6993، صحیح مسلم:2266، مسند احمد :۷۱ ۷۳ )

علامہ ابن ابی جمرہ نے لکھا ہے کہ متعدد عارفین نے نیند کے بعد بیداری میں آپ کی زیارت کی اور آپ سے سوالات کرکے دینی مسائل کی مشکلات کو سمجھا اور اس حدیث کی تصدیق کی ۔

علماء کا اس میں کافی اختلاف ہے کہ آپ کو بیداری میں دیکھنے والا آپ ہی کے جسم اور بدن کو دیکھے گا یا آپ کی مثال کو دیکھے گا علامہ جلال الدین سیوطی نے عبارات علماء کونقل کرنے کے بعد لکھا کہ احادیث اور عبارات علماء سے یہ ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جسم مبارک اور اپنی روح کے ساتھ زندہ ہیں اور آپ اطراف عالم میں جہاں چاہتے ہیں،  تشریف لے جاتے ہیں اور تصرف فرماتے ہیں اور آپ اسی حالت میں ہیں جس حالت میں آپ وفات سے پہلے تھے اور اس میں سرموفرق نہیں ہوا اور آپ زندہ ہونے کے باوجود لوگوں کی نظروں سے اس طرح غائب ہیں، جس طرح فرشتے ان کی نظروں سے غائب ہیں اور جب اللہ تعالی اپنے کسی بندہ کو آپ کی زیارت سے مشرف فرمانا چاہتا ہے تو آپ کے اور اس بندہ کے درمیان جو حجابات ہیں ان کو اٹھادیتا ہے اور اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے تو پھر آپ کی مثال کے قول کی کیا ضرورت ہے اور باقی تمام انبیاء علیہم السلام بھی زندہ ہیں اور ان کو اپنی قبروں سے باہر جانے

اور اس جہان میں تصرف کرنے کا اذن دیا گیا ہے اور اس پر بہ کثرت احادیث ناطق اور شاہد ہیں ۔

علامہ آلوسی فرماتے ہیں: میراظن غالب یہ ہے کہ نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کی زیارت اس طرح نہیں ہوتی ، جیسے عام طور پر لوگ ایک دوسرے کو دنیا میں دیکھتے ہیں، یہ ایک حالت برزخیہ اور امروجدانی ہے، اس کی حقیقت کو وہی شخص پا سکتا ہے جس کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ہو، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دیکھنے والا آپ کی روح کو دیکھتا ہے اور وہ روح کسی صورت میں متمثل ہوجاتی ہے جب کہ وہ روح اس وقت آپ کے اس جسم مبارک میں بھی ہوتی ہے جو روضہ مبارکہ میں ہے جس طرح حضرت جبریل آپ کے سامنے حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں موجود ہوتے ہیں یا کسی اور صورت میں اور اس وقت وہ سدرۃ المنتہی سے بھی جدا نہیں ہوتے اور رہا آپ کا جسم مثالی تو اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قدسیہ متعلق ہوتی ہے اور اس سے کوئی چیز مانع نہیں ہے کہ آپ کے غیر متناہی اجسام مثالیہ ہوں اور ان میں سے ہر ایک کے ساتھ آپ کی روح واحدہ متعلق ہو اور یہ اس طرح ہو جیسے روح واحدہ کا تعلق ایک جسم کے متعدد اجزاء کے ساتھ ہوتا ہے، اور ہماری اس تقریر سے شیخ ابوالعباس طنجی کے اس قول کی وجہ ظاہر ہوجاتی ہے کہ انہوں نے آسمان، زمین، عرش اور کرسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھرا ہوا دیکھا اور یہ عقدہ بھی حل ہوجاتا ہے کہ متعدد مقربین نے ایک ہی وقت میں متعدد مقامات پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ۔ (روح المعانی جز ۲۲ ص۵۳ – ۵۴ مطبوعہ دار الفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )

اس اعتراض کا جواب کہ عہد صحابہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت اور آپ سے استفادہ کا اس قدر ظہور کیوں نہیں ہوا؟

