۳۹- باب كتابة العلم

علم کو لکھنا

 

علم کی باتوں کو لکھنے کے متعلق متقدمین میں اختلاف رہا ہے پھر ان کا لکھنے کے استحباب پر اجتماع ہوگیا، بلکہ اس زمانہ میں اس کا وجوب بھی بعید نہیں ہے، کیونکہ اب لوگ علم کو حفظ کرنے اور یاد کرنے کا اہتمام نہیں کرتے اور اگر اب علم کو لکھا نہ جاۓ تو علم مٹ جاۓ گا، کہا جاتا ہے :علم صید ہے اور کتابت اس کی قید ہے، نیز علم کا لکھنا عام ہے خواہ اس کو مرد لکھیں یا خواتین لکھیں ۔

اس باب کی باب سابق کے ساتھ مناسبت اس طرح ہے کہ باب سابق میں روایت میں جھوٹ سے احتراز کرنے اور صحیح

احادیث بیان کرنے کا حکم دیا تھا، تاکہ احادیث ضائع نہ ہوں اور اس باب میں احادیث کو لکھنے کی ترغیب ہے تاکہ احادیث ضائع نہ ہوں ۔

۱۱۱- حدثنا محمد بن سلام قال أخبرنا وكيع ،عن سفيان، عـن مـطـرف، عـن الشعبي عن ابی جحيفة قال قلت لعلي هل عندكم كتاب؟ قال ل،ا إلا كتاب الله ، أو فهم أعطيه رجل مسلم، أو ما فی هذه الصحيفة ، قال قلت فما في هذه الصحيفة؟ قال العقل ، وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر۔

اطراف الحدیث : ۱۸۷۰ – ۳۰۴۷۔ ۳۱۷۲۔ 6903 – 6915

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں محمد بن سلام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں وکیع نے خبر دی از سفیان از مطرف از شعبی از ابی جحیفہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ کے پاس کچھ لکھا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: صرف کتاب اللہ ہے یا وہ فہم ہے جو ہر مسلمان شخص کو دی گئی ہے یا جو کچھ اس صحیفہ میں لکھا ہوا ہے میں نے پوچھا: اس صحیفہ میں کیا لکھا ہوا ہے؟ انہوں نے کہا: دیت کے احکام ( لکھے ہوۓ ہیں )اور قیدیوں کو چھٹرانے کے اور یہ کہ مسلمان کو کافر ( حربی ) کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا۔

صحیح مسلم :۷۰ ۱۳، سنن ابوداؤد : ۲۰۳۴، سنن ترمذی: ۷ ۲۱۲ السنن الکبری للنسائی: ۴۲۷۸، مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۴ ص ۱۹۸ مسند ابویعلی :263،‘ مسند ابوداؤدالطیالسی: ۱۸۴ صحیح ابن حبان :3716، مسند احمد ج ۱ ص ۸۱ طبع قدیم مسند احمد : 615- ج ۲ ص ۵۱ مؤسسة الرسالة بیروت 

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ باب کا عنوان ہے : علم کو لکھنا اور اس حدیث میں صحیفہ کا ذکر ہے اور صحیفہ کا معنی ہے : لکھا ہوا ورق ۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

 

(۱) محمد بن سلام بیکندی، ان کا تعارف ہو چکا ہے.

(۲) وکیع بن الجراح بن ملیح بن عدی الکوفی، یہ اعمش وغیرہ سے روایت کرتے ہیں امام احمد نے کہا: ان کا حافظہ ابن مہدی سے زیادہ ہے حماد بن زید نے کہا: اگر میں چاہوں تو یہ کہوں کہ یہ سفیان سے راجح ہیں یہ 128ھ میں پیدا ہوئے اور دس محرم ۱۶۷ھ میں فوت ہو گئے.

(۳) سفیان، علامہ کرمانی نے کہا: یہ سفیان ثوری بھی ہو سکتے ہیں اور سفیان بن عینہ بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ وکیع ان دونوں سے روایت کرتے ہیں اور یہ دونوں مطرف سے روایت کرتے ہیں.

( ۴ ) مطرف ابوعبدالرحمان الکوفی الحارثی، ان کی امام احمد وغیرہ نے توثیق کی ہے یہ۱۳۳ ھ میں فوت ہوگئے تھے.

( ۵ ) عامر شعبی’ ان کا تعارف بھی ہوچکا ہے.

