سعودی عرب میں نجمہ نامی بُت
سعودی عرب میں نجمہ نامی بُت کی تصاویر وائرل ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مسلمانوں کو واقعی بہت فکر ہے کہ اس طرح سعودی خاندان عرب کو اپنے خاندان کی جاگیر سمجھ کر اسلام کی شناخت کو مٹا رہا ہے۔
یہ تو ہونا ہی تھا۔ جب ڈھائی صدی کے تماشوں سے آگاہی نہ ہو تو ہر کام ‘انکشاف’ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی قصور کسی کے سر نہیں منڈھتے۔ سیدھی بات کرتے ہیں۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔
اور جیسے ہی لوگ یہ سنتے ہیں کہ فلاں چیز قیامت کی نشانیوں میں سے ہے، ان کے اندر ایک اطمینان سا پیدا ہوجاتا ہے، جوش تھم جاتا ہے، غصہ شانت ہوجاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ لاشعوری طور پر ان کو لگتا ہے کہ چلو یہ تو اللہ کے پلان کا حصہ ہے اس لیے ایسا تو ہونا ہی ہے۔ روک تو نہیں سکتے نا اللہ کے پلان کو۔
حالانکہ یہ معلوم ہونا چاہیے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس لیے نہیں ہو رہا کہ اللہ نے پابند فرما دیا تھا کہ ایسا ہوگا۔ بلکہ اس لیے ہو رہا ہے کہ انسان اسی ڈگر پر چل رہے ہیں اور اسی ڈگر پر چلنے کا رزلٹ سامنے آرہا ہے۔ اس رزلٹ کے بارے میں مخبرِ صادق حضور نبی کریم ﷺ نے امت کو پہلے ہی خبردار فرما دیا تھا۔
اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے فتنوں سے آگاہ فرمایا ہے تو ساتھ ہی کچھ کرنے کا حکم بھی ارشاد فرمایا ہوگا۔ ہے نا؟
وہ احکام سنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو پتا چلے کہ ایسے حالات میں ایمان بچانے اور امت کی عزت واپس لانے کے لیے کس طرح کام کرنا ہے اور کس صف میں کھڑا ہونا ہے۔
صرف ‘قیامت کی نشانی’ کہہ کر معاملہ دراز میں نہ ڈالا جائے بلکہ یہ سیکھا اور سکھایا جائے کہ ایسے حالات میں کرنا کیا ہے۔ علمائے کرام، اساتذہ کرام، دانش ورانِِ وطن اور دیگر اہل علم رہ نمائی فرمائیں۔
سیف اللہ خالد