اولیاء کرام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جو زیارت ہوتی ہے اور وہ آپ سے دینی اور فقہی معاملات میں استفادہ کرتے ہیں اور اپنے اشکالات کو حل کراتے ہیں، اس پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خلفاء راشدین اور دیگر اکابر صحابہ کرام کو جو اشکالات پیش آتے تھے، مثلا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو فدک کی میراث دینے یا نہ دینے کا مسئلہ تھا، حضرت ابوبکر کی خلافت کا مسئلہ تھا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا معاملہ تھا، جس کی وجہ سے جنگ جمل اور جنگ صفین برپا ہوئیں تو ان اکابر صحابہ کرام کو آپ کی زیارت کیوں نہیں ہوئی اور انہوں نے آپ سے ان الجھے ہوۓ معاملات میں رہنمائی کیوں نہیں حاصل کی، بعد کے اولیاء کرام جن کو نیند اور بیداری میں آپ کی زیارت ہوتی رہی ہے اور وہ آپ سے اپنی مشکلات میں رہنمائی حاصل کرتے رہے ہیں، ان سے تو بہرحال ان صحابہ کرام کا آپ سے قرب بہت زیادہ تھا اور بعد کے عارفین اورمقربین سے ان کا مرتبہ بہت بڑھ کر تھا۔

علامہ سید محمود آلوسی نے اس کے جواب میں یہ کہا ہے کہ نیند اور بیداری میں نبی ﷺ کی زیارت اور آپ سے استفادہ اولیاء کرام کی باقی کرامات کی طرح خلاف عادت امور سے ہے اور عہد صحابہ میں ان کرامات اور خلاف عادت امور کا ظہور بہت کم تھا کیونکہ اس دور میں عہد رسالت اور آفتاب نبوت بہت قریب تھا اور جس طرح سورج کی موجودگی میں ستارے نظر نہیں آتے، اسی طرح آفتاب رسالت کے معجزات کے ہوتے ہوۓ صحابہ کرام کی کرامات کے ستارے نظر نہیں آتے تھے ۔( روح المعانی جز 22 ص۵۶ – ۵۵ دار الفکر بیروت ۱۴۱۹ھ )

نیز علامہ آلوسی فرماتے ہیں:

شیخ سراج الدین بن الملقن نے’’ طبقات الاولیاء‘‘ میں لکھا ہے کہ شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ نے فرمایا: میں نے ظہر کی نماز سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی،  آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! تم وعظ کیوں نہیں کرتے؟ میں نے عرض کیا: اے ابا جان ! میں عجمی شخص ہوں، فصحاء بغداد کے سامنے کیسے کلام کروں! آپ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو، میں نے منہ کھولا تو آپ نے میرے منہ میں سات مرتبہ لعاب دہن ڈالا اور فرمایا: لوگوں کے سامنے وعظ کرو اور حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ انہیں اپنے رب کی طرف دعوت دو، پس میں ظہر کی نماز پڑھ کر بیٹھ گیا اور میرے سامنے بہت خلقت جمع ہوگئی پھر مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی، پھر میں نے دیکھا کہ اس مجلس میں میرے سامنے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کھڑے ہوۓ ہیں آپ نے فرمایا: اے میرے بیٹے ! تم وعظ کیوں نہیں کرتے ؟ میں نے کہا: اے میرے ابا جان ! مجھ پر کپکپی طاری ہوگئی ہے آپ نے فرمایا: اپنا منہ کھولو میں نے منہ کھولا تو آپ نے میرے منہ میں چھ مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا میں نے پوچھا: آپ نے سات مرتبہ لعاب ڈال کر مکمل کیوں نہیں کیا؟ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے ادب کی وجہ سے، پھر آپ مجھ سے غائب ہوگئے پھر مجھے یوں لگا جیسے علوم و معارف کا ایک عظیم سمندر میرے سینہ میں موجزن ہے اور میں اپنی زبان سے حقائق اور دقائق کے یواقیت اور جواہر بیان کر رہا ہوں ۔ ( روح المعانی جز 22 ص 51 )

نیز علامہ آلوسی لکھتے ہیں:

اور علامہ سراج الدین ابن الملقن نے لکھا ہے کہ شیخ خلیفہ بن موسی النھر ملکی نیند اور بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہ کثرت زیارت کرتے تھے اور وہ نیند اور بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت فیض حاصل کرتے تھے انہوں نے ایک رات میں سترہ مرتبہ آپ کی زیارت کی،  ایک مرتبہ آپ نے ان سے فرمایا: اے خلیفہ ! تم میری زیارت کے لیے اتنے بے قرار نہ ہوا کرو کیونکہ کتنے اولیاء تو میرے دیدار کی حسرت میں ہی فوت ہوچکے ہیں، اور شیخ تاج الدین بن عطاء اللہ نے” لطائف المنن‘‘میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے ابو العباس المری سے کہا: آپ نے بہت سے شہروں میں بہت سے لوگوں سے ملاقات کی ہے آپ اپنے اس ہاتھ سے میرے ساتھ مصافحہ کرلیں انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے اپنے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی سے مصافحہ نہیں کیا اور انہوں نے کہا کہ اگر میں پلک جھپکنے کی مقدار بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے اوجھل پاؤں تو میں اس ساعت میں خود کو مسلمان شمار نہیں کرتا اور اس قسم کی عبارات اولیاء کرام سے بہت منقول ہیں ۔(روح المعانی جز ۲۲ ص ۵۱ دارالفکر بیروت ۱۴۱۷ھ )