(۲ ) ابو جحیفہ وہب بن عبد اللہ السوائی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ۴۵ احادیث روایت کی ہیں جن میں سے ۲ حدیثوں پر امام بخاری اور امام مسلم متفق ہیں امام بخاری ۲ حدیثوں کے ساتھ منفرد ہیں اور امام مسلم تین حدیثوں کے ساتھ، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ ان کی بہت تکریم کرتے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے اور ان پر اعتماد کرتے تھے انہوں نے ان کو کوفہ کے بیت المال پر مقرر کر دیا تھا۔ یہ تمام مشاہد میں حضرت علی کے ساتھ رہے اور ۷۲ ھ میں فوت ہوگئے ۔ کم عمر صحابہ میں سے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت یہ بالغ نہیں ہوۓ تھے.

( ۷ ) حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں،  ان کا تعارف ہوچکا ہے ۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۳۹)

کتاب، فہم، عقل اور’’ فكاك الاسیر ‘‘ کے معانی

اس حدیث میں کتاب اور فہم کا لفظ ہے کتاب کا معنی ہے : مکتوب اور اس سے مراد ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لکھی ہوئی یا لکھوائی ہوئی کوئی چیز، فہم کا معنی ہے : ذہن کی تیزی، کسی مشکل چیز کو جلد سمجھنے کی صلاحیت ۔

نیز اس حدیث میں عقل کا لفظ ہے اس کا معنی ہے : رسی یا رسی سے باندھنا اور اس سے مراد ہے: دیت‘ کیونکہ عرب دیت میں اونٹ ادا کر تے تھے جن کو اصطبل میں رسیوں سے باندھا جاتا تھا، یا اس کی وجہ یہ ہے کہ دیت کا معنی خون بہا ہے یا کسی کوقتل کر نے یا اس کا عضو کاٹنے کا مالی معاوضہ اور عقل انسان کو قتل کرنے یا عضو کاٹنے سے منع کرتی ہے تا کہ بعد میں اس کا مالی معاوضہ نہ دینا پڑے۔

نیز اس میں’’ فكاك الاسير ‘‘ کا لفظ ہے’’ فكاك ‘‘ کا معنی ہے: چھڑانا اور اسیر ‘‘ کا معنی ہے : قیدی۔

شیعہ کے اس زعم کا رد کہ حضرت علی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص اسرار اور احکام بتاۓ تھے

سائل نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے یہ پوچھا تھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو خاص حکم لکھ کر دیا ہے جو قرآن میں نہیں ہے اس کی وجہ تھی کہ شیعہ یہ زعم کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی کو وحی کے خاص اسرار لکھ کر دیئے ہیں، جن کا دوسرے صحابہ کو علم نہیں ہے یا آپ کو خاص وصیت لکھ کر دی ہے، حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے جواب دیا کہ ان کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی چیز لکھی ہوئی نہیں ہے یا آپ نے اپنی فہم سے کتاب اللہ کے جو احکام اور مسائل مستنبط کیے ہیں وہ لکھے ہوۓ ہیں یا اس صحیفہ میں جو دیت کے احکام لکھے ہوۓ ہیں کہ جان کے معاوضہ میں کتنے اونٹ دیئے جائیں گے اور مختلف اعضاء کے تاوان میں کتنے کتنے اونٹ دیئے جائیں گے اور قیدیوں کو چھڑانا ایک نیک عمل ہے، اس کے متعلق لکھا ہوا ہے اور صحیفہ سے مراد وہ اوراق ہیں، جن پر حضرت علی نے ان چیزوں کولکھا ہوا تھا، تاکہ بہ وقت ضرورت ان کو پڑھ کر ذہن میں حاضر کرلیا جائے اور یہ کاغذات اپنی تلوار کے دستہ میں یا اس کی میان میں رکھے ہوئے تھے اور اس صحیفہ میں یہ لکھا ہوا تھا کہ مسلمان کو کافر ( حربی ) کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاۓ گا۔

اس حدیث میں شیعہ کی اس بدعقیدگی کا رد ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی تھے یا رسول اللہ ﷺ نے ان کو مخصوص احکام اور اسرار لکھ کر دیئے تھے جو دوسرے صحابہ کرام کو نہیں بتائے تھے اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ عالم کو چاہیے کہ وہ اپنی فہم کے ساتھ قرآن مجید سے احکام اور مسائل کو نکالے اور اس حدیث میں علم کی باتوں کو لکھنے کا ثبوت ہے ۔

ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل نہ کرنے کے ثبوت میں ائمہ ثلاثہ کے دلائل

اس حدیث میں مذکور ہے کہ حضرت علی نے فرمایا: اس صحیفہ میں یہ لکھا ہوا ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاۓ گا۔

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن محمد بن قدامہ حنبلی متوفی 620 ھ لکھتے ہیں:

