يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِى الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 18
sulemansubhani نے Friday، 18 October 2024 کو شائع کیا.
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
يَّوۡمَ يُنۡفَخُ فِى الصُّوۡرِ فَتَاۡتُوۡنَ اَفۡوَاجًا ۞
ترجمہ:
جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم فوج در فوج آئو گے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو تم فوج دفوج آئو گے۔ اور آسمان کھول دیا جاے گا تو اس میں دروازے بن جائیں گے۔ اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔ بیشک دوزخ گھات میں ہے۔ سرکشوں کا ٹھکانہ ہے۔ جس میں وہ مدتوں تک رہیں گے۔ اس میں وہ نہ ٹھنڈک پائیں گے نہ کوئی مشروب۔ سوا کھولتے ہوئے پانی اور پیپ کے۔ یہ ان کے موافق بدلہ ہے۔ بیشک وہ کسی حساب کی امید نہیں رکھتے تھے۔ اور انہوں نے ہماری آیات کی پوری پوری تکذیب کی۔ اور ہم نے ہر چیز کو گن کر لکھ رکھا ہے۔ اب چکھو ہم تمہارا عذاب بڑھاتے ہی رہیں گے۔ (النبا : ٣٠۔ ١٨)
حشر کے دن لوگوں کے فوج در فوج آنے کے متعلق ایک روایت کی تحقیق
صور سے مراد سینگھ کی شکل کی ایک چیز ہے جس کو بگل کہتے ہیں، اس میں پھونک مارنے سے بہت ہیبت ناک آواز نکلے گی، صور کی پوری تفصیل ( الزمر : ٦٨) میں بیان کی جا چکی ہے۔
جس جگہ میدان حشر قائم کیا جائے گا، تمام مردے اپنی اپنی قبروں سے نکل کر وہاں فوج در فوج پہنچیں گے، عطاء نے کہا : ہر نبی اپنی امت کے ساتھ آئے گا، جیسا کہ اس آیت میں ہے :
یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ اُنَاسٍم بِاِمَامِہِمْ (بنی اسرائیل : ٧١)
جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے۔
اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے بغیر سند کے ایک حدیث ذکر کی ہے اور وہ یہ ہے :
حضرت معاذ (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا، تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے معاذ ! تم نے بہت بڑی چیز کے متعلق سوال کیا ہے، پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، پھر فرمایا : میری امت سے دس قسم کے لوگوں کا حشر کیا جائے گا، بعض بندروں کی صورتوں میں ہوں گے، بعض خزیروں کی صورتوں میں ہوں گے، بعض منہ کے بل اوندھے گھسٹ گھسٹ کر آ رہے ہوں گے، بعض اندھے ہوں گے، بعض بہرے اور گونگے ہوں گے، بعض لوگوں کی زبانیں ان کے سینوں تک لٹکی ہوئی گی، ان کے مونہوں سے قے بہ رہی ہوگی، جس سے تمام اہل محشر کو گھن آرہی ہوگی، بعض لوگوں کے ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہوں گے، بعض لوگ آگ کے درختوں کے تنوں پر سولی پر چڑھے ہوئے ہوں گے، بعض لوگوں سے مردار سے زیادہ بری بد بوآ رہی ہوگی، بعض لوگ تیل کے جبے پہنے ہوئے ہوں گے جو ان کے بدن سے چپکے ہوئے ہوں گے۔
رہے وہ لوگ جو بندروں کی صورتوں پر ہوں گے وہ چغل خور ہوں گے، اور جو لوگ خزیروں کی صورتوں پر ہوں گے وہ حرام کھانے والے ہوں گے، اور جو لوگ منہ کے بل چل رہے ہوں گے وہ سود کھانے والے ہوں گے، اور جو لوگ اندھے ہوں گے وہ ظالمانہ فیصلے کرنے والے ہوں گے، اور جو بہرے اور گونگے ہوں گے وہ اپنے اعمال پر اترانے والے ہوں گے، اور جن کی زبانیں لٹکی ہوئی ہوں گی یہ وہ علماء اور واعظین ہیں جو اپنے قول کے خلاف عمل کریں گے، اور جن لوگوں کے ہاتھ اور پیر کٹے ہوئے ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پڑوسیوں کو ستاتے ہیں اور جن کو آگ کے درختوں پر سولی دی ہوئی ہوگی یہ وہ سپاہی ہیں جو لوگوں کو ( ظلما ً ) حاکم کے پاس لے جائیں گے، اور جن سے مردار سے زیادہ سخت بدبو آرہی ہوگی یہ وہ ہیں جو اپنی لذتوں اور شہوتوں کی اتباع کریں گے اور اپنے مالوں میں سے اللہ کے حقوق ادا نہیں کریں گے اور جو لوگ تیل کے جبے پہنے ہوئے ہوں گے یہ وہ لوگ ہیں جو فخر اور تکبر کرنے والے ہیں۔ ( الکشف والبیان ج ٠ ١ ص ١١٥، الکشاف ج ٤ ص ٦٨٧، تفسیر کبیر ج ١١ ص ٣١۔ ١٢، الجامع الاحکام القرآن جز ١٩ ص ١٥٣۔ ١٥٢، الدرا المنثور ج ٨ ص ٣٦١، روح البیان ج ١٠ ص، ٣٥٣، روح المعانی جز ٢٩ ص ٢٠۔ ١٩)
حافظ ابن حجرعسقلانی نے کہا : اس حدیث کو امام ابن مردویہ اور امام ثعلبی نے بیان کیا ہے، اس کو محمد بن زہیر از محمد بن ہندی از حنظلہ سدوسی از والد خوداز براء بن عازب روایت کیا ہے، اس کی سند میں حنظلہ سدوسی بہت ضعیف ہے، امام احمد نے کہا : وہ منکر الحدیث ہے اور بہت عجیب چیز روایت کرتا ہے، امام ذہبی نے اس کا میزان میں ذکر کیا ہے اور اس حدیث کی سند میں مجہول راوی ہے۔ ( تخریج الکشاف ج ٤ ص ٦٨٧)
تبیان القرآن سورۃ نمبر 78 النبإ آیت نمبر 18