حافظ ابن حجر ہیتمی مکی متوفی ۹۴۷ھ سے سوال کیا گیا کہ:

کیا اب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیداری میں ملاقات اور علم کا حاصل کرنا ممکن ہے؟ حافظ ابن حجر مکی نے جواب میں لکھا:

ہاں! یہ ممکن ہے اور یہ اولیاء اللہ کی کرامات میں سے ہے، علماء شافعیہ میں سے امام غزالی، بازری، تاج الدین سبکی، عظیف یافعی اور علماء مالکیہ میں سے علامہ قرطبی، ابن ابی جمرہ اور ابوجمرہ نے اس کی تصریح کی ہے منقول ہے کہ ایک ولی اللہ کی مجلس میں ایک فقیہ آۓ پھر انہوں نے ایک حدیث بیان کی اس ولی اللہ نے کہا: یہ حدیث باطل ہے فقیہ نے پوچھا: آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟ کہا تمہارے سر کے پاس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوۓ فرمارہے ہیں،  یہ بات میں نے نہیں کہی، پھر اس ولی اللہ نے فقیہ کے لیے بھی کشف کردیا اور فقیہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرلی ۔ ( فتاوی حدیثیہ  ۲۵۴ مطبوعہ مصطفی البابی، مصر )

شیخ انور شاہ کشمیری متوفی ۱۳۵۲ ھ لکھتے ہیں:

اور میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری میں زیارت کرنا ممکن ہے،  جس شخص کو اللہ تعالی یہ نعمت عطا فرمائے (اس کو زیارت ہوجاتی ہے کیونکہ منقول ہے کہ علامہ سیوطی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیس مرتبہ بیداری میں زیارت کی ( علامہ عبد الوہاب شعرانی نے خود علامہ سیوطی کے حوالے سے لکھا ہے کہ میں نے پچھتر مرتبہ بیداری میں زیارت کی اور بالمشافہ ملاقات کی ہے، میزان الشریعۃ الکبری ج۱ ص ۴۴ لواقح الانوار القدسیہ ص ۱۷ سعیدی غفرلہ ) اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض احادیث کے متعلق سوال کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تصحیح کے بعد ان کو صحیح قرار دیا ( الی قولہ ) امام شعرانی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی لکھا ہے کہ انہوں نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری میں زیارت کی ہے اور آٹھ رفقاء کے ساتھ آپ سے’’ صحیح بخاری‘‘ پڑھی پھر امام شعرانی نے ان میں سے ہر ایک کا نام بھی لیا، ان میں سے ایک حنفی تھا اخیر میں شیخ کشمیری نے کہا: بیداری میں آپ کی زیارت متحقق ہے اور اس کا انکار کرنا جہالت ہے ۔

( فیض الباری ج۱ ص 204 مطبع حجازی، مصر )

( جس نے مجھے نیند میں دیکھا وہ عنقریب مجھے بیداری میں دیکھے گا اس حدیث کی مزید شرح ہم نے شرح صحیح مسلم جلد سادس میں بیان کردی ہے ۔)

ایک اور دیوبندی عالم سید احمد رضا صاحب بجنوری لکھتے ہیں :

پھر کبھی اس کا مشاہدہ خواب کی طرح بیداری میں بھی ہوتا ہے، میرے نزدیک یہ صورت بھی ممکن ہے، حق تعالی جس خوش نصیب کو بھی چاہیں یہ دولت عطا فرما دیں، جیسے علامہ سیوطی رحمہ اللہ سے نقل ہے کہ انہوں نے ستر مرتبہ سے زیادہ بیداری کی حالت میں حضور ﷺ کی زیارت کی اور بہت سی احادیث کے بارے میں سوالات کیئے پھر آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصیح کے مطابق احادیث کی تصحیح کی علامہ سیوطی رحمہ اللہ کی سلطان وقت بھی بڑی عزت کرتا تھا،  ایک مرتبہ شیخ عطیہ نے ان کو لکھا کہ فلاں معاملہ میں سلطان سے میری سفارش کر دیجئے ! تو علامہ سیوطی نے انکار کردیا اور جواب میں لکھا: میں یہ کام اس لیے نہیں کر سکتا کہ اس میں میرا بھی نقصان ہے اور  امت کا بھی، کیونکہ میں نے سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی ستر بار سے زیادہ زیارت کی ہے،  اور میں اپنی بھلائی نہیں دیکھتا، بجز اس کے کہ میں بادشاہوں کے دروازوں پر نہیں جاتا‘‘۔