اکثر اہل علم کافر کوقتل کرنے سے مسلمان پر قصاص کو واجب نہیں کرتے، خواہ وہ کسی قسم کا کافر ہو حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت زید بن ثابت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہم کا یہی مسلک ہے اور تابعین میں سے عمر بن عبدالعزیز، عطاء، حسن بصری، عکرمہ،زہری اور ابن شبرمہ کا یہی قول ہے اور ائمہ میں سے امام مالک، امام شافعی اور اوزاعی وغیرہ کا یہی مذہب ہے ۔

نخعی، شعبی اور اصحاب راۓ (فقہاء احناف ) نے یہ کہا ہے کہ خصوصاً ذمی کوقتل کرنے سے مسلمان پر قصاص واجب ہوگا شعبی اور نخعی نے یہ کہا ہے کہ مجوسی یہودی اور نصرانی کی دیت مسلم کی دبیت کی مثل ہے اور اگر مسلمان نے اس کو قتل کیا تو اس کو اس کے بدلہ میں قتل کیا جاۓ گا یہ بہت عجیب بات ہے کہ مجوسی کو مسلم کی مثل قرار دیا جاۓ سبحان اللہ ! یہ کیسا قول ہے! اس کے خلاف یہ حدیث ہے:

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاۓ گا ۔

 صحیح البخاری: ۶۹۱۵ ، سنن ترمذی: ۷ ۲۱۲ ، سنن نسائی : ۴۲۷۸، سنن دارمی:۲۳۵۲، سنن ابن ماجہ :2659، سنن بیہقی ج ۸ ص ۲۸ مسند احمد ج۱ ص۸۱

اور یہ فقہاء کہتے ہیں کہ مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل کر دیا جاۓ گا اس سے زیادہ سخت بات اور کیا ہو گی ! ان کا استدلال اس سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کے بدلہ میں مسلمان سے قصاص لیا حدیث میں ہے:

حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ذمی کے بدلہ میں مسلمان کوقتل کردیا اور فرمایا: میں سب سے زیادہ کریم ہوں کہ اپنے ذمہ کو پورا کروں ۔

سنن دارقطنی : ۳۲۱۸۔ج ۳ ص ۱۳۴ اس حدیث کو ابن بیلمانی نے مرسلا روایت کیا ہے اور وہ ضعیف راوی ہے۔

اور اس لیے بھی کہ اس کا خون دائما معصوم ہے، لہذا مسلم کی طرح اس کے قاتل سے قصاص لیا جائے گا ۔

( یہ حدیث اس سند کے علاوہ اور بہت سی سندوں سے مروی ہے جیسا کہ عنقریب آۓ گا ۔ سعیدی غفرلہ )

ہمارا استدلال اس حدیث سے ہے:

عمرو بن شعیب اپنے والد ( عبداللہ بن عمرو بن العاص ) سے اور وہ اپنے دادا ( حضرت عمرو بن العاص رضی اللہتعالیعنہ) سے روایت کرتے ہیں ۔ تمام مسلمانوں کا خون ایک جیسا ہے اور وہ اپنے ماسوا پر ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں، ان میں سے ادنی فرد بھی مسلمانوں کے ذمہ ( قصاص یا دیت) کے لیے کوشش کرے گا سنو ! کسی مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ کسی ذمی کو اس کے جزیہ کی ادائیگی کے دوران قتل کیا جاۓ گا۔

( سنن ابوداؤد: ۴۵۳۰، سنن نسائی : ۴۵۴۸، سنن ابن ماجہ :2685۔ 2683،  مسند احمد ج ۱ ص ۱۱۹)

حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا : سنت یہ ہے کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاۓ گا۔

( سنن دارقطنی :3316۔ ج ۳ ص ۱۳۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج 9 ص ۲۹۵)

( المغنی ج۱ ص ۳۰۵- ۳۰۳ دارالحدیث القاہرہ ۱۴۲۵ھ )

ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے کے ثبوت میں فقہاء احناف کے دلائل

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی حنفی متوفی ۴۸۳ ھ لکھتے ہیں :

اگر مسلمان کسی ذمی کو قتل کر دے تو ہمارے نزدیک اس پر قصاص ہے اور امام شافعی کے نزدیک اس پر قصاص نہیں ہے ان کی دلیل یہ آیت ہے:

أفمن كان مؤمنا كمن كان فاسقا لا يستون (السجدہ : 18)

