گستاخ رسول ابو رافع کا قتل

ابورافع اسلام دشمنی میں کعب بن اشرف کا معین اور مددگار تھا۔ اس کا نام عبد اللہ تھا جو اُم المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پہلے شوہر کا بھائی تھا۔ بہت مالدار تاجر تھا اور خیبر میں اپنے قلعہ میں رہتا تھا۔ ابورافع اِس کی کنیت تھی، رسولِ خدا  ﷺاور مسلمانوں کی دشمنی میں پیش پیش تھا، کعب بن اشرف کو جہنم رسید کرنے کا شرف قبیلہ اَوس کے حصہ میں آیا تھا۔ ایسا ہی اعزاز قبیلہ خزرج کے لوگ بھی حاصل کرنا چاہتے تھے، آخر ابورافع پر اُن کی نظر پڑی، حضور  ﷺسے اجازت لے کر حضرت عبد اللہ بن عتیک، مسعود بن سنان اور عبد اللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے اِس کام کو انجام دینے کا بیڑہ اُٹھایا۔ اس جماعت کا امیر حضرت عبد اللہ بن عتیک کو بنایا گیا۔ خیبر میں اُس کے قلعہ کے قریب شام کے وقت پہنچے۔ حضرت  عبد اللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں سے کہا میں کسی نہ کسی ترکیب سے قلعہ کے اندر جاؤں گا۔ اندھیرا پھیلنے لگا تو حضرت عبد اللہ بن عتیک قلعہ کی فصیل کے قریب ایسے بیٹھ گئے جیسے قضائے حاجت کے لیے بیٹھے ہوں، دربان نے سمجھا اپنا ہی آدمی ہے، دروازہ بند کرنے کا وقت آیا تو آواز دی اندر آجاؤ، یہ سنتے ہی وہ قلعہ میں داخل ہوکر لوگوں میں شامل ہوگئے۔ ابورافع بالاخانے پر رہتا تھا۔ رات گئے قصہ خواں اُس کے پاس جمع رہتے تھے۔ جب یہ محفل برخواست ہوگئی تو دربان نے تمام دروازے بند کیے اور چابیوں کو ایک طاق میں رکھ کر خود بھی سوگیا۔حضرت عبد اللہ بن عتیک نے دربان کو غافل پایا تو کنجیاں اُٹھالیں۔ قلعہ کے ہر کمرے کا اندرونی تالا کھولتے اور اُسے اپنے پیچھے بند کرلیتے تاکہ اگر کوئی اندر داخل ہونا چاہے تو راستہ نہ پاسکے۔ آخر وہ اُس مقام پر پہنچ گئے جہاں ابورافع اپنے بچوں کے ساتھ سویا ہوا تھا۔ اندھیرے کی وجہ سے وہ دکھائی نہیں دے رہا تھا، اُنہوں نے آواز دی ابورافع! جواب ملا کون ہے؟ حضرت عبد اللہ نے آواز کے رُخ پر تلوار سے وارکیا لیکن وہ وار اَوچھاپڑا،ابورافع نے شور مچایا،کچھ وقت گزرا تو آواز بدل کر پوچھا یہ شور کیسا ہے؟ ابورافع نے جواب دیا کوئی میرے کمرے میں گھس آیا ہے اور مجھ پر وَار کیا گیا ہے۔ حضرت عبد اللہ قریب پہنچے اور تلوار اُس کے پیٹ میں گھونپ دی جو آرپار ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں دروازہ کھولتا ہوا آخری زینے تک پہنچا سمجھا کہ زمین آگئی ہے آگے بڑھا تو بلندی سے نیچے گرپڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ عمامہ نکال کر اِسے باندھ لیا اور ساتھیوں کے پاس فصیل کے باہر پہنچ گیا،اُن سے کہا تم جاؤ اور رسول اللہ  ﷺ کو خوشخبری سناؤ، میں صبح اس کی موت کی تصدیق کے بعد آؤں گا۔ مرغ نے بوقت فجر اذان دی تو منادی نے قلعہ سے اعلان کیا کہ کسی نے ابورافع کو قتل کردیا ہے۔ یہ سن کر میں خوش خوش مدینہ منورہ آیا ،حضور  ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، حضورﷺ  نے اپنے دست ِ مبارک سے پنڈلی کی ٹوٹی ہڈی پر لعاب دہن لگایا جو اچھی ہوگئی۔پھر کبھی اس پیر سےمتعلق مجھے کوئی شکایت نہ رہی۔
(صحیح بخاری :باب قتل ابی رافع،۴۰۳۹)