پس اگر میں کام آپ کی وجہ سے کروں تو ممکن ہے کہ حضور ﷺ کی زیارت مبارکہ کی نعمت سے محروم ہوجاؤں، بعض صحابہ کو ملائکہ سلام کیا کرتے تھے انہوں نے کسی مرض کے علاج میں داغ لگوالیا تو وہ اس کی وجہ سے ملائکہ کی رؤیت سے بھی محروم ہو گئے اس لیے میں آپ کے تھوڑے نقصان کو امت کے بڑے نقصان پر ترجیح دیتا ہوں ۔( الیواقیت والجواہر ج ۱ ص ۱۳۳ )

غالبا امت کے نقصان سے اشارہ اس طرح ہے کہ حضوراکرم ﷺ کی زیارت مبارکہ کے وقت علوم نبوت کا استفادہ کرکے وہ امت کو افادہ کرتے تھے، جیسا کہ تصحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے ۔(واللہ اعلم)

علامہ شعرانی نے بھی لکھا ہے کہ وہ حضور اکرم ﷺ کی زیارت سے مشرف ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بخاری شریف پڑھی آٹھ رفیق دوسرے بھی ان کے ساتھ تھے جن میں ایک حنفی تھے، ان سب کے نام لکھے ہیں اور وہ دعا بھی لکھی جو ختم پر پڑھی تھی۔ غرض کہ رویت بیداری بھی حق ہے اور اس کا انکار جہالت ہے ۔ (انوار الباری شرح صحیح بخاری ج 6 ص ۲۱۸ تالیفات اشرفیہ ملتان )

شیخ بجنوری اس کے حاشیہ میں لکھتے ہیں:

مشہور محدث وفقیہ شیخ عزالدین بن عبدالسلام ( استاذ حافظ قاسم بن قطلو بغا حنفی ) نے’’القواعد الکبری‘‘ میں لکھا ہے کہ ابن الحجاج نے’’المدخل‘‘ میں تحریر فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی زیارت مبارکہ بہ حالت بیداری کا مسئلہ بہت دقیق ہے تاہم ایسے حضرات اکابر کے لیے اس کے وقوع و ثبوت سے انکار نہیں کیا جاسکتا جن کے ظاہر و باطن کی حق تعالی نے اپنے فضل خاص سے حفاظت فرمائی ہو البتہ بعض علماء ظاہر نے اس سے انکار کیا ہے ۔ ( الحاوی للفتاوی ج ۲ ص۲۵۸)

حضرت شاہ صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ مسئلہ رؤیت منامی پر حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب رحمہ اللہ نے رسالہ لکھا ہے آپ نے جمہور کا مذہب اختیار فرمایا اور حضرت شاہ رفیع الدین صاحب رحمہ اللہ نے بھی رسالہ لکھا جس میں دوسری راۓ قلیل جماعت والی اختیار کی ۔

حافظ ابن تیمیہ کا انکار رویت بیداری

ان منکرین ہی میں سے حافظ ابن تیمیہ بھی ہیں، جنہوں نے حسب عادت بڑی سختی و شدت سے بیداری کی رؤیت سے انکار کیا ہے’’ کتاب التوسل والوسیلہ‘ میں لکھا کہ منامی رؤیت کبھی حق ہوتی ہے اور کبھی شیطان کے اثر سے، اس لیے حضور اکرم ﷺ کی منامی رؤیت تو ثابت و تسلیم ہے مگر بیداری کی رؤیت تو کسی کے لیے ثابت نہیں ہے اور جو یہ گمان کرے کہ میں نے کسی میت کو دیکھا تو یہ بات اس کی جہالت سے ہے اور بہت سے لوگ جو یہ کہا کرتے ہیں کہ انہوں نے کسی نبی یا صالح یا خضر کو دیکھا تو درحقیقت انہوں نے شیطان کو دیکھا ہے ۔ حادی ج ۲ ص ۱۶۳ میں ہے کہ ائمہ شریعت کی ایک جماعت نے اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ حق تعالی اپنے کسی ولی مقرب کو یہ اکرام بھی عطا فرمادیتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت مبارکہ سے بہ حالت بیداری مشرف ہو،  آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر بھی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معارف و مواہب سے حسب استعداد بہرہ ور ہو، اس کو ائمہ شافعیہ میں سے امام غزالی، بازری، تاج سبکی، یافعی نے اور ائمہ مالکیہ میں سے علامہ قرطبی، محدث ابن ابی جمرہ اور ابن الحاج ایسے حضرات اکابر و محققین نے تسلیم کیا ہے شیخ ابوالحسن شاذلی فرمایا کرتے تھے کہ اگر میں بہ قدر پلک جھپکنے کے بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محجوب ہو جاؤں تو اپنے آپ کو مسلمانوں میں شمار نہ کروں‘‘۔  

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ایسے بہت سے حضرات کا ذکر کیا، جن کو بیداری میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے مثلا (۱) شیخ عبدالقادر جیلانی نے فرمایا کہ میں نے ظہر سے قبل حضور ﷺ کی زیارت کی ( ۲) شیخ خلیفہ بن موسی کے تذکرہ میں آتا ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بہ کثرت دیکھتے تھے (۳) شیخ عبدالغفار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر وقت دیکھتے تھے (۴) شیخ ابو العباس موسی کو حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خصوصی اتصال کا شرف حاصل تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام عرض کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے نیز محادثه اور سوال و جواب سے بھی مشرف ہوتے اسی طرح علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اور بہت سے اولیاء کرام کے نام ذکر کیے جو بیداری کی رؤیت سے مشرف ہوۓ ہیں اور ان کے قصے بھی لکھے ۔ ( حاوی )

علامہ بازری شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے زمانہ کے اور اس سے بھی قبل کے اور بہت سے اولیاء کرام رحمہم اللہ کے حالات میں سنا گیا ہے کہ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات کے بعد عالم بیداری میں زندہ دیکھا ہے ابن عربی نے فرمایا ہے کہ انبیاء و ملائکہ کی رؤیت اور ان کا کلام سننا مومن و کافر دونوں کے لیے ممکن ہے فرق اتنا ہے کہ مومن کے لیے بہ طور کرامت ہوگا اور کافر کے لیے بطور عقوبت‘‘۔

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں یہ بھی لکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیداری میں رؤیت تو اکثر قلب کے ذریعہ ہوتی ہے پھر ترقی ہوکر حاسہ بصر سے بھی ہونے لگتی ہے، لیکن پھر بھی وہ رؤیت بصریہ عام متعارف رویت کی طرح نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک جمعیت حالیہ اور حالت برزخیہ وامر وجدانی ہیں، جس کی حقیقت کا ادراک وہی شخص کر سکتا ہے جس کو جمعیت حاصل ہو، شیخ عبداللہ دلاصی کا قول پہلے گزرچکا ہے کہ” جب امام نے اور میں نے احرام باندھا تو مجھے ایک پکڑنے والے نے پکڑ لیا اور میں رویت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے مشرف ہوا‘‘ تو’’ اخذتنی اخذہ‘‘میں’ اخذہ‘‘ ( پکڑ اور کشش ) سے اسی حالت مذکورہ کی طرف اشارہ ہے ( جس کے ساتھ ہی شرف رؤیت بیداری میں حاصل ہوجاتا ہے ) ۔ ( الحاوی للفتاوی ج ۲ ص 262)

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اس مسئلہ پر اپنے رسالہ تـنـوير الحلك في رؤية النبي والملك ‘‘ میں مستقل طور پر بحث کی ہے اس کو بھی دیکھا جاۓ ۔

غرض اولیاء کرام کے حالات میں بڑی کثرت سے بیداری کی رویت کا ثبوت ملتا ہے قریبی زمانہ میں حضرت گنگوہی رحمہ اللہ کے حالات میں ہے کہ ایک روز” تصور شیخ ‘‘ کے مسئلہ پر تقریر فرماتے ہوۓ جوش میں آ کر اس امر خفی کا اظہار بھی فرما دیا کہ کامل تین سال تک حضرت حاجی صاحب قدس سرہ سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا، پھر فرمایا کہ کتنے ہی سال تک میں نے کوئی بات حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے استصواب کے بغیر نہیں کی اس کے بعد احسان کا درجہ حاصل ہوگیا‘‘ ۔ ( امیر الروایات ص ۴۱۸ )

ایسی صورت میں حافظ ابن تیمیہ ایسے محقق عالم کا انکار حیرت ہی کا باعث ہے، سچ ہے بڑوں سے غلطی بھی بڑی ہی ہوتی ہے اور چند مسائل میں حافظ ابن تیمیہ کے تفردات بھی اسی قبیل سے ہیں ۔ (انوار الباری شرح صحیح بخاری ج 6 ص 220- 219 تالیفات اشرفيه ملتان )

ہم نے بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کے متعلق حافظ ابن حجر عسقلانی کے استاذ شیخ الاسلام علامہ بلقینی،  علامہ ابن ابی جمرہ، علامہ جلال الدین سیوطی، علامہ ابن حجر ہیتمی مکی، علامہ آلوسی حنفی، شیخ سراج الدین ابن الملقن، علامہ عبدالوہاب شعرانی اور علماء دیوبند میں سے شیخ انورشاہ کشمیری، شیخ بجنوری اور ان کے حوالہ سے شیخ گنگوہی کی تصریحات پیش کر دی ہیں کہ اولیاء اللہ کو اور علماء اور فقہا ء کو بیداری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوتی ہے، وللہ الحمد ۔

آپ کا نام اور آپ کی کنیت رکھنے کی تفصیل اور تحقیق

قاضی عیاض بن موسی مالکی متوفی ۵۴۴ھ اور علامہ ابی مالکی متوفی ۸۲۸ ھ اور علامہ سنوسی مالکی متوفی ۸۹۵ ھ لکھتے ہیں:

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: میرا نام رکھو اور میری کنیت نہ رکھو اہل ظاہر نے اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیت رکھنی مطلقاً جائز نہیں ہے،  امام شافعی کا بھی یہی قول ہے ربیع نے کہا: امام شافعی نے یہ کہا ہے کہ کسی کے لیے ابوالقاسم کنیت رکھنی جائز نہیں ہے خواہ اس کا نام محمد ہو یا نہ ہو قاضی عیاض نے کہا ہے کہ اپنے بیٹے کا نام قاسم رکھنا بھی منع ہے تاکہ وہ ابوالقاسم کنیت رکھنے کا سبب نہ بن جاۓ حتی کہ پہلے مروان کے بیٹے کا نام قاسم تھا جب اس کو یہ حدیث پہنچی تو اس نے اپنے بیٹے کا نام بدل کر عبدالملک رکھ دیا۔

دوسرے متقدمین نے یہ کہا ہے کہ صرف ابوالقاسم کنیت رکھنا اس وقت ناجائز ہے جب اس کا نام محمد یا احمد ہو حدیث میں ہے:

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے میرا نام ( محمد ) رکھا وہ میری کنیت ( ابوالقاسم ) نہ رکھے اور جس نے میری کنیت رکھنی ہے وہ میرا نام نہ رکھے ۔ ( سنن ابوداؤد :4966، سنن ترمذی: 2842 مسند احمد ج ۳ ص ۳۱۳)

دوسرے علماء نے کہا کہ یہ ممانعت اب منسوخ ہوگئی اور اب آپ کا نام اور آپ کی کنیت رکھنے کی رخصت ہے اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں:

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! اگر آپ کی وفات کے بعد میرا بیٹا ہو تو میں اس کا نام آپ کے نام پر اور اس کی کنیت آپ کی کنیت پر رکھ لوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں ! ( سنن ابوداؤد: ۴۹۶۷، سنن ترمذی: ۲۸۴۳)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اس نے کہا: یا رسول اللہ! میرے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے پس میں نے اس کا نام محمد رکھا ہے اور اس کی کنیت ابوالقاسم رکھی ہے پھر مجھے بتایا گیا کہ آپ اس کو ناپسند کرتے ہیں آپ نے فرمایا: کس نے میرے نام کو حلال کہا ہے اور میری کنیت کو حرام کہا ہے یا فرمایا: کس نے میری کنیت کو حرام کہا ہے اور میرے نام کو حلال کہا ہے ۔ ( سنن ابوداؤد : 4968)

علامہ مازری نے کہا ہے کہ آپ کی کنیت ابوالقاسم رکھنا آپ کی حیات میں ناجائز تھا جب کہ اب جائز ہے حدیث میں ہے:

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ ایک شخص بازار میں نداء کر رہا تھا:’’ یا ابا القاسم‘‘ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو اس نے کہا: میں نے آپ کا ارادہ نہیں کیا تھا تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میری کنیت نہ رکھو ۔ ( سنن ترمذی:۱ ۲۸۴ مسند احمد ج ۳ ص ۱۱۴ )

طبری کی رائے یہ ہے کہ آپ کے بعد آپ کے نام اور آپ کی کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت منسوخ نہیں ہوئی پہلے یہ ممانعت واجب تھی اب مستحب ہے اور نام اور کنیت کو جمع کرنا مباح ہے۔

(اکمال معلم بفوائد مسلم ج 7 ص۹۔8 ، اکمال اکمال المعلم ج ۷ ص 289،  معلم اکمال الاکمال ج ۷ ص ۸۹ )

اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھنے کی کراہت

بعض علماء کا شاذ قول ہے کہ کنیت خواہ کوئی رکھی جاۓ لیکن آپ کا نام محمد رکھنا جائز نہیں ہے حدیث میں ہے:

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھتے ہو پھر ان پر لعنت کرتے ہو۔

( مسند ابویعلی :3386، مسند البزار : ۱۹۸۷ اس حدیث کی سند میں الحکم بن عطیہ ہے، امام احمد نے اس کی توثیق کی ہے اور دوسروں نے اس کو ضعیف کہا اور اس کے باقی رجال حدیث صحیح کے رجال ہیں مجمع الزوائد ج ۸ ص ۴۸)

حضرت عمر نے اہل کوفہ کی طرف لکھا: تم کسی نبی کے نام پر اپنے بیٹوں کا نام نہ رکھو اور ایک جماعت کو حکم دیا جنہوں نے اپنے بیٹوں کا نام محمد رکھا ہے وہ اس کو بدل دیں، حدیث میں ہے :

عبدالرحمن بن ابی لیلی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے عبدالحمید کے بیٹے کی طرف دیکھا اس کا نام محمد تھا اور ایک شخص اسے کہہ رہا تھا: یامحمد! اللہ تعالی تیرے ساتھ ایسا کرے اور ایسا کرے اور ایسا کرے اور اس کو برا کہہ رہا تھا۔ پس اس وقت امیر المؤمنین نے کہا: اے زید کے بیٹے ! میرے قریب آؤ، کیا میں نہیں دیکھ رہا کہ تمہاری وجہ سے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو برا کہا جارہا ہے! اللہ کی قسم ! جب تک میں زندہ ہوں تم کو محمد کہہ کر کوئی نہیں پکارے گا، پھر حضرت عمر نے اس کا نام عبد الرحمان رکھ دیا پھر آپ نے حضرت طلحہ کے بیٹوں کو پیغام بھیجا کہ وہ اپنے بیٹوں کے نام بدل دیں اس وقت ان کے سات بیٹے تھے اور سب سے بڑے بیٹے کا نام محمد تھا۔ پس محمد بن طلحہ نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میرا نام محمد تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نے نہیں رکھا۔ حضرت عمر نے فرمایا: جاؤ! جس کا نام سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا ہے میں اس کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔

اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ۔ (اسد الغابہ ج ۵ ص 99،  طبقات کبری ج ۵ ص ۵۳ التاریخ الکبیر ص ۱۶ المعجم الاوسط ج ص ۱۱۰ الأحاد والمثانی : ۰ ۲۷ المعجم الکبیر: ۵۴۴ – ج۱۹، الاصابہ ج 6 ص ۱۸ مسند احمد ج ۴ ص 216 طبع قدیم، مسند احمد :17896۔ ج۲۹ ص ۴۲۸ مؤسسة الرسالة بیروت )

ایک قول یہ ہے کہ اس کا سبب یہ ہے کہ حضرت عمر نے سنا: کوئی شخص ان کے بھتیجے محمد بن زید بن خطاب سے کہہ رہا تھا: اے محمد ! تمہارے ساتھ اللہ ایسا کرے اور ایسا کرے تو حضرت عمر نے ان کو بلایا اور کہا: کیا میں نہیں دیکھ رہا کہ تمہاری وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کو برا کہا جا رہا ہے اللہ کی قسم ! جب تک تم زندہ ہو تم کو محمد کہہ کر نہیں پکارا جاۓ گا ۔ (اکمال المعلم بفوائد مسلم ج ۷ ص ۹ – ۸ دارالوفاء ، بیروت 1419ھ، اکمال المعلم ج ۷ ص ۲۹۱ – ۲۹۰ مکمل اکمال الاکمال ج ۷ ص ۴۹۱ – ۲۹۰ دار الکتب العلمیہ بیروت 1415ھ )

انبیاء کا نام رکھنے اور آپ کا نام رکھنے کا جواز اور استحباب

علامہ محمد بن خلیفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ۸۲۸ ھ لکھتے ہیں:

علامہ خطابی نے کہا ہے کہ حضرت عمر کے نام بدلنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ محمد نام رکھنا جائز نہیں ہے، اول تو یہ حدیث غیر معروف ہے اور بر تقدیر تسلیم اس کا معنی یہ ہے کہ جس کا نام محمد ہے، اس کو برا نہ کہو خصوصاً اس کو محمد کہہ کر برا نہ کہو، نہ یہ کہ محمد نام ہی نہ رکھو کیونکہ محمد نام رکھنے کی ترغیب میں بہ کثرت احادیث وارد ہیں جیسا کہ عثمان العمری نے مرسلا روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو کیا ضرر ہو گا اگر اس کے گھر میں ایک محمد ( نام کا ہو ) یا دو محمد ( نام کے ہوں) یا تین محمد ( نام کے ) ہوں ۔( طبقات کبری ج ۵ ص 38، کنز العمال : ۴۵۲۰۵)

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ بھی مشورہ کر نے جمع ہوۓ اور ان میں محمد نام کا کوئی شخص تھا اور انہوں نے اس کو مشورہ میں شامل نہیں کیا تو ان کے مشورہ میں برکت نہیں دی جاۓ گی ۔ ( کنز العمال : ۴۵۲۲۴)

درج ذیل حدیث کا اضافہ میں نے کیا ہے علامہ ابی نے جو تیسری حدیث لکھی تھی اس کا حوالہ مجھے نہیں مل سکا ۔

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جس کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوا اور اس نے میری محبت کی وجہ سے اور میرے نام کی برکت حاصل کرنے کے لیے اس کا نام محمد رکھا تو وہ شخص اور اس کا بچہ دونوں جنت میں ہوں گے ۔

(اکمال اکمال المعلم ج ۷ ص 291، دارالکتب العلمیہ بیروت1415ھ مخرجاو زائد علیہ )

میں کہتا ہوں کہ صحیح بخاری: ۱۱۰ کی زیر بحث حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صراحتہ حکم ہے کہ میرا نام ( محمد ) رکھو پھر آپ کا نام رکھنے کے جواز اور استحسان میں کسی کو کیا شبہ ہوسکتا ہے اور عموما انبیاء علیہم السلام کا نام رکھنے کے متعلق یہ حدیث ہے:

ابو وہب الجشمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء علیہم السلام کے نام رکھو اور اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبد الرحمان ہے اور سب سے سچا نام حارث اور ھمام ہے اور سب سے برا نام حرب اور مزہ ہے ۔

( سنن ابوداؤد : ۴۹۵۰، سنن نسائی: 3568)

تبیان القرآن ج ۴ ص ۴۹۹ – ٬۴۹۷ الاعراف: ۱۹۰۔۱۸۹ میں ہم نے محمد نام رکھنے کی فضیلت میں بہت سی احادیث بیان کی ہیں اور ان کی اسانید کی تحقیق کی ہے ۔

خواب کے بعد بیداری میں آپ کی زیارت کرنے والوں کو صحابی کہا جاۓ گا یا نہیں؟

جب کوئی شخص بیداری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرے تو آیا اس پر صحابی کا اطلاق کیا جاۓ گا یا نہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس پر صحابی کا اطلاق نہیں کیا جاۓ گا کیونکہ صحابی کی تعریف یہ ہے : جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی دنیاوی حیات ظاہرہ میں ایمان کی حالت میں دیکھا ہو اور اسی ایمان پر فوت ہوگیا ہو نیز اس لیے کہ نبی ﷺ اللہ کے احکام کی خبر دینے والے ہیں اور آپ دنیا میں خبر دیتے تھے نہ کہ قبر میں ۔

خواب میں آپ سے سنی ہوئی حدیث حجت ہے یا نہیں اور خواب کی تحقیق

جس شخص نے خواب میں آپ سے کوئی حدیث سنی وہ حجت ہے یا نہیں؟ اس کا جواب بھی یہ ہے کہ وہ حدیث حجت نہیں ہے کیونکہ استدلال کے لیے شرط یہ ہے کہ راوی نے اس حدیث کو منضبط کرلیا ہو اور نیند کی حالت میں وہ ضبط نہیں کر سکتا۔

ایک سوال یہ ہے کہ خواب کی حقیقت کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خواب وہ ادراکات ہیں جن کو اللہ تعالی بندے کے ذہن میں فرشتے یا شیطان کے واسطے سے پیدا کرتا ہے اس کی نظیر یہ ہے کہ جیسے بیداری میں انسان کے دل میں مختلف خیال آتے ہیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ انسان خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ کسی نہ کسی چیز کی مثال ہوتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ خواب پر ایک فرشتہ مامور ہے جو اس کو حکمت کی مثالیں دکھاتا ہے اور لوح محفوظ سے غیب کی باتوں پر مطلع کرتا ہے ۔ ( عمدة القاری ج ۲ ص ۲۳۶ – ۲۳۵)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم :۵۴۷۶ ۔ ج6، ص ۴۹۲ پر مذکور ہے اس کی شرح میں حسب ذیل عنوان میں :

(1) ابوالقاسم کنیت رکھنے کے متعلق مذاہب کی تفصیل

(۲) کنیت رکھنے کی تحقیق

(۳) انبیاء اور صالحین کے نام رکھنے کا جواز ۔