کیا جو شخص مومن ہے، وہ فاسق کی مثل ہوسکتا ہے وہ برابر نہیں ہیں

قصاص اس پر مبنی ہے کہ قاتل اور مقتول میں مساوات ہو اور مسلم اور کافر میں مساوات نہیں ہے اس لیے کافر کو قتل کر نے سے مسلمان پر قصاص واجب نہیں ہوگا نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام مسلمانوں کا خون ایک جیسا ہے اور اس حدیث کے آخر میں فرمایا: مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جاۓ گا ۔ ( سنن ابوداؤد :۰ ۴۵۳)

ہماری دلیل یہ ہے کہ حدیث میں ہے:

امام محمد بن حسن نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان سے ذمی کا قصاص لیا اور فرمایا: میں اپنے عہد کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں ۔ ( کتاب الآثار امام محمد ص 128 مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ۱۴۰۷ھ )

یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی مذکور ہے:

مصنف عبد الرزاق: ۱۸۵۱۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص۲۹۰ مراسیل ابوداؤد ص۲۰۸، سنن دارقطنی ج ۳ ص ۱۳۵ سنن بیہقی  ج۸ ص۳۱۔۳۰۔

بعض روایات میں ہے کہ حضرت عمر نے ایک مسلمان شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا، جس نے اہل حیرہ کے ایک ذمی کوقتل کردیا تھا پھر آپ کو معلوم ہوا کہ وہ عرب کے گھڑ سواروں میں سے ایک گھڑ سوار ہے پھر آپ نے لکھا کہ اس کو قتل نہ کیا جاۓ اور مقتول کے اولیاءکو دیت پر راضی کیا جاۓ ۔

امام شافعی نے جو آیات پیش کی ہیں کہ کفار اور مؤمنین میں مساوات نہیں ہے، ان کا تعلق آخرت کے ساتھ ہے ۔

رہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ تمام مسلمانوں کا خون ایک جیسا ہے،  سو اس میں مفہوم مخالف معتبر نہیں ہے، اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ غیر مسلموں کا خون مسلمانوں کے خون کی مثل نہیں ہے ۔

رہا رسول اللہ کا یہ ارشاد کہ مسلمان کو کافر کے بدلہ میں قتل نہ کیا جاۓ، تو اس سے مراد کافرحربی ہے کیونکہ کافر ذمی کے بدلہ میں آپ نے خود مسلمان کو قتل کیا تھا ۔ ( المبسوط ج 26، ص۱۶۱ – ۱۵۸ ملخصا دارالکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۱ھ )

ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیات

علامہ علاؤ الدین ابوبکر بن مسعود الکاسانی الحنفی المتوفی ۵۸۷ھ نے حسب ذیل آیات سے فقہاء احناف کے مؤقف پر استدلال کیا ہے:

كتب عليكم القصاص في القتلى. (البقره: ۱۷۸)

تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے ۔

اس آیت میں مطلقا مقتول کا قصاص لینا فرض کیا ہے، خواہ مقتول مسلمان ہو یا ذمی ہو، نیز جس طرح حکومت پر مسلمان کی جان اور اس کے مال کی حفاظت فرض ہے اسی طرح جب ذمیوں نے جزیہ ادا کر دیا تو حکومت پر ان کی جان اور مال کی حفاظت بھی فرض ہے اور حکومت نے ان کی جان اور مال کی حفاظت کا عہد کرلیا، سو جس طرح مسلمان مقتول کا قصاص لیا جاۓ گا اسی طرح ذمی مقتول کا بھی قصاص لیا جاۓ گا۔

وكتبنا عليهم فيها أن النفس بالنفس.

اور ہم نے تورات میں یہ فرض کردیا تھا کہ جان کا بدلہ جان ہے۔(المائدہ:45)

اس آیت میں بھی مطلقا جان کا بدلہ جان ہے خواہ وہ مسلمان کی جان ہو یا ذمی کی جان ہو۔

ومن قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطنا .

بنی اسرائیل: 33)

اور جو شخص مظلوم ہونے کی صورت میں قتل کر دیا جاۓ ہم نے اس کے ولی کو ( قصاص لینے) کی قوت عطافرمائی ہے ۔

اس آیت میں بھی ظلما قتل ہونے والا عام ہے خواہ وہ مسلمان ہو یا ذمی ہو اور جو شخص ان آیتوں میں مسلمان کی قید لگاۓ گا اس پر لازم ہے کہ وہ ان آیات کی مساوی قوت کے ساتھ تقیید پر دلیل پیش کرے یعنی وہ قید قطعی الثبوت اور قطعی الدلالہ ہو۔

نیز اللہ تعالی نے فرمایا ہے:

ولكم في القصاص حيوة ( البقر :۱۷۹)

تمہارے لیے قصاص (قتل کا بدلہ لینے) میں حیات ہے۔

اس آیت میں مسلمان کے قتل کا بدلہ لینے کی بہ نسبت ذمی کے قتل کا بدلہ لینا زیادہ واضح ہے کیونکہ غضب کے وقت دینی عداوت قتل کرنے پر زیادہ ابھارتی ہے تو اس کو رد کرنا زیادہ ضروری ہے اور اس سے حیات کا معنی زیادہ واضح ہوتا ہے ۔

( بدائع الصنائع ج۱۰ص ۲۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۱۸ھ )

ذمی کے بدلہ میں مسلمان کو قتل کرنے کے ثبوت میں احادیث اور آثار

عبدالرحمان بن البیلمانی بیان کرتے ہیں کہ ایک مسلمان شخص نے ایک ذمی کوقتل کر دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہ مقدمہ پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا: میں اپنے عہد کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں پھر آپ کے حکم سے اس شخص کوقتل کردیا گیا۔

( مصنف عبدالرزاق: ۷ ۱۸۸۳ طبع جدید الام للشافعی: ٬۳۴۴ مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص۲۹۰ شرح السنۃ ج ۱۰س ۱۷۵ معرفت السنن والآثار : ۴۸۱۴)

عبداللہ بن عبدالعزیز بن صالح الحضری بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کافر کے بدلہ میں ایک مسلمان کوقتل کر دیا۔ اس کافر کو دھوکے سے قتل کیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں اپنے عہد کو پورا کرنے کا سب سے زیادہ حق دار ہوں ۔ (الاعتبار في الناسخ والمنسوخ ص ۱۹۳ ۱۹۲ نصب الرایہ ج ۵ ص ۸۹ طبع جدید )

بکر بن وائل کے ایک شخص نے اہل حیرہ کے ایک شخص کو قتل کردیا تو حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے اولیاء مقتول کی طرف لکھا۔ اگر وہ چاہیں تو اس کو قتل کردیں اور اگر چاہیں تو اس کو معاف کردیں، پھر اس شخص کو ولی مقتول کے حوالہ کیا گیا ، جس کا نام حنین تھا’ اس نے اس مسلمان کوقتل کر دیا اس کے بعد حضرت عمر کا خط ملا، اس کو قتل نہ کرو، حضرت عمر کا ارادہ یہ تھا کہ اس کو دیت سے راضی کردو ۔ ( معرفۃ السنن والآثار : ۴۸۱۵ سنن الکبری ج ۸ ص 32 کتاب الآثار لامام محمد ص ۱۲۸ مصنف عبد الرزاق :۱۸۸۴۱ – ۱۸۸۳۸ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۲۹۱۔۲۹۳)

زہری بیان کرتے ہیں کہ ابن شاس جذامی نے شام کے انباط سے ایک شخص کو قتل کردیا۔ حضرت عثمان کے پاس یہ مقدمہ پیش کیا گیا تو انہوں نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر حضرت زبیر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوسرے اصحاب نے منع کیا تو حضرت عثمان نے اس پر ایک ہزار دینار دیت لازم کر دی ۔ ( معرفة السنن والآثار : 4816،  السنن الکبری ج ۸ ص ۳۳ مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۲۹۳)

ابی الجنوب الاسدی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب کے پاس ایک مسلمان شخص کو لایا گیا، جس نے ایک ذمی شخص کو قتل کردیا تھا۔ اس کے خلاف گواہ قائم ہوگئے تو حضرت علی نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا پھر مقتول کے بھائی نے آ کر کہا: میں نے اس مسلمان کو معاف کردیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: شاید ان مسلمانوں نے تم کو ڈرایا دھمکایا ہوگا اس نے کہا: نہیں، لیکن اس کو قتل کرنے سے میرا بھائی تو واپس نہیں آۓ گا، اور انہوں نے مجھے اس کا معاوضہ دے دیا ہے سو میں راضی ہوگیا ہوں ۔( معرفة السنن والآثار : ۴۸۱۷ ، السنن الکبری ج ۸ ص ۳۴)

ابونضرہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک مسلمان سے ایک ذمی کا قصاص لیا ۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۹ ص ۲۹۲۔۲۹۱ ادارۃ القرآن کراچی 1406ھ )

حکم بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا: جو شخص کسی یہودی یا نصرانی کوقتل کرے اس کوقتل کردیا جاۓ گا ۔(مصنف ابن ابی شیبہ ج۹ ص۲۹۰)

باب مذکور کی حدیث شرح صحیح مسلم : ۳۲۲۳۔ ج ۳ ص۷۲۰ پر مذکور ہے وہاں اس کی شرح نہیں کی گئی ۔