۱۱۹ – حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرِ أَبُو مُصْعَب قَالَ حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ ابی ذِئبٍ، عَنْ سَعِيدِ الْمَقْبُرِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَسْمَعُ مِنكَ  حَدِيثًا كَثِيرًا أَنْسَاهُ؟ قَالَ ابْسُطْ رِدَاءَ كَ فَبَسَطْتُہ قَالَ فَعَرَفَ بِيَدَيْهِ ثُمَّ قَالَ ضُمَّهُ . فَضَمَمْتُهُ ، فَمَا نَسِيْتُ شَيْئًا بَعْدَهُ.

امام بخاری روایت کرتے ہیں: ہمیں احمد بن ابی بکر ابومصعب نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن ابراہیم بن دینار نے حدیث بیان کی از ابن ابی ذئب از سعید المقبری از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے عرض کیا: یارسول اللہ ! میں آپ سے بہ کثرت احادیث سنتا ہوں، جن کو میں بھول جاتا ہوں، آپ نے فرمایا: تم اپنی چادر پھیلاؤ پس میں نے اپنی چادر پھیلائی’ آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے چلو بنایا ( اور اس کو میری چادر میں ڈال دیا ) ، پھر فرمایا: اس چادر کو اپنے جسم کے ساتھ چمٹا لو سو میں نے اس چادر کو اپنے جسم کے ساتھ چمٹا لیا، پھر اس کے بعد میں کوئی چیز نہیں بھولا۔

طرف الحدیث: ۳۶۴۸) ( سنن ترمذی : ۳۸۳۵)

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ ابِي فُدَيْكَ بِهَذَا أَوْ قَالَ عَرَفَ بِيَدِهِ فِيهِ.

 حدیث بیان کی  یا کہا : آپ نے اپنے ہاتھ سے اس میں چلو بنایا۔

اس حدیث کی باب کے عنوان سے مطابقت اس طرح ہے کہ باب کا عنوان ہے: علم کی حفاظت کرنا اور حضرت ابو ہریرہ نے اپنے حافظہ کی شکایت کرکے جو حافظہ کی کمی کا تدارک کیا تھا وہ علم کی حفاظت کے لیے ہی کیا تھا۔

حدیث مذکور کے رجال کا تعارف

(۱) احمد بن ابو بکر ان کا نام القاسم ہے یہ مدینہ کے عالم اور قاضی ہیں، ابو حاتم نے کہا: یہ صدوق ہیں، یہ ۹۲ سال کی عمر میں 252ھ میں فوت ہو گئے تھے.

(۲) محمد بن ابراہیم بن دینار المدنی الانصاری، یہ امام مالک کے ساتھ اہل مدینہ کے مفتی تھے امام بخاری نے کہا: یہ حدیث میں معروف تھے ابو حاتم نے کہا: ثقہ تھے.

(۳) محمد بن عبد الرحمان بن المغیرہ بن ابی ذئب القرشی العامری، یہ ثقہ اور کبیر الشان تھے، امام احمد نے کہا: ابن ابی الذئب امام مالک سے افضل تھے یہ ۵۹ھ میں کوفہ میں فوت ہو گئے.

(۴) سعید بن ابی سعید المقبری المدنی.

(۵) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ان کا تعارف بھی ہو چکا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ۲ ص ۲۷۵)

نسیان، سہو اور خطاء میں فرق اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شفا دینا اور ہر درد کا درماں ہونا

اس حدیث میں نسیان کا لفظ ہے اس کا معنی ہے: بھولنا اور علم کے بعد جہل سہو اور نسیان میں یہ فرق ہے کہ نسیان میں علم کی صورت حافظہ اور مد برکہ دونوں سے نکل جاتی ہے اور سہو میں علم کی صورت صرف مدرکہ سے نکل جاتی ہے اور حافظہ میں موجود ہوتی ہے اور سہو اور خطاء میں یہ فرق ہے کہ سہو میں معمولی تنبیہ سے انسان سمجھ جاتا ہے اور خطا میں معمولی تنبیہ کافی نہیں ہوتی ، نسیان وہ حالت ہے جو انسان پر غیر اختیاری طور پر طاری ہوتی ہے اور اس کا سبب حفظ کے اسباب سے غفلت برتنا ہے۔

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ نے حضرت ابو ہریرہ سے نسیان کو دور کر دیا اور چادر پھیلانے اور اس کو سینہ کے ساتھ چمٹانے سے نسیان کا دور کرنا ایک اور طرح سے معجزہ ہے۔

حضرت ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسیان کی شکایت کی تو آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ نسیان کے ازالہ کے لیے کسی طبیب یا معالج کے پاس جاؤ میرا منصب تو صرف احکام شرعیہ بتانا ہے اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف احکام شرعیہ بتانے کے لیے مبعوث نہیں ہوئے تھے بلکہ آپ ہر درد کے درماں تھے اور آپ کے پاس ہر مشکل کا حل تھا اور آپ نے حضرت ابو ہریرہ کا حافظہ قوی کرکے اس کو ثابت کر دیا۔