میلاد اور خرافات ۔۔۔۔

کے پی کے، کے ایک دیوبندی [ شیخ عزیز اللہ جو کہ مشہور دیو بندی حمد اللہ جان ڈاگی صاحب “البصائر لمنکر التوسل باھل المقابر” کا شاگرد اور اس کے ادارے کا شیخ الحدیث ہے] کو سن رہا تھا جو پشتو زبان میں تقریر کر رہا تھا کہ میں اس تقسیم کا قائل نہیں ہوں کہ میلاد کی دو حیثیت ہیں؛ ایک مستحب اگر منکرات سے خالی ہو اور دوسرا بدعت اگر منکرات ہو۔ میں اس کا قائل نہیں ہوں۔ منکر تو ہر جگہ منکر ہے نہیں کرو نا۔ ایسے تو پھر کہو ولیمہ کی دو حیثیت ہیں؛ سنت اگر منکرات نہ ہو اور بدعت اگر منکرات ہو مثلا ناچ گانا ڈول وغیرہ۔  یوں نماز جنازہ کی بھی دو حیثیت ہیں؛ فرض کفایہ اگر منکرات نہ ہو۔ بدعت اگر منکرات ہو مثلا عورتیں ہو، رونے والی ہو یا گریبان پھاڑ رہے وغیرہ۔ ایسے تو پھر تو کوئی عمل نہیں بچے گا ہر عمل میں یہی تقسیم کرتے رہو کہ ایک حیثیت سے جائز اور دوسری حیثیت سے بدعت پھر تو منصوصی اعمال بھی خراب ہوجائیں گے۔ میلاد ایک مستحب عمل ہے باعث اجر و ثواب ہے اور یہ من اعظم القربات ہے اور منکر ہر حالت میں منکر ہے۔ میلاد میں ہو تب بھی اور دوسری حالت میں ہو تب بھی۔ جہاں میلاد بالکل نہیں اور سنیما ہال میں یہ لفنگے جمع ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ منکر کہیں گے نا یہ مطلقا ناجائز ہے یہ روا نہیں۔ یہ تقسیم میرے مزاج کے موافق نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ پھر تو ہر عمل میں یہی کہو گے۔ کسی کی منکرات اور ناجائز اعمال کی وجہ سے کوئی اصل عمل سے انکار نہ کرے۔ بطور مثال کہہ رہا ہوں بعض دوست کہتے ہیں کہ حیلہ اسقاط ناجائز ہے جب جواب میں کہا جائے کہ کتب احناف میں جائز لکھا ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں مروجہ حیلہ اسقاط ناجائز ہے۔ قید مروجہ شامل کرتے ہیں ۔ بے وقوف تو تو رواج کا رد کر، اصلاح کر ۔تم ایک ایسا حیلہ اسقاط کر اپنے والدین کسی قریبی کے لئے جس میں مطلقا منکر نہ ہو اور مروجہ اغلاط سے پاک ہو ہم بھی سیکھ لیں گے کہ حیلہ اسقاط یوں کیا جاتا ہے۔تو بھی ایک ایسا محفل میلاد کر، منکرات سے خالی ہو کر کر۔ ہم بھی آجائیں گے ۔ شرکت کر لیں گے ۔ طریقہ سیکھ لیں گے پھر کہیں گے ایسا میلاد صحیح ہے۔ تو تو منہ سے کہتا ہے مروجہ ناجائز ہے اور دل سے مطلقا بالکلیہ نہیں مانتے ہو۔

ابو